Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 3, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

قانون غریبوں کے لئے ہاتھ میں لینے کا نہیں ہے؟

January 11, 2013January 11, 2013 0 1 min read
Law
Law
Law

میں اپنا کالم شروع کرنے سے قبل اپنے قارئین کو یہ بتانا زیادہ بہتر سمجھتا ہوں کہ میں نے اپنے آ ج کے کالم کا عنوان یہ کیوں رکھا ہے …؟تومیں عرض کرتا چلوں کہ ہمارے ملک کے ایک معروف بزرگ کالم نگار ہیں جو میری دھرتی سندھ سے تعلق رکھتے ہیں گزشتہ دنوں اِن کا ایک کالم ملک کے ایک مُوقر روزنامے میں بعنوان”قانون ہاتھ میں لینے کا نہیں ہے”شائع ہوا اُنہوں نے اپنے اِس کالم کی ابتداء ایک غریب اور بوڑھے دکاندار کے ساتھ اِس کی دکان میں پیش آنے والے ڈکیٹی کے المناک واقعہ سے کی ہے۔

اُنہوں نے لکھا ہے کہ جس وقت ڈاکو اِس ضعیف دکاندار کو لوٹ کر جا رہے تھے تو اِسی دوران دکاندار کے نوجوان بیٹے نے پیچھے سے اپنی بستول سے اِن ڈاکووں کو نشانہ بنانا چاہ جس پر ضعیف دکاندارنے اپنے بیٹے کو روکتے اور اِسے سمجھاتے ہوئے کہا کہ”قانون ہاتھ میں لینے کا نہیں ہے” یوں اِس واقعہ اوراِس ایک نقطے کی بنیاد پر اُنہوں نے اپنا کالم تحریر کیا اِس پر میراخیال یہ ہے کہ اُنہوں نے اپنے اِس کالم میں اپنے معاشرے کے صرف ایک مظلوم غریب طبقے کی نشاندہی کی ہے جواکثریت میں ہونے کے باوجود بھی بے بس ہے جبکہ اپنے معاشرے کے اُس طبقے اور عناصر کا کوئی تذکرہ نہیں کیا جو قانون کو کچھ نہیں سمجھتا ہے مگرمیں نے اپنے اِس کالم میں اُن دو عناصر کی جانب اشارہ کر دیا ہے جن کی وجہ سے قانون کی حکمرانی قائم نہیں ہو پاتی ہے۔

اَب اِس سارے پس منظر میں ایک بات جو میں اگلی سطور میں کہنا چاہتاہوں اور میں اِسے صرف اپنی سرزمینِ پاکستان میں بسنے والوں کے لئے قید بھی نہیں کرنا چاہوں گا کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ” قانون صرف امیروں کے لئے ہے اور سزا غریبوں کے لئے ”بلکہ میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ آج بھی دنیامیں جہاں کہیں اِنسان بستے ہیں۔

اِسی طرح جہاں کہیں بھی قانون رائج ہے اور اِس کی حکمرانی قائم ہے تو وہاں بھی ہر زمانے سے ہر معاشرے میں یہ جملہ باکثرت سُنا، پڑھا اور دُھرایا جاتا رہا ہے کہ”قانون کے سامنے سب برابرہیں”مگر میں یہ سمجھتا ہوں کہ درحقیقت یہ جملہ ہرزمانے اورہر سوسائٹی کے مکینوں کے لئے اتناہی مشکل رہا ہے۔

Supreme Court
Supreme Court

جیسا موجودہ حالات میں یہ اتناہی گھمبیر ہے جتنا یہ کہنا کہ” سارے اِنسان باہم برابرہیں”یوں صدیوں سے ہی ہر زمانے او ر سوسائٹی میں قانون کو امیروں نے اپنے گلے کا تو ہار بنائے رکھا اور اِس کے طلسماتی اثر سے غریبوں کا چہرہ مسخ کیا۔

یوں اِنہوں نے جب اور جیسے چاہا…اِسے اپنی مرضی سے غریبوں پر بیدریغ استعمال کیا اور اِنہیں قانون کے شکنجوں میں جکڑ کر اِن کی نسلوں کا خون نچوڑا آج بھی کچھ اِسی کیفیت سے دنیا کے اکثر ممالک اور معاشرے ضرور دوچار ہیں مگر اِن ممالک اور سوسائٹیز کی فہرست کا جائزہ لیا جائے تو میرا ملک پاکستان بھی نمبر شمار کے کسی درجے پر ضرور آتا ہے۔

جہاں قانون صرف حکمرانوں اور امیروں کے لئے اِن کے گلے کا ہار بنا ہوا ہے تو وہیں قانون جرائم پیشہ عناصر کے لئے چٹکی اور ہتیلی پر رکھ کر اُڑا دینے والے سفوفی مشغلے جیسا ہے تو وہیں مندرجہ بالا دونوں طبقوں کے معاشرے میں بسنے والے غریب بھی ہیں جو اِن دونوں کے ہاتھوں پس رہے ہیں اور یہی غریب ہیں جو اکثریت میں ہونے کے باوجود بھی قانون شکنی کا سوچنا اپنے لئے اچھوت جانتے ہیں اور آج بھی ہمارے معاشرے کے غریب ایسے ہیں جو اپنے اِس عقیدے اور یقین پر قائم ہیں کہ ”قانون ہاتھ میں لینے کا نہیں ہے۔

کیوں کہ شاید ہماری سرزمین میں بسنے والاہ رغریب یہ جانتا ہے کہ تحریری قانون مکڑی کے جالے کے مانندہے جس میں صرف کمزور ہی پھنس جاتا ہے اور طاقت ور(جوحکمران، امیراور قانون شکن ہے وہ اِسے )توڑ کر نکل جاتا ہے اِس موقع پر مجھے مارکس کا یہ جملہ یاد آگیا ہے۔

اِس نے کبھی کہا تھا کہ”قانون حکمرانوں کے ہاتھوںمیں جبرکا ایک ہتھیار ہوتا ہے” یعنی جس سے یہ اپنی رعایا کو قابومیں رکھتے ہیں اور اپنی حکمرانی کا سکہ چلاتے ہیں جبکہ اِس کے برعکس دانا کا خیال یہ ہے کہ کسی بھی ملک اور معاشرے میں قوانین کی کثرت یہ ظاہر کرتی ہے کہ یاتو حاکم بہت جابر ہیں یا عوام بے حدبے لگام،اور اِس پر اہلِ دانش یہ بھی سمجھتے ہیں کہ کسی بھی ملک اور معاشرے کا دستور اور قانون بظاہر کتناہی ارفع واعلیٰ کیوں نہ ہواگراِس کے نافذ کرنے والے اچھے اخلاق کے مالک نہ ہوں تو اِس صورت میں دستورو قانون اپنی تمام خوبیوں کے باوجود اپنی افادیت کھو دیتا ہے۔

اوراِسی طرح ایک جگہہ ول ڈیورنٹ کا قانون سے متعلق یہ کہنا ہے کہ ” جانور ایک دوسرے کو بغیر کسی ہچکچاہٹ یا ضمیر کی خلش کے کھا جاتے ہیں اور مہذب معاشروں کے تہذیب کی اُونچائیوں کو چھوتے اِنسان ایک دوسرے کو ہڑپ کرنے کے لئے قانون کا سہارا لیتے ہیں۔

جبکہ اِسی طرح جیفرسن اور ون سٹینلی کااِن تمام معاملات پر یہ کہناہے کہ ”قوانین کی تشکیل سے کہیں زیادہ اہم کام اِن کی بہتر طریقوں سے تعمیل کروانا ہے”اور”ایسے تمام قوانین جن کے سہارے ظالم خواہ (حکمران، سیاستدان، فورسزاور جرائم پیشہ) طبقہ ہی کیوں نہ ہو لوگوں کو ستاتا ہے وہ منسوخ کردیئے جائیں اور ایسے قوانین فی الفور نافذکئے جائیں جن سے لوگوں کی آزادی کا تحفظ ہوسکے”مگرآج ہمارے ملک اور معاشرے میں ایسا کچھ نہیں ہو رہا ہے جس سے ملک کے ظالم طبقے سے غریبوں کو نجات ملے اور اِن کے اندر اپنی آزادی کا احساس پیدا ہو موجودہ حالات میں جب میں اپنے معاشرے کے اردگرد اگر نظر دوڑاتا ہوں تو مجھے ایسا لگتا ہے کہ جیسے کسی کی طاقت کے خیال سے قانون کا پلڑا اِس کے حق میں جھک سا گیا ہے تواِس پر مجھے یہ بھی محسوس ہوتاہے کہ جیسے آج مسلم حکومت اور قیصر و کسریٰ کی حکومت میں کوئی فرق باقی نہیں رہ گیا ہے۔

Shahzeb Khan
Shahzeb Khan

ہمارے یہاں قانون کے نفاذ کے معاملے میں یہ تضاد محض اِس لئے ہے کہ زمانے ماضی کی طرح آج بھی قانون ہمارے حکمرانوں اور ایک مخصوص امیر ٹولے اور قانون شکنوں کے ہاتھ میں کھلونا بن کر اِن کے گلے کا ہار کی شکل اختیار کر گیا ہے جِسے یہ جس طرح چاہ رہے ہیں اپنی مرضی اور منشاسے نمائش بھی کر رہے ہیں تووہیں یہ عناصر ملک کے غریبوں پر اِسے اپنی مرضی کے مطابق استعمال بھی کررہے ہیں اور اپنی حکمرانی اور داداگیری کاب ھرم بھی قائم کئے ہوئے ہیں اَب ایسے میں معاشرے میں افتراق اور انتشار اور دہشت گردی و ٹارگٹ کلنگ سمیت شاہ زیب قتل کیس جیسے واقعات کا پیدا ہونا لازمی ہو گیا ہے۔

Share this:
Tags:
government law pakistan Shahzeb Khan Society supreme court پاکستان قانون معاشرے
Previous Post بھمبر : منشیات فروش معاشرے کی بنیادوں کو کھوکھلا کر رہے ہیں۔مقررین
Next Post لانگ مارچ ہر حال میں ہوگا کوئی غلط فہمی میں نہ رہے۔طاہر القادری
Tahir ul Qadri

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close