Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 4, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

ناقابلِ تسخیر قوم

October 15, 2011 0 1 min read
pak amrirca
pak amrirca
pak amrirca

پاک امریکی تعلقات کی افادیت کو یکھنا ہے تو ستمبر ١٩٦٥ کی جنگ کا تجزیہ کیجئے۔ آپ کو ہر شہ بڑی واضع، صاف اور شفاف نظر آجا ئے گی۔ ستمبر ١٩٦٥ کی جنگ ایک ایسی جنگ تھی جس نے پا کستانی قوم کے نئے تشخص کو پوری دنیا کے سامنے پیش کیا ۔١٩٦٥ کی جنگ نے یہ ثابت کیا کہ امریکی امداد ،دوستی اور اعانت نے پاکستان کو ایک مضبوط اور ناقابلِ تسخیر قوم بننے میں بڑا اہم کردار دا کیا تھا (اگر چہ  ١٩٦٥ کی جنگ میں پاک امریکہ تعلقات میں دراڑیں پڑ چکی تھیں لیکن اس وقت تک پاکستان اپنے پائوں پر کھڑا ہو چکا تھا اور امریکہ پاکستان کو فوجی لحاظ سے ایک اہم قوت بنا چکا تھا)) بھارت کے سامنے پاکستان کی حیثیت ہی کیا تھی ۔ ایک ایسا ملک جس کے دونوں بازوئوں کے درمیان خود بھارت حائل تھا اور جو کسی بھی وقت اس کے ان دونوں بازئوں کو اپنی مکارانہ چالوں سے جدا کرسکتا تھا اور یہی سب کچھ اس نے ١٩٧١ کی جنگ میں کیا تھا جب مکتی باہنی کی مدد سے اس نے مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش کی آزاد ریاست بنا کر دم لیا تھا اور لہو میں ڈوبا سرخ  پرچم ان کے حوالے کیا تھا۔ا پنی طاقت کے زعم میں بھارت پاکستان کو کوئی اہمیت دینے کو تیار نہیں تھا ۔ بھاتی قیادت کے ذہن میں یہ بات بڑی شدت سے جاگزین ہو چکی تھی کہ پاکستان اپنے آپ کو قائم نہیں رکھ سکتا اس کا بکھرنااور ٹوٹنا اٹل ہے لہذا وہ انہی سازشوں میں مگن رہا کہ ا س کا شیرازہ کس طرح سے بکھیرنا ہے۔ بھارت اور پاکستان کا فوجی اور معاشی لحا ظ سے کو ئی موازنہ نہیں تھا۔ بھارت پاکستان سے چھ گنا بڑا ملک ہے۔ اس کے وسائل اور اس کے خزانوں کا پاکستان سے موازنہ کرنا احمقانہ حر کت ہو گی۔ بھارت کو اپنی بے پناہ قو ت کا اندازہ تھا تبھی تو اس نے ستمبر ١٩٦٥ کی جنگ میں پاکستان کے اہم ترین شہر لاہور کے جم خانہ کلب میں چائے پینے کا پروگرام تشکیل دے رکھا تھا۔ بھارت کا مفروضہ اور منصوبہ یہ تھا کہ پاکستا ن کو فتح کرنا چند گھنٹوں کا معاملہ ہے کیونکہ پاکستان میں اتنی سکت نہیں ہے کہ وہ بھارتی فوجوں کی یلغار کے سامنے کھڑا ہو سکے۔بھارت ایسا سو چنے میں حق بجانب تھا کیونکہ اسے جس ملک سے مقابلہ درپیش تھا وہ کو ئی بڑی عالمی طاقت نہیں تھی اور نہ ہی کوئی جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ ملک تھا ۔ اس کے ساتھ تو اس سے قبل بھی وہ کئی مکاریاں ،چالاکیاں، ھٹ دھرمیاں اور زیادتیاں کر چکا تھا اور اپنی مرضی کے نتائج حا صل کر چکا تھا اور اب کی بار بھی وہ اپنی مرض کے نتائج حاصل کرنا چاہتا تھا۔اسے جیت عزیز تھی اور جیت کے بارے میں وہ بڑی خوش فہمیوں کا شکار تھا۔ کشمیر، جونا گڑھ اور حیدر آباد پر بھارتی قبضہ کی بات کو ئی زیادہ پرانی بات نہیں تھی جس پر پاکستان بھارت کا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکا تھا اور عالمی رائے عامہ نے بھی بھارتی توسیع پسندی پر بھارت کے خلاف کوئی سنجیدہ قدم نہیں اٹھا یا تھا ۔ تینوں بڑی ریاستیں تقسیمِ ہند کے اصول و ضوابط کے خلاف بھارت نے اپنے تسلط میں لے لی تھیں اور پاکستان منہ دیکھتا رہ گیا تھا لہذا بھارت کا پاکستان کو تر نوالہ سمجھنا آسانی سے سمجھ میں آسکتا ہے۔یہ بات بھی اپنی جگہ اہم ہے کہ بھارت نے پاکستان کے وجود کو کبھی بھی دل سے تسلیم نہیں کیا لہذا اسے ہڑپ کر جانا اور اس کے حصے بخر ے کرنا ہمیشہ سے اس کے توسیع پسندانہ عزائم کا ایجنڈہ رہا ہے اور اپنے اس ایجنڈے کی تکمیل میں اس نے کبھی بھی حیل و حجت سے کام نہیں لیا ۔ ستمبر ١٩٦٥ کی جنگ بھی اسے ایجنڈے کی تکمیل کی جانب ایک قدم تھی لیکن اس کا کیا جائے کہ بھارت کو اس جنگ میں منہ کی کھانی  پڑی اور پاکستان کو ملیا میٹ کرنے کی اس کی ساری کوششیں نقش بر آب ثابت ہوئیں ۔ تقسیمِ ہند کے بعد پاکستان کو بے شمار مالی، معاشی، معاشرتی اور اقتصادی مسائل نے گھیرے میں لے رکھا تھا ا ور اس کی فوجی اور معاشی حالت اتنی اچھی نہیں تھی کہ اسے بھارت کے مقا بلے میں میدانِ جنگ میں گھسیٹ لایا جائے۔عدمِ استحکام کے اسی مفروضے کو سامنے رکھتے ہوئے بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا تھا اور اکھنڈ بھارت کا خواب اپنی آنکھوں میں سجا رکھا تھا لیکن اسے کیا خبر تھی کہ جسے وہ سوئی ہوئی قوم سمجھ کر حملہ آور ہو رہا ہے وہ قوم جاگ رہی ہے اور بھارت کو اس کی غنڈہ گردی کا مزہ چکھانے کے لئے بالکل تیار ہے۔وہ اپنے پچھلے حساب چکانے کے لئے بے تاب ہے اور بھارت سے گن گن کر کر سارے بدلے لینے کے لئے اسی وقت کی  منتظر ہے۔  حضرت علی شیرِ خدا کا قول ہے کہ میں نے خدا کو اپنے ارادوں کے ٹوٹنے سے پہچانا ۔ انسان منصوبے بناتا ہے لیکن کبھی کبھی یہ منصوبے پایہ تکمیل تک نہیں پہنچتے بلکہ راہ میں ہی دم توڑ جاتے ہیں۔کوئی ان دیکھی قوت ہے جو ان منصوبوں کو اپنی منصوبہ بندی کی نظر سے د یکھتی ہے اور پھر ان کے رو بہ عمل ہونے کا حتمی فیصلہ صادر فرما تی ہے۔تاریخ کے اوراق قوموں کے عروج وزوال کی دا ستا نوں سے بھرے پڑ ے ہیں جس کا جی چاہے تاریخ کے اوراق پلٹے اور قوموں کے ابھرنے اور ڈوبنے کے سارے منظر اپنی آنکھوں سے دیکھ لے۔یقین کیجئے تمام انسانی منصوبوں کو غارت کرنے یا تکمیل سے ہمکنار کرنے والی ایک ہی اعلی و ارفع ہستی اس کائنات کے اندر موجود ہے جسے ہم خدا کے نام سے پکارتے ہیں اور جو مکا فاتِ عمل کے اصولوں پر قوموں کے عروج و زوال کی داستان رقم کرتی ہے۔بھارتی منصوبہ لاہور میں چا ئے پینے کا تھا لیکن یہ منصوبہ پایہ تکمیل تک نہ پہنچ سکا کیونکہ پاکستان وہ قوم نہیں رہی تھی جسے بھارت نے ١٩٤٨ میں ناکوں چنے چبوائے تھے۔ یہ ١٩٦٥ تھا اور اب پاکستان ایک بڑی فوجی قوت تھا جس کا ادراک شائد بھارت کو نہیں تھا۔ لاہور کا دفاع کرنے کے لئے پاکستان نے بی آر بھی نہر کھود رکھی تھی بھارت تو اس نہر کو عبور نہیں کر سکا تھا اس نے پاکستان پر قبضہ کیا خاک کرنا تھا۔جذبہ شہادت سے لبریز پاکستانی فوج جب جدید اسلحے سے لیس ہو کر بھارتی فوجوں کے سامنے آئی تو بھارت کے اوسان خطا ہو گئے۔ انھوں نے یہ کب سوچا تھا کہ پاکستان اتنی بڑی فوجی قوت بن کر اس کے سارے منصوبوں کو خاک میں ملا دے گا ۔میجر عزیز بھٹی اور ان کے رفقائے کار نے بھارتی یلغار کو جس طرح بی آر بی نہر پر روکے رکھا وہ خود ایک معجزے سے کم نہیں تھی ۔ ایک یہی وہ جنگ تھی جس میں پاکستانی پائلٹ ایم ایم عالم نے چند منٹوں میں بھارت کے پانچ جنگی طیارے گرا کر ایک نیا عالمی ریکارڈ قائم کیا تھا۔ پٹھان کوٹ کا ہوائی اڈہ  تباہ کرنے کا سہرہ بھی پا کستانی پائلٹوں کے سر تھا جنھوں نے بھارتی فضائیہ کی کمر توڑ کر رکھ دی تھی ۔ جدید اسلحہ اور منہ زور جذ بے یکجا ہو جائیں تو فتح یقینی ہوتی ہے۔ ستمبر ١٩٦٥ کی جنگ کے وہ جوان اور غازی جنھوں نے بھارتی فوجوں کے دانت کھٹے کئے ان کی بسالتوں کی گواہی تو پاک دھرتی کا ذرہ ذرہ دے رہا ہے ۔خوش قسمت ہے وہ قوم جس میں ایسے بیٹے جنم لیتے ہیں اور خوش قسمت ہے وہ دھرتی جسے یہ نامور سپوت اپنا لہو خراج کرتے ہیں ۔ جذ بہِ شہادت جب رگ و پہ میں لہو بن کر دوڑ نے لگے  تو پھر دنیا کی کوئی طاقت ایسی فوج کا مقابلہ نہیں کرسکتی اور ١٩٦٥ میں پاکستانی فوج کا ایک ایک سپاہی خیبر شکن بھی تھا اور ان جذبوں کی عملی پیکر بھی تھا۔موت کی خو اہش جب زندگی کی خوا ہش پر غالب آ جائے تو انسان ایسی حیاتِ جاوداں سے آشنا ہوجا تا ہے جسے کبھی فنا نہیں ہوتا۔ روح حا لتِ رقص میں ہو تو پھر بدن کا لاشہ کہا ں گرتا ہے انسان کو اس سے کو ئی غرض نہیں ہوتی، فکر نہیں ہوتی اور ہوش نہیں ہوتا۔۔۔  ستمبر ١٩٦٥ میں بھارت کے سارے منصوبے خاک میں مل کر خاک ہوئے ۔ پاکستانی قوم فتح مند ہو کر نکلی اور اہلِ جہاں کو بتا دیا کہ بھارت نے جس قوم کو للکارا ہے اس کے لئے موت کی خوا ہش زندگی کی خواہش سے کہیں زیادہ قوی ہے۔ رنگ لائے گا شہیدوں کا لہو ہر ایک کے دل کی پکار تھی تبھی تو پوری قوم سر پر کفن باندھ کر اعلان کر رہی تھی کہ اے مرد مجاہد جاگ ذرا اب وقتِ شہادت ہے آیا۔جب کبھی کسی بھی قوم کے افراد موت کی تمنا کرنے لگ جاتے ہیں تو پھر اسے شکست د ینا کسی طاقت کے بس میں نہیں رہتا ۔ ایسے سر فروشوں کا مقدر ا گر ا ن کی یاوری کر جائے تو وہ مقامِ شہادت سے سرفراز ہو جا تے ہیں اور اگر بچ جائیں تو غازی کے لقب سے جانے جاتے ہیں۔ ہر دو صورتوں میں سعادت ہی ان کے مقدر میں لکھ دی جاتی ہے۔ سعادتوں کی آرزو مند پاکستانی قوم کو شکست دینا بھارت جیسے ملک کے لئے ممکن نہیں تھا اسی لئے تو اسے ہزیمت اٹھا نی پڑی تھی۔اس کی ساری آرزئویں خاک میں مل گئی تھیں اسے رسوا ہونا پڑا تھا اسے خاک چاٹنئی پڑی تھی اور دنیا کے سامنے بے آبرو ہونا پڑا تھا۔پاکستانی قوم ایک سیسہ پلائی ہوئی د یوار بن کر بھارت کے سامنے کھڑی تھی اور بھارت کے پاس پسپائی کے علاوہ کوئی دوسری راہ نہیں تھی۔ لیکن کیا ہم نے کبھی یہ سوچنے کی زحمت گوارہ کی کہ پاکستان کو ایسی طاقت ور اور ناقابلِ تسخیر قوم بنانے میں اس کے کس دوست کا ہاتھ تھا۔کس کی دوستی اسے اس مقام تک لے آئی تھی جہاں پر وہ اپنے وقت کی سپر پاور سے ٹکرا جاتا ہے اوراسے ہزیمتسے دوچار کرتا ہے۔ اہلِ جہاں کی نظروں میں پاکستانی قوم سرخرو ہو کر نکلتی ہے اور ان سے اپنی جراتوں کی دادو تحسین وصول کرتی ہے۔  ١٩٤٨  میں بھی یہی قوم تھی اس وقت تو بھارت نے اسے درخورِ اعتنا نہیں سمجھا تھا پھر ١٩٦٥ میں کیا نیا تھا جس نے سار ی بازی پلٹ کر رکھ دی تھی۔ قوتِ ایمانی اور جذبوں کی بات اپنی جگہ پر مسلمہ ہے اور اسے جھٹلانا کسی کے لئے بھی ممکن نہیں ہے لیکن سامانِ حرب کی کمی اور جنگی سازو سامان کی عدمِ دستیابی کے ساتھ دشمن کا مقابلہ کرنا اور اسے شکست دینا ممکن نہیں ہو تا۔دشمن کی ہیبت اور اس کی طاقت ایک مسلمہ حقیقت ہے جس سے انکار کرنا حکمت،دانائی اور دانش کے اصولوں کے منافی ہے ۔ اگر میری بات کا یقین نہیں تو یاد کیجئے حق وباطل کے سب سے پہلے معرکے جنگِ بدر کو جس میں رات کو ایک خوا ب کے ذریعے خدا ئے بزرگ و برتر نے مجاہدینِ اسلام کودشمن کی تعداد کم کر کے دکھائی تھی تاکہ صبح جب وہ میدانِ جنگ میں اتریں تو انھیں اس بات کا یقین ہو جائے کہ دشمن تعداد میں ہم سے بہت زیادہ نہیں ہے لہذا اسے شکست دی جا سکتی ہے اور شکست دینے کا یہی یقین تھا جس نے ان میں فتح کی آرزو کو پروان چڑھایا اور ان کی اس آرزو کی تکمیل خدا نے اپنی معاونت سے پوری کی تھی ۔(جاری ہے)
تحریر : طارق حسین بٹ

Share this:
Tags:
India pakistan TARIQ BUTT امریکہ پاکستان تعلقات
pakistan cricket
Previous Post سری لنکا سے سیریز: پاکستان کرکٹ ٹیم آج یو اے ای پہنچ گئی
Next Post پاکستان ہاکی ٹیم آج آسٹریلیا روانہ ہو گی
Pak hockey

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close