
مکتبوں میں کہیں رعنائی افکار بھی ہے؟
خانقاہوں میں کہیں لذتِ اسرار بھی ہے؟
منزلِ رہرواں دور بھی ہے، دشوار بھی ہے؟
کوئی اس قافلہ میں قافلہ سالار بھی ہے؟
بڑھ کے خیبر سے ہے یہ معرکئہ دین و وطن
اس زمانے میں کوئی حیدرِ کرار بھی ہے؟
علم کی حد سے پرے بندئہ مومن کے لیے
لذتِ شوق بھی ہے، نعمتِ دیدار بھی ہے
پیر میخانہ یہ کہتا ہے کہ ایوانِ فرنگ
سست بنیاد بھی ہے آئینہ دیوار بھی ہے
علامہ محمد اقبال
