
ملک کے حالات دیکھ کر ایسے محسوس ہوتا ہے کہ ہم جیسے یہاں پر قانون نام کی کوئی چیز نہیں ہے جس کا جو دل کرے وہ یہاں کھل کر کھیل کھیلے ایک طرف تو قومی ادارے تباہ کیے جا رہے ہیں دوسری طرف ملک کے حالات بلخصوص کراچی کے حالات کنٹرول سے باہر ہوچکے ہیں اور ایسے لگتا ہے کہ کراچی میں حکومت نام کی کوئی چیزنہیں جس کا جس پراورجہاں بس چلتاہے اپناکام دکھارہاہے ،کوئی بھتہ خوری کررہاہے توکوئی قتل وغارت میں ملوث ہے 10روز کے دوران 120سے زائدافرادلقمہ اجل بن گئے لیکن وفاقی اورصوبائی حکومتوں کی جانب سے کوئی ایک بھی قابل عمل اقدام نہیں اٹھایاگیا۔
حکومت قوم کوبتائے کہ کراچی میں حالات کی ابتری کی ذمہ داری کس پرعائد ہوتی ہے اوروہ کون سی ایسی مجبوریاں ہیں کہ وہ کراچی میں ہونے والی خون ریزی کوروکنے کیلئے واضح حکمت اپنانے اورٹھوس عملی اقدامات کرنے میں کیوں بے بس نظرآرہی ہے طالبان کا واویلامچانے یابھتہ خوری کے خلاف بیان بازی کی بجائے حکمرا ن ان مسائل سے عہدہ براہ ہونے کیلئے عوام کو اعتمادمیں لے کردوررس فیصلے کریں حکومت نے کراچی کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے پرعمل درآمدکیاہوتاتوشایدحالات اس قدرنہ بگڑتے حکومت کوسیاسی مصلحتوں کوبالائے طاق رکھتے ہوئے جراتمندانہ فیصلے کرناہونگے،جوبھی جرائم میں ملوث ہے اسے قرارواقعی سزادی جائے حکومت کراچی کے حالات پرغورکرنے اورشہریوں کے جان ومال کے تحفظ کویقینی بنانے کیلئے تمام سیاسی جماعتوں کواعتمادمیں لے اورمسئلے کے فوری حل کیلئے عملی اقدامات کویقینی بنائے کیونکہ حکومتوں کا کام ایک دوسرے پر الزام تراشیاں نہیں بلکہ عوام کو مشکلات سے نکالنے کیلیے بروقت اور بہتر فیصلوں کا کام ہے۔
ایک طرف تو حکومت سے کراچی کے حالات کنٹرول نہیں ہورہے دوسری طرف قومی اداروں کو مال غنیمت کی طرح لوٹا جارہا ہے اس وقت قومی ائر لائن پی آئی اے کا خسارہ 119 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے پروازیں تاخیر کا شکار ہیں اور مسافروں کا پی آئی اے سے اعتماد اٹھتا جارہا ہے دوسرے قومی اداروں کی تباہی وبربادی کو رکنے کیلیے سپریم کورٹ نے جسطرح بہتر فیصلے کیے اسی طرح سپریم کورٹ پی آئی اے کو بھی بچالے ورنہ تو یہاں ہر چیز تباہی کے قریب پہنچ چکی ہے اور اس سلسلہ میں پی آئی اے میں بدانتظامی سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت پرچیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پہلے ریلوے کا کیس بھی سن چکے ہیں۔ قومی ادارے تباہ ہورہے ہیں جتنی مرضی کرپشن کرلو کوئی پوچھنے والا نہیں’ دکھ اس بات پر ہوتا ہے کہ قومی اداروں کو کس طرح چلایا جارہا ہے۔

پی آئی اے کے پاس اس وقت 35 بیرونی ممالک کے روٹ ہیں جن ممالک میں جہاز جاتے ہیں وہاں ایئرپورٹ ڈسٹرب ہیں پی آئی اے کو جہاز تاخیرسے اڑانے پر جرمانہ ہوتا ہے جبکہ جہاز وں کی مرمت کیلیے انجینئرمفت میںز تنخواہیں لے رہے ہیں اورجہاز وں کی مرمت بیرون ممالک سے کروائی جاتی ہے پی آئی اے انجینئرز کے پاس کرنے کو کوئی کام نہیں صرف اپنے لوگوں کو نوازنے کیلیے اس قومی ادارے کو جان بوجھ کرتباہ کردیا گیایہاں سوچنے والی بات یہ ہے کہ اگر ایک عام چھوٹی سی ائر لائن کمپنی اپنے محدود وسائل کے اندر رہتے ہوئے منافع کما رہی ہے اور ہماری قومی ائرلائن اتنے وسائل ہونے کے باوجود تباہی کی طرف کیو گامزن ہے کیا اس ملک کے ساتھ کوئی بھی مخلص نہیں ہے سب باتوں کی حد تک عوام کو بیوقوف بنا کر اپنی اپنی باری کا انتظار کیوں کررہے ہیں کیا قومی اداروں کے ساتھ ساتھ عام آدمی بھی اسی طرح لٹتے رہیں گے اور ہم خاموشی سے مداریوں کا تماشیا دیکھتے رہیں گے۔
میں نے اپنے ایک گذشتہ کالم میں وفاقی سیکریٹری داخلہ خواجہ صدیق اکبر کے کشمیر کو بھارتی حصہ ظاہر کرنے کے بیان پر بھی تفصیلی لکھا تھا اور اس پرکشمیر کمیٹی نے وزارت داخلہ سے وضاحت طلب کی تھی جس پر وفاقی سیکرٹری داخلہ خواجہ صدیق اکبر نے اجلاس میں شریک ہو کر اس بات کا اعتراف کیا کہ سپریم کورٹ میں بیان داخل کراتے وقت عجلت میں درست الفاظ استعمال نہیں کئے جاسکے بعد میں ہم نے الفاظ کی تصحیح کر کے ترمیم شدہ مسودہ دوبارہ کورٹ میں پیش کردیا ہے اور یہ ترمیم شدہ مسودہ کشمیر کمیٹی کو بھی پیش کر دیا ہے اور وزارت داخلہ نے کشمیر کو بھارتی حصہ قرار دینے پر قوم سے معافی مانگی ہے اور اب تمام وزارتوں اور محکموں کو مسئلہ کشمیر اور خارجہ پالیسی سے متعلق کوئی بھی بیان جاری کرنے سے قبل وزارت خارجہ سے اجازت لینا ہو گی ۔
اپنے قارئین کو یہ بھی بتاتا چلوں کہ ابھی تک ملک میں عام انتخابات کی تاریخ کا فی الحال تعین نہیں ہوا اور نہ ہی بیرون ملک پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کا ابھی تک کوئی فیصلہ کیا گیا ہے تاہم پوسٹل بیلٹ سمیت کئی تجاویز پر غور کیا جارہا ہے جبکہ نگران وزیراعظم باہمی مشاورت سے وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر بنائینگے اگر ان میں اتفاق رائے نہ ہوا تو معاملہ پارلیمانی کمیٹی کے پاس جائے گا اور اگر کمیٹی کے اندر بھی اتفاق نہ ہوسکا تو پھر چیف الیکشن کمشنر نگران وزیراعظم نامزد کرینگے مگر ابھی تک اس بارے میں کوئی پیش رفت نہیں ہو رہی ۔
تحریر : روھیل اکبر
