Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 4, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

عالمی سرمایہ دارانہ نظام کے لرزتے ستون

October 23, 2011 0 1 min read
protest
protest
protest

وکی پیڈیا کے مطابق سرمایہ دارانہ نظام یا کیپٹل ازم سے مراد ایک معاشی و معاشرتی نظام ہے جس میں سرمایہ بطور عامل ِپیدائش نجی شعبہ کے اختیار میں ہوتا ہے،اشتراکی نظام کے برعکس سرمایہ دارانہ نظام میں نجی شعبہ کی ترقی معکوس نہیں ہوتی بلکہ سرمایہ داروں کی ملکیت میں سرمایہ کا ارتکاز ہوتا ہے،اِس نظام میں امیر امیر تر ہوتا چلا جاتا ہے۔ اگرچہ سرمایہ دارانہ نظام نظریاتی طور پر ایک آزاد منڈی کا تصور پیش کرتا ہے مگر حقیقتا منڈی کبھی بھی مکمل طور پر آزاد نہیں ہوتی،اِسی طرح جملہ حقوق،منافع خوری اور نجی ملکیت اِس نظام کی وہ خصوصیات ہیں جس سے سرمایہ دارانہ نظام کے مخالفین کے مطابق غریبوں کا خون چوسا جاتا ہے،آج جدید دانشوروں کا خیال ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام اپنے اختتام کی طرف بڑھ رہا ہے اور ایک متبادل نظام کی آوازیں شدت سے اٹھنا شروع ہو گئیں ہیں،اِس کی تازہ مثال17 ستمبر سے شروع ہونے والی وال اسٹریٹ پر قبضہ کرو تحریک ہے،ایک ماہ قبل نیویارک میں معیشت کے مرکز وال اسٹریٹ سے شروع ہونے والا احتجاج آج دنیا کے پانچ براعظموں تک پھیل چکا ہے،جبکہ امریکہ کے 90 شہر اِس احتجاجی تحریک کی لپیٹ میں ہیں،دوسری جانب برطانیہ،جرمنی،یونان،سپین،پرتگال،آئرلینڈ،اٹلی،جاپان، جنوبی کوریا،ہانگ کانگ، ملائیشیا، تائیوان، نیوزی لینڈ،آسٹریلیا اور کینیڈا سمیت دنیا کے 82 ممالک کے 951 شہروں میں لاکھوں افراد ہم عالمی تبدیلی چاہتے ہیں کے نعرے لگاتے ہوئے ریلیوں،دھرنوں اور مظاہروں کی صورت میں سڑکوں پر احتجاج کرتے نظر آ رہے ہیں،لوگ سرمایہ دارانہ نظام، غربت،عدم مساوات،نسلی امتیاز، جوہری توانائی سمیت دیگر سماجی خرابیوں کے خلاف سڑکوں پر مورچہ زن ہیں ۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ امیر،غریب اور متوسط طبقے کے درمیان فرق بڑھتا جا رہا ہے،جبکہ سڈنی،میکسیکو ،چلی، ارجنٹینا، ایتھنز، برلن، ٹوکیو اور ہانگ کانگ میں بھی ہزاروں افراد نے مظاہروں میں حصہ لیا،عالمی امن اور حقوق انسانی کے نام نہاد ٹھیکدار امریکہ میں یہ تحریک اب پرتشدد مظاہروں کی شکل اختیار کرتی جارہی ہے اورحکومتی کریک ڈان اور سینکڑوں افراد کی گرفتاریوں کے باوجود اِس تحریک کے بھڑکتے شعلے وائٹ ہاوس کی جانب لپکتے نظر آ رہے ہیں،جبکہ اٹلی کے دارالحکومت روم میں احتجاج نے ہنگاموں کی شکل اختیار کر لی ہے،روم کی گلیاں میدان جنگ کا منظر پیش کر رہی ہیں،دوسری جانب اعظم ایشیا،یورپ،شمالی امریکہ،افریقہ اور آسٹریلیا میں لاکھوں افراد نے سڑکوں پر آ کر معاشی ناہمواریوں،عدم مساوات اورجنگ و جدل پر مبنی امریکی پالیسی کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے وال اسٹریٹ تحریک کے شرکا کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کررہے ہیں،کینیڈا کے مختلف شہروں میں بھی کارپوریٹس کے خلاف یکجہتی کا مظاہرہ کیا گیا،ملائیشیا کے لوگ بھی سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف اکٹھے ہوگئے ہیں،جبکہ پرتگال کے دارالحکومت لزبن میں 50 ہزار سے زائد افراد آئی ایم ایف اور یورپی یونین کے بچت پروگرام کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے،یہ لوگ اپنی اِس تحریک کو انٹرنیٹ پر ٹوئٹر اور فیس بک سمیت سماجی رابطوں کی دیگر سائٹس کے ذریعے بھی منظم کررہے ہیں،تحریک کے منتظمین نے ایک ویب سائٹ پر جاری پیغام جاری میں کہاہے کہ ہمارے احتجاج کا مقصد اِس عالمگیر تبدیلی کی بنیاد رکھنا ہے جو ہم چاہتے ہیں ۔ آج دنیا بھر میں جاری اِن احتجاجی مظاہروں سے سامراجی استحصالی نظام اور یہودیت کے زیر اثر امریکی جنگی جنونی پالیسیوں کے خلاف ایک ایسا عالمی انقلاب ابھرتا ہوا نظر آ رہا ہے جو سرمایہ داری کی بنیاد پر استوار کئے گئے اِس نظام اور اِس کے پیرو کاروں سمیت اقتصادی اور سماجی ناہمواریوں کا باعث بننے والی ہر چیزکو خس و خاشاک کی طرح بہا کر لے جانے کیلئے بے تاب ہے،طوفانی بگولے کی شکل اختیار کر تی تحریک کا ابھرتا ہوا منظر نامہ عرب ممالک میں امریکی سرپرستی میں پروان چڑھنے والی تحریکوں کو بھی مات دیتا نظر آ رہا ہے،امر واقعہ یہ ہے کہ عالمی کساد بازاری کی حالیہ لہر کے نتیجے میں لا کھوں افراد کے بے روزگار ہونے کے بعد متبادل عالمی مالیاتی نظام کیلئے آوازیں اِس بار جتنی شدت سے اٹھنا شروع ہوئی ہیں،اس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی، اِس بار یہ آوازیں کسی مسلم یا سوشلسٹ معاشرے سے نہیں بلکہ سرمایہ داری اور مغربی تہذیبی مراکز سے ابھر رہی ہیں اوریہ ابھرتی ہوئی آوازیں لفظ عالمگیریت کے حجاب کو استعمال کرنے کے بجائے براہ راست صورتحال کا ذمہ دار عالمی سرمایہ دارانہ نظام کو قرار دیتے ہوئے اِس کے خاتمے کا مطالبہ کررہی ہیں،حتی کہ مین ہٹن،نیویارک کیوال اسٹریٹ جہاں سے بوڑروا طبقے نے دنیا کو عالمی سرمایہ دارانہ نظام کے شکنجے میں کسنے کا آغازکیا تھا،میں بھی سینکڑوں افراد نے کساد بازی کی لہر اور امریکہ میں لاکھوں افراد کی بے روزگاری کا ذمہ دار سرمایہ دارانہ نظام میں مضمر خرابیوں کو قرار دیا ہے،اِن سب کی زبان پر ایک ہی شکایت ہے کہ حکومت نے بینکوں کو بھرپور منافع کمانے کا موقع دیا جس سے بے روزگاری بڑھی،روزبروز بڑھتے ہوئے مظاہروں سے اندازہ ہوتا ہے کہ امریکہ میں طبقاتی کشمکش نے اتنی شدت اختیار کرلی ہے کہ اِس سے خانہ جنگی کے خدشات بڑھ گئے ہیں ۔ اِس صورتحال کو دیکھتے ہوئے سابق امریکی صدر جمی کا رٹر کہتے ہیں کہ مجھے بہت زیادہ تشویش اِس بات کی ہے کہ امریکہ کس سمت جا رہا ہے،وہ کہتے ہیں کہ موجودہ دور امریکہ کا تا ریخ میں انتہائی خراب دور ہے کہ عراق اور افغانستان میں اتنی زیادہ رقم خرچ کی گئی جس سے امریکیوں کا معیار زندگی مسلسل گر تا جارہا ہے،جمی کارٹر کہتے ہیں کہ امریکہ ایران سے تو یہ مطالبہ کررہا ہے کہ وہ اٹیمی ہتھیار بنا رہا ہے،لیکن اِس کے بر عکس خود امریکہ کے پاس 70 ہزار ہتھیار ہیں،جمی کارٹر کا خیال ہے کہ امریکہ نے سفارت کاری کی جگہ تشدد بندوق اور گو لی کا راستہ اختیار کیا ہوا ہے۔امریکہ میں آج معاشی ناہمواری کا یہ عالم ہے کہ ملک کی 40 فیصد دولت ایک فیصد آبادی والے طبقے کے ہاتھ میں مرکوز ہوکر رہ گئی ہے،طرفہ تماشہ دیکھئے کہ غربت کے باعث انتہا پسندی کے جنم لینے کی پھبتی کسنے والا امریکہ آج خود اِسی مرض میں مبتلا نظر آرہا ہے،حالانکہ اس نے اپنے معاشرے میں طبقاتی استحصال سے عوام کی توجہ ہٹانے کیلئے بیسویں صدی کے چار عشروں تک ان کے سامنے سوویت یونین کا ہوا کھڑا کئے رکھا اور سوویت یونین کے خاتمے کے بعد اسلامی بنیاد پرستی، عسکریت پسندی اورانتہاپسندی کو مغربی تہذیب کیلئے خطرہ قرار دے کر انہیں جنگی جنون میں مبتلا کردیا،مگر یہودی ساہوکاروں کی سودی رقم پر پلنے والے صلیبی قزاقوں اور لٹیروں کے وہم وگمان میں بھی نہ تھا کہ انہوں نے افغانستان کے قدرتی وسائل کی لوٹ کھسوٹ سے جتنی دولت کمانے کا منصوبہ بنایا تھا اس سے کہیں زیادہ رقم انہیں اِس لاحاصل جنگ پر صرف کرنا پڑے گی اور وہ خسارے میں رہیں گے ۔ آج بین اقوامی تعلقات عامہ اور سیاسیات کے ماہرین امریکہ کی نام نہاد دہشت گر دی اور انتہا پسندی کی جنگ کی بہت ساری وجوہات بیان کرتے ہیں جس میں مغربی ممالک کی مسلم دشمنی،اسلام اور سو شلزم سے خائف ہونا،غربت،وسطی ایشیائی ریاستوں کے 5 کھرب ڈالر کے قدرتی وسائل کو لوٹنے کی کو شش اور روس کے زوال کے بعد امریکہ کا پورے علاقے کا دادا گیر بننا شامل ہے،مگر اِس کے علاوہ بھی بعض وجوہات ایسی ہیں جس کی وجہ سے امریکہ دہشت گر دی اور انتہاپسندی کی جنگ کی طر ف مائل ہے،جس میں دنیا کے مختلف علاقوں میں کشید گی اور جنگی کیفیت پیدا کر کے اسلحہ بیچنا اور انحطاط و زوال پذیر سرمایہ دارانہ نظام کا تحفظ کرنا بھی شامل ہے،آج کل پوری دنیا میں سرمایہ دارانہ نظام زوال پذیر ہے امریکہ اور اس کے اتحادی مغربی ممالک اور دنیاکی 600 ملٹی نیشنل کمپنیوں کے پاس دنیا کی 60 فیصد اقتصادیات ہے،ان کی پو ری کو شش ہے کہ دولت کی غیر مساویانہ تقسیم پر مبنی اِس سامراجی نظام کو ہر حالت میں بچایا جائے،امریکہ اور اس کے اتحادی یو رپی ممالک چاہتے ہیں کہ اس آمرانہ سرمایہ دارانہ نظام کو ریاستوں اور ممالک کو آپس میں الجھا کر اور لڑاکر زندہ رکھا جائے،اگر ان تمام عوامل کو مد نظر رکھ کر دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام،سوشلزم اور کمیو نزم کے خلاف دہشت گر دی اور انتہا پسندی کی نام نہاد جنگ کی شکل میں بر سر پیکار ہے،مگر امریکی مالیاتی بحران کے زلزلے نے پوری دنیا کے سرمایہ دارانہ نظام کی چولیں ہلا دی ہیں اور مالیاتی بحران کے بعد سرمایہ دارانہ نظام کے ستون لرزنے لگے ہیں،حال یہ ہے کہ دنیا کی مالیاتی مارکیٹوں سے 30 ہزار ارب ڈالر کے مساوی اثاثے تحلیل ہوکر رہ گئے ہیں،بڑے بڑے مالیاتی ادارے اور بینک زمین بوس ہوگئے،یورپ،امریکہ اور جاپان میں بیروزگاری کی شرح 5 سے9 فیصد تک جا پہنچی،عالمی سرمایہ دارانہ نظام کا ایک اہم ستون جرمنی دوسری جنگ عظیم کے بعد شدید ترین مالیاتی بحران،بے روزگاری اور کساد بازاری کا شکار ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام کے سورج کو سودی گہن لگ چکا ہے اور اِس کی چکاچوند ماند پڑ چکی ہے،عالمی سرمایہ دارانہ نظام کا معاشی بلبلہ پھٹنے سے دنیا بھر میں غربت،بے روزگاری،بدامنی،بھوک و افلاس کی تاریکی بڑھ رہی ہے،دنیا کوعراق اور افغانستان جنگ کا تحفہ دینے والا امریکہ اب خود اس کے شعلوں میں جھلس رہا ہے اور بادی النظر میں یہی محسوس ہو رہا ہے کہ امریکی یہودیوں کی غالب اکثریت کے زیر تسلط آنے والی نیویارک کی وال سٹریٹ پر قبضے کی یہ تحریک جس تلخ پس منظر میں شروع ہوئی ہے،امریکی سامراج کیلئے اس کا نتیجہ اس سے زیادہ تلخ ہی نہیں بلکہ مسلم امہ کو تہس نہس کر کے پوری دنیا پر تسلط اور قبضے کے خواب دیکھنے والی عالمی صہیونی قوتوں کی بساط لپیٹنے کیلئے کافی ہوسکتا ہے،ہم سمجھتے ہیں کہ امریکہ نے اپنی بے پناہ طاقت،جدید ایٹمی ٹیکنالوجی اور ہتھیاروں کے بل بوتے پر توسیع پسندانہ عزائم کو آگے بڑھاتے ہوئے جس طرح عالمی امن و سلامتی کو تاراج کیا اور مسلم ممالک پر اپنا تسلط جمایا ہے،اس کا جلد یا بدیر یہی نتیجہ سامنے آنا تھا،جو آج پوری دنیا میں پھیلتی ہوئی  وال اسٹریٹ پر قبضہ کرو تحریک کی صورت میں استحصالی سرمایہ دارانہ نظام کے پیروکاروں کو بھگتنا پڑ رہا ہے،آج اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ موجودہ عالمی سرمایہ دارانہ نظام کے بحران نے سرمایہ داری کو اپنے ہی خالق نظریات سے متصادم کردیا ہے،عالمی سطح پر امریکہ اور اسرائیل کے سرمایہ دارانہ نظام کا مشاہدہ اِس نظام کی مکمل شکست و ناکامی کا غماز ہے،موجودہ عوامی درعمل ثابت کرتا ہے کہ یہ تجربہ قطعی طور پر ناکام ہوگیا ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ بہت جلد امریکہ اور اس کے مفاد پرست حواریوں کے سرمایہ دارانہ بت پاش پاش ہوجانے والے ہیں،کیونکہ مردان خدا مست برسوں پہلے یہ پیشنگوئی کرچکے ہیں کہایک وقت آئے گا جب کمیونزم خود ماسکو میں اپنے بچا کیلئے پریشان ہوگا،سرمایہ دارانہ ڈیموکریسی خود واشنگٹن اور نیویارک میں اپنے تحفظ کے لئے لرزہ براندام ہوگی،مادہ پرستانہ الحاد خود لندن اور پیرس کی یونیورسٹیوں میں جگہ پانے سے عاجز ہوگا،نسل پرستی اور قوم پرستی خود برہمنوں اور جرمنوں میں اپنے معتقدنہ پاسکے گی۔آج وہ وقت آچکاہے،کمیونزم ماسکو میں دفن ہوکر قصہ پارینہ بن چکاہے،مادہ پرست الحادلندن اور پیرس کی سڑکوں پر ذلیل و رسوا ہورہا ہے، نسل اور قوم پرستی برہمنوں اور جرمنوں میں اپنے معتقد ڈھونڈتی پھررہی ہے،جبکہ سرمایہ دارانہ ڈیمو کریسی اپنی بقا کیلئے ہاتھ پاں مار رہی ہے،چنانچہ اِس تناظر میں ابھرنے والا منظر نامہ ہمارے ان ارباب اقتدار اور دولت پرست طبقوں کیلئے لمحہ فکریہ ہونا چاہیے جو اپنے اس امریکی سرپرست جس کے اپنے ہاتھ سے اقتدار کی باگیں خشک اور بھر بھری ریت کی مانند آہستہ آہستہ پھسلتی جارہی ہے، پر تکیہ کئے پاکستان کی مظلوم عوام کا استحصال کررہے ہیں،شاید وہ یہ حقیقت بھول رہے ہیں کہ ہر وہ نظام جو غریب عوام کو لوٹنے، کچلنے اور استحصال کرنے پر مبنی ہوتا ہے کبھی بھی دیرپا اور پائیدار ثابت نہیں ہوتا ۔

Share this:
Tags:
protest Wall Street
rana sanaullah
Previous Post وزیر اعلی پنجاب کی اہلیت کا فیصلہ عدالتیں کر چکیں، رانا ثنااللہ
Next Post ہرارے: نیوزی لینڈ نے ون ڈے سیریز جیت لی
zimbabwe

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close