Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 2, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

مخصوص ٹولہ

January 14, 2013January 14, 2013 0 1 min read
Pakistan
Pakistan
Pakistan

پاکستان میں جاگیرداری اور سرمایہ داری کی خون آشام ، بے رحم اور سفاک زنجیروں نے پاکستانی عوام کو اپنے آہنی شکنجوں میں اس بری طرح سے جکڑ رکھا ہے جس سے رہائی کی کوئی صورت بھی نظر نہیں رہی۔ یہ تسلط اور جکڑ کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ اس کا آغاز اس دور سے ہو گیا تھا جب پاکستان کا قیام ایک حقیقت کی صورت میں شہود پذیر ہو نے والا تھا۔ برِصغیر کی تمام ریاستوں میں جاگیرداروں اور نوابوں کا راج تھا اور وہ اس بے رحم راج کا تسلسل چاہتے تھے۔ اس زمانے میں صوبہ پنجاب کے سارے جاگیر دار یونینسٹ پارٹی کے ممبر تھے جو کہ کانگریس کی مدد سے پنجاب پر برسرِ اقتدار تھی۔

1947کے آغاز میں جب جاگیرداروں نے یہ دیکھا کہ پاکستان کے قیام میں اب کوئی چیز بھی مانع نہیں رہی تو وہ سارے کے سارے جاگیردار چھلانگیں لگا کر راتوں رات مسلم لیگ میں شامل ہو گئے اور لہو لگا کر شہیدوں کا رتبہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ انھوں نے اپنی وفائوں کا ایسا دلکش سوانگ بھرا کہ وہ جو سالہا سال سے قیامِ پاکستان کی جدو جہد میں شب و روز اپنے لہو کا نذرانہ دے رہے تھے پچھلی نشسوں پر چلے گئے اور یہ نووارد پارٹی کے مالک بن بیٹھے۔ سچ تو یہ ہے کہ قیامِ پاکستان کی کامیابی و کامرانی میں ان جاگیر داروں کا کوئی کردار نہیں تھا کیونکہ وہ تو کانگریس کے حاشیہ بردار تھے اور قائدِ اعظم محمد علی جناح کے سخت ناقدین میں شمار ہو تے تھے۔ ایک متحدہ ہندوستان ان کا مطمہِ نظر تھا لیکن اس نظریے کو شکست سے دوچار ہونا پڑ رہا تھا لہذا اب ان کے پاس کوئی راستہ نہیں بچا تھا کہ وہ کانگریس کا ساتھ دیں کیونکہ ان کا مسکن تو وہ جگہ ہونی تھی جہاں پاکستان قائم ہونے جا رہا تھا۔

ان بدلتے حالات میں ان کی کوشش یہ تھی کہ وہ کسی طرح اس کاروان میں شامل ہو جائیں جس کی منزل پاکستان ہے تاکہ عوام کو یہ باور کروایا جا سکے کہ وہ دل و جان سے پاکستان کے قیام کے خواہاں تھے اور قائدِ اعظم محمد علی جناح کے دست و بازو تھے حالانکہ حقیقت اس کے بالکل بر عکس تھی۔ وہ کسی کے بھی دوست نہیں تھے بلکہ وہ ذاتی مفادات کے اسیر تھے۔ اپنے اس منصوبے کو وہ کمال ہوشیاری سے رو بعمل لا رہے تھے اور عوام کو یہ تاثر دینے میں کامیاب رہے تھے کہ وہی ان کے اصلی ہمدرد اور دوست ہیں اور انہی کی کوششوں سے پاکستان کا قیام ممکن ہو سکا ہے۔ ان کے بااثر ہونے میں تو کوئی شک نہیں تھا لہذا ان کے مسلم لیگ پر قابض ہونے کو بھی باآسانی سمجھا جا سکتا ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے ان سرداروں ، نوابوں اور جاگیر داروں نے مسلم لیگ پر قبضہ جما کر قائدِ اعظم محمد علی جناح کے قائم کردہ مقاصد کو بالکل الٹ کر رکھ دیا۔

Quaid E Azam
Quaid E Azam

قائدِ اعظم محمد علی جناح کی رحلت میں بھی وہی عناصر سرگرم تھے جو پاکستان میں جاگیرداری نظام کی بقا چاہتے تھے۔یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ قائدِ اعظم محمد علی جناح ایک متوسط گھرانے سے تعلق رکھتے تھے لہذا مسلم لیگ میں ان کی موجودگی میں جاگیر داری سوچ کا پنپنا ناممکن تھا۔ اب منصوبہ بندی یہ کی گئی تھی کہ وہ شخصیت جو ان کی راہ میں مزاحم ہے اسی شخصیت کو ہی راہ سے ہٹا دیا جائے تا کہ نہ رہے بانس نا بجے بانسری۔ ایک سازش تیار کی گئی اور اس پر بھر پور عمل در آ مد کر کے قائدِ اعظم محمد علی جناح کو راستے سے ہٹا دیا گیا۔ ٹوٹی ہوئی ایمبولینس میں سڑک کے کنارے قائدِ اعظم محمد علی جناح کی رحلت کیا اس بات کا واضح ثبوت نہیں ہے کہ ان کا دن دھاڑے قتل کیا گیا تھا۔
ِ
پاکستان کے قیام کے بعد سے دسمبر 1970کے پہلے عام انتخابات تک انہی سازشوں کے تانے بانے بنتے جاتے رہے اور عوامی ھاکمیت کا وہ تصور جو قیامِ پاکستان کی روح تھا اسے مسلسل نظر انداز کیا جاتا رہا۔ محلاتی سازشوں نے عوامی فلاح و بہبود کی جانب کوئی توجہ مرکوز نہ ہونے دی اور عوام کو محرومیوں کے ایک ایسے لق و دق صحرا میں بالکل برہنہ پا چھوڑ دیا جہاں ان کی ہلاکت یقینی تھی جبکہ بااثر لوگ خود اقتدار کے مزے لوٹتے رہے۔ جاگیر داری پسِ منظر رکھنے والے سیاست دانوں کو جب یہ احساس ہو گیا کہ عوام میں اپنی گرتی ہوئی ساکھ کی بدولت وہ تنِ تنہا اپنے اقتدار کو قائم نہ رکھ سکیں گئے تو پھر انھوں نے فوجی جنتا سے ساز باز کر کے اپنے اقتدار کی دوامیت کو یقینی بنا لیا۔ پاکستانی سیاست کا یہی وہ طاقتور عنصر ہے جس کا آغاز 1958میں ہوا تھا اور جو اب بھی پاکستانی سیاست کا سب سے توانا عنصر ہے اور یہی دونوں گروہ باہمی گٹھ جوڑ سے اب بھی پاکستان پر بالسواسطہ یا بلا واسطہ حکمرانی سے بہرہ ور ہو رہے ہیں جبکہ عوام کا اقتدار کے ایوانوں سے نہ صرف کوئی گزر نہیں بلکہ اس کے فوائد سے بھی انھیں کوئی سروکار نہیں ہے۔

میں ذاتی طو ر پر 1958کے فوجی شب خون کو ایک ایسی سازش کے نقطہ آغاز سے تعبیر کرتا ہوں جس میں فوج نے غیر آئینی طریقے سے اقتدار پر قبضہ کر لیا اور جاگیر داروں اور نوابوں کو اپنا حا شیہ بردار بنا کر اپنے غیر آئینی اقتدار کو مضبوط بنا لیا۔ عدالتوں نے بھی نظریہ ضرورت کے تحت مارشل لائوں کو جائز قرار دے کر عوام کی زندگی کو مزید اجیرن بنا دیا۔ جنرل محمد ایوب خان نے اپنے فوجی شب خون کے بعد جاگیر داروں کے ساتھ ساتھ سرمایہ داروں کا نیا طبقہ بھی پیدا کر لیا تا کہ اقتدار کا فوجی ہاتھوں سے پھسلنے کا کو ئی امکان باقی نہ رہے۔ بائیس خاندانوں کا غلغلہ اسی زمانے میں عام ہوا تھا جس میں پاکستان کی ساری دولت انہی چند ہاتھوں میں مرکوز ہو کر رہ گئی تھی اور عوام محرومی اور تنگ دستی کی سولی پر لٹک رہے تھے۔ جاگیرداری اور سرمایہ داری کے یہ ہاتھ ہر فوجی حکومت کے دست و بازو بنتے رہے اور فوجی جنتا سے اپنا حصہ وصول کرتے رہے اور یہ سلسلہ کہیں پر بھی رکنے کا نام نہیں لے رہا۔ اب یہ ہاتھ اتنے مضبوط ہو چکے ہیں کہ انھوں نے پورے جمہوری نظام کو یرغمال بنا لیا ہے۔

Parliament
Parliament

ستم بالائے ستم یہ کہ ان مخصوص گروہوں نے قومی مفادات کے نام پر فوجی جنتا کے ہر شب خون میں ان کا ساتھ دیا اور پھر آرام و سکون سے اپنی تجوریاں بھی بھرتے رہتے۔ یہ اپنے اپنے علاقوں میں فرعون بن کر عوام پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑتے ہیں اور انسانی جذبوں کا خون کرتے ہیں۔ کسی میں اتنی مجال نہیں ہوتی کہ وہ پارلیمنٹ انھیں چیلنج کر سکے کیونکہ ان کے پاس سارے انتظامی اختیارات ہوتے ہیں۔ وہ کے ممبر بھی ہوتے ہیں علاقے کی با اثر شخصیت بھی ہوتے ہیں ، جاگیردار بھی ہوتے ہیں اور دولت مندبھی ہوتے ہیں لہذا ان کے آہنی پنجوں سے بچ جانے کی کس میں قوت ہو سکتی ہے۔ عوام نسل در نسل ان افراد کے غیر انسانی سلوک کو برداشت کرتے چلے آ رہے ہیں لیکن اس سے چھٹکارا حا صل کرنے کی کوئی راہ انھیں سجھائی نہیں د یتی کیونکہ وہ کمزور ہوتے ہیں اور کمزور کی ہار یقینی ہوتی ہے۔ ڈکٹیٹر کا ساتھ دینے کے بعد جب جمہوری حکومتوں کا قیام عمل پذیر ہوتا ہے تو یہی وڈیرے سیاسی جماعتوں میں شامل ہو کر قومی مفادت کے نام پر آمروں کے وہ لتے لیتے ہیں کہ دل میں یہ احساس ابھرنا شروع ہو جاتا ہے کہ ان سے بڑا جمہوریت پسند شخص کوئی دوسرا نہیں ہو سکتا۔

جو کہ جھوٹ اور فریب کے سوا کچھی نہیں ہوتا۔ ہماری سیاسی جماعتوں کی وسعتِ قلبی کی بھی داد دینی پڑتی ہے کہ وہ بھی ایسے بے ضمیر عناصر کی خوصلہ افزائی کرتی ہیں اور انھیں اپنی صفوں میں جگہ دے کر ان کے سارے غیر جمہوری اقدامات کو سندِ قبولیت عطا کر دیتی ہیں۔ آمرانہ ذہنیت رکھنے والے یہ لوگ چہرے بدل بدل کر عوام کے پاس آتے رہتے ہیں اور عوامی حقو ق کے پاسبان بن کر اپنا دکھڑا روتے رہتے ہیں۔ سیاسی جماعتوں میں ایک دوڑ لگی ہوتی ہے کہ فلاں علاقے کا جاگیر دار اور سرمایہ دار ان کی جماعت میں شامل ہو جائے تا کہ اس علاقے میں اس جماعت کی سیٹ پکی ہو جائے۔

اس وقت پاکستام کی ساری قابلِ ذکر جماعتیں انہی افراد سے بھری پڑی ہیں۔ سیاسی جماعتوں کو بھی خود پر یقین نہیں ہوتا اس لئے وہ جاگیر داروں اور سرمایہ داروں کی جانب دیکھتی ہیں اگر سیاسی جماعتوں کے قا ئدین کو اپنی صلاحیتوں پر پختہ یقین ہو تو شائد پاکستانی سیاست کی بھگوڑے نما انسانوں سے جان چھوٹ جائے لیکن ایسا ممکن ہوتا نظر نہیں آ رہا کیونکہ سیاسی قیادتیں ابھی اتنے بڑے فیصلے کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جاگیردار اور سرمایہ دار ہمارے معاشرے کے انتہائی با اثر افراد ہو تے ہیں اور ان کے پاس ذرائع آمدنی کی فراوانی ہوتی ہے اسی لئے ہر جماعت کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ انہی کی صفوں میں شامل ہوں تا کہ ان کی شمولیت سے ان کی قوت میں اضافہ ہو جائے اور ان کی جیت کی راہیں کشادہ ہو سکیں۔ ہر جماعت کو یہ بھی خبر ہوتی ہے کہ جاگیر دار اور سرمایہ دار جوہرِ وفا سے عاری ہوتے ہیں لیکن اس کے باوجود بھی سیاسی جماعتیں ان پر تکیہ کرنے سے باز نہیں آتیں کیونکہ ان کی جیت کا یہی راستہ ہوتا ہے اور اس راہ پر انھیں ہر حال میں چلنا ہوتا ہے۔

Tahir Ul Qadri
Tahir Ul Qadri

مفاد پرستوں کا یہ گروہ کسی نئی جماعت میں شمولیت کا فیصلہ اس جماعت کے پروگرام کی کشش کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنے مفادات کی وجہ سے کرتا ہے لیکن اس کے باجود بھی جماعتیں انکی آؤ بھگت کرنے سے باز نہیں آتیں جس سے جمہوری قدروں کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ رہا ہے ۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان میں کبھی وہ سورج طلوع ہو گا جب عوام کو بھیڑ بکریاں سمجھنے کی بجائے انھیں بھی شریکِ اقتدار کیا جائے گا اور حقیقی جمہوریت کی بنیادیں رکھی جا ئیں گی ، اس وقت بہت سی آوازیں اس بیمانہ نظام کے خلاف صف آرا ہو چکی ہیں۔ ان سب میں متاثر کن، توانا اور باجرات آواز تحریکِ منہاج القرآن کے چیرمین علامہ ڈاکٹر طاہر القادری کی ہے۔کیا پاکستان کے عوام ان کی اس آواز پرلبیک کہہ کر تبدیلی کے عمل کو ممکن بنا سکیں گئے یا وہی فرسودہ اور پرانا نظام عوام کا مقدر بنا رہیگا ، کیا کسی علاقے کا چوہدری عوام کی قسمت کا فیصلہ کرتا رہے گا یا عوام خود اپنی قسمت کے مالک ہوں گئے ، اس بات کا فیصلہ ہو جانا انتہائی ضروری ہے کہ پاکستان پر ایک مخصو ص استحصالی ٹولے نے حکومت کرنی ہے یا عوام کا بھی اس میں کوئی حصہ ہو گا ، یہی وہ اہم سوال ہے جس پر آنے والے دنوں میں ملکی سیاست کی بنیادیں رکھنی ہوں گی کیونکہ موجودہ جمہوری نظام انتہائی فرسودہ اور کرپٹ ہو چکا ہے لہذا اس کا خاتمہ بہت ضروری ہے۔

تحریر : طارق حسین بٹ

Tariq Butt
Tariq Butt

 

 

 

Share this:
Tags:
ambulance India Jinnah Muslim League pakistan ایمبولینس پاکستان جاگیردار قائدِ اعظم مسلم لیگ ہندوستان
Mobile Phone Service
Previous Post کراچی:ڈبل سواری پر پابندی،موبائل فون سروس بھی بند
Next Post لانگ مارچ کے قافلے اسلام آباد پہنچنا شروع ہوگئے
Long March

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close