Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 4, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

غزہ پر حملہ ، اسرائیل نہ کیا کھویا کیا پایا

November 28, 2012 0 1 min read
Israel Attack Gaza
Israel Attack Gaza
Israel Attack Gaza

اِس وقت بظاہر اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے پر عمل درامد شروع ہو چکا ہے، جس کے تحت اسرائیل تمام عسکری کارروائیاں روکنے اور ٹارگٹ کلنگ ختم کرنے کیلئے اِس شرط پر رضامند ہوگیاکہ حماس اسرائیل میں اور سرحدی علاقوں پر اپنے حملے روک دے گا،اِس معاہدے میں کہا گیا ہے کہ تمام فلسطینی دھڑے غزہ سے اسرائیل اور سرحدی علاقوں پر راکٹ اور دوسرے حملے روک دیں گے،اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو کے دفتر سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ وزیراعظم اُس امریکی تجویز پر رضامند ہوئے ہیں کہ طاقت کے استعمال سے پہلے وہ مصر کی طرف سے جنگ بندی کے منصوبے کو ایک موقع دیں اور حالات کو قابو میں لانے کیلئے امن کی طرف قدم اٹھائیں،مصر کے وزیر خارجہ کامل امر نے قاہرہ میں اپنی امریکی ہم منصب ہیلری کلنٹن کے ساتھ ایک نیوز کانفرس میں جنگ بندی کا اعلان کیا۔

بعد میںاقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل نے بھی ایک اجلاس میں اسرائیل اور حماس پر زور دیا کہ وہ جنگ بندی پر سنجیدگی سے عمل درآمد کریں اور بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ غزہ کیلئے ایمرجنسی امداد فراہم کریں،امریکی صدر بارک اوباما نے معاہدے کو تسلیم کرنے پر اسرائیلی رہنماؤں کی تعریف کی اور کہا کہ وہ اسرائیلی دفاعی نظام کو اور بہتر بنانے کے لیے مزید رقم فراہم کرنے کی کوشش کریں گے،اُدھر جنگ بندی کے معاہدے کے اعلان کے بعد فلسطینیوں نے جشن مناتے ہوئے ہوئی فائرنگ کی،ایک بین الاقوامی نیوز ایجنسی کے مطابق راتوں رات شہر کا نقشہ ہی بدل گیا اور وہ لوگ جنھوں نے ہوائی حملوں سے بچنے کیلئے پناہ لے رکھی تھی، سڑکوں پر نکل آئے ،لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت حملوں میں تباہ ہونے والی عمارتوں کی مرمت اور صفائی کا کام بھی شروع کر دیا گیا ہے جبکہ حماس نے اپنی فتح کا جشن منانے کیلئے جمعرات کو عام تعطیل کا اعلان بھی کیا۔

دوسری طرف جنگ بندی کے معاہدے کے بعد اسرائیل کے وزیرِ دفاع ایہود باراک کا اسرائیلی ریڈیو پر دھمکی آمیز بیان بھی نشر کیا گیا جس میں کہا گیا کہ” یہ کوئی باضابطہ معاہدہ نہیں بلکہ چند سمجھوتے ہیں، جو نو دن یا نو ہفتے قائم رہ سکتا ہے، لیکن اگر یہ قائم نہ رہا تو ہم جانتے کہ پھر ہم کیا کریں گے، اگر کوئی فائرنگ ہوئی تو ہم اپنی کارروائی دوبارہ شروع کر دیں گے۔”جبکہ حماس کے سیاسی رہنما خالد مشعل کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جارحیت ناکام ہو گئی ہے، جلا وطن فلسطینی رہنما خالد مشعل نے قاہرہ میں ایک اخباری کانفرنس میں واضح کیا کہ ”اگر اسرائیل پاسداری کرے گا تو ہم بھی پاسداری کریں گے، اگر وہ خلاف ورزی کرے گا تو پھر ہمارے ہاتھ لبلبی پر ہوں گے۔” اُن کا کہنا تھا کہ معاہدے میں حماس کے مطالبات مان لیے گئے ہیں،خالد مشعل نے مزید کہا کہ غزہ کے تمام راستے کھول دیے جائیں گے ۔

جس میں مصر کی طرف کا راستہ بھی شامل ہے،انھوں نے ثالثی کے کردار کیلئے مصر کا شکریہ بھی ادا کیا ، واضح رہے کہ جنگ بندی پر رضامند ہونے کا اعلان ایک ایسے وقت کیا گیا ہے جب اسرائیل کے شہر تل ابیب میں ایک بس پر بم حملے میں21 کے قریب افراد زخمی ہوئے ، اسرائیل اور حماس کے درمیان ایک ہفتے سے جاری پرتشدد تصادم میں 160کے قریب فلسطینی شہید ،1500سے زیادہ زخمی ہوئے،جبکہ املاک کی تباہی وبربادی کا نقصان علیحدہ ہے،اسرائیلی ذرائع ابلاغ میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق 14 تا 21 نومبر تک جاری رہنے والی غزہ پر آٹھ روزہ اسرائیلی بمباری کے جواب میں فلسطینی مزاحمت کاروں نے متعدد اسرائیلی شہروں کو راکٹ حملوں کا نشانہ بنایا ،جس سے کل 1143 اسرائیلی تعمیرات کو نقصان پہنچا ، عبرانی زبان کے کثیر الاشاعت روزنامے ”یدیعوت احرونوت” کے مطابق فلسطینی مجاہدین نے تل ابیب کے ایک علاقے ”ریشون لیٹسیون” پر بھرپور راکٹ حملے کرکے صرف اِس ٹاؤن میں 172 رہائشی یونٹس کو شدید نقصان پہنچایا ، اِن اعدادوشمار سے اسرائیلی وزارت داخلہ کے اُن دعووں کی نفی ہوتی ہے جس میں تل ابیب میں انتہائی کم نقصانات کا اعلان کیا گیا تھا۔

قابل غور بات یہ ہے کہ صہیونی دہشت گردوں نے ایک بار پھر فلسطین کی تحریک آزادی، حماس کے مجاہدین کو وحشیانہ دہشت گردی کا نشانہ کیوں بنایا؟ اور کیوں غزہ سمیت مختلف علاقوں پر اسرائیلی جنگی طیاروں کے حملوں میں بے گناہ فلسطینیوں کو شہید کیا،جن میں حماس کے فوجی سربراہ احمد الجباری بھی شامل ہیں، تجزیہ نگاروں کے نزدیک ویسے توغزہ پر اسرائیل کے حملوں کا فوری محرک فلسطینی انتظامیہ کی اقوام متحدہ میں مبصر کی حیثیت سے درخواست پر اعتراض بتایا جاتا ہے، لیکن اصل محرک حماس کی تحریک مزاحمت ہے جس نے اسرائیل کو عالمی برادری میں بالکل تنہا کردیا ہے، خطے میں بدلتی صورتحال بالخصوص مصر میں اخوان کی کامیابی نے اسرائیل کے گرد گھیرا تنگ کردیا ہے۔

Israeli Prime Minister
Israeli Prime Minister

لبنان کی حزب اللہ نے بھی ایران کے تعاون سے اسرائیل کو محصور کردیا ہے، تاہم نیا حملہ اِس حوالے سے بہت اہم ہے کہ فلسطینی شہرغزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج کی جارحیت کو وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو اپنی انتخابی فتح کا ایک زینہ بنانا چاہتے تھے،لیکن حماس کے جوابی حملوں نے اسرائیل کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا اور اُس کے پاس امن معاہدے کی علاوہ باعزت واپسی کا کوئی راستہ نہیں بچا،یوں یہ جنگ صہیونی وزیراعظم کی پیش آئند پارلیمانی انتخابات میں شکست کی نوشتہ دیوار دکھائی دیتی ہے،مرکزاطلاعات فلسطین کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو حکومت نے اپنے ووٹروں کو یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ غزہ کی پٹی میں حماس کو ختم کرکے دم لے گی، لیکن موجودہ جنگی ہزیمت نے نیتن یاہو کے ووٹروں کو سخت مایوس کیا اور یہ جنگ صہیونی وزیراعظم کے گلے کا ہار بننے کے بجائے شکست کی صورت میں ماتھے کا شرمناک داغ بن چکی ہے۔

بعض مبصرین کے نزدیک اِن حملوں کی ایک وجہ یہ تھی کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو حماس کو اشتعال دلانے کیلئے بے چین و مضطرب تھے تاکہ وہ اپنے ووٹروں کو یقین دلا سکیں کہ اُن کی حکومت اسرائیلی شہریوں کی حفاظت کیلئے ہر حریف کا مقابلہ کرنے کی اہلیت رکھتی ہے،اسرائیل میں عوامی مقبولیت کے حوالے سے کیے گئے تازہ ترین سروے میں نیتن یا ہو کی مقبولیت صفر ہو کررہ گئی ہے اور صہیونی عوامی حلقے حماس کے ساتھ فائر بندی کے معاہدے کو وزیراعظم اور حکمراں جماعت لیکوڈ پارٹی کی شکست فاش سے تعبیر کررہے ہیں۔

اَمر واقعہ یہ ہے کہ حالیہ اسرائیلی جارحیت ”آپریشن پلر آف ڈیفنس”کا مقصدگذشتہ اسرائیلی آپریشن ”کاسٹ لیڈ”سے مختلف نہیں جو دسمبر2008 سے جنوری2009 تک جاری رہا، تین ہفتوں پر محیط اِس آپریشن میں اسرائیل نے فلسطینی سرزمین پر عسکری دھاوا بول دیا، نہ صرف املاک بلکہ شہریوں پر بھی گولہ باری کی اور ایسے حربے استعمال کیے جنہیں اقوام متحدہ بھی جنگی مظالم قرار دیتی ہے ، لیکن طاقت کے بھرپور استعمال کے باوجود اسرائیل اپنے اہداف کو حاصل کرنے میں ناکام رہا اور اب تین سال بعد دوبارہ جنگی کارروائی میں ذلت و ہزیمت اسرائیل کا مقدر بنی ہے،جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسرائیل غزہ اور لبنان کی جنگوں میں ناکامی کو باوجود اُن سے سبق سیکھنے میں ناکام رہا ہے، جبکہ اسرائیلی درندوں کو بہت پہلے ہی یہ سبق سیکھ لینا چاہئے تھا کہ وہ لوگوں کو قتل کر سکتے ہیں، شہروں کو تباہ و برباد کر سکتے ہیں ، لیکن کسی نظریے کا خاتمہ نہیں کر سکتے ،حماس ایک نظریئے ایک تحریک کا نام ہے،جس سے وابستہ ہر فلسطینی اپنی ریاست کے قیام اور قومی خودمختاری کے جذبات سے سرشار ہے ۔

لہٰذا غزہ کے حریت پسندوں کی جدوجہد اور اُن کے خلاف اسرائیل کی سفاکانہ کارروائیوں کو حقائق کی روشنی میں دیکھا جانا چاہیے، کیونکہ یہ محض دو یکساں اخلاقی پوزیشن رکھنے والے فریقوں کا تنازع نہیں ،نہ ہی یہ دو ملکوں کا کوئی سرحدی اختلاف ہے، آپ اِسے کسی غلط فہمی کے سبب شروع ہوجانے والا جھگڑا بھی نہیں کہہ سکتے، حقیقت یہ ہے کہ اِس میں ایک طرف ثابت شدہ غاصب، ڈاکو ،قاتل اور منصوبہ بندی کے ساتھ ارتکاب جرم کرنے والے مجرم اور اُس کے پشت پناہ ہیں ،تو دوسری طرف وہ مظلوم لوگ ہیں جو یقینی طور پر اِن درندوں کے ہاتھوں قتل و غارت گری کا نشانہ بنتے چلے آرہے ہیں،آج غزہ میں کھیلی جانے والی خون کی ہولی اِسی سفاکانہ کھیل کا حصہ ہے،دنیا جانتی ہے کہ یہ وقتی جنگ بندی اِس مسئلے کا حل نہیں،آگ اور خون کے کھیل میں یہ محض ایک عارضی وقفہ ہے،اسرائیلی وزیر دفاع کے بیان سے صاف ظاہر ہے کہ یہ خونی کھیل کسی وقت بھی دوبارہ دہرایا جاسکتا ہے،چنانچہ عالمی ٹھیکداروں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اِس تنازع کو مستقل طور پر حل کرنے کیلئے غاصب کو غاصب اور مظلوم کو مظلوم تسلیم کریں اور ظالم سے مظلوم کو اُس کا حق دلوائیں۔

اَمر واقعہ یہ ہے کہ فلسطین کی موجودہ صورتحال نئی نہیں ہے،اپنے قیام کے آغاز سے اسرائیلی فوج نے فلسطینیوں کا جوقتل عام شروع کیا تھا، اُس میں وقفے ضرور آتے رہے، لیکن اگر اِن وقفوں کو نکال دیا جائے تو معلوم ہو تا ہے یہ وہ قتل عام ہے جو 1948ء کواسرائیل کے قیام سے تاحال جاری ہے، اسرائیل دنیا کا انوکھا ملک ہے جو دوسروں کی سرزمین پر انھیں بے دخل کر کے آباد کیا گیا اور اِن آبادیوں کو اسرائیل کا نام دیا گیا، وقت کے ساتھ ساتھ یہودی مزید زمینوں پر قابض ہوتے گئے اور فلسطینی اپنی زمینوں سے بے دخل، صرف اتنا ہی نہیں، اُن کی بہت بڑی آبادی کو فلسطین سے نکال دیا گیا جو آج بھی لبنان، اردن، شام اور دوسرے ممالک میں بے گھر فلسطینیوں کے مہاجر کیمپ میں بے چارگی کی زندگی بسر کررہے ہیں، دوسری طرف غزہ کی پٹی پر کنٹرول رکھنے والی اسلامی تنظیم حماس امریکی و مغربی حکام کی مصالحت کی ہر کوشش کو ”فلسطینی عوام کو بے وقوف بنانے کی کوشش” سے تعبیر کرتی ہے، اسرائیل کی حالیہ 6 برسوں میں متعدد جارحانہ کارروائیوں کے باعث وہ ایسا سوچنے میں حق بجانب ہے۔

اصولی طور پر حریت پسندوں کا یہ مؤقف درست ہے کہ جارح اور غاصب اسرائیل سے اُس وقت تک مذاکرات نہیں ہو سکتے جب تک اسرائیل ارض فلسطین پر غیر فلسطینی یہودی آباد کاروں کی بستیوں کی تعمیر کا سلسلہ بند نہیں کرتا، دنیا جانتی ہے کہ جائیداد کے اصل مالک جائیداد پر ناجائز قابض عناصر کے ساتھ کبھی مذاکرات نہیں کیا کرتے، ارض فلسطین پر اسی ناجائز قبضے کے خلاف فلسطینی 65 برس سے برسر پیکار ہیں، 1948 سے اب تک اسرائیل کے غاصبانہ قبضہ کی وجہ سے مشرق وسطیٰ کا امن تہ و بالا ہے اور فلسطینی اپنی ہی دھرتی کی جیل نما ایک پٹی میں محصور ہیں،جبکہ امریکہ ، یورپ اور روسی یہودیوں نے اْن کی دھرتی پر عالمی اداروں اور طاقتوں کی مدد سے قابض ہونے کے بعد فلسطین کے اصل باسیوں کو وہاں سے نکالنے کا سفاکانہ عمل شروع کر رکھا ہے۔

لہٰذا اس تناظر میں مشرق وسطیٰ میں قیام امن کی کوئی کوشش اُس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتی جب تک معاہدوں کے مطابق اسرائیل کے متوازی فلسطینی ریاست قائم نہیں ہوجاتی اور یہ تب ہی ممکن ہے جب اسرائیل کے سرپرست امریکہ اور اُس کی پروردہ ریاست اسرائیل فلسطینی عوام کے حق رائے دہی کا احترام کرے اور عالمی عدالت انصاف کے فیصلے جس میں اسرائیل کو غیرقانونی دیوار مسمار کرنے کا حکم دیا گیا ہے پر عمل کرتے ہوئے غزہ کی پٹی میں محصور فلسطینیوں کا محاصرہ ختم کرنے کے اقدامات کرے،ساتھ وہ کیمپ ڈیوڈ، او سلو اور شرم الشیخ معاہدوں کے تحت جس آزاد اور خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام کے اعلامیہ کاری کیا گیا تھا، اُس پر دیانتداری سے عمل کرے، حماس رہنماؤں کا یہ بھی مطالبہ ہے ،جب تک یہ مطالبات پورے نہیں ہوتے فلسطینی اپنی جدوجہد جاری رکھنے کیلئے پرعزم رہیں گے ،حقیقت یہ ہے کہ غزہ اور اسرائیل کا عسکری لحاظ سے کوئی مقابلہ ہی نہیں ہے۔

Palestine
Palestine

ایک مختصر سی آبادی جو غزہ میں ہر طرف سے محصور ہے، لیکن اس کے باوجود حماس کے وابستگان اور فلسطینی مجاہدین اسرائیل اور اُس کے پشت پناہ امریکہ کے سامنے اپنی جرأت ایمانی کی بدولت ڈٹے ہوئے ہیں ، فلسطینی گزشتہ 65 برس سے حالت جنگ میں ہیں ، تمام تر بے سروسامانی کے باوجود اُن حوصلے بلند ،عزم جوان اور ادارے غیرمتزلزل ہیں اور وہ زندگی کی آخری سانس تک فلسطین کے تحفظ وبقاء کی جنگ لڑنے کیلئے صہیونی غاصبوں سے معرکہ آرائی میں مصروف ہیں۔

تحریر : محمد احمد ترازی

Share this:
Tags:
gaza Hamas israel killed Prime Minister اسرائیل حماس حملہ غزہ وزیراعظم
Arrested Terrorists
Previous Post مختلف کارروائیوں میں چار مبینہ دہشتگرد گرفتار
Next Post پاکستان میڈیا ویانا کے سینئر صحافیوں کا حامد میر پر دھشت گردوں کی جانب سے بم رکھنے پر شدید مزمت
Hamid Mir

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close