Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 2, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

عوامی قوت

July 24, 2012July 24, 2012 0 1 min read
TARIQ BUTT
TARIQ BUTT
TARIQ BUTT

14 اگست 1947 کو پاکستان کا قیام عوامی قوت کا ایسا عدیم النظیر اظہار تھا جس نے پوری دنیا کو ششدر کر کے رکھ دیا تھا۔ ووٹ کی قوت سے دنیا کی سب سے بڑی اسلا می ریاست کا قیام واقعی حیران کن امر تھا اور لوگوں کا اس پر ششدر رہ جانا سمجھ میں آتا ہے۔ ستم ظریفی کی انتہا تو یہی ہے کہ عوامی رائے سے ظہور پذ یر ہو نے والی ریاست اپنی اسی پہچان کو برقرار نہ رکھ سکی۔ قائدِ اعظم محمد علی جناح کی رحلت کے بعد سیاست پر جا گیر داروں اور سرما یہ داروں نے قبضہ کر لیا اور عوامی رائے کا احترام دھیر ے دھیرے دم توڑتا چلا گیا۔ اب سارے فیصلے عوامی عدالتوں کی بجائے ڈرائنگ روموں میں ہونے لگے جن سے عوام کا دور دور تک کوئی تعلق اور واسطہ نہیں تھا ۔ وہ بے بسی کی تصویر بنے اس سارے کھیل کو د یکھ رہے تھے اور اندر ہی اندر کڑھ رہے تھے کیونکہ اشرافیہ کوعوام کی رائے اور فلا ح و بہبود سے بالکل کوئی دلچسپی نہیں تھی ۔

30 نومبر1967 پاکستانی سیاست میں ایک ایسے دن کی حیثیت سے ہمیشہ یاد رکھا جائیگا جب ذولفقار علی بھٹو نے پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیادیں رکھ کر عوامی سیاست کی اچھوتی داغ بیل ڈالی ۔ عوام طاقت کا سرچشمہ ہیں اس پارٹی کے نعرے کی بنیاد بنا اور عوام کی اکثریت نے ذولفقار علی بھٹو کی اس سحر آویز آواز پر پر لبیک کہہ کر اس نعرے کی دل و جان سے پذیرائی کی۔ پاکستان پیپلز پارٹی معاشرے میں اس طبقے کی نمائندہ جماعت بن کر ابھری جسے معاشرے میں نظر انداز کیا گیا تھا اور جس کا ملکی معاملات میں کوئی قابلِ ذکر کردار نہیں تھا۔ ذولفقار علی بھٹو کے مساوات، تکریمِ انسانیت اور برابری کے نعرے نے لوگوں کو اپنا گرویدہ کر لیا اور وہ جوق در جوق پی پی پی میں شامل ہوتے گئے اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ جماعت پاکستان کی سب سے مقبول جماعت کے انتخابات میں پی پی پی مغربی پاکستان کی سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری اور ایسے ایسے لو گ اقتدار کے ایوانوں میں پہنچے جنھیں کل تک کوئی اپنے برابر بٹھا نے کیلئے بھی تیار نہیں ہو تا تھا۔

Zulfiqaar Ali bhutto
Zulfiqaar Ali bhutto

ذو لفقار علی بھٹو کا سحر سر چڑ ھ کر بول رہا تھا اور بڑے بڑے جغادری سیاستدان ان کے سامنے بونے نظر آرہے تھے ۔پی پی پی کی جیت نے خاک نشینوں کو زمین کی پستیوں سے اٹھا کر اقتدار کے آسمان پر پہنچادیا تھا۔ عوامی حاکمیت کا یہی تصور تھا جو پی پی پی اور ذولفقار علی بٹھو کی پہچان بنا۔پی پی پی کا ساتھ دینے والے آشفتہ سر لوگ، جن کا ظاہرو باطن ایک جیسا تھابڑے آزاد منش اورسید ھے سادھے لوگ تھے جو محبتوں کے نقیب تھے اور مکرو فریب کے فن سے بالکل نا آشنا تھے۔ وہ اپنی ترقی پسند سوچ ،امن پسندی، مذہبی شدت پسندی کے خلاف شدید نفرت اور تکریمِ انسانیت کے علمبردار ہو نے کی جہت سے بائیں بازو کا بازئوے شمشیر زن بنے اور مذہبی جنونیوں اور شدت پسندوں کے عزائم کے سامنے مضبوط دیوار بن کر کھڑے ہو گئے ۔ان میں ریا کاری اور دوغلا پن نہیں تھاوہ سونے کی طرح کھرے تھے ان کی محبتیں بھی سچی تھیں اور پھر جن سے محبت کرتے تھے اسے جان دے کر بھی مناتے تھے اور محبت کا یہی اٹوٹ رشتہ ذولفقار علی بھٹو سے ان کی قربت کا سبب بناتھا ۔ وہ غریب ضرور تھے لیکن با غیرت، حریت پرست اور جرات مند تھے اور اپنی محبت کی حقانیت کو نبھا نا جانتے تھے۔

ذولفقار علی بھٹو سے انھوں نے جس طرح اپنی وفائوں کا ثبوت دیا سیاسی دنیا میں اس کی مثال ملنا ناممکن ہے۔ مجبو روں، مہقوروں ،محروموںاور پسے ہوئے عوام کو معاشرے میں عزتِ نفس کی جو پہچان اور مقام ذولفقار علی بھٹو کی نے عطا کیا تھا وہ ٤٥ سال گزرنے کے باوجود آج بھی اسی طرح قائم و دائم ہے اور پی پی پی آج بھی عوامی مقبولیت کی مسند پر بیٹھی ہو ئی ہے۔ اگر چہ اس جماعت کے خلاف بڑی گہری سازشیں کی گئیں لیکن اس کی مقبولیت کو کوئی طاقت بھی ختم نہ کر سکی۔اسے ختم کرنے والے سارے آمر وقت کی دھول میں خود کہیں گم ہو گئے جبکہ یہ جماعت آج بھی آسمانِ سیاست پر پوری آب و تاب کے ساتھ چمک رہی ہے۔

ذولفقار علی بھٹو عوامی پذ یرائی کی علامت بنے ہو ئے تھے اور عوامی مقبولیت کی انتہائوں کو چھو رہے تھے ۔ کسی جماعت اور لیڈر میں اتنا دم خم نہیں تھا کہ وہ انکی اس مقبولیت کو چیلنج کر سکتا لہذا پوری اپوزیشن نے یکجا ہو کر ذولفقار علی بھٹو کا مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا ۔ مارچ ١٩٧٧ کے انتخابات کا اعلان ہو نا تھا کہ ساری اپوزیشن جماعتیں پاکستان قومی اتحاد کے پلیٹ فار م پر یکجا ہو گئیں تا کہ ذولفقار علی بھٹو کو ان نتخابات میں شکست دے کر اقتدار پر قبضہ کر سکیں۔اگر وہ علیحدہ علیحدہ ا نتخاب لڑنے کا فیصلہ کرتے تو پھر شائدسب کی ضمانتیں ضبط ہو جاتیں لہذا نھوں نے باہم مل کر شاہین ِ سیاست کو زیرِ دام لانے کا منصوبہ بنایا ۔ بڑے گھمسان کا رن تھا،بڑے جذباتی انتخابات تھے اور دونوں طرف سے ان انتخابات کو جیتنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا یا گیا تھا۔

اس زمانے میں سیاست میں نظریات ابھی زندہ تھے اور قوم دائیں اور بائیں بازئوں میں بٹی ہوئی تھی۔ مذہب پسند قوتیں دائیں بازو کی نمائندہ تھیں جبکہ سوشلسٹ اور ترقی پسند قوتیں بائیں بازو کی نمائندگی کر رہی تھیں۔ یہ آخری انتخابات تھے جو دائیں اور بائیں بازو کی حلقہ بندیوں میں لڑے گئے تھے کیونکہ اسکے بعد یہ تمیز ختم ہو گئی تھی کیونکہ سوشلزم روس میں زوال پذیر ہو گیا تھا اور پھر پرائیو ٹا ئزیشن کا زمانہ آگیا تھا جسکے اصول و ضواطط سوشلزم سے کہیں بھی تال میل نہیں کھاتے تھے ۔

PPP
PPP

میں نے اپنی زندگی میں اس سے زیادہ مشکل اور خونی انتخابات نہیں دیکھے۔ سالوں کی دوستیاں، تعلق اور رشتے اس انتخاب نے نگل لئے تھے۔ اپنی اپنی سوچ اور نظریے پر لوگ چٹان کی طرح ڈٹے ہوئے تھے اور اپنی فتح کے خواب دیکھ رہے تھے ۔شکست کا تصور ان کے اذہان سے بہت دور تھا اوردو ونوں گروہ اپنی اپنی فتح کے بارے میں پر یقین تھے ۔ پی این اے بھان متی کا ایک کنبہ تھا جو متحدہ اپوزیشن کی شکل میں پی پی پی کا مقابلہ کرنے نکلا تھا۔

پی این اے میں شامل بہت سی جماعتیں ایک دوسرے کے وجود کی مخالف تھیں لیکن ذولفقار علی بھٹو کی مخالفت پر وقتی طور پر اکٹھی ہو گئی تھیں اگر میں یہ کہوں کہ ان کے ذاتی مفادات کا تقاضہ تھا کہ وہ باہم شیر و شکر ہو جائیں تو زیادہ مناسب ہو گا کیونکہ علیحدہ علیحدہ ان کیلئے اپنا وجود برقرار رکھنا نا ممکن تھا ۔ ذولفقار علی بھٹو نے ان انتخابات میں اپنے فنِ خطابت کے سارے جوہر دکھائے اور پاکستان قومی اتحاد کے داخلی تضاد د کو ابھار کر عوام کو اپنی حمائت پر قائل کیا ۔ میں نے خود ذولفقار علی بھٹو کے کئی جلسے سنے ہیں لہذا میں ان کے فنِ خطابت کی گواہی دے سکتا ہوں ۔ انتخابات ہو ئے اور پی پی پی دو تہائی اکثریت سے یہ انتخابات جیت گئی۔ پی این اے اپنی اس شکست کو برداشت نہ کر سکا اور دھاندلی کے الزامات لگا کر ایک تحریک شروع کر دی جس میں اسے امریکہ اور فوج کی در پردہ حمائت حاصل تھی۔5

جولائی 1977کر جنرل ضیا الحق نے شب خون مار کر اقتدار پر قبضہ کر لیا اور قومی ا تحاد کی ساری جماعتیں جنرل ضیا الحق کے ساتھ اقتدار میں شامل ہو گئیں اور پی پی پی کے جیالوں پر عرصہِ حیات تنگ کر دیا ۔ جیلیں کوڑے اور پھانسیاں جیالوں کا مقدر بنیں لیکن ذولفقار علی بھتو کی خاطر وہ اس آزمائش سے بھی مردانہ روار گزر گئے۔ جنرل ضیا الحق نے جب یہ دیکھا کہ ذولفقار علی بھٹو کی معزولی بھی اس کی شہرت اور مقبولیت میں کمی نہیں لا سکی تو اس نے قتل کے ایک جھوٹے مقدمے میں 4اپریل1979 کو انھیں پھانسی دے کر اپنی راہ سے ہٹا دیا لیکن وہ ذو لفقار علی بھٹو کی محبت کو پھر بھی عوام کے دلوں سے نکالنے میں کامیاب نہ ہو سکا۔

ظلم و جبر کی یہ خونچکاں داستان جاری تھی کہ محترمہ بے نظیر بھٹو افقِ سیات پر نمو دار ہوئیں اور پھر تو جیالوں کی زندگی میں جذبوں کی نئی لہر دوڑ گئی اور وہ سارے متحد ہو کر محترمہ بے نظیر بھٹو کے گرد جمع ہوکر آمریت کو شکست دینے میں جٹ گئے ۔ آمریت کو بچانے کی خاطر پی این اے کا تجربہ 1988کے انتخابات میں ایک دفعہ پھر آزمایا گیا تھا جب فوجی جرنیل حمید گل نے اسلامی جمہوری اتحاد تشکیل دے کر پی پی پی کا راستہ روکنے کی کوشش کی لیکن کسی کے روکے کب رکا ہے سویرا۔ہار دائیں بازو کا مقدر تھی اور مقدر بنی۔ ظلم کا مقدر ہی شکست ہوا کرتا ہے اور مظلوم کی فتح یقینی ہوا کرتی ہے۔جیالوں کی کوششیں بار آور ثا بت ہوئیں اور 1988 کے انتخابات میں پی پی پی آمریت کی باقیات کو شکستِ فاش دے کر تاریخی کامیابی سے ہمکنار ہوئی ۔ پی پی پی نے متحدہ اپوزیشن کو شکت دے کرثابت کیا کہ پی پی پی عوام کی نمائندہ جماعت ہے اور عوام اس سے محبت کرتے ہیں۔ آمریت کی پروردہ آئی جے آئی ہار گئی اور محبت جیت گئی لیکن ایک سازش کے تحت اقتدار کی منتقلی میں اوچھے ہتھکنڈے آزمائے گئے ۔

Nawaz Sharif
Nawaz Sharif

پنجاب کو پی پی پی کے حوالے نہ کیا گیا بلکہ ایک سازش کے تحت میاں محمد نواز شریف کو پنجاب کی وزارتِ اعلی پر فائز کیا گیا تا کہ پی پی پی کے خلاف پنجاب کے مورچے سے حملہ کیا جا سکے اور ایسا ہی ہوا۔ میاں محمد نواز شریف نے مرکز کے ساتھ محاز آرائی کا نیا سلسلہ شروع کر دیا جس کی وجہ سے جمہوری نظام تصادم کا شکار ہو کر اپنے ثمرات سے عوام کو بہرہ ور نہ کر سکا۔ پی پی پی کے خلاف فوج، عدلیہ اور متحدہ اپوزیشن نے باہم مل کر جس طرح کی سازشیں کیں اور اس کے اقتدار میں جس طرح کے روڑے اٹکائے وہ روش آج بھی جاری و ساری ہے ۔ اس کے اقتدار کو آج بھی تسلیم نہیں کیا جا رہا ۔ اسے عدالتوں کے ذریعے جس شرمناک طریقے سے رسوا کیا جا رہا ہے وہ یہ ثابت کرنے کیلئے کافی ہے کہ ا سٹیبلشمنٹ پی پی کا اقتدار برداشت کرنے کیلئے تیار نہیں ہے۔ پی پی پی عوامی قوت کی علامت جسے اس نے متحدہ اپوزیشن کو این اے ١٥١ ملتان میں شکست دے کر ثابت کیا ہے لہذا اس کا حقِ حکمرانی تسلیم کیا جانا ضروری ہے۔ تحریر: طارق حسین بٹ

 

 

Share this:
Tags:
pakistan ppp public power quaid e azam پاکستان پیپلز پارٹی
SM Krishna
Previous Post ایس ایم کرشنا ستمبر کے دوسرے ہفتے میں پاکستان کا دورہ کرینگے
Next Post کیمیائی ہتیاروں کے استعمال کے سنگین نتائج ہوں گے، صدر اوباما
barack obama

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close