Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 4, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

عید میلاد النبی، اہمیت اور تقاضے

February 13, 2012 0 1 min read
Milad ul Nabi
Milad ul Nabi
Milad ul Nabi

دنیا کی تمام اقوام اور مذاہب کو ماننے والے اپنے، قومی دنِ، اہم ایام اور تہوارپورے جوش و خروش سے مناتے ہیں جس سے اُن کی قومی وحدت ، اپنے نظریہ سے لگن اور اُس کے ساتھ اپنی وابستگی کا بھر پور اظہار ہوتا ہے۔ اس طرح کی تقریبات ایک طرح سے اُن کے ملی اور قومی جذبہ کا مظہر ہوتی ہیں۔ سورہ یونس کی آیت ٥٨ میں اہلِ ایمان کو حکم دیا گیا کہ قرآنِ حکیم جیسی عظیم نعمت جو بعثِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ممکن ہوئی، اس کے ملنے پر جشنِ مسرت منائو۔ قرآن صاحبِ قرآن سے تو الگ ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی تئیس سال کی زندگی میں قرآن کو عملاََ متشکل کر کے دیکھایا نیزاُم المومنین حضرت عائشہ کا ارشاد ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خلق قرآن تھا یعنی آپ مجسمِ قرآن تھے۔ اِس لیے نزولِ قرآن پر جشنِ مسرت تو عیدالفطر کی صورت میں منایا جاتا ہے اور مجسمِ قرآن کے لیے جشن ربیع الاول میں ہوتا ہے۔ سورہ مائدہ کی آیت تین میں دینِ اسلام کو نعمت کہا گیا ہے اورجب دینِ اسلام نعمت ہے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی تو نعمت ہیں جن کی وجہ سے ہمیں دین ملا ۔ بلکہ قرآنِ حکیم نے متعدد مقامات پر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو واضع طور پر اللہ کی نعمت قرار دیا ہے جس کی تفصیل قرآن کے اِن مقامات پر دیکھی جا سکتی ہے( ٥٢، ١٩٥٨ ، ٤٨٢، ٤٩٨ ، ٢٩٥٢ اور ٦٨٢)۔ نعمت کا ذکر کرنے کے بعدیہ بھی ارشاد فرمادیا کہ نعمت ملنے پر اُس کا چرچا کرو(٩٣١١)،اور نعمت کا شکرکرنے ِ کو عبودیتِ خداوندی قرار دیا(١٦١١٤)، نعمت ملنے پر اُس کا شکر ادا کرنے کے بارے میں تو قرآنِ حکیم میں بہت زیادہ آیات ہیں۔ جب اللہ تعالٰی نے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نعمت قرار دیاہے بلکہ آپ نعمتِ کبرٰی ہیں توآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت پر خوشی در حقیت انہی قرآنی تعلیمات پر عمل کرناہے۔ اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعث کو مومنین پر احسان قرار دیاہے(٣١٦٤) ۔ اب اِن تمام آیاتِ قرآنی کی روشنی میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت پر خوشی کرنا درحقیت اللہ کا حکم بجا لانا ہے اور جشنِ مسرت نہ مانا اللہ تعالٰی کی حکم عدولی ہے۔ جب خود خدا اُن کی تعریف کرتا ہے( ٤٧۔٣٣٤٥) اورحضور کوخود بہت محبت سے مخاطب کرتا ہے( ٢٠١، ٣٦١، ٧٣١، ٧٤١) تو پھر بندہ مومن کیوں نہ حکمِ ربانی کو بجا لاتے ہوئے ذکرِ مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محافل کا انعقاد کرے۔ قرآن کی سپریم حیثیت کا تقاضا ہے کہ مذید کوئی اور دلیل طلب کیے بغیر حکمِ خداوندی پر عمل کیا جائے۔جب قرآن واضع طور پر کہہ رہا ہے کہ نعمتِ الہی کا شکر ادا کرو اور جشنِ مسرت منائو پھر کون ہے جو انکار کی جرات کرے۔ یہ محافل حضور سے اپنی محبت اور وابستگی کا اظہارہوتی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے تم میںسے کوئی اُس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک وہ مجھ سے سب زیادہ محبت نہ کرے۔ جس سے محبت ہو اُس کا تو اکثر ذکر ہوتا ہے اور جس کا عملی مظاہرہ قول و فعل سے نظر آتا ہے۔

یہ دِن حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کا ہو یا اِس دنیا سے تشریف لے جانے کا، دین کی ابتدا کا دِن ہو یا تکمیلِ دین کی خوشی میں یا پھر ہجرت کے واقعہ کی یاد میں ، اِس سے کچھ فرق نہیں پڑتا کیونکہ مقصد ایک ہی ہوتا ہے اور وہ یہ کہ قرآن حکیم اور احادیث مبارکہ کی روشنی میں ختم المرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقام و مرتبہ، اُن کی شان بیان کرکے اُن کے ساتھ اپنی محبت کا اظہار کیا جاتا ہے اور اپنی زندگی کو اُن کے اُسوہ حسنہ پر چلنے کا عزم کیا جاتا ہے۔ لیکن کچھ احباب پھر بھی سوال کرتے ہیں کہ کیا خود حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دِن منایا کرتے تھے اور کیا صحابہ اکرام بھی یہ دِن مناتے تھے۔ کئی احباب تواِسے بدعت تک قرار دیتے ہیں۔راقم نے تحریروتقریر میں کبھی بھی اختلافی امورپر بات نہیں کی لیکن اس قدر اہم موضوع ہونے کی وجہ سے قلم اُٹھانا بھی ضروری ہے۔ جہاں تک صحابہ اکرام کا میلاد منانے کا تعلق ہے تو ممکن ہے کہ وہ اِس انداز میں نہ مناتے ہوں جس طرح آج منایا جاتا ہے۔ لیکن بہت سی روایات ایسی موجود ہیں جن میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی ولادت کا تذکرہ کیا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی ولادت کے دِن یعنی پیر کو روزہ رکھا کرتے تھے یہ بھی ایک طرح سے منانا ہی ہے۔ حضرت حسان بن ثابت، حضرت کعب بن زہیر، چاروں خلفاء راشدین، حضرت فاطمہ، حضرت عائشہ اور کم از کم ٣٤صحابہ اکرام کی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں نعتیں بھی تو اِسی سلسلہ کی کڑی ہیں۔ اب تو لوگ سال میں ایک دفعہ ایسی تقریب منعقد کرتے ہیں جبکہ صحابہ اکرام تو ہر وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کا اظہار کرتے تھے۔ جانثارانِ مصطفٰے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سامنے دیکھ کر درودوسلام کے نذرانے پیش کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جان نثار کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذکر کی محافل کے طریقہ کار اور انداز کو ہر کوئی اپنے دینی فہم اور محبت کی روشنی میں ترتیب دے سکتا ہے۔ تقریبات کو منانے کے لیے ضروری نہیں کہ ہر کوئی ایک سا طریقہ اپنائے۔ اب بھی مختلف ممالک میں میں مختلف انداز میںیہ دِن منایا جاتا ہے اور تقریبات منعقد ہوتی ہیں۔ قرآن کی روشنی میں رسالت کا مقام اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں قرآنی آیات کا مفہوم پیش کرنے کی محافل سے کسی کو بھی اختلاف نہیں ہونا چاہیے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ بابرکات کے بارے کچھ بھی کہنے سے پہلے بہت ہی احتیاط کی ضرورت ہے۔ قرآن نے قیامت تک آنے والے تمام مسلمانوں اور اولین مخاطب صحابہ اکرام کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقام کی وضاحت کرتے ہوئے خبردار کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایسے مخاطب نہ کرو جیسے ایک دوسرے کو کرتے ہو(٢٤٦٣)اوراپنی آواز کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آوازپر بلند کرو ، یہ نہ ہو کہ تمھارے تمام اعمال ضائع ہو جائیں اور تمھیں شعور بھی نہ ہو(٤٩٢) لہذا بارگاہ رسالت کے بارے بات کرتے ہوئے ازحد احتیاط کی ضرورت ہے۔ جہاں تک میلاد کی محافل کا تعلق ہے تو مجھے تویہ کہنا ہے کہ ہم نے اِن محافل کو صرف مسلمانوں تک کیوں محدود کردیا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو پوری کائنات کے لیے رحمت ہیں(٢١١٠٨) جن میں غیر مسلمان بھی شامل ہیں تو پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محافل میں غیر مسلمانوں کو کیوں شریک نہیں کیا جاتا۔ ہمیں پوری دنیا کو بتانے کی ضرورت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پوری انسانیت کے رحمت تھے اور سب سے بڑے سوشل ریفارمر تھے جن کی تعلیمات کا ثمر آج کی تمام انسانیت لے رہی ہے۔ دنیا بھر میں مسلم ممالک کے سفارت خانوں اور بالخصوص اقوامِ متحدہ میں اِس دِن کی مناسبت سے تقریبات منعقد کرکے دنیا کو انسانی حقوق کے بارے میں رحمتِ عالم کی تعلیمات خصوصاََ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آخری خطبہ کو پیش کرنا چاہیے جو کہ حقوقِ انسانی کا عالمی چارٹرہے ۔ وہاں سب کو بتایا جائے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غیر مسلموں، عورتوں، بچوں، زیر دستوں، جنگی قیدیوں اور جانوروں کے حقوق کا جوچارٹردیا تھا اُسی سے روشنی لیکراقوامِ متحدہ نے اپنا دستور بنایا ہے۔ اِس سے دنیا کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شخصیت اور اسلام کی اصل تعلیمات سے آگاہی ہوگی۔ مقامی تقریبات میں بھی دوسرے مذاہب کے لوگوں کو دعوت دینی چاہیے۔

اسلام کی وضاحت کرتے ہوئے یہ کہا جاتا ہے کہ اسلام دین ہے مذہب نہیں جو زندگی کے تمام شعبوں پر محیط ہے اور ہماری رہنمائی کرتا ہے۔اِس فہرت میں مذہبی اور دنیاوی امور دونوں کو شامل کیا جاتا ہے۔اب کچھ حلقے یہ حدیث بھی پیش کرتے ہیں کہ ہر نئی چیز بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے جو جہنم کا باعث ہوگی۔ دوسری جانب یہ روایت بھی بتائی جاتی ہے کہ جو بھی کوئی نیا اچھا طریقہ وضع کرے گا تو اُس کو اُس کا اجر ملتا رہے گا۔دراصل جہاں تک دین کے بنیادی عقائد اور ارکانِ اسلام کا تعلق ہے ، اِن میں میں تو کوئی مذید اضافہ نہیں کیا جاسکتا ۔یہی بدعت کا اصل مفہوم ہے لیکن ہر نئی چیز کو بدعت اور گمراہی قرار دے کر انسانی ترقی کو روکنا قرآنی تعلیمات کے یکسر منافی ہے۔ قرآن حکیم نے نصاریٰ کی جانب سے رہبانیت اختیار کرنے کو بدعت کہا ہے(٥٧٢٧)۔ قرآن تو بار بار کائنات کو مسخرکرنے، غوروفکر کرنے کا حکم دیتا ہے اور اس بارے میں قرآن کی ٧٣٠ آیات ہیں جو قرآن کا بارہ فی صد ہے جبکہ جنہیں عموماََ عبادات کہا جاتا ہے اُن کے بارے میں دو فی صدسے بھی کم آیات ہیں۔ اب کائنات پر غوروفکر کے نتیجہ میں نئی نئی ایجادات تو لازمی وجود میں آئیں گی۔یہ بدعت نہیں بلکہ جدت ہے اور اگر یہ نہ ہوتی تو آج کا انسان بھی وہیں کھڑا ہوتا جہاں ہمارے آباء تھے۔ دنیاوی چیزوں سے قطع نظر بہت سی مذہبی سرگرمیاں جو تقریباََ تمام مسالک اور فرقوں میں روا رکھی جاتی ہیںجن کی سند بھی تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ سے نہیں ملتیں اور انہیں بدعت نہیں کہا جاتا۔ شاندار مساجد کی تعمیر، مساجد کے مینار، لائوڈ سپیکروں کا استعمال، دانوں والی تسبیح، قرآن حکیم کے تراجم و تفاسیر، مذہبی کتابوں کی اشاعت، مذہبی تعلیم کا نصاب، مذہبی سرگرمیوں کی تصاویر اور ویڈیو بنانا اور دوسری کئی مذہبی سرگرمیوں کا جواز صحابہ سے کیے ملتا ہے۔ مذہب کے نام پر سیاسی اور مذہبی جماعتوں کی تشکیل ، مساجد پر دھڑلے سے اپنے فرقہ کا نام لکھنا، جلسے ، جلوس اور سالانہ اجتماع منعقد کرنے کی سند کس صحابی سے ملتی ہے۔ تمام فرقے اپنے اپنے مذہبی رہنمائوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے اجتماع اور سیمینار منعقد کرتے ہیں، کتابیں لکھتے ہیں۔ یہ بھی تو صحابہ سے ثابت نہیں مگراِن سب کو بدعت نہیں کہا جاتا۔ یومِ پاکستان، یومِ آزادی، یومِ قائدِ اعظم، یومِ اقبال، یومِ دفاعِ پاکستان اور دوسرے ایام پر بھی اعتراض نہیں کیا جاتا۔ دنیا کے تمام ممالک بشمول سعودی عرب اور خلیجی ریاستیںاپنے قومی دِن مناتے ہیں۔ اِن پر کوئی اعتراض وارد نہیں ہوتا۔ اپنے بچوں کی ولادت اورمسرت کے دیگر مواقع پر سب ہی اپنے اپنے انداز میں خوشی مناتے ہیں یہاں تک کہ اگر کرکٹ ٹیم میچ جیت جائے تو جشنِ مسرت پر کوئی معترض نہیں ہوتا۔ دورِ جدید میں سب کارہن سہن، لباس، خوردونوش اور طرزِ معاشرت کسی کی بھی صحابی سے نہیں ملتا۔ ایک بڑی حیرت کی بات یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دِن منانے کی مخالفت کرنے والے کچھ حلقے خود خلفا راشدین کے ایام سرکاری طور پر منانے کا نے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ کیا صحابہ اکرام نے خلفاء راشدین کے ایام منانے تھے۔

ذکرِرسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محافل سے اگر قلوب میں عشقِ مصطفٰے کی شمع روشن ہوتی ہے اور حضور سے محبت کا جذبہ پیدا ہوتا ہے تو یہ قابلِ تحسین ہے اِس لیے اَن پر اعتراض کی بجائے ان کے انعقاد کی ترغیب دینی چاہیے۔ جب دِلوں میں محبت ہوگی تو پھرہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیروی اور اتباع ممکن ہوگی۔ صحابہ اکرام کا مقام و مرتبہ اپنی جگہ پر مگر اللہ تعالٰی نے اپنی اور رسولِ پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیروی کا حکم دیا ہے(٣٣٢) اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود وحی یعنی قرآن کی پیروی کرتے تھے( ١٠١٥، ٦٥٠، ٧٢٠٣، ٤٦٩)۔ یعنی پیروی صرف قرآن کی ہے(٦١٥٧)۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت سے ہی اللہ کی محبت مشروط ہے (٣٣١)۔ میلاد کی محافل کے انعقاد ہی کافی نہیں بلکہ محبت کے دعویٰ کا ثبوت عمل سے دینا ہوگا ۔ قرآنِ حکیم صرف ایمان لانے کو کافی نہیں قرار دیتا بلکہ اس کے ساتھ عملِ صالح کی شرط عائد کرتا ہے(٤١٧٣، ١٠٣٣)۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کا تقاضا ہے کہ قرآن کو اپنی زندگی کا محور بنایا جائے اور یہ بات ملحوظِ نظر رہنی چاہیے کہ قیامت کے روز رسولِ پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے حضور اپنی امت کی شکایت کریں گے کہ میری اُمت نے قرآن کو چھوڑ دیا تھا(٢٥٣٠) لہذا ہمیں گفتار کی بجائے کردار کا غازی بننا چاہیے کیونکہ بقولِ اقبال نقش سب ناتمام ہیں خونِ جگر کے بغیر

تحریر : ڈاکٹر عارف محمود کسانہ، سویڈن

 

Share this:
Tags:
Islam World اسلام عید میلاد النبی
meera
Previous Post میرا کا ایک بار پھر فلم انڈسٹری چھوڑنے کا اعلان
Next Post ڈیوس کپ ٹینس ٹائی:امریکہ کی سوئٹزر لینڈ کو 0-3 سے شکست
daviscup tennis

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close