Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 3, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

موقف کی سچائی

July 13, 2012July 13, 2012 0 1 min read
TARIQ BUTT
TARIQ BUTT
TARIQ BUTT

میرے لئے یہ امر انتہائی فخرو انسباط کا مظہر ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے توہینِ عدالت کے بل میں بنیادی تبدیلیاں لاکر اسے قومی اسمبلی سے منظور کر لیا ہے اور یوں ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف کی آخری نشانی کو بھی دریا برد کر کے آئینِ پاکستان کو پاک و صاف کر دیاہے۔

سید یوسف رضا گیلانی کی نا اہلی کے بعدیہ لازمی ہو گیا تھا کہ ا س قانون کی بنیادی خامیوں کی اصلاح کی جاتی تا کہ پارلیمنٹ کی بالا دستی عدلیہ کے ہاتھوں ایک بار پھر خاک میںملنے سے بچ جاتی ۔

gilani
gilani

کوئی سید یوسف رضا گیلانی کے اندازِ حکمرانی سے لاکھ اختلاف کرے لیکن یہ ایک انمٹ حقیقت ہے کہ وہ اس ملک کا وزیرِ اعظم تھا اور اٹھارہ کروڑ عوام کی امنگوں کا ترجمان تھا لیکن اس شخص کو جس توہین آمیز انداز میں وزارتِ عظمی سے فارغ کیا گیا ہے اسطرح تو کسی تیسرے درجے کے افسر کو بھی فارغ نہیں کیا جا تا۔ مجھے اچھی طرح سے یاد ہے کہ جب پچھلے سال وزیرِ اعظم پاکستان سید یوسف رضا گیلانی نے کچھ ملازمین کی ترقیاں اور تبادلے کرنے کے احکامات صادر فرمائے تھے تو سپریم کورٹ نے وہ تبادلے اور تقرریاں روک دی تھیں کیونکہ وہ سمجھتی تھی کہ ان احکامات میں میرٹ کو نظر انداز کیا گیا تھا لیکن جب وزیرِ اعظم پاکستان کو ہٹا نے کا مر حلہ درپیش ہوا تو بڑی بے ر حمی سے وزیرِ اعظم پر آئین کی تلوار چلا کر اسے قتل کر دیا گیا حالانکہ اس وقت جو تقرریاں اور تبادلے کئے گئے تھے وہ آئینی تھے ۔

آئین وزیرِ اعظم کو انتظامی امور چلانے کیلئے ترقیوں اور تبادلوں کا مکمل اختیار دیتا ہے اگر وزیرِ اعظم تبادلے اور تقرریاں نہیں کر سکتا تو پھر انتظامی امور کی انجام دہی کیلئے کوئی بھی شخص تقر ریاں اور تبادلے کرنے کی اتھارٹی نہیں رکھتا ۔ بہر حال سپریم کورٹ اڑ گئی اور اگر سپریم کورٹ اڑ جائے تو پھروزیرِ ا عظم کو جھکنا پڑتا ہے۔ ایک خط نہ لکھنے کی بنیاد پر وزیرِ اعظم کو نا اہل قرار دے دینا انصاف کا خون ہے ظلم و زیادتی ہے اور تاریخ کے صفحات پر یہ فیصلہ پارلیمنٹ پر شب خون کے نام سے ہی یاد رکھا جائیگا۔ سپریم کورٹ ابھی تک اڑی ہو ئی ہے اور معلوم نہیں کہ یہ اڑ جا نا کیا کیا گل کھلائیگا؟اس ضد کی وجہ سے ملک کا بے پناہ نقصان ہو رہا ہے کیونکہ انتظامی فیصلوں میں وہ قوت نہیں رہی جو کسی ملک کو چلانے کے لئے ضروری ہو تی ہے اور نتیجے کے طور پر پوری انتظامی مشینری مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔

ملک کا چیف اگز یکٹو جس کے سامنے ملک کی ساری انتظامیہ کو جواب دہ ہو نا ہوتا ہے اس کا تو عدالت نے ایک حکم کے ذریعے تا یا پانچا کر کے رکھ دیا ہے لہذا انتظامی مشینری کو کون لگام دیگا ؟وہ تو شترِ بے مہار کی طرح جو من میں آئے گا کریگی کیونکہ اس سے جواب طلبی کرنے والی اتھارٹی کا دن دھاڑے قتل کر دیا گیا ہے۔ سوال یہ نہیں ہے کہ کون صحیح اور کون غلط ہے بلکہ اہم معاملہ یہ ہے کہ ایک وزیرِ اعظم کو اس کے عہدے سے فارغ کرنے کا اختیار ایک عدالت کے پاس کیسے چلا گیا؟وزیرِ اعظم کو فارغ کرنے کا اختیار صرف پارلیمنٹ کے پاس ہو تا ہے اور یہ اختیار اسی کے پاس ہی رہنا چائیے کیونکہ وہی ایک ادارہ ہے جو منتخب ہو تا ہے ۔ اگر کسی دوسرے ادارے اور طاقتور گروہوں نے ہی وزیرِ اعظم کی حیثیت اور بقا کا فیصلہ کرنا ہے تو پھر پارلیمنٹ کی خود مختاری اور آزادی کہاں باقی رہ پائیگی۔

National Assembly
National Assembly

پارلیمنٹ ایک آزاد اور خود مختار ادارہ ہوتا ہے اور اسکی آئینی حیثیت میں مداخلت کا حق کسی بھی ادارے کے پاس نہیں ہوتا چاہے وہ ادارہ ہمیں کتنا ہی عزیز کیوں نہ ہو۔ پارلیمنٹ کو عوام اپنے ووٹوں سے حقِ حکو مت تفویض کرتے ہیں لہذا حکومت کو ہٹا نے کا اختیار بھی پارلیمنٹ کے پاس ہو تا ہے ۔ ہمارے آئین میں کئی عشروں تک ٥٨ ٢ بی آئین کا حصہ تھی جس میں صدرِ پاکستان کو اختیار حاصل تھا کہ وہ پارلیمنٹ کو تحلیل کر کے نئے انتخابات کا اعلان کر دے اس ٥٨ ٹو بی نے جو گل کھلائے وہ سب کے سامنے ہیں ۔ اک طرفہ تماشہ تھا جو چہار سو مچا ہو تا تھا اور سیاست دانوں کی کھٹیا کھڑی کر دی جاتی تھی اور انھیں ا کثر و بیشتر جیل کی ہوا بھی کھا نی پڑتی تھی ۔ موجودہ اسمبلی خوش قسمت ہے کہ صدرِ پاکستان نے اپنے سارے اختیارات پارلیمنٹ کو تفویض کر دئے ہیں تا کہ پارلیمنٹ کے سر پر لٹکتی ٥٨ ٹو بی کی تلوار اس کی آزادی کو سلب نہ کر سکے لیکن باعثِ حیرت ہے کہ اب اسی پارلیمنٹ کے منتخب نمائیندے کو صدرِ مملکت نہیں بلکہ سپریم کورٹ نے فارغ کرنے کا اختیار اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے جو کے پارلیمنٹ کی توہین کے مترادف ہے۔

ہما را سفر در اصل دائروں کا سفر ہے ہم جہاں سے چلے تھے وہی پر کھڑے ہیں فرق صرف یہ ہے کہ فیصلے کرنے والے ادارے بدل گئے ہیں۔جسطرح صدرِ پاکستان کے ہاتھوں ٥٨ ٹو بی کا استعمال غلط تھا اسی طرح سپریم کورٹ کے ہاتھوں وزیرِ اعظم کو فارغ کرنے کا اقدام بھی غلط ہے کیونکہ اسطرح سے ملکی نظام بالکل تہس نہس ہو کر رہ جائیگا اور قوم کی ترقی کی منزل کھوٹی ہو جائیگی ۔اداروں کے تصادم کی آڑ میں کچھ سیاسی جما عتیں اسطر ح کے اقدا مات کی حمائت کرتی نظر آرہی ہیں کیونکہ وہ سمجھتی ہیں کہ ان کے اقتدار کی منزل قریب تر ہو سکتی ہے۔ لیکن ان سے صرف اتنا سوال کیا جانا ضروری ہے کہ جب ایک سازش کے تحت سید سجاد حسین شاہ نے ١٩٩٨ میں وزیرِ اعظم میاں محمد نواز شریف کو لائن حاضر کر لیا تھا تو پھر اس وقت ان کا ردِ عمل کیا تھا؟

کیا انھوں نے عدالتی احکامات پر عمل در آمد کر لیا تھا ؟ بالکل نہیں کیونکہ ایسا کرنا جمہوری نظام کو یرغمال کروانے کے مترادف تھا اور میاں محمد نواز شریف نے عدالت کے سامنے سرنگوں ہونے سے انکار کر کے پارلیمنٹ کی بالا دستی کو یقینی بنا نے کا عزم ظاہر کیا تھا لیکن اس کیلئے انھوں نے جس راہ کا انتخاب کیا تھا وہ غلط تھا۔سپریم کورٹ پر حملہ ایک سنگین جرم تھا جسے جائز قرار نہیں دیا جا سکتا ۔عدلیہ کے غیر منصفانہ طرزِ عمل کے کہیں بھی یہ م معنی نہیں کہ عدلیہ کے ادارے کو ہی تہس نہس کر کے رکھ دیا جائے ۔موجودہ حکومت کی عدلیہ نے جو درگت بنائی ہو ئی ہے وہ سب کے سامنے ہے لیکن اس حکومت نے اس طرح کے کسی اقدام کا عندیہ نہیں دیا جو عدلیہ سے اس کی گہری محبت کا غماز ہے ۔ موجودہ حکومت ابھی تک صبرو تحمل اور برداشت کا مظاہرہ کر رہی ہے جس کا ادراک عدلیہ کی مسند پر بیٹھے ہو ئے معزز ججز کو نہیں ہو رہا۔ کاش وہ اس کا ادراک کرلیں توغیر یقینی کے بادل ہمیشہ کیلئے چھٹ جائیں گئے او قوم سکون کا سانس لے گی۔۔۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ صدرِ پاکستان سردار فاروق لغا ری اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سجاد حسین شاہ نے آپس میں گٹھ جوڑ کر رکھا تھا اور وہ میاں محمد نواز شریف کی حکومت کو فارغ کر کے اپنے اقتدار کی راہیں سیدھی کرنا چاہتے تھے ۔وہ ایک سازش کے تحت جمہوری نظا م کو تبا ہ و برباد کرنے پر تلے ہوئے تھے اور آئینی حکومت کی راہ میں نت نئے روڑے اٹکا رہے تھے۔ میاں محمد نواز شریف کو اس وقت دو تہائی اکثر یت حاصل تھی لیکن اس کے باو جود بھی دونوں سازشی ان کے قابو میں نہیں آ رہے تھے جس کی وجہ سے سپریم کورٹ پر حملہ کیا گیا اور سجاد حسین شاہ کو چیمبر میں چھپ کر اپنی جان بچانی پڑی تھی ۔ عجیب اتفاق ہے کہ ماضی کے ان دونوں کرداروں سید سجاد حسین شا ہ(چیف جسٹس آف پاکستان) اور سردار فاروق احمد خان لغاری( صدرِ پاکستان) کا ایک بھی نام لیوا اور حمائیتی کہیں پر بھی نہیں ملے گا کیونکہ ان کے اقدامات بد نیتی پر مبنی تھے اور آ ئین کے نام پر وہ سازشوں کا جال بھن رہے تھے۔وقت کے بے رحم پہیے نے ان دونوں کو روندھ کے رکھ دیا ہے کیونکہ بد نیتی ایک دن ظاہر ہو کر رہتی ہے اور ذلت کا باعث بنتی ہے۔اس وقت ان کے اقدامات کی حمائت کرنے والے اور انھیں ہوا دینے والے بھی بڑے تھے لیکن وہ سارے کے سارے کردار وقت کی دھول میں کہیں گم ہو چکے ہیں اور سچائی یہی ہے کہ سازشیوں کا انجام بہت برا ہوا کرتا ہے۔

حیران کن بات یہ ہے کہ اپنے اقتدار کو بچانے کی خاطر سپریم کورٹ پر حملہ کرنے والی جماعت آج آگے بڑھ کر عدلیہ کے بپھرے ہوئے طوفان کو ہوا دے رہی ہے کیونکہ آج پی پی پی بر سرِ اقتدار ہے اور اس پارٹی کا اقتدار انھیں کسی بھی صورت میں گوارہ نہیں ہے۔مسلم لیگ (ن) بھی ماضی میں عدالتوں سے ڈسی گئی جماعت ہے لہذا اس کی ترجیح جمہوریت کی بقا ہو نی چائیے۔ اسے عدلیہ کے پیچھے چھپ کر وار کرنے سے اجتناب کرنا چائیے کیونکہ اس کے نتائج بڑے خطرناک ہو ں گئے۔ پی پی پی کسی نہ کسی طرح سے اس مشکل وقت سے نکل جائیگی لیکن جس روائیت کو مسلم لیگ (ن) قائم کر نے کی سازش کر رہی ہے اسے

ایک دن اس پر شرمندہ ہو نا پڑیگا اور اپنے اس منفی کردار کی قیمت چکانی پڑیگی بالکل دھشت گردی کے ان قوانین کی طرح جو اس نے اپوزیشن کے کچلنے کیلئے بزور بنا لئے تھے لیکن اسی قانون کے شکنجے نے میاں برادران کی گردنوں کو دبوچ لیا تھا اور پھر انھیں معافی نامہ لکھ کر دس سالوں کیلئے سعوی عرب میں جلا وطن ہو نا پڑا تھا۔میری ذاتی رائے ہے کہ مسلم لیگ (ن) کو پارلیمنٹ کی مضبو طی اور خود مختاری کے لئے آگے بڑھنا چائیے کیونکہ کل اقتدار کے سنگا سن پر ان کو بھی بیٹھنا ہے اور ایسا نہ ہو کہ ان کا حشر بھی کسی طالع آزما چیف جسٹس کے ہا تھوں ویسا ہی ہو جائے جیسا١٩٩٨ میں سید سجاد حسین شاہ کے ہاتھوں ہوا تھا۔ برے وقت کا کوئی پتہ نہیں ہو تا اور پھر برا وقت بتا کر نہیں آیا کرتا بس اسے آنا ہو تا ہے اور یہ آجاتا ہے اور پھر انسان صرف دیکھتا رہ جاتا ہے۔دو تہائی اکثریت کے ہوتے ہوئے میاں محمد نواز شریف نے کب سوچا تھا کہ سپریم کورٹ کا چیف جسٹس سید سجاد حسین شاہ ان کی وزارتِ عظمی پر حملہ آور ہو جائے گا اور انھیں اپنے بچائو کے لئے وہ کچھ کرنا پڑیگا جسے وہ کبھی بھی حق بجانب نہیں ٹھہرا پائیں گئے۔پاکستانی قوم کی بدقسمتی ہے کہ اس کے قائدین ذاتی مفادات کے پیشِ نظر اپنے موقف بدلتے رہتے ہیں جس نے سیاست جیسے معزز پیشے کو بدنامی کے داغ لگا د ئے ہیں ۔

اگر ایک موقف سچ ہے تو اس سچ کا اظہار حکومت اور اپوزیشن بنچوں میں بیٹھتے وقت یکساں طور پر ہو نا چائیے تاکہ موقف کی سچائی اور سیاست کا تقدس ہمیشہ بر قرار رہے۔ توہینِ عدالت کا وہ قانون جسے میاں محمد نواز شریف نے عدلیہ سے تصادم کے دنوں میں بنا یا تھا پی پی پی نے اسی قانون کو چند ترامیم کے ساتھ منظور کیا ہے لیکن مسلم لیگ(ن) اس کی کھل کر مخالفت کر رہی ہے جو اسے زیب نہیں دیتا۔ مجھے اچھی طرح سے یاد ہے کہ محترمہ بے نظیر بھٹو ٥٨ ٹو بی کے سخت ناقدین میں سے تھیں کیونکہ ان کی اپنی دونوں حکومتیں اسی ٥٨ ٹو بی کی بدولت تحلیل کی گئی تھیں لیکن ١٩٩٧ کے انتخابات میں جب میاں محمد نواز شریف نے دو تہائی اکثریت ھاصل کر لی تو محترمہ بے نظیر بھٹو نے اس ٥٨ ٹو بی کے خا تمے کیلئے میاں محمد نواز شریف کا ساتھ دیا تھا حا لانکہ اس شق کو ختم نہ کرنا پی پی پی کے مفاد میں تھا لیکن محترمہ سمجھتی تھیں کہ ٥٨ ٹو بی پارلیمٹ اور جمہوریت کیلئے ایک دو دھاری تلوار ہے لہذا پی بی بی نے اس شق کے خاتمے کے لئے میاں محمد نواز شریف کے ساتھ مکمل تعاون کر کے اسے ختم کروا دیا تھا اور ایک اصول پسند سیاست دان ہونے کا ثبوت دیا تھا ۔

تحریر : طارق حسین بٹ

Share this:
Tags:
gilani national assembly pakistan TARIQ BUTT احکامات پارلیمنٹ حکومت
tu abhi rahguzr mein hai
Previous Post تو ابھی رہ گزر میں ہے ، قید مقام سے گزر
Next Post نہ بجلی،نہ پانی، نہ روٹی اور نہ گھر کوئی کیسے جیئں شان سے…؟؟
zardari raja parvez

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close