Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 3, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

متحدہ مجلس عمل کی بحالی…..امکانات و خدشات

November 2, 2012November 2, 2012 0 1 min read
Maulana Fazl ur Rehman MMA
Maulana Fazl ur Rehman MMA
Maulana Fazl ur Rehman MMA

یہ 12اکتوبر 1999کے بعد کی بات ہے جب جنرل پرویز مشرف کو اقتدار سنبھالے چند ہی ماہ کا عرصہ گزرا تھا،جنرل مشرف کے اقتدار پر قبضہ نے امریکی عزائم کی راۂ میں آسانیاں پیدا کردیں،خود جنرل مشرف نے امریکی مطالبات کے آگے سر نگوں کردیا اور پاکستانی ہوائی اڈے امریکہ کو پیش کردیئے ،جو بعد میں افغانستان پر امریکی حملوں اور امریکی و عالمی فوج کے خطے میں براجمان ہونے کی صورت میں سامنے آئے،یہ وہ وقت تھا جب اسٹیبلشمنٹ کی تیار کردہ سیاسی جماعتیں ناکام ثابت ہوئیں،دور دور تک کوئی سیاسی خلاء کو پورا کرنے والا کوئی نہ تھا،اِن حالات میں ضرورت اِس امر کی تھی کہ دینی جماعتیں میدان عمل میں اُتر کر سیاسی خلاء کو پر کریں،چنانچہ اِن حالات میں جید علمائے کرام نے دینی اتحاد کی ضرورت کوبڑی شدت سے محسوس کیا اور جمعیت علماء پاکستان کے سربراہ مولانا شاہ احمد نورانی نے اُس وقت کے امیر جماعت اسلامی پاکستان قاضی حسین احمد کے ساتھ مل کرتاریخی کردارادا کرنے کا فیصلہ کیا،مولانا نورانی نے تمام مکا تب ِ فکر سے تعلق رکھنے والی دینی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا اور جولائی 2001میں’جمعیت علماء پاکستان،جماعت اسلامی،جمعیت علمائے اسلام(ف)جمعیت علمائے اسلام(س)،تحریک جعفریہ اور جمعیت اہلحدیث پر مشتمل ملک کی چھ بڑی دینی جماعتوں کے اتحاد ” متحدہ مجلس عمل” یعنی MMA قائم کی ،جسے 19مارچ 2002کو باقاعدہ اتحاد میں تبدیل کردیا گیا اوریوں مولانا شاہ احمد نورانی کی سربراہی میں اِن جماعتوں نے پاکستان کی آزادی،سلامتی،خودمختاری،استحکام اور اسلامی تشخص کی بحالی کیلئے مشترکہ جدوجہد کا آغاز کردیا۔

ملک کے آئندہ انتخابات کے پیش نظر اِن چھ دینی جماعتوں نے یہ فیصلہ بھی کیا کہ مستقبل کے خطرات سے نبرد آزما ہونے اور سیکولر قوتوں کا راستہ روکنے کیلئے انتخابات کے حوالے سے مشترکہ جدوجہد کی جائے گی،MMAنے اپنے انتخابی منشور میں اعلان کرتے ہوئے کہا کہ متحدہ مجلس عمل برسراقتدار آکر ملک میں نظام مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نافذ کرے گی، یہ 1977کی تحریک نظام مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد دوسرا موقع تھا جب مختلف مکاتیب فکر کے علماء کرام نے مولانا شاہ احمد نورانی پر اظہار اعتماد کرتے ہوئے نظام مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نفاذ کو اپنے منشور کا مرکزی نقطہ قرار دیا اور23جولائی 2002سے اپنی انتخابی مہم چلانے کا اعلان کردیا، مولانا شاہ احمد نورانی پُر عزم تھے کہ عام انتخابات میںMMA لادین عناصر کو شکست فاش دے کر کامیابی حاصل کرے گی،اُن کا ماننا تھا کہ صرف دینی جماعتیں ہی ملک کو بحران سے نکال سکتی ہیں،10اکتوبر 2002کو مولانا نورانی کی توقعات حقیقت کا روپ دھار ے قوم کے سامنے تھیں،کسی کے وہم وگمان میں نہ تھا کہ دینی جماعتوں کے اِس اتحاد کو عوام اِس طرح پزیرائی بخشے گی کہ وہ حکومت کی سرپرستی میں قائم شدہ جماعت مسلم لیگ (ق) کے بعد دوسری بڑی قوت بن کر ابھرے گی،متحدہ مجلس عمل کی کامیابی نے سیاسی پنڈتوں اور ملکی پالیسی سازوں کو حیران وپریشان کردیا۔

،یہ ملکی تاریخ میں ابھرنے والی پہلی اتنی بڑی تبدیلی تھی،اگر اَن دیکھی طاقتیں پاکستان پیپلزپارٹی پیٹریاٹ تشکیل دینے میں کامیاب نہ ہوتیں تو صورتحال یقینا MMAکے حق میں ہوتی ،لیکن عالمی طاقتیں نہیں چاہتی تھیں کہ پاکستان میں اسلام پسندوں کو آگے بڑھنے کا موقع ملے،اگرچہ متحدہ مجلس عمل کی کامیابی کو عوامی سطح پر بہت پزیرائی حاصل ہوئی، لیکن عالمی سطح پر اِس کامیابی کو رجعت پسند عناصر کا غلبہ قرار دیا گیا،تاہم متحدہ مجلس عمل نے حالات کی نزاکت محسوس کرتے ہوئے قومی سطح پر مفاہمت کی پالیسی جاری رکھی، کیونکہ مجلس عمل ملک میں انارکی اورنئی مخاصمت کے دروازے کھول کر اُن لوگوں کو مایوس کرنا نہیں چاہتی تھی جنھوں نے انتخابات میں متحدہ مجلس عمل پر اعتماد کا اظہار کیا تھا،ساتھ ہی مجلس عمل حکومت کو وقت بھی دینا چاہتی تھی، چنانچہ جمہوری عمل کو کسی تعطل سے بچانے کیلئے مجلس عمل نے حکومت کے سامنے مندرجہ ذیل شرائط رکھیں،صدر مشرف وردی اتاریں،58ٹوبی اور نیشنل سیکورٹی کونسل کے خاتمے کا اعلان کریں،1973کا غیر متازعہ دستور بحال کیا جائے اور لیگل فریم ورک آرڈر منسوخ کیا جائے۔

2003کا سال سیاسی سرگرمیوں کے عروج کا سال تھا،اِس سال مولانا شاہ احمد نورانی جنھوں نے متحدہ مجلس عمل کی انتخابی کامیابی کیلئے عام انتخابات میں حصہ نہیں لیا تھا ، اتحاد میں شامل جماعتوں کے قائدین کے اصرار پر24فروری 2003 کوسینٹ کا الیکشن لڑا اور کامیابی حاصل کی ،سینٹ کے اِن انتخابات میں مجلس عمل نے 18نشستیں حاصل کیں،حالات کی نزاکت کے پیش نظر 9اپریل 2003کو MMAکے سربراہی اجلاس میں حکومت کی خارجہ پالیسی اور ایل ایف او پر حکومتی موقف کو مسترد کردیا گیا، صدر کی وردی کے مسئلے پرمولانا نورانی مشرف کو کوئی رعایت دینے پر تیار نہیں تھے،چنانچہ مجلس عمل اور حکومتی مزاکرات کے کئی دور بے نتیجہ رہے اور کوئی اتفاق رائے پیدا نہ ہوسکا،جس کی اصل وجہ خود حکومت کا غیر سنجیدہ رویہ تھا،وہ روز اوّل سے اپوزیشن کے ساتھ چوہے بلی کا کھیل کھیل رہی تھی،دوسری طرف MMAکی بدقسمتی یہ تھی کہ وہ مولانا فضل الرحمن کی ڈیڑھ صوبے کی حکومت کے کے چکرمیںبری طرح پھنس چکی تھی،مولانا فضل الرحمن کو اپنے ڈیڑھ صوبائی اقتدار کی اِس قدر فکر تھی کہ وہ اپنے موقف پر حکومتی چھاپ لگانے کیلئے ہر وقت تیار رہتے تھے،یہ بات ایم ایم اے کیلئے نقصان دہ تھی،مولانا نورانی اِس ساری صورتحال کا بغور جائزہ لے رہے تھے،دوسری طرف 7میں سے 6نکات پر اتفاق رائے ہونے کے باوجود صدر کی وردی کے مسئلہ ہنوز اٹکا ہوا تھا،مولانا نورانی نے حکومت کی جانب سے پیش کردہ آئینی پیکج متنازعہ امور پر وضاحت نہ ملنے کے سبب مسترد کردیاتھا اور 17دسمبر2003کی حتمی ڈیڈ لائن دے دی،جس کے اگلے دن متحدہ مجلس عمل نے حکومت مخالف احتجاجی تحریک کا آغاز کرنا تھا مگراِس سے قبل کہ حکومت کے خلاف کوئی احتجاجی تحریک شروع ہوتی۔

Maulana Shah Ahmad Noorani
Maulana Shah Ahmad Noorani

پاکستان کی قومی سیاست اور MMAکو اُس وقت اِس عظیم سانحے سے دوچار ہونا پڑا جب 11دسمبر 2003کو مجلس عمل کے قائد مولانا شاہ احمد نورانی اسلام آباد میں ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرنے سے قبل حرکت قلب بند ہونے کے سبب خالق حقیقی سے جا ملے۔مولانا شاہ احمد نورانی کی وفات کے بعد مجلس عمل جھاگ کی طرح بیٹھ گئی، 25دسمبر 2003کو مولانا کی وفات کے محض دو ہفتوں کے بعد مجلس عمل نے حکومت سے تمام معاملات طے کرکے یہ ظاہر کردیا کہ مولانا شاہ احمد نورانی اِس معاہدے کی راۂ میں آخری کانٹا تھے،مولانا نورانی کے انتقال کے بعد مجلس عمل کے قائدین کی طرف سے ہوس اقتدار میں پے درپے سمجھوتوں اور مجلس عمل کی صوبائی حکومت کے دعوئوں کے باوجود عوامی فلاح کے اسلامی تصور سے میلوں دوری نے مجلس عمل کی افادیت کیساتھ اُس کے وجود کو بھی سوالیہ نشان بنا ڈالا،رہی سہی کسرحضرت مولانا فضل الرحمن کے دن رات بدلتے طرز عمل نے پوری کردی،انہوں نے اپنے مفادات کی خاطر جنرل مشرف کے اقتدار کو دوام بخشنے، سترھویں ترمیم کو قوم پر مسلط کرنے، وردی سمیت اُسے دوبارہ اقتدار میں لانے، حدود آرڈیننس کی منظوری اور صوبے میں بلا شرکت غیرے جبکہ وفاق میں حصہ بقدرجُسہ کے اصول کے تحت ابن الوقتی اور کاسۂ لیسی کا گھناؤنا کھیل کھیلا ہے ،یوں مجلس عمل نے مولانا شاہ احمد نورانی کے دو ٹوک موقف کی ہی نفی نہیں کی بلکہ انتخابی مہم کے دوران ایل ایف او کے خلاف نعرہ کی بنیاد پر حاصل شدہ کامیابی کے ثمرات کو ضائع کرکے عوامی اعتماد کو بھی دھوکہ دیا ،یوں کئی شرمناک سمجھوتے مجلس عمل کے حصے میں آئے،جبکہ حقیقت یہ ہے کہ مولانا نورانی جب تک مجلس عمل کے سربراہ رہے حکومت اپنے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہی،لیکن مولانا نورانی کی آنکھیں بند ہوتے جبہ ودستار کے امینوں نے اصولوں پر سودے بازی کرکے مجلس عمل کے ساتھ جمہوریت کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچایا،یہی وجہ تھی کہ بعد میں سیاسی شکست اور ناکامی متحدہ مجلس عمل کا مقدر بن گئی اور ایم ایم اے بطور سیاسی جماعت اور تحریک اپنے مقاصد سے دور ہٹ کر دم توڑ کرگئی۔

یہ ہے متحدہ مجلس عمل کہانی اور اِس مضمون کی لمبی تمہید،اتنی لمبی تمہیدباندھے کیلئے معذرت چاہتا ہوں، مگر اِس لمبی تمہید کا مقصد آپ کو متحدہ مجلس عمل کے اُس اصولی اور تاریخ ساز کردار سے آگاہ کرناہے جو مجلس عمل نے مولانا شاہ احمد نورانی کی قیادت میں ادا کیا،مگر بعد کے آنے والے لوگوں نے مجلس عمل کو حکمران وقت کے قدموں کی جوتی بنادیا، مولانا شاہ احمد نورانی کے بعد مجلس عمل کے قائدین نے جو کچھ کیا ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں، آج ایک بار پھر جمعیت علماء پاکستان کے موجودہ سربراہ ڈاکٹر ابوالخیر محمد زبیر صاحب،سینئر نائب صدرصاحبزادہ شاہ اویس نورانی اور جمعیت علماء اسلام(س) کے قائد مولانا فضل الرحمن متحدہ مجلس عمل کی بحالی کے خواہاں ہیں اور متحدہ مجلس عمل کو دوبارہ زندہ کرنا چاہتے ہیں، چنانچہ اِس سلسلے میں 18اکتوبر کو اسلام آباد میں مذہبی جماعتوں کا ایک اہم اجلاسJUPکی میزبانی میں ہوا،جس میںمولانا فضل الرحمن نے ایم ایم اے کی فعالی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ایم ایم اے کو فعال کرنے پر اصولی اتفاق ہو گیا ہے، مگرمکمل بحالی کا فیصلہ عید کے بعد میں کیا جائے گا۔

اس موقع پر مولانا فضل الرحمن نے مزید کہا کہ آج کے اجلاس میں جماعت اسلامی کے معاملے پر بات نہیں ہوئی اگر جماعت اسلامی کے رہنماؤں نے رابطہ کیا تو اُس پر غور کیا جائے گا، واضح رہے کہ متحدہ مجلس عمل کی بحالی کے سلسلے میں ہونے والے اجلاس میں جے یوپی،جمعیت علماء اسلام(ف)،جمعیت اہلحدیث اور تحریک اسلامی کے صاحبزادہ زبیر،مولانا فضل الرحمن، پروفیسر ساجد میر اور علامہ ساجد نقوی کے ہمراہ پیر عبدالرحیم نقشبندی،پیراعجاز ہاشمی،صاحبزادہ اویس نورانی،قاری زوار بہادر،عبدالغفور حیدری اور مولانا امجدخان نے شرکت کی،باوثوق ذرائع کہتے ہیں کہ جماعت اسلامی کے باہر ہونے کی وجہ سے مجلس عمل کی بحالی کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا،جب تک یہ باضابطہ اعلان نہیں ہوجاتا مولانا فضل الرحمن مجلس عمل کے عبوری سربراہ ہونگے۔

قارئین محترم ! گذشتہ الیکشن میں مذہبی جماعتوں کی ناکامی کے بعد متحدہ مجلس عمل کی بحالی کے حوالے سے کئی بار کوششیں کی گئیں،اِس حوالے سے وقتاً فوقتاً خبریں بھی میڈیا کی زینت بنتی رہیں،جن میں متعدد بار مجلس عمل بحال اور بے حال ہوئی،مگر اَمر واقعہ یہ ہے کہ کوئی خاص پیش رفت قوم کے سامنے نہ آسکی،بلکہ بارہا اِس احیاء کو سیاسی مقاصد ، جوڑ توڑ اور سودے بازی کیلئے استعمال کیا گیا، شاید یہی وجہ ہے کہ سابقہ مجلس عمل کی دو اتحادی جماعتیں جماعت اسلامی اور جمعیت علماء اسلام(س)آج اس احیاء سے کنارہ کش نظر آتی ہیں، ہم نے بارہا اس حوالے سےJUPاور دیگر جماعتوں کی قیادت کو اپنے خدشات ،اتحاد میں شامل ہونے کے نقصانات اور مستقبل میں اِس کے مضمرات سے آگاہ کرنے کی پوری کوشش کی،مقصد و مدعا مولانا شاہ احمد نورانی کے بعد متحدہ مجلس عمل کا وہ کردار تھا جس نے مولانا نورانی کے کرے کرائے پر جھاڑو پھیر دی اور مجلس عمل کو طالع آزماؤں کے در کی لونڈی بنادیا، یقینا وہ خدشات آج بھی بدستور اپنی جگہ موجود ہیں ،بلکہ موجودہ احیاء میں جماعت اسلامی اور جمعیت علماء اسلام(س) کی عدم شمولیت نے اسے مزید تقویت دے دی ہے،یہ سوال اب بھی سر اٹھائے کھڑاہے کہ اگر متحدہ مجلس عمل مولانا نورانی کے بعداپنے طے شدہ مقاصد سے بھٹک سکتی ہے تو کیا موجودہ حالات اور دو اہم جماعتوں کی عدم موجودگی میں اپنے مقاصد حاصل کرپائے گی، ہمیںاِس اَمر میں بھی کوئی شک و شبہ نہیں کہ متحدہ مجلس عمل آئندہ الیکشن میں 2002 جیسی کامیابی حاصل نہیں کرسکتی،بلکہ ان دونوں جماعتوں کی عدم موجودگی مذہبی ووٹ بینک تقسیم کرنے کا بھی سبب بنے گی۔

جس کا زیادہ تر فائدہ سیکولر قوتوں اور پیپلز پارٹی کو ہوگا،باامر محال اگر مجلس عمل کامیابی حاصل کر بھی لیتی ہے تو اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ وہ آئندہ سیاسی جوڑ توڑ اور سودے بازی میں ملوث نہیں ہوگی اور وہی عمل دوبارہ نہیںدہرایا جائے گا جو ماضی میں دہرایا گیا تھا۔ یہی وہ تحفظات ہیں جو جماعت اسلامی اور جمعیت علماء اسلام (س) کے مجلس عمل میں دوبارہ شرکت کی راۂ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں،جماعت اسلامی چاہتی ہے کہ اُسے اس بات کی یقین دہانی کرائی جائے اور مولانا فضل الرحمن اِس نکتے پر یکسوئی اختیار کرلیں کہ وہ آئندہ پیپلز پارٹی اور زرداری سے کوئی تعلق نہیں رکھیں گے،جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ 2002کی طرح سیٹوں کا فارمولا طے ہوجائے اور ماضی میںجن اسباب کے سبب MMA غیر فعال ہوئی تھی اُس کا تجزیہ کرکے آئندہ اُن سے بچنے کا لائحہ عمل طے کرلیا جائے ،جماعت اسلامی کے امیر منور حسن نے بارہا اس مطالبے کو بھی دہرایا کہ MMA بحال کرنے سے پہلے اس اَمر کا جائزہ لیاجائے کہ ِاس کو بے حال کس نے کیا؟وہ یہ بھی کہتے ہیں یہ کسی کے جیب کی گھڑی نہیںہے کہ جب چاہے باہر نکال لی جائے اور جب چاہے واپس جیب میں رکھ لی جائے،ماضی کے طرز عمل کو دیکھتے ہوئے یقینا جماعت اسلامی کے تحفظات بے بنیاد نہیں، یہی تذبذب جمعیت علماء اسلام(س)کیلئے بھی رکاوٹ بنا ہوا ہے جو MMA کی بحالی کو فراڈ اور پاکستانی عوام کو آئندہ عام انتخابات میں گمراہ کرنے کی منصوبہ بندی سمجھتے ہوئے اسے اقتدار پرست ٹولے کا پھر MMA کے نام پر اقتدار کے مزے لوٹنے کا کھیل قرار دیتی ہے، دوسری جانب جماعت اسلامی اور جمعیت علماء اسلام (س) کے خدشات کو دور کرنے کے بجائے مولانا فضل الرحمن ایک ایسا بیان داغ دیا،جس کی کسی کو توقع نہیں تھی،خود مولانا کو بھی اِس طرح کا بیان دینا زیب نہیں دیتاتھا ، مولانانے فرمایا MMA میں جماعت اسلامی کو شامل کر نا ”الکوحل” ملانے کے مترادف ہو گا۔

ایک ایسے وقت میں جب صاحبزادہ زبیر اور پروفیسر ساجد میر وغیرہ ایم ایم اے میں جماعت اسلامی کی شمولیت کیلئے کوشاں ہیں مولانا فضل الرحمن کا بیان اُن کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے اور MMA میں جماعت اسلامی مائنس فارمولے کو ہی ظاہر نہیں کرتا بلکہ سیاسی تجزیہ نگاروں کی اُس رائے کہ” مولانا فضل الرحمن نے اپنی مخصوص حکمت عملی کے تحت جماعت اسلامی کو متحدہ مجلس عمل سے باہر رکھ کر عبوری سربراہی اسی لیے حاصل کی ہے کہ وہ باآسانی مستقبل میں مجلس عمل کے سربراہ بن سکیں۔”کی توثیق کرتا بھی دکھائی دیتا ہے۔جبکہ دوسری طرف جماعت اسلامی سے وابستہ اخبارات و رسائل متحدہ مجلس عمل کی بحالی کو مردہ گھوڑے سے تشبہہ دے رہے ہیں،یوںمتحدہ مجلس عمل کی بحالی کے حوالے سے جماعت اسلامی، جے یوآئی اور مولانا فضل الرحمن کے درمیان تنقیدو تنقیص کی جو گولہ باری ہورہی اُس سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مجلس عمل کے قائدین کس حد تک متحدہ مجلس عمل کی بحالی کی کوششوں میں سنجیدہ ہیں، یہاں حیرت انگیز اَمر یہ بھی ہے کہ ماضی میں دونوں فریقین نے MMA کے پلیٹ فارم سے خیبر بختونخواہ کے مکمل اور بلوچستان کے آدھے حکمران ہونے کے ناطے پھر پور فائدے اٹھائے ہیں۔

اب دونوں ایک دوسرے کو آڑے ہاتھوں لے رہے ہیں،جماعت اسلامی کویہ بھی رنج ہے کہ مولانا فضل الرحمن اپوزیشن کا ڈھول بھی پیٹتے ہیں اور اندورن خانہ حکومت کی محبت و شفقت سے مستفید بھی ہوتے ہیں،یقینا مولانا کی یہ دوہری اور متضاد پالیسی ایم ایم اے کے مستقبل کیلئے زہر قاتل کا درجہ رکھتی ہے ، چنانچہ اس تناظر میں متحدہ مجلس عمل میں شامل جماعتوں کے قائدین کیلئے یہ پہلو بھی توجہ طلب ہے کہ کیا اتحاد میں شامل کسی شخص یا جماعت کو اِس بات کی اجازت دی جاسکتی ہے وہ اِس اتحاد کو خالصتاً اپنے ذاتی و گروہی مقاصد کے حصول کیلئے استعمال کرتا پھرے،جبکہ اِس حقیقت سے بھی سب واقف ہیں کہ مولانا فضل الرحمن دین کے نام پر سیاست کرتے ہیں، سیاسی قلابازیاں مولانا کا وطیرہ ہیں جسے لوگ منافقت کا نام دیتے ہیں ، مولانا نے ہمیشہ اقتدار کو پہلی ترجیح دی،انہوں نے ہر دور میںاقتدار کے مزے لوٹے، شمالی علاقہ جات میں ڈرون حملے ہوتے رہے، امریکی مداخلت بڑھتی رہی اور مولانا فضل الرحمن وفاق میں بیٹھ کر محض خاموش تماشائی کا کردار ادا کرتے ہوئے اقتدار کی موج مستیوں میں مصروف رہے، مشرف دور میں جب لال مسجد آپریشن کیا گیا تومولانا فضل الرحمن نے ایک مرتبہ پھر سیاسی چال بازیوں کو ہتھیار بنایا،انہوں نے اِس ایشو کی نہ حمایت کی اور نہ ہی مخالفت، جس سے ایم ایم اے کی ساکھ عوامی سطح پر بری طرح متاثر ہوئی،جب پیپلزپارٹی کی حکومت قائم ہوئی تو مولانانے MMA میں شامل تمام دینی جماعتوں کی طرف سے MMA کو ایک مرتبہ پھر تشکیل دینے کے حوالے سے کوششوں کو سبوتاژ کرتے ہوئے صرف اور صرف اقتدار کو مقدم رکھا اور اب جبکہ انتخابات کا طبل بجنے کو ہے تو مولاناایم ایم اے کو قائم کرنیکی باتیں کر رہے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ وہ صوبہ خیبر پی کے اور شمالی علاقہ جات کے حوالے سے اپنی سیاسی ساکھ کو بحال رکھنا چاہتے ہیں،اُن کا مقصد صرف اتنا ہے کہ آئندہ عام انتخابات کے دوران جس کی بھی حکومت قائم ہو اور مولانا وفاق میں بیٹھ کر حکومت کے کاندھوں پر چڑھ سکیں اور اقتدار کے مزے لوٹتے رہیں،یہی مولانا کا مطمع نظر،مقصد و مدعا ہے،یہ درست ہے کہ عوام ملک میں دینی جماعتوں اور مذہبی حلقوں کے اقتدار کی خواہش مند ہے مگر مولانا فضل الرحمن نے سابق آمر پرویزمشرف کے دوراقتدار کے دوران تشکیل پانے والی MMA کے ساتھ جو کچھ کیا اس کا خمیازہJUP سمیت اتحاد میں شامل تمام مذہبی جماعتیں آج تک بھگت رہی ہیں،مولانا کے طرز عمل کی وجہ سے لوگ مذہبی جماعتوں پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں ہے،جب بھی MMA کی بحالی کی باتیں ہوتی ہیںتو عوام انہیں مشکوک نظروں سے دیکھنے لگتے ہیں،مگر اِس حقیقت کے ادراک کے باوجودJUPدیگر جماعتوں کے قائدین ایک بار پھر مجلس عمل کی اجڑی ہوئی مانگ میں نیا سندوربھرنے کے خواہشمند ہیں، محترم قائدین کی خواہشات کے صد احترام کے باوجود ذہن میں ابھرتے چند سوالات ہنوز غور طلب ہیں،آخر مجلس عمل کے احیاء کی ضرورت کیوں محسوس کی جارہی ہے؟وہ کیا مقاصد ہیں جنھیں مولانا فضل حکومتی حلیف اور شریک اقتدار ہونے کے باوجود مجلس عمل کو فعال کرکے حاصل کرنا چاہتے؟ اگر کسی طور یہ اتحاد دوبارہ فعال ہو بھی گیا تو کیا مولانا شاہ احمد نورانی کی اُس اصولی روایات کو زندہ کر پائے گا جو مولانا نورانی کے دور میں مجلس عمل کا خاصہ ، شناخت اور پہچان تھیں۔

Elections
Elections

کیا مجلس عمل 2002 ء کی طرح کامیابی سے ہمکنار ہوپائے گی ؟ اور عوام مجلس عمل کی سابقہ مایوس کن کارکردگی کو دیکھتے ہوئے ایک بار پھر اُسے سند قبولیت عطا کرنے پر آمادہ ہو جائیں گے۔؟جبکہ مجلس عمل کی سابقہ مایوس کن کارکردگی دیکھتے ہوئے ہمیں یہ کہنے میں کوئی قطعاً کوئی عار نہیں کہ مجلس عمل کا وجود شایدکچھ مذہبی جماعتوں کے مفادات کی تکمیل کیلئے ایک بار پھر وقت کی ضرورت ہو، مگرعوام اور بالخصوص عوام اہلسنّت کا اِس اتحاد میں دلچسپی لینااَمر محال محسوس ہوتا ہے،یہ بات جمعیت علماء پاکستان کیلئے لمحہ فکریہ ہے، آج اِس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اپنی سابقہ کارگزاری کے سبب متحدہ مجلس عمل عوام میں اپنی ساکھ اور وقار کھو چکی ہے اورمولانا فضل الرحمن کے مسلسل حکومت میں شامل رہنے کی وجہ سے عوام اُن پر کسی طور اعتماد کرنے کو تیار نہیں ،چنانچہ اِن حالات میں متحدہ مجلس عمل کے پلیٹ فارم کے ذریعے ٔاپنے وجود، اپنی شناخت اور اپنی حیثیت کی قربانی کے بعد حصول اقتدار کی کوشش کس قدر کامیابی سے ہمکنار ہوسکتی ہے یہ ہم سے زیادہJUPکے قائد ین کیلئے سوچنا ضروری ہے۔

اس ساتھ ساتھJUP کے قائدین کو یہ حقیقت بھی اپنے پیش نظر رکھنا ہوگی کہ وہ جس مکتبہ فکر کی نمائندہ ہے کیا اُس مکتبہ فکر کے لوگ اب اِس قسم کے اتحاد میں رہنے کو پسند بھی کرتے یا نہیں،اگر نہیں تو کیا اِس قسم کی سیاسی غلطی JUP کیلئے مزید انتشار وافتراق کا سبب نہیں بنے گی اور یہ طرز عملJUP کے سیاسی کیرئر کیلئے خود کشی سے کم نہ ہوگا،لہٰذااِن عوامل ، ماضی کے تلخ تجربات اورمولانا فضل الرحمن کی ہر قیمت پر حصول اقتدار کی سیاست کے تناظر میں آنے والے حالات کومدنظر رکھتے ہوئے ہمارا قائدین جمعیت کو مخلصانہ مشورہ ہے کہ وہ جمعیت کواِن ابن الوقت افراد کی بیساکھی بننے سے بچائیں،ہماری نظر میںمتحدہ مجلس عمل میں دوبارہ شامل ہونے سے کہیں بہتر ہے کہ جمعیت علماء پاکستان، اتحاد اہلسنّت کیلئے جمعیت کے دیگردھڑوں، سنی تنظیموں اور تحریکوں کو باہم متحد و منظم کرنے کی مخلصانہ کوشش کرے کیونکہ اسی میں جمعیت کے نظریاتی تشخص، تنظیمی بقاء اورمستقبل کی بااثرسیاسی قوت ہونے کا راز مضمر ہے،قائدین JUP یاد رکھیں کہ جمعیت علماء پاکستان اُن علماء و مشائخ اور عوام اہلسنّت کی وارث اور امین ہے جنھوں نے تحریک پاکستان میں ہراول دستے کا کردار ادا کرتے ہوئے قربانیوں کی لازوال تاریخ رقم کی اور جن نسلیں آج بھی اس مملکت کی بقاء استحکام اور سا لمیت کیلئے مصروف جہاد ہیں،لہٰذا اس تناظر میں متحدہ مجلس عمل کے پلیٹ فارم کے ذریعے ٔاپنے وجود، اپنی شناخت اور اپنی حیثیت کی قربانی کے بعد حصول اقتدار کی کوششیں کس حد تک جمعیت علماء پاکستان اور اہلسنّت وجماعت کیلئے فوزوفلاح کا باعث بن سکتی ہیں ،اِس کا جواب قائد ین جمعیت علماء پاکستان پر قرض ہے،ہمارا ماننا ہے کہ حالات کے تناظر میںJUP کی ایم ایم اے میں دوبارہ شمولیت اُس کے مذہبی اور مسلکی تشخص اور رہے سہے بقیہ وجود کیلئے سیاسی خود کشی سے کم نہیں۔

تحریر : محمد احمد ترازی
mahmedtarazi@gmail.com

 

Share this:
Tags:
elections MMA Scholars انتخابات علمائے کرام مولانا فضل الرحمن
Previous Post حمزہ شہباز شریف آج3 نومبر کو چوہدری عابد کوٹلہ کی دعوت پر کوٹلہ کا دورہ کریں گے
Next Post خضدار میں پٹرول پمپ پر آتشزدگی، 12 افراد جاں بحق،متعدد زخمی
Khuzdar

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close