Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 3, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

میر جعفر اور میر صادق

August 9, 2011 0 1 min read
bomb blast

bomb blast
ایک طویل عرصے سے ملک میں خودکش حملوں اور بم دھماکوں کا سلسلہ جاری ہیں، کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے خون کا بازار گرم ہے جبکہ بلوچستان میں بغاوت جڑیں پکڑ رہی ہے۔ یہ صورتحال پیدا کرنے والے عناصر کون ہیں ابھی تک بے نقاب نہیں ہو سکے البتہ سیاست کے پجاری ایک دوسرے مورد الزام ٹھہرا کر میر جعفر اور میر صادق ہونے کے طعنے ضرور دے رہے ہیں۔ پارلیمنٹ میں بیٹھی گریجویٹ اسمبلی میں یقینا اکثریتی نمائندے ایسے بھی ہوں گے جو شاید میر جعفر اور میر صادق کے کردار سے بھی واقف نہ ہوں لیکن پھر بھی اپنے سیاسی مخالفین کو ان القابات سے نواز کر دل کی بھڑاس نکال رہے ہیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ میر جعفر اور میر صادق دو ایسے غدار تھے جنہوں نے جنگ آزادی میں اپنوں کو چھوڑ کر انگریز کا ساتھ دیا تھا۔ میر جعفر نواب سراج الدولہ کی فوج میں ایک سردار تھا۔ اُس کی بدفطرتی کا یہ عالم تھا کہ نواب سراج الدولہ سے غداری کرکے ان کی شکست اور انگریزوں کی جیت کا راستہ ہموار کیا جس کے بعد بنگال پر انگریزوں کا عملاً قبضہ ہو گیا جبکہ میر صادق متحدہ ہندوستان میں ٹیپو سلطان کے دربار میں وزیر کے عہدے پر فائز تھا۔ اس کے بارے میں مصدقہ اطلاعات ہیں کہ چوتھی انگلو میسور جنگ میں انہوں نے ٹیپو سلطان سے غداری کی اور سلطنت برطانیہ کا ساتھ دیا، جس کی وجہ سے میسور میں اس جنگ کے دوران ٹیپو سلطان کو شکست ہوئی اور وہ شہید کر دیئے گئے۔ میر جعفر اور میر صادق کا کردار تاریخ میں سیاہ حروف سے لکھا جا چکا ہے۔ یہ دونوں غدار خود تو دنیا میں نہیں رہے لیکن اپنے پیچھے کئی ایسے جانشین چھوڑ چکے ہیں جو نہ صرف اُن کے نقش ِ قدم پر چل رہے ہیں بلکہ اُن کے کردار کی بدولت دونوں غداروں کا نام بھی زبان زدِعام ہے۔آج مملکت خداداد پاکستان بھی میر جعفر اور میر صادق کے جانشینوں کے نرغے میں ہے۔ آج کل کے حالات دیکھ کر تو لگتا ہے کہ پاکستان میں میر جعفر اور میر صادق زیادہ ہیں جبکہ ٹیپو کم رہ گئے ہیں۔ ٹیپو سلطان سچے مسلمان، عظیم سپاہی اور ہفت زبان تھے۔ وہ ہر وقت باوضو رہتے، نماز فجر کے بعد بلاناغہ قرآن کی تلاوت کرتے، مکروہات اور فہمیات سے مکمل اجتناب کرتے، اپنے شاہی فرمان کی پیشانی پر اپنے ہاتھ سے ”بسم اللہ” لکھتے۔ وہ خود تو ”شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی صد سالہ زندگی سے بہتر ہے” کہہ کر وطن پر نثار ہو گیا جبکہ اُن سے غداری کرنے والا میر صادق آج بھی نفرت کی علامت بنا ہوا ہے۔ اس وقت جہاں ہماری پارلیمنٹ میںمیر صادق اور میر جعفر موجود ہیں وہیں صحافت، عدلیہ، فوج اور دیگر اداروں میں بھی ان کی کمی نہیں ہے۔سیاست اور صحافت کا تعلق سماجی خدمت سے ہے لیکن بدقسمتی سے یہ دونوں ادارے میر جعفر اور میر صادق کے جانشینوں کی بدولت بدنام ہو چکے ہیں ۔اسی طرح عدلیہ، فوج اور دیگر اداروں میں بھی میر جعفر اور میر صادق کے جانشینوں کی موجودگی نہ صرف ملک کی بدنامی کا باعث بن رہی ہے بلکہ ان لوگوں کے بے نقاب نہ ہونے کی بدولت ملک کا مستقبل بھی دائو پر لگ سکتا ہے۔میر جعفر اور میر صادق کے کئی جانشین سیاست دانوں کا تو یہ عالم ہے کہ عوامی خدمت کو پس پشت ڈال کر ملکی سلامتی کی ضامن افواجِ پاکستان اور خفیہ اداروں کے خلاف زہر اُگل کر ملک کو دولخت کرنے کے درپے ہیں۔ ان کی ”حب الوطنی” ایسی ہے کہ پاکستان کا پانی پینا بھی پسند نہیں کرتے بلکہ منرل واٹر کی بوتلیں بھی یورپ سے آتی ہیں۔ کسی غریب سے ہاتھ ملا لیں تو فوراً جیب میں ہاتھ ڈال کر اینٹی بیکٹریل ٹشو پیپر سے ہاتھ صاف کرتے ہیں۔ اس میں قصور ان کا بھی نہیں بلکہ آپ اور مجھ جیسے ”باشعور” پاکستانی ووٹ، سپورٹ دے کر ان کو قوم کا خون چوسنے کیلئے اقتدار کی قوت دیتے ہیں۔ تف ہے ایسی حب الوطنی پر جو ملک کو دشمنوں کے حوالے کرنے میں اُن کی پوری طرح سے مددگار ثابت ہو۔ بلوچستان اور کراچی کے موجودہ حالات کی بدولت پاکستان زخموں سے چور ہو چکا ہے جبکہ سیاست دان اس پر مرہم رکھنے کی بجائے اپنے سیاسی مخالفین کو میر صادق اور میر جعفر کے القابات دے کر خود ”نیک پروین” بن جاتے ہیں۔کراچی پاکستان کا صنعتی، تجارتی، تعلیمی، مواصلاتی اور اقتصادی مرکز ہے جبکہ پاکستان کی سب سے بڑی بندرگاہ اور ہوائی اڈہ بھی اسی شہر میں واقع ہے۔ ملک کی معیشت کا ستر فیصد انحصار بھی اسی شہر پر ہے۔ بلوچستان کی اہمیت کا اندازہ ہم پاکستانیوں سے زیادہ مغربی ممالک کو ہے۔ گوادر کے گرم پانیوں تک رسائی کا خواہاں جہاں برطانوی راج میں سابق سوویت یونین رہا وہیں ایران، امریکا اور کئی دیگر مغربی ممالک کی نظریں آج بھی اس پر جمی ہوئی ہیں۔ ہم صرف بلوچستان کی سمندری پیداوار، سونا اور چاندی کو عالمی منڈی میں ڈال دیں، تیل و گیس، تانبہ، زراعت اور دیگر وسائل کو صرف گھریلو ضرورتوں تک محدود رکھیں تو آدھا پاکستان خوشحال ہو جائیگا۔ کراچی اور بلوچستان کا براہ راست تعلق چونکہ پاکستان کی خوشحالی سے ہے اس لئے یہاں فسادات بھی وہی قوتیں کرا رہی ہیں جو ملک کو پھلتا پھولتا دیکھنا پسند نہیں کرتیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ قوتیں میر جعفر اور میر صادق کے جانشینوں کی بدولت ملک کو دولخت کرنے کی کوششوں میں مصروف نظر آتی ہیں۔ ایبٹ آباد ڈرامہ کے ذریعے جہاں پاکستان اور اس کے سکیورٹی اداروں کو بدنام کیا گیا وہیں پی این ایس مہران پر حملہ کرکے بھی ملک کے دفاع پر کاری ضرب لگانے کی ناپاک کوشش کی گئی۔ ان دونوں واقعات کا اگر باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو میر جعفر اور میر صادق کا کردار یہاں بھی کھل کر سامنے آتا ہے۔ ان واقعات کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں ملک دشمن عناصر نے انتہائی کلیدی کردار ادا کیا۔ اسی طرح بلوچستان میں علیحدگی کی تحریکوں اور کراچی میں ٹارگٹ کلنگ میں میر جعفر اور میر صادق کے یہ جانشین متحرک ہیں۔ ایٹمی پاکستان کا وجود جہاں امریکا، بھارت اور اسرائیل کی آنکھوں میں کھٹکتا ہے وہیں دشمن اس طرح کے حالات پیدا کرکے پاکستان کو توڑنے اور اس کے ایٹمی اثاثوں تک رسائی بھی چاہتا ہے۔ وزیر داخلہ رحمان ملک کراچی اور بلوچستان کے حالات کا ذمہ دار ہمیشہ سے تیسری قوت کو ٹھہراتے آئے ہیں لیکن آج تک یہ قوت بے نقاب نہیں ہو سکی۔ بلوچستان اور کراچی کے حالات خراب کرنے میں جہاں ہمارے سیاست دانوں کا بڑا ہاتھ ہے وہیں دشمنی اور دوستی کا روپ دھارے بعض غیر ملکی قوتیں بھی اپنے ایجنٹوں کے ذریعے متحرک ہو چکی ہیں۔  آج سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان کا دوست کون اور دشمن کون ہے۔ کچھ باتیں ایسی ہوتی ہیں جو سفارتی سطح پر ڈھکی چھپی ہوتی ہیں لیکن کسی نہ کسی طرح ظاہر ہو ہی جاتی ہیں۔ معروف دانشور اور سابق سفارت کار ڈاکٹر نذیر ذاکر تیرہ برس تک ایران میں اپنی ذمہ داریاں نبھاتے رہے۔ پہلے آٹھ برس ایرانی سفارت خانے میں کلچرل اتاشی رہے بعد میں آر سی ڈی ہیڈ آفس تہران میں ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز ہوئے اور پانچ برس وہاں قیام کیا۔ وہ 1990ء سے 1993ء تک وزیراعظم ہائوس میں ایران ڈیسک کے کنسلٹنٹ بھی رہے جبکہ ایران پر دس کتابیں بھی تحریر کر چکے ہیں۔ 28اکتوبر 2009ء کو کراچی کے ایک روزنامہ اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ بلوچستان کے حوالے سے ایران کا ایک مؤقف رہا ہے۔ اس کی درسی کتابوں میں یہ بات پڑھائی جاتی ہے کہ بلوچستان ایران کا حصہ تھا جسے انگریزوں نے زبردستی ہندوستان میں شامل کیا، پھر 71ء کی جنگ میں ایران نے کھل کر بلوچستان پر اپنا حق جتایا اور کارروائی کی دھمکی بھی دی۔ ایران کی نظر اس لئے بھی بلوچستان پر ہے کہ یہ علاقہ ایران کے سیستان کی نسبت نشیب پر ہے۔ اگر پاکستان تیل نکالنا شروع کر دے تو ایران کا تیل اس کی طرف آ جاتا ہے جس کا ایران کو ڈر ہے کہ پاکستان کہیں تیل نکالنا شروع نہ کر دے۔ ایک سوال کے جواب میں وہ کہتے ہیں کہ گوادر پورٹ پر بھی ایران کو تحفظات ہیں اور وہ بلوچستان میں معدنیات نکالنے کا بھی شدید مخالف ہے۔ اس کے علاوہ اس بات کے ثبوت بھی ہیں کہ ایران نے گوادر مخالف قوتوں کو وسائل فراہم کئے جبکہ بھارت نے ان میں رقوم تقسیم کیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اینٹی گوادر پروجیکٹ میں ایران، بھارت اور امریکا اکٹھے دکھائی دیتے ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ ملکوں کے درمیان دوستی نہیں بلکہ مفادات ہوتے ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ جہاں ایران کے تعلقات پاکستان کی نسبت بھارت سے اچھے ہیں وہیں گوادر کے معاملے میں امریکا بھی ایران کے ساتھ دکھائی دیتا ہے۔ گوادر کی تعمیر سے ایران کے بحری ٹریفک کنٹرول اور اس کے مفادات پر ضرب پڑ سکتی ہے کیونکہ اس طرف گزرنے والی تمام ٹریفک کو گوادر سب سے بہترین مقام پڑتا ہے۔ ایران نے اس سے نبرد آزما ہونے کے لئے ایرانی بلوچستان میں بھارت کے تعاون سے ایک نئی بندرگاہ تعمیر کی ہے۔ بھارت نہ صرف بندرگاہ تعمیر کرکے دے رہا ہے بلکہ چار سو پچاس کلومیٹر سے زائد کی ایک روڈ بھی تعمیر کر رہا ہے جو اس بندرگاہ کو افغانستان کے راستے وسطی ایشیائی ممالک سے ملائے گی۔ مزید برآں ایران کے ساتھ تعاون کے نتیجے میں بھارت چین کے گوادر میں اثرات کو بھی کم کر سکتا ہے، جس کے نتائج بلوچستان میں پھوٹ پڑنے والی بغاوت سے بخوبی لگائے جا سکتے ہیں۔ ایران بظاہر تو پاکستان کا دوست ملک ہے لیکن بلوچستان میں ہونے والی بغاوت کے تناظر میں اس پر بھی نظر رکھنا پڑے گی البتہ خطے کے موجودہ حالات اور ہمسایہ ملک ہونے کے ناطے ہمیں ایران سے بگاڑنی نہیں چاہئے کیونکہ اس سے بہرحال اسلام کے دشمنوں کو ہی فائدہ ہوگا۔ بلوچستان میں بغاوت کو ہَوا دینے والی قوتیں ملک دشمنی میں اس قدر آگے بڑھ چکی ہیں کہ اگر بالفرض اُن سے یہ پوچھ لیا جائے کہ آپ بلوچستان میں امریکا، بھارت اور ایران کے کردار کو کس تناظر میں دیکھتے ہیں تو فوراً اپنی توپوں کا رُخ آئی ایس آئی اور ایم آئی کی طرف موڑ کر بات گول کر دیتی ہیں۔ کسی بھی ملک کے انٹیلی جنس اداروں کا کام دشمن کی چالوں، خفیہ سازشوں، ملک کو درپیش خطرات کو قبل از وقت بے نقاب کرنا ہوتا ہے اور یہی کردار آئی ایس آئی اور ایم آئی کا بھی ہے لیکن ملک دشمن عناصر اپنے ہی اداروں کو بدنام کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ اللہ تعالیٰ ملک کی حفاظت میں ہماری مدد کرے اور پاکستان کو میر جعفروں اور میر صادقوں سے بچائے۔ یہ لکھنے کی ضرورت نہیں کہ کون میر جعفر اور کون میر صادق ہے بلکہ محب وطن پاکستانی اُنہیں خود اچھی طرح سے جانتے ہیں۔
تحریر: نجیم شاہ

Share this:
Tags:
bomb blast government iran pakistan parliament پارلیمنٹ جنگ آزادی کراچی
London Clashes
Previous Post لندن: فسادات نے برمنگھم اور لیورپول کو بھی لپیٹ میں لے لیا
Next Post دھڑکن بتا رہی ہے کہ آجائے گا وہ بس

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close