Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 4, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

عدلیہ کے پرکاٹنے کی ایک اور سازش

June 20, 2012June 20, 2012 0 1 min read
1
Malik Riaz with Quran
Malik Riaz with Quran

جس سماج میں جھوٹ، فریب، منافقت اور لاقانونیت کی حکمرانی ہو ،کرپشن ،بے انصافی ، لوٹ مار اوراقرباء پروری کا راج ہو ، اُس سماج کے لوگوں کا جھوٹی قسمیں کھانا اور قرآن مجید کو اپنے جرم پر پردہ ڈالنے کیلئے استعمال کرنا غلط نہیں سمجھا جاتا ،غلط تو وہ سمجھتے ہیں اور ڈرتے تو وہ ہیں جنہیں اپنے ربّ کی گرفت کا احساس ہوتا ہے،جنہیں اِس بات کا خوف ہوتا ہے کہ اگر جھوٹی قسم یا جھوٹا قرآن اٹھایا تو وہ اللہ کی پکڑ سے نہیں بچ پائیں،مگر جب انسان کے دل و دماغ سے سزاوجزاء کا یقین نکل جائے اور اپنے اعمال کے حساب وکتاب کا ڈر جاتا رہے تو وہ بے خوف ہوجاتا ہے،پھر اُسے اپنے موقف کو سچ ثابت کرنے کیلئے کچھ بھی کرگزرنے سے ڈر نہیں لگتا،ملک ریاض کے ساتھ بھی یہی ہوا۔

عدالتی بیان پر اکتفا کرنے کے بجائے اُس نے عوام کی نظروں میں اپنا مقدمہ مضبوط بنانے کیلئے قرآن اٹھاکر چیف جسٹس پر الزامات لگائے،ارسلان افتخار کو ڈان قرار دیا اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ اُس کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے،ماہرین قانون کے نزدیک تو ملک ریاض صرف توہین عدالت کے مرتکب ہوئے،مگروہ عوام کی نظروں میں ذلیل و رسوا ہونے کے ساتھ ربّ کی پکڑ اور قرآن کی بے حرمتی کے سزاوار بھی ٹہرے ،شاید یہ ربّ کے کلام کی بے توقیری کی سزا ہے کہ انہوں نے اپنی دنیاوی نیک نامی کو خود اپنے ہی ہاتھوں خاک میں ملادیا،حالانکہ اصول و قاعدہ یہ تھا کہ اگر ملک ریاض کے ساتھ کوئی دھوکہ یا فریب ہوا تھا تو وہ قانونی راستہ اختیار کر کے ارسلان افتخار کے خلاف ایف آئی آر درج کرا سکتے تھے۔

Chief Justice Of Pakistan Son Dr Arslan
Chief Justice Of Pakistan Son Dr Arslan

قانونی کاروائی کرسکتے تھے ، یہ کام اُن کیلئے کوئی مشکل نہ تھا کہ صدر اور وزیراعظم اُن کے قریبی دوست ہیں،مگرملک ریاض نے مقتدر حلقوں کی تائید سے جس سازشی ڈرامے کا سکرپٹ تیار کیا تھا، اُس کا مرکزی خیال چیف جسٹس پاکستان کو عوام کی نظروں میں گرانا،انہیں بدنام کرنا اور دباؤ ڈال کر مستعفی ہونے پر مجبور کرنا تھایا پھر اُن کے خلاف حکومت کو صدارتی ریفرنس کیلئے مواد کی فراہمی تھا۔اگر اُن کے اِس اقدام کا مقصد اُس 34کروڑ کی رقم کی واپسی تھا جو اُن کے بقول انہوں نے ارسلان افتخار کودی تو پھر ملک ریاض نے عدالت کے اندر اور باہراپنی رقم کی واپسی کا مطالبہ کیوں نہیں کیا؟ نہ ہی انہوں نے اُس کیلئے کوئی قانونی راستہ اختیار کیا،بلکہ دونوں مقامات پر اُن کا طرز عمل اِس بات کی چغلی کھاتا ہے کہ وہ چیف جسٹس اور اُن کے خاندان کو بلیک میل کرنے کی کوشش کر تے رہے۔

حقائق بتاتے ہیں کہ ملک ریاض نے سپریم کورٹ میں اپنے خلاف مقدموں میں ریلیف لینے کیلئے نہ صرف چیف جسٹس پاکستان کے قریبی وکلاء اعتزاز احسن اور حامد خان کی خدمات بھاری فیسوں پر حاصل کیں بلکہ اپنی کامیاب پالیسی ”فائلوں کو پہیئے لگانے” کے مطابق ارسلان افتخار کو بھی استعمال کیا،لیکن جب اُن کی یہ تمام کوششیںرائیگاں ثابت ہوئیں اور انہیں سپریم کورٹ سے مقدمات میں ریلیف نہ ملا توانہوںنے چیف جسٹس پاکستان کے خلاف یہ ڈرامہ کھیلا اور انہیں بلیک میل کرکے خوف زدہ کرنے کی کوشش کی ،لیکن اَمرربیّ ہے کہ حق اور سچ کبھی مغلوب نہیں ہوتا،نہ ہی زیادہ دیر چھپایا جاسکتا ہے۔

ہاں وقتی طور پر جھوٹ کے تانے بانے سچائی کوگدلا ضرور دیتے ہیں،لیکن بہت جلد حقیقت طشت ازبام ہوجاتی ہے اور حق اپنی تمام تر سچائی کے ساتھ نکھر کر سامنے آجاتا ہے۔کہتے ہیں سازش کبھی چھپائے نہیں چھپتی اورسازشی کردار اپنے لب و لہجہ ، حرکات و سکنات سے سازش کے تانے بانے خود ہی بے نقاب کردیتا ہے ،اِس کیس میں بھی یہی ہوا،وہ ملک ریاض جس کے بارے میں عام تاثر یہی تھاکہ وہ ایسی کرشمہ ساز شخصیت ہے ،جس نے زیرو سے ہیرو تک کا سفر کامیابی سے طے کیا اوراپنے راستے میں آنے والے ہر ممکنہ شخص کو ہٹانے کے بجائے اپنی طاقت کے بل پر اپنے حلقہ احباب میں شامل کرلیا،خود اپنے ہی جال میں پھنس گیا اور اپنے ہی کھودھے ہوئے گڑھے میں گرگیا، وہ انٹرویو جو اُس نے اور اُس کے حواریوں نے منظم منصوبہ بندی کے تحت چیف جسٹس کے خلاف تیار کیا تھا، اُس انٹرویو کے ابتدائی اور وقفے کے درمیان ملک ریاض اور اینکرز کے درمیان ہونے والی آف دی ریکارڈ گفتگو کی وڈیو سامنے آتے ہی اِس سازش کے سارے کردار عریاں ہوکر قوم کے سامنے آگئے،اِس وڈیو کو دیکھ کر بخوبی اندازہ لگایاجاسکتا ہے کہ حکمران جماعت کس طرح ملک ریاض کے ساتھ نہ صرف شامل ہے بلکہ مقتدر طبقے کی جانب سے ٹی وی چینلز مالکان اور اینکرز پرسنز کو پیسے کے زور پر خرید کر اپنی مرضی کے پروگرام پیش کرکے عوام کو کیسے گمراہ کرتے ہیں،اب ملک ریاض کے خودساختہ انٹرو یو اور ٹی وی مالکان اور اینکرپرسنز کی منافقانہ روش منظر عام پر آنے کے بعد پرائیویٹ چینل کی جانب سے مسلسل یہ پروپیگنڈہ کیاجارہا ہے کہ ملک ریاض انٹرویو کی لیک ہونیو الی فوٹیج دراصل ملک کے ایک مشہور و معروف ٹی وی چینل کی جانب سے اُن کے خلاف کی جانیو الی سازش کا نتیجہ ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ اپنی خفت مٹانے ا ور چینل مالکان و اینکرپرسنز کی جانب سے اختیار کئے جانیو الے منافقانہ روئیے پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہے،اِس کا ثبوت ڈائریکٹر کرنٹ افیئرز کا استعفیٰ ہے،جو ظاہر کرتا ہے کہ اِس ادارے کے خلاف کوئی سازش نہیں ہوئی ،بلکہ ادارے کے مالکان خود اِس منافقانہ روش میں شامل تھے۔

اَمر واقعہ یہ ہے کہ جس طرح ملک ریاض نے ڈاکٹر ارسلان افتخار کے حوالے سے ریکارڈ محفوظ کیا اور ہوٹلوں ، کلبوں، شاپنگ سینٹروں کی تصاویر بنائیں ،یہ تمام عمل منظم سازش کی چغلی کھاتے ہیں،جبکہ دوسری جانب ریلیف نہ ملنے کے باوجود ڈاکٹر ارسلان پر سرمایہ کاری کا جاری رہنا ،سازش کو منطقی انجام تک پہنچانے کا اہم ثبوت ہے ، اگر ملک ریاض بے گناہ ہوتا تو وہ آغاز میں ہی براۂ راست یا بالواسطہ چیف جسٹس کو ڈاکٹر ارسلان کی بلیک میلنگ سے آگاہ کرسکتا تھا ، مگراُس نے خفیہ ایجنڈے کے تحت آبرو مندانہ راستہ اختیار کرنے کی بجائے شاطرانہ راستہ اختیار کیا اور صحافیوں اور وکلاء کی ہمدردیاں حاصل کرنے کیلئے انہیں مبینہ دستاویزات دکھاتا رہا،چونکہ ملک ریاض کا مقصد اپنے مقدمات میں ریلیف حاصل کرنا اور ریلیف نہ ملنے کی صورت میںچیف جسٹس کو بدنام کرنا تھا،اِس لیے اُس نے ذرائع ابلاغ کے بعض عناصرکی مدد سے یہ ہنگامہ مچایاتاکہ چیف جسٹس کو اپنے منصب سے علیحدہ ہونے پر مجبورکردیاجائے یا پھر انہیں حساس مقدمات کی سماعت سے روک دیاجائے، اِس عمل میں وہ یہ بھول گیا کہ حق اور باطل کی جنگ میں ہمیشہ حق کی فتح لازم ہے،یہ درست ہے کہ ماضی میں ہماری عدالیہ کے کردار پر سوالیہ نشان لگتے رہے۔

Supreme Court Of Pakistan
Supreme Court Of Pakistan

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چودھری کے2007ء میں مشرف کے سامنے انکار اور2009ء میں ا ُن کی بحالی کے بعد عوام کی نظروں میں عدلیہ کا وقار بلند ہوا ہے اور اُن کی نظریں عدلیہ پر ہی لگی ہوئی ہیں،یہی وجہ ہے کہ اب عدلیہ کو نشانے پر لیا جارہا ہے،جبکہ یہ اَمر بھی کسی سے مخفی نہیں کہ موجودہ حکمرانوں کی کرپشن کی داستانیں روز اوّل سے زبان زدِ عام ہیں اور عدالتی فیصلوںاور ناقابل تردید ثبوتوں کے باوجود صدر، وزیراعظم، وزراء اور پیپلز پارٹی کی قیادت” میں نہ مانوں” کی پالیسی پر گامزن ہے، گذشتہ دنوں عدالتی احکامات نہ ماننے کی وجہ سے وزیراعظم نہ صرف مجرم ٹھرائے گئے اورمستقبل میں انھیں نااہلی کا بھی سامنا ہے۔اگر گذشتہ چار سالوں کی حکومتی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو حکمرانوں کے سامنے عوام، فوج،سمیت تمام ادارے اور قوتیں بے بس نظر آ تی ہیں۔

دوسری جانب بالادستی کی دعویدارپارلیمنٹ ربڑاسٹمپ کا کردار اد کرتی دکھائی دیتی ہے ، مگر اِس ناگفتہ بہ حالت میں بھی ایک فرد ایساہے جو پاکستان کے بے بس اور لاچار عوام کیلئے اُمید اور روشنی کی آخری کرن ثابت ہوا ہے اوروہ فرد چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چودہری صاحب ہیں،جنہوں نے اپنے کرداروعمل سے سپریم کورٹ آف پاکستان کو عوام کی نظروں میں عزت و باوقار بخشا اور عوام کا کھویا ہوا اعتماد بحال کروایا ہے، اسی لیے ہمارے حکمران انہیں اپنی راۂ کی رکاوٹ سمجھتے ہوئے ہٹانے کیلئے اِس قسم کے اوچھے حربے استعمال کررہے ہیں،آج پاکستانی عوام یہ بات بہت اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ ڈاکٹر ارسلان اور ملک ریاض اسکینڈل منظر عام پر لانے کا بنیادی مقصد بھی یہی ہے،سازش تیار کرنے والے شاید اِس خوش گمانی میں مبتلا تھے کہ چیف جسٹس صاحب انصاف کے مقابلے میں شفقت پدری کو ترجیح دیں گے اور بلیک میل ہونے یا سودے بازی کرنے پر مجبور ہوجائیںگے۔

چیف جسٹس کے ازخود نوٹس نے اُن کے سارے حربے ناکام بنادیئے اور ارسلان کیس کی ابتدائی سماعت میں ہی واضح کردیا کہ انصاف اندھا ہوتاہے اوروہ یہ نہیں دیکھتا کہ ملزم باپ ، بیٹا یا بھائی یا پھر کوئی اور رشتہ دار ہے، کیا آج پاکستان کی موجودہ تاریخ میں دور نبوی ۖاور سنت فاروقی جیسی کوئی اور ایک ایسی مثال پیش کی جاسکتی ہے۔؟اب جبکہ چیف جسٹس اور عدلیہ کے خلاف تمام سازش بے نقاب ہوچکی ہے اور یہ حقیقت بھی سامنے آچکی ہے کہ اِس مبینہ سازش کا شر خود چیف جسٹس صاحب کیلئے خیرکا باعث اور ملک ریاض کیلئے برْے دنوں کا نقطہ آغاز بن چکا ہے، ضرورت اِس اَمر کی ہے کہ ارسلان افتخار اور ملک ریاض کے ہمراہ وہ اصلی چہرے بھی بے نقاب کیے جائیں جو اُس سازش کے پیچھے کارفرما ہیں۔

Chief Justice of Pakistan
Chief Justice of Pakistan

قارئین محترم ! آج اِس حقیقت سے انکار ممکن نہیںکہ چیف جسٹس افتخارمحمدچودھری کی جانب سے طاقتورقوتوں کے مقابلے پر ”حرف انکار”نے پاکستان کی سیاست کا رخ بدل دیا ہے، جنرل مشرف سے معزولی اورعوامی تحریک کے نتیجے میں چیف جسٹس افتخارمحمدچودھری کی بحالی کے باوجود آزادعدلیہ کے پرکاٹنے کی سازشیں ابھی ختم نہیں ہوئیں،طوفان ابھی ٹلا نہیں ہے ،بے لاگ تحقیقات کے عدالتی حکم کی آڑ میںفتنہ وفساد سے بھر پور ناٹک رچانے کا موقع ابھی بھی حکومت کے ہاتھ میں ہے،اسی وجہ سے ملک ریاض کے بے سروپا الزامات نے قوم کو ایک بارپھریکسو کردیا ہے اور عدلیہ کی حفاظت کرنے والی قوتیں دوبارہ منظم ہورہی ہیں، اِن حالات میںپاکستان کی سیول سوسائٹی اور خاموش اکثریت پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اِن کرپٹ مافیا کے خلاف آخری جنگ لڑنے کیلئے میدان عمل میں آنے کی تیاری کرلیں ،کیونکہ اب وقت آگیا ہے کہ حق اور باطل،سچے اور جھوٹے ، کھرے اور کھوٹے میں تمیز پیدا کی جائے اوراُن قوتوں کا ساتھ دیا جائے جو حق کی علامت، سچائی کی علمبردار اور ظالم و استحصالی قوتوں کے خلاف عدل و انصاف کا نشان ہیں۔

آج چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی ذات تبدیل شدہ، آزاد عدلیہ میںانصاف کی ضمانت و بنیاد ہے، ہمارا ماننا ہے کہ ایک ایسے شخص کو اُس کے عاقل و بالغ بیٹے کے گناہوں اور کوتاہیوں کی سزا ہرگزنہیں دی جاسکتی جو کرپٹ مافیا کے خلاف جہاد کررہا ہے،جو بے لگام اداروں کو آئین و قانون کے تابع لانے کیلئے دن رات کام کررہاہے اور جس کا عمل وکردار عوام سمیت پوری دنیا کے سامنے کھلی کتاب کی مانند ہو، لہٰذایہ جدوجہد صرف چیف جسٹس افتخارمحمدچودھری کے تحفظ اور استقرار کی نہیں بلکہ اُس آزاد عدلیہ کے عزت وقار اور بقاء و سلامتی کی ہے جو66سال سے غلام و محکوم اورمجبور و بے بس قوم کیلئے آج اُمید کی آخری کرن ہے۔تحریر : محمد احمد ترازی
mahmedtarazigmail.com

 

Share this:
Tags:
arslan chuhdary iftikhar muhammad chaudhry Malik Riaz supreme court سپریم کورٹ ملک ریاض
Makhdoom Shahabuddin
Previous Post اگلا وزیراعظم، اتحادی جماعتیں مخدوم شہاب پر راضی
Next Post پی ایس83ضمنی الیکشن،پی پی کے شاہد تھہیم کامیاب، غیرسرکاری نتائج
election

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close