Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 3, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

ضرورت ہے کہ حق و باطل کا فرق خوب کھول کر واضح کیا جائے

November 5, 2012December 21, 2012 0 1 min read
Religions
Religions
Religions

مختلف مذاہب میں عبادت کا تصور پایا جانا اس بات کی شہادت ہے کہ انسان بحیثیت بندہ ہے۔اور خدا کے تصور میں یہ بات بھی شامل ہے کہ وہ بالا تر،سب پر دسترس رکھنے والا،عظیم قوتوں کا مالک، جبار و قہار کے ساتھ ساتھ رحمان و رحیم بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مشکل لمحات سے نجات کی خاطر انسان اپنے عقیدہ کی روشنی میں اپنے خدا سے وابستہ ہوتا ہے۔اس کے سامنے اپنی حاجات بیان کرتا ہے اور امید رکھتا ہے کہ خدا اس کو پریشانیوں سے نکال کر سکون و اطمینان بخشے گا۔دیکھا جائے تویہ مختلف تہوار اور ان تہواروں کے آغازمیں “تصور خدا”کی روشنی میں منتوں اور نظروں کو پورا کیا جانا، خدا کے نام کو لے کر اس سے اپنے کاموں کا آغاز کرنا، بھجن اور کیرتن گانا اور اس میں تذکرہ ٔ خدا،شادی بیاہ اور زندگی کے دوسرے مراحل میں اپنے کاموں کی ابتدا میں خداکو مختلف انداز میں یادکرنا۔یہ تمام علامات ثابت کرتی ہیں کہ انسان کہیں نہ کہیں خدا سے اپنے رشتہ کو استوار کرنے کی خواہش رکھتاہے تاکہ وہ دنیا میں بھی اپنے تمام کاموں میں خدا کی خوشنودی حاصل کرے اور دنیا کے بعد کی زندگی میں بھی۔یہ بعد کی زندگی چاہے آواگمن کی شکل میں ہو یا کسی اور شکل میںہر صورت میں انسان کو خدا کی ناراضگی سے بچنے کی فکر ہوتی ہے۔ ایسے افراد تعداد کے لحاظ سے بہت ہی قلیل ہیں جو خدا ئی تصور کے قائل نہیں ۔اس کے برخلاف یہ محدودے چند بھی باطنی طور پر خدا کی عظمت و رحمت کو اپنے اعمال کے ذریعہ تسلیم کرتے رہتے ہیں گرچہ وہ زبان و قلم سے انکار ہی کریں۔معلوم ہوا کہ انسان کے تحت الشعور میں یہ بات پیوست ہے کہ وہ بندہ بن کر ہی دنیا میں زندگی گزار سکتا ہے۔اس کے علاوہ کوئی دوسری حیثیت اس دنیا میں اس کی نہیں ہے۔

عبادت کیسے کی جائے جبکہ۔۔۔۔۔ !

ہندوسستان وہ ملک ہے جہاں بے شمار عقائد رکھنے والے گروہ موجود ہیں۔اس کے باوجود وہ آپس میں مل جل کر رہتے ہیں اور یہی اس ملک کی صفتِ اعلیٰ ہے۔لیکن کبھی کبھی ایسے حادثات بھیسامنے آتے ہیں جو سوالات کا انبار کھڑا کر دیتے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ یہ واقعات اچانک رونما ہوتے ہیںبلکہ ان کا قدیم پس منظر ہے۔اسی طرح کا ایک واقعہ ضلع کے کھیتڑی تھانہ علاقہ بڑائو گائوں کا ہے ۔جہاں دلت ذات کے دونئے شادی شدہ جوڑوں کو مندر سے دھکے مار کر باہر نکالنے کا معاملہ روشنی میں آیا ہے۔متاثرین کا الزام ہے کہ مخالفت کرنے پر ان کے ساتھ گالی گلوچ بھی کی گئی۔ اس سلسلے میں مندر کے پچاری اور تین خواتین سمیت 8لوگوں کے خلاف معاملہ درج کیا گیا ہے۔ پولیس نے بتایا کہ بڑائو گائوں کا باشندہ اشوک کمار میگھوال اور اس کے چھوٹے بھائی گلاب کی بارات مادھو گڑھ گئی تھی۔ 25اکتوبر کو یہ لوگ شادی کرکے لوٹے ۔26اکتوبر کی صبح تقریباً10 بجے دونوں شادی شدہ جوڑے دھوک لگانے گائوں کے مندر گئے۔ مندر میں پجاری گھیسارام سوامی سمیت کچھ لوگوں نے ان کو پوجا کرنے سے روکا۔ دونوں شادی شدہ جوڑوں نے ان کے ساتھ آئے ان کے رشہ داروں نے جب مخالفت کی تو پجاری اور دیگر لوگوں نے ان کے ساتھ گالی گلوچ کی اور دھکے مار کر مندر سے باہر نکال دیا۔ اتوار کی رات کو متاثراشوک کمار میگوال نے مندر کے پجاری گھیسا رام سوامی، گنگا سوامی، انل سوامی، پپو شرما اور سیارام سوامی کے ساتھ ہی 3خواتین کے خلاف معاملہ درج کرایا۔ اس سلسلے میں فی الحال کسی کو گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔ پولیس معاملے کی تفتیش کر رہی ہے۔واقعہ کے پس منظر میں یہ بڑا سوال اٹھتا ہے کہ مندروں میں موجود “بھگوان”کس کے ہیں؟انسانوں کے یا مخصوص طبقہ کے؟جبکہعقیدہ کے اعتبار سے آپ بھی ہندو ہیں اور وہ بھی جن کودھکے مار کر باہر کیا جا رہا ہے۔معلوم ہوا یہ”بھگوان”ہندوئوں کے نہیں بلکہ ان مخصوص مجاوروں ہیں جو دن رات ان کی سیوا میں مصروف عمل ہیں۔اب یہ مجاور جس کو چاہیںپوجا پاٹ کرنے دیں اور جس کو چاہیں روک دیں۔

کثیر ثقافتی و تکثیری ملک میں:

Hindustan Cultural
Hindustan Cultural

چونکہ ہندوستان ایک کثیر ثقافتی و سماجی اور تکثیری ملک ہے اس لیے ملک کے آئین سازوں نے یہاں کے لوگوں کے حق میں ایک مختار اعلیٰ سوشلسٹ سیکولر جمہوری ری پبلک کی داغ بیل ڈالی تھی اور ساتھ ہی سارے شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے سماجی ، اقتصادی اور سیاسی انصاف ،آزادی اظہارفکر ، آزادی عقیدہ و اعتقاد اور آزادی عبادت ، مساوات، بھائی چارہ فرد اور جماعت کے وقارکی بات کہی تھی نیزملک کی سالمیت کو بنیاد بنایا تھا۔اس سب کے باوجود ملک میں اکثریتی مذہب ہندوازم کی وجہ سے ذات پات پروان چڑھی جس کے نتیجہ میں ملک وہ نتائج اخذ نہ کر سکا جو مطلوب تھے۔اس سلسلے میں آئین کے آرکیٹیکٹ ڈاکٹر بھیم رائو امبیڈکرنے لکھا: “ذات پات ہندئوں کی سانس ہے، ہندئوں نے پوری ہوا کو متاثر کیا ہے، اس کے اس جرثومہ سے سکھ، مسلم اور عیسائی سبھی متاثر ہیں”۔اور یہی وہ حقیقت ہے جس کی وجہ سے مذہبی ذات و طبقاتی تفریق پر مبنی سماج وقوع پذیر ہوا۔جسنے ہندوستانی سماج کی کایا پلٹ دی۔آزادہندوستان نے ان تفریقات اور مذہب پر مبنی عناد پر قابو پا نے کی ہر ممکن کوشش بھی کی لیکن معاشرتی بنیادوں پر اس کو گوارہ نہیں کیا جا سکا۔جہاں ایک طرف مذہبی پنڈتوں نے اس دوری اور اختلاف کو کم یا ختم کرنے کی منظم کوشش نہیں کی وہیں سماجی اور سیاسی پنڈتوں نے بھی اس کو مزید تقویت پہنچائی۔کہیں مذہب کی بنیاد پر سیاسی جماعتیں تشکیل پائیں تو کہیں ذات پات اور اونچ نیچ کی بنیادوں پر ووٹوں کی گنتی شروع ہوئی۔اس سب کے پس منظر میں آئین میں درج حقوق و انصاف کی باتیں صرف تحریر ی زینت سے زیادہ حیثیت نہحاصل کر سکیں۔وجہ بس یہی رہی کہ آئین پر عمل درآمد کرنے والوں کی نیتیں صاف نہیں ۔

صورتحال آج جو نظروں کے سامنے ہے اسی کا تذکرہ کرتے ہوئے قبل از وقت ڈاکٹر بھیم رائو امبیڈکر نے آئینی اسمبلی میں کہا تھا” ہندوستانی سرزمین پر جمہوریت صرف ایک کھاد بچھانے کا نام ہے جو بنیادی طور پر غیرجمہوری ہے، آئین چاہے جتنا اچھا کیوں نہ ہو، وہ بھی برا ثابت ہو سکتا ہے جب کہ اس پر کام کرنے والے کافی برے ہوں”۔اورآج یہ بات کھل کر ثابت ہوچکی ہے کہ ہندوستان کا آئین بہت خوبصورت،جس میں کثیر ثقافتی اور تکثیری سماج کو پیش نظر رکھتے ہوئے بہت کچھ کہا گیا ہے اس کے باوجودآئین کو نافذ کرنے والے طبقاتی کشمکش کے شکار ہیں۔عصبیت و علاقائیت، رنگ و نسل اور زبان کی بنیاد پرآزادی کے 65سال بعد بھی ہندوستان انھیں جکڑ بندیوں میں مبتلا ہے جن میں وہ آزادی اور ملک کے آئین بننے سے قبل تھا۔لہذا ایسی صورت میں ملک کے اکثریتی طبقہ سے اس بات کی کسی صورت توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ اس نظام کو یکسر ختم کرنے کی سنجیدہ اور منظم کوشش کرے گا۔ انسانوں کو انسان سمجھا جائے، وہ مساوات و برابری حاصل کر سکیں،ان کے اندر بھائی چارہ اور محبت و الفت قائم ہو،ذلت و خواری کی زندگی سے وہ چھٹکارا حاصل کریں،امن و امان قائم ہو اور تکثیری سماج ہونے کے باوجود وہ مذہبی عبادات امن و امان کے ساتھ ادا کی جا سکیں۔یہ سب مواقع اگر کوئی پیدا کر سکتا ہے تو وہ صرف اسلام ، اسلامی تعلیمات اور اسلامی نظام حیات ہے۔لیکن افسوس! تمام خوبیوں سے مزین طریقہ حیات رکھنے والے خود ہی ان تعلیمات سے نابلد ہیں جو ان کو حاصل ہیں۔ممکن تھا اگر یہ خود اسلامی تعلیمات پر پوری طرح سے کاربند ہوتے تو دوسرے بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہتے۔

ضرورت ہے کہ حق و باطل کا فرق خوب کھل کر بیان کیا جائے:

مخصوص واقعہ اور حالات کے پس منظر میں یہ حدیث کار آمد ثابت ہوگی۔ جس میں ام المومنین ام حکم زینب بنت حجش سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (ایک روز) ان کے پاس بڑے گھبرائے ہوئے تشریف لائے۔آپ ۖ کی زبان پر یہ کلمات تھے:”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔عربوں کے لیے اس شر کی وجہ سے ہلاکت ہے جو قریب آگیا ہے۔آج یاجوج ماجوج کی دیوار سے اتنا حصہ کھول دیا گیا ہے۔ اور آپ نے اپنی دو انگلیوں (انگوٹھے اور اس کے ساتھ والی انگلی)سے حلقہ بنا کر دکھایا ۔ میں نے کہا:اے اللہ کے رسول! کیا ہم ہلاک ہو جائیں گے جب کے ہمارے اندر نیک لوگ بھی ہوں گے؟ آپۖ نے فرمایا:ہاں جب برائی عام ہوجائے (تو پھر نیک بھی بدوں کی صفت میں شمار کرلیے جاتے ہیں)”(بخاری)۔صحیح مسلم میں نواس بن سمعان کی روایت میں صراحت ہے کہ یاجوج ماجوج کا ظہور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے بعد ان کی موجودگی میں ہوگا، جس سے ان کی تردید ہو جاتی ہے،جو کہتے ہیں کہ تاتاریوں کا مسلمانوں پر حملہ، یا منگول ترک جن میں سے چنگیزبھی تھا یا روسی یا چینی قومیں یہی یاجوج و ماجوج ہیں، جن کا ظہور ہو چکا۔یا مغربی قومیںان کا مصداق ہیں کہ پوری دنیا میں ان کا غلبہ و تسلط ہے۔ یہ سب باتیں غلط ہیں کیوں کہ ان کے غلبے سے سیاسی غلبہ مراد نہیں ہے بلکہ قتل و غارت گری اور شر و فساد کا وہ عارضی غلبہ ہے جس کا مقابلہ کرنے کی طاقت مسلمانوں میں نہیں ہوگی، تاہم پھر وبائی مرض سے سب کے سب آن واحد میں لقمہ ٔ اجل بن جائیں گے۔ یہ تو اس حدیث کی تشریح ہوئی لیکن جو بات اس میں کہی اور سمجھائی گئی وہ یہ ہے کہ جب نیک لوگ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں، برائیاں عام ہوتی جائیں اور لوگوں پرمختلف قسم کے ظلم و جبر کے پہاڑ توڑے جائیں، ان حالات میں نیک بھی بدوں کی صفت میں شمار کر لیے جاتے ہیں۔لیکن جیسے یہ حقیقت ہے کہ نہ آج یاجوج و ماجوج ہیں اور نہ ہی ان کی تباہ کاریاں ویسے ہی یہ بھی حقیقت ہے کہ مختلف شکلوں میں ظلم و ستم کے پہاڑ چہار جانب توڑے جا رہے ہیں۔کہیں انسانوں کو اسلامی تعلیمات سے متنفر کرکے اللہ کی بندگی سے دور کرنے کی سعی و جہد کی جار ہی ہے تو کہیںمادیت کی چکاچوند اور تعیش پسندی میں مبتلا کرکے شریفانہ اور پر وقار زندگی متاثر کی جا رہی ہے۔کہیں طبقاتی کشمکش کے جال بن کر تو کہیں رنگ و نسل اور علاقائیت کو پروان چڑھا کر۔ ان حالات میں ضرورت ہے کہ اسلام کو اس کے حقیقی پس منظر میں پیش کیا جائے۔حق کی شہادت دی جائے اور باطل کو سر عام ننگ و عار کیا جائے۔ یعنی صحیح اور غلط اور حق و باطل کے فرق کو اسلامی تعلیمات کی روشنی میں خوب اچھی طرح اپنے قول و عمل سے واضح کر دیا جائے۔

اور یہ کام اس وقت تک نہیں کیا جا سکتا جب تک کہ امت اسلامیہ تمام قید و بند سے نکل کر ہدایت خلق کے لیے اس طرح فکر مند نہ ہو جائے جس طرح انبیاء علیہم السلام انفرادی طور پر اس کے لیے فکر مند رہا کرتے تھے۔ حق ادا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ یہ کام ہماری تمام اجتماعی کوششوں اور ملی سعی و جہد کا مرکزی نقطہ ہو۔ہم اپنے دل و دماغ کی ساری قوتیں اور اپنے سارے وسائل و ذرائع اس پر لگا دیں۔ ہمارے تمام کاموں میں یہ مقصد لازماً ملحوظ رہے اور اپنے درمیان سے کسی ایسی آواز کے اٹھنے کو تو کسی حال میں ہم برداشت ہی نہ کریں جو حق کے خلاف شہادت دینے والی ہو۔لیکن یہ کام اسی وقت ممکن ہے جب کہ ہم اللہ کاقرب حاصل کریںاوراللہ ہم سے محبت کرنیلگے پھر جب اللہ محبت کرے گا تو بندہ ٔ مومن کی تحریر و تقریر پیاسی روحوں کو متاثر کرے گی۔وہ مصنفین ومقررین جو بڑی محنت و جدوجہد کے ساتھ اپنی تخلیقات عوام کے سامنے اس گمان کے ساتھ لاتے ہیں کہ وہ اثر انداز ہو گی۔اُن کو یاد رکھنا چاہیے کہ تاثیر ان کی تقریر یا تحریر میں نہیں ہے بلکہ تاثیر تو دراصل اس جذبہ ٔ صادق اورخلوص نیت میں اللہ پیدا کرنے والا ہے جو دلوں کے حال سے باخوبی واقف ہے۔تاثیر اللہ کے دم سے ہے نہ کہ ان کی صلاحتیں اور ان کے علوم کوئی خاص کردار ادا کرنے والے ہیں۔اس صورت میں جو لوگ بھی ان عظیم ذمہ داری کو ادا کرنے کا شوق رکھتے ہوں انھیں چاہیے کہ وہ رجوع الی اللہ کی طرف راغب ہوں۔اگر انھوں نے ایسا نہیں کیا ،اس کے باوجود وہ سعی و جہد میں مصروف رہے تو وہ لایعنی و لاحاصل ہی ثابت ہوگا۔گرچہ دنیا اور وہ خود اپنے آپ کو بظاہر ایک مخلص داعی الخیر ثابت کرنے کی تمام تر کوشش کریں۔ایسے لوگ آخرت میں مفلس ہی بن کر اٹھیں گے، اس کے سوا ان کے حصہ میں کچھ بھی نہیں آئے گا۔

محمد آصف اقبال
(٥ نومبر ٢٠١٢ئ ، نئی دہلی)
maiqbaldelhi@gmail.com
http://maiqbaldelhi.blogspot.com

Mohammad Asif Iqbal (Logo)
Mohammad Asif Iqbal (Logo)
Share this:
Tags:
country difference Mohammad Asif Iqbal right wrong باطل ثقافتی خوب محمد آصف اقبال
Khana Kaaba (Subhanallah)
Previous Post وقت کی اہمیت
Next Post بوچھال کلاں میں سابق کونسلر ملک جاوید اختر کے گھر ایک میٹیگ کا انعقاد کیا گیا

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close