Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 5, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

صف بندی

November 14, 2011 1 1 min read
Pakistan Elections

پاکستانی سیاست پچھلے کئی عشروں سے دو دھڑوں میں بٹی ہوئی ہے ۔ ایک

Pakistan Elections
Pakistan Elections

طرف ذولفقار علی بھٹو کی پاکستان پیپلز پارٹی ہے اور دوسری طرف ملک میں دائیں بازو کی ساری قابلِ ذکر سیاسی جماعتیں ہیں ۔ان ساری جماعتوں کے اتحاد کو اینٹی بھٹو ووٹ سے بھی تشبیہ دی جاتی ہے۔اس فکر کے امام جماعت اسلامی کے وہ دانشور ہیں جنھیں پی پی پی کی فکری سوچ سے خود ساختہ اسلام کو خطرہ لاحق رہتا ہے۔ اس مذہبی  خطرے سے نمٹنے کیلئے انھوں نے ملک کی دوسری سیاسی جماعتوں کو اپنا ہمنو ا بنا ا شروع کیا اور ١٩٧٧ کے انتخابات میں پاکستان قومی اتحاد(پی این اے) کے نام سے پاکستان پیپلز پارٹی کا مقا بلہ کرنے کی ٹھانی۔ جماعت اسلامی کی بنیادی سوچ یہ تھی کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے سارے مخالفین کو ایک چھتری کے نیچے جمع کر کے ان کے ووٹوں کو تقسیم ہونے سے بچا یا جائے اور یوں ذولفقار علی بھٹو کی مقبولِ عام جما عت پاکستان پیپلز پارٹی کو شکست سے دوچار کیا جائے۔ جماعت اسلامی کو ایسا سوچنے اور اس پر عمل کرنے کا پورا حق حاصل ہے کیونکہ الیکشن کی منصوبہ بندی کرنا اوراپنی فتح کے خواب دیکھنا ہر سیاسی جماعت کا حق ہے اورا س پیما نے کے مطابق اپوزیشن کو بھی یہ حق حاصل تھا کہ وہ انتخابات کو جیتنے کیلئے اپنا لائحہ عمل بنائے ۔ا سی مقصد کے حصول کے پیشِ نظر اس نے پاکستان قومی اتحاد کے قیام کا ڈول ڈالا اور انتخابات میں اپنی فتح کا خواب سجا یا۔ پاکستان قومی اتحاد کی تشکیل نے ١٩٧٧ کے انتخابات کو انتہائی مشکل اور دلچسپ بنا دیا او نظریاتی صف بندی نے ان انتخابات کی اہمیت کو دو چند کر دیا اور لوگ ان انتخابات کی گہما گہمی سے بہت محظوظ ہوئے۔بحث و مباحثہ کا ایک میدان تھا جو اصولی سیاست کی رعنائیوں سے سجا ہوا تھا اور ہر کوئی اس میں اپنی رائے کا اظہار بھی کر رہا تھا۔ اپنی توانا ئیاں بھی صرف کر رہا تھا اور اپنی جماعت کی جیت کیلئے محنت بھی کر رہا تھا۔میں نے اپنی ساری سیاسی زندگی میں ان انتخابات سے زیادہ جذباتی اور ہنگامہ خیز الیکشن کبھی نہیں دیکھے۔ میری ذاتی رائے میںیہ پاکستانی سیاست کے آخری ا نتخابات تھے جو نظریاتی بنیادوں پر لڑے گئے۔ اس میں دائیں اور بائیں بازو کی سیاست اپنی ساری رعنائیوں کے ساتھ دیکھی اور محسوس کی جا سکتی تھی لیکن بد قسمتی سے ان انتخابات کو متنا زع بنا دیا گیا اورانہی انتخابات کے نتیجے میں ٥ جو لائی ١٩٧٧ کہ جنرل ضیا الحق نے ملک پر مارشل لا نافذ کر کے اقتدار پر قبضہ کر لیا۔سچ تو یہ ہے کہ اپوزیشن اپنی الیکشن مہم کے دوران عوام کی جذباتی محبت اور حمائت کے پیشِ نظر ذہنی طور پر ان انتخابات میں اپنی شکست کو تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں تھی وہ بزعمِ خویش یہ سمجھ بیٹھی تھی کہ اس نے میدان مار لیا ہے اور انتخابات میں اسکی جیت یقینی ہے لیکن وہ یہ بھول بیٹھی تھی کہ انکے مدِ مقابل ذولفقار علی بھٹو جیسا ذہین و فطین اور سحر انگیز قائد ہے اورجسے پسماندہ اور کمزور طبقات کی مکمل حمائت حاصل ہے۔شہروں کی حد تک پاکستان قومی اتحادکے جلسوں جلوسوں کی ایک شان تھی ایک رنگ تھا لیکن پاکستان کی آبادی کا بیشتر حصہ دیہات پر مشتمل ہے اور پی پی پی کی اصل قوت و ہی پر ہے کیونکہ ذولفقار علی بھٹو نے انہی لوگوں کو ہی تو جاگیر داروں اور زمینداروں کے ظلم و ستم سے نجات دلائی تھی اور انھیں برابری اور تکریمِ انسانیت کے اعلی اصولوں سے ثمر بار کیا تھا۔ آج بھی اگر ہم سیاسی منظر نامے کو غیر جانبداری سے دیکھنے کی کوشش کریں تو پی پی پی اب بھی شہروں کی نسبت دیہات میں زیادہ مقبول ہے اور ان کے ووٹ بینک کا زیادہ حصہ دیہاتی عوام کی محبت کے مر ہونِ منت ہے۔ دیہاتی زندگی میں خلوص اور وفا ایسے جو ہر ہیں جن پر بہت زیادہ زور دیا جاتا ہے اور دیہاتی لوگ ایک دفعہ جس سے پیمانِ وفا باندھ لیں اس کا ساتھ پھر کبھی نہیں چھوڑتے۔ ذولفقار علی بھٹو سے ان کی محبت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں تھی لہذا وقت آنے پر انھون نے اپنی محبت ذولفقار علی بھٹو کے پلڑے میں ڈال کر ساری انتخابی مہم کو الٹ کر رکھ دیا تھا جسے پاکستان قومی اتحاد ماننے کو ذہنی طور پر تیار نہیں تھا۔پاکستان قومی اتحاد کے مدِ مقابل ذولفقار علی بھٹو کی شخصیت تھی جو اتنی قد آور تھی کہ اپوزیشن اس کی قوت سے خو فزدہ تھی لہذا اس کو راستے سے ہٹانا ضروری  تھا اورا س کا ایک طریقہ انتخابت تھے جن میں انھیں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا اور اس کا دوسرا طریقہ یہ تھا کہ اس کے خلاف ایک سازش تیار کی جاتی اور اس کا خاتمہ کیا جاتا۔ پاکساتن قومی اتحاد نے اس دوسری راہ کا انتخاب کیا اور ایک سازش تیار ہوئی جس میں امریکہ اور فوج کا باہمی گٹھ جوڑ تھا اور جس پر پاکستانی عدلیہ نے اپنی مہرِِ تصدیق ثبت کی اور یوں وہ شخصیت جسے بیلٹ سے شکست د یناممکن نہیں تھا اسے بلٹ کے نشانے سے اپنی راہ سے ہٹا دیا گیا۔یہی وہ لمحہ تھا جس میں سیاست نے ایک نیا موڑ لیا اور پھر سیاست دائیں اور بائیں کے دائروں سے نکل کر بھٹو کے قاتلوں اور اسکے محبان کے درمیان ایک جنگ کا روپ اختیار کر گئی۔ جسے بھٹو اور اینٹی بھٹو کے فلسفے کے نام سے موسوم کیا جاتاہے۔ بھٹو ازم کے مضبوط اور توانا نظریے کے مقابل ١٩٨٨ کے انتخابات میں پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے اسلامی جمہوری اتحاد تشکیل دیا گیا جسکا واحد مقصد پاکستان پیپلز پارٹی کی فتح کا راستہ روکنا اور اینٹی بھٹو ووٹ کو تقسیم ہونے سے بچا کر اپنی ساکھ کو بچا نا تھا۔انکی کوششیں رنگ لائیں اور یوں یہ انتخابات اس حد تک کنٹرولڈ دیما کریسی کی علامت بنے کہ اسمیں پاکستان پیپلز پارٹی کو دو تہائی اکثریت سے محروم بھی کیا گیا اور اپنے من پسند گھوڑے میاں محمد نواز شریف کو پنجاب کی وزارتِ اعلی سے بھی نوازا گیا۔ صدر غلام اسحاق خان اور اسٹیبلشمنٹ کے مہروں نے اس زور سے میاں محمد نواز شریف کی پیٹھ تھپتھپائی کہ میاں صاحب خم ٹھونک کر پاکستان پیپلز پارٹی کے سامنے ڈٹ گئے۔ہر چندکے یہ سب کو علم ہے کہ وہ خود نہیں ڈٹے تھے کیونکہ ان میں تو ڈٹ جانے کی ہمت ہی نہیں تھی اگر ڈٹ جانے کی ہمت ہو تی تو وہ جنرل پرویز مشرف سے دس سالہ معاہدہ کر کے جدہ کے ایک پر تعیش محل میں روپوش نہ ہو جاتے۔ انھیں تو اسٹیبلشمنٹ نے کھڑا کیا تھا اور پھر اسٹیبلشمنٹ کے سہارے انھوں نے جسطرح وفاق کو ناکوں چنے چبوائے اسے وفاق کے خلاف پنجاب کی بغا وت کا نام ہی دیا جا سکتاہے۔مر کز اور صوبوں کے اندر پہلی دفعہ محاذ آرائی دیکھنے کو ملی اور وفاقی سیکرٹریوں کی جو مٹی اس دور میں پلید ہوئی دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی۔فوج کا ہاتھ پشت پر ہو تو پھر تو مٹی کا بت بھی شیر کا روپ دھار لیا کرتاہے اور یہاں پر تو پنجاب کا وزیرِ اعلی تھا جسکی پشت پر فوج اور ساری اسٹیبلشمنٹ کھڑی تھی لہذا اسکا بھڑکیں مارنا بنتا تھا اور اس نے دل کھول کر بھڑکیں ماریں اور ایک شیر کا تاثر قائم کرنے کی کوشش کی یہ الگ بات کہ وہ نہ شیر تھا اور نہ شیر ہے البتہ شیر بننے کا سوانگ اس نے انتہائی خوبصورتی سے رچا یا۔۔ ١٩٩٦ میں محترمہ بے نظیر بھٹو پر اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے انتہائی سخت دبائو تھا کہ وہ اسمبلی کو تحلیل کر کے نئے انتخابات کا راستہ ہموار کریں لیکن بی بی نے ایسا کرنے سے معذرت کرلی اس نے کہا کہ میں اسمبلی کے فلور پر جان دے سکتی ہوں لیکن اسمبلی کو برخاست نہیں کرسکتی لہذا اسٹیبلشمنٹ کی اشیرواد سے صدرِ پاکستان فاروق احمد خان لغاری نے پی پی پی سے بے وفائی کر کے یہ کارنامہ سر انجام دیا ۔ ١٩٩٧ کے انتخابات کا ا نعقاد کیا گیا جسمیں میاں محمد نواز شریف دو تہائی اکثریت سے کامیاب ہو ئے اور ایک ایسے سول آمرکے روپ میں ابھرے جنکے سامنے کسی کو بھی دم مارنے کی مجال نہیں تھی۔ اپوزیشن اور عدلیہ پر ہاتھ صاف کرنے کے بعد جب انھوں نے فوج پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش کی اور جنرل جہانگیر کرامت کو بڑے ہی بھونڈے اور توہین آمیز انداز سے معزول کیا تو فوج کے اندر ایک بے چینی نے جنم لیااور یہی بے چینی ١٢ اکتوبر ١٩٩٩ میں اقتدار سے انکی علیحدگی کا جواز بنی۔ کہتے ہیں جب گیدڑ کی موت آتی ہے تو وہ شہر کا رخ کرتا ہے اور جب سیاست دان کی شامت آنی ہوتی ہے تو وہ فوج سے پنگا کرنے کی حماقت کرتا ہے۔ فوج پر میاں نواز شریف کی یلغار کے ردِ عمل میںا سٹیبلشمنٹ نے اپنے ہی تیار کردہ بت ِکافری کو گرانے کا فیصلہ کر لیا اور ایک شب خون کے ذریعے اقتدار ان سے چھین کر انکے ساتھ وہ سلوک روا رکھا جسکی انھیں ہر گز توقع نہیں تھی۔ جب توقع ہی اٹھ گئی غالب۔ کیوں کسی کا گلہ کرے کوئی والی کیفیت میں میاں برادران ایک معافی نامے کے ذریعے دس سال کیلئے جلاوطن کر دئے گئے۔ جنرل پرویز مشرف ملک کے نئے حکمران ٹھہرے اور ساری اسٹیبلشمنٹ انکی مٹھی میں بند ہو گئی۔ مسلم لیگ (ق) انکی داشتہ بن کر انکے ساتھ شریکِ اقتدار ہو گئی اور یہ انتظام نو سال تک بغیر کسی رکاوٹ اور حیل و حجت کے چلتا رہا۔ کچھ سیاسی جماعتیں چمچے کڑچھے بن کر جنرل پرویز مشرف کا ساتھ دیتی رہیں اور یوں اسٹیبلشمنٹ کی سب سے چہیتی جماعت مسلم لیگ (ن) اسٹیبلشمنٹ سے بہت دور چلی گئی لیکن قدرت کے کارخانے میں خلا ممکن نہیں ہے لہذا اس خلا کو پر کرنے کیلئے اسٹیبلشمنٹ نے عمران خان کا انتخاب کیا ور اسے تھپکی دی گئی کہ وہ خم ٹھونک کر میدان میں نکل آئے۔ ٣٠ اکتوبر کو منٹو پارک لاہور میں تحریکِ انصاف کا جلسہ اسی تھپکی کا بہترین شاہکارہے ۔ اسٹیبلشمنٹ کی بہت سی پر وردہ قوتیں پسِ پردہ عمران خان کا بھر پور ساتھ دے رہی ہیں اور وقت آنے پر اس کی جیت میں بنیادی کردار ادا کریں گی۔ میاں برادران اس جلسے سے جسطرح سٹپٹائے ہیں وہ سمجھ سے باہر ہے ۔ ایسے محسوس  ہو رہا ہے جیسے انکے پائوں تلے سے زمین چھین لی گئی ہو اور وہ ہوا میں معلق ہو کر رہ گئے ہوں۔میا ں برادران تو پورے ملک پر حکمرانی کا خواب دیکھ رہے تھے لیکن عمران خان کے ایک ہی بائو نسر نے انکے اوسان خطا کر دئے ہیں۔ انھیں تو اب یہ فکر دامن گیر ہو گئی ہے کہ تختِ لا ہور کا کیا بنے گا کیونکہ ٣٠ اکتوبر کو عمران خان نے اپنی طاقت کا مظاہرہ پنجاب کے دل لاہور میں کیا ہے اور دل تو ہے دل۔ دل کا کیاکیجئے گا(جاری ہے)۔ تحریر : طارق حسین بٹ

Share this:
Tags:
elections imran khan Nawaz Sharif pakistan انتخابات پاکستان پیپلز پارٹی
Umar Riaz
Previous Post ہندوستان میں کئی پاکستان بننے کو ہیں
Next Post کرسمس کی آمد اینیمیٹڈ فلم ہیپی فیٹ ٹو ریلیز ہوگئی
happy feet

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close