Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 4, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

نالہ بے باک

September 3, 2011 0 1 min read
TARIQ BUTT
TARIQ BUTT
TARIQ BUTT

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں محمد نواز شریف کے اس بیان کے بعد جو انھوں نے سیفیا سے خطاب کرتے ہوئے دیا ہے یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ تاریخی ریکارڈ کی درستگی کے لئے تحریکِ پاکستان کے اہم گوشوں سے نقاب اٹھا کر انھیںسپردِ قلم کیا جائے تا کہ کسی کو شک و شبہ کی مطلق کوئی گنجائش باقی نہ رہے کہ کہ مملکتِ خداداد کا قیام زمین پر لکیریں کھینچنے کا عمل نہیں تھا۔ یہ کوئی ظاہری لباس اور خوردو نوش کا مسئلہ بھی نہیں تھا۔اس میں رشتے داریوں اور دوستیوں کا بھی کوئی کردار نہیں تھا ۔اس میں علاقائی سوچ اور رسم و رواج کا بھی کوئی عمل دخل نہیں تھا ۔ اس میں زبان کی یک جائی کا بھی کوئی تعلق نہیں تھا اور نہ ہی اس میں تجارت اور کارو باری مفادات کا کوئی شائبہ تھا بلکہ قیامِ پاکستان ایک فکر، سوچ اور نظریے کی جنگ تھی جسے تا ئیدِ ایزدی حاصل تھی کیونکہ تائیدِ ایزدی کے بغیر تنہا اتنی بڑی جنگ کو جیتنا ناممکنات میں سے تھا۔
میاں صاحب آپ بڑے شوق سے آلو گوشت کھائیں گھیا گوشت سے لطف اندوز ہوں لیکن تحریکِ پاکستان کو مسخ کرنے کی کوشش نہ کریں۔ آپ ایک سیاست دان ہیں لہذا سیاست دان ہی رہیں دانشور بننے کی کوشش نہ کریں کیونکہ دانشوری آپ کے بس کی بات نہیں ہے۔ پاکستان کی خالق جماعت کے پلیٹ فارم سے ان کے حالیہ ارشادت نے محبِ وطن پاکستانیوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ میاں صاحب کو خبر ہونی چائیے کہ قیامِ پاکستان تاریخِ اانسانی کا سب سے منفرد واقع ہے لہذا اسے کٹ حجتیوں کی نذر نہ کیا جائے۔میں تو جب کبھی بھی برِ صغیر میں تحریکِ آزادی کے پسِ منظر میں عوام کے فلک شگاف نعروں،جذبوں ، جدو جہد اور بیش بہا قربانیوں کے بیچ آزادی کے سورج کو طلوع ہوتے ہوئے دیکھتا ہوں تو دم بخود رہ جاتا ہوں کہ ایک نخیف و لاغر اور دبلا پتلا سا انسان جس کے پاس مال و دولت کے انبار نہیں تھے، جس کے پاس ذات برادری کا کوئی مضبوط جتھہ نہیں تھا۔
جس کے پاس اسلحہ کے ڈھیر اور فوجی قوت نہیں تھی اور جس کی مخالفت پر برِ صغیر پاک و ہند کے سبھی قابلِ ذکر حلقے کمر بستہ تھے کیسے قیامِ پاکستان کے معجزے کو سر انجام دے گیاقائدِ اعظم کے پاس نظریے کے ساتھ ساتھ بلا کی قوتِ برداشت تھی۔ قائدِ اعظم نے مخالفین کی تراشید ہ پگڈنڈ یوں میں کھو جانے اورا نکے اٹھا ئے گئے سوالات و الزامات میں الجھنے کی بجائے اپنے حدف پر نگاہیں مرکوزرکھیں تھیں اور اپنے مخالفین کی ہرچال، اور اعتراض کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنے مقصد کے حصول کو اپنا زندگی کا مشن بنا لیاتھا۔اپنی فہم و فراست، عوام کی محبت اور خدا کی نصرت یہی تو اس کا کل اثاثہ تھے جسکی قوت پر اس نے تار یخِ ا نسانی میںآزادی کی خاطر ایسی پر امن جنگ لڑی کہ زمانہ عش عش کر اٹھا۔ اس نے پر تشدد سیاست کی راہ کو کبھی نہیں اپنایا یہی وجہ ہے کہ وہ اپنی ساری سیاسی زندگی میں ایک دن کیلئے بھی جیل میں نہیں گیا۔
سب سے بڑا کمال یہ ہے کہ اس نے یہ جنگ دنیا کے اس خطے میں لڑی جو جنگ و جدل، ا کھاڑ پچھاڑ ، توہمات، مذہبی شدت پسندی اور تقسیمِ ذات پات کی کی ایک طویل تاریخ رکھتا ہے اور باعثِ اطمنان ہے یہ امر کہ اس نے اپنی سیاسی جدو جہد میں ان سارے عوامل کی نفی کر کے اپنے ھدف کو حاصل کیا۔ خالص سیاسی ،آئینی اور قانونی جنگ جس میں دانش اور بصیرت راہیں تراشتی چلی گئی اور عوام کو اپنے موقف پر قائل کرتی چلی گئی ۔قیامِ پاکستان انسانی دانش کا لاجواب شاہکار ہے۔ اقبال و قائد کی دانش ۔ فکر کی دانش عمل کی دانش اور اس مشترکہ دا نش سے جنم لینے والی عظیم مملکت کا نام ہے پاکستان۔
موجودہ دور جمہوری قدروں کا دور ہے جس میں اکثریت کو ہی ہر قسم کے فیصلے کرنے کا اختیار حاصل ہو تا ہے۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ مذہبی صداقت ، طاقت یا شمشیر زنی کے زور پر اقلیت اکثریت پر اپنے فیصلے مسلط کر نے کی کسی نئی جمہوری روائت کا سلسلہ شروع کر دے۔ بادشاہوں، سرداروں اور جرنیلوں کا ایک دور تھا جو لدھ چکا جس میں فیصلے تلوار کی نوک اور قوت کی بنیا دپر کئے جاتے تھے لیکن جدید دور میں جمہو ری قدرں نے اسطرح کی ہر سوچ کا قلع قمع کر کے پارلیمنٹ کو سارے فیصلوں کا حق تفویض کردیا ہے۔ آج کے دور میں عوامی ووٹ سے قائم ہونے والی پارلیمنٹ ہی قوت کا سر چشمہ ٹھہری ہے لہذا جو جماعت اور گروہ پارلیمنٹ میں اپنی عددی اکثریت رکھتا ہے فیصلے کرنے کی قوت بھی اسے ہی حاصل ہوتی ہے۔یہ نہیں ہو سکتا کہ پارلیمنٹ میں کوئی جماعت اقلیت میں ہو لیکن اپنی ھٹ دھرمی کی وجہ سے اس بات پر بضد ہو کہ چونکہ وہ حق کی علمبردار اور سچائی کی نقیب ہے۔
لہذا سارے فیصلے اسی کی ہیش کردہ سوچ اور فکر کے مطابق ہونے چائیں۔اس طرح کی غیر جمہوری سوچ کی حامل جماعتوں کو حسبِ منشا سوچنے کا حق توضرور حاصل ہوتا ہے لیکن وہ اپنی اس سوچ کو حقیقت کا جامہ نہیں پہنا سکتیں کیونکہ پارلیمنٹ میں ان کے پاس عددی اکثریت نہیں ہوتی اور فیصلے خواہشوں کے بل بوتے پر نہیں بلکہ اکثریت کی بنیادوں پر رو بعمل ہوتے ہیں ۔ اس طرح کی سطحی سوچ اور اندازِ فکر والی جماعتوں اور گروہوں کی فیصلہ سازی میں کوئی آواز اور اہمیت نہیں ہوتی لہذا ان کی ہار یقینی ہو تی ہے۔ مسلمانوں کی اقلیتی آواز کی اسی ہار کو فتح میں بدلنے کا نام پاکستان ہے جسکی خشتِ اول اقبال نے اپنی بے مثال فکر پر رکھی اور جسے قائدِ اعظم نے ا پنی فقید ا لمثال جدو جہد سے ممکن بنا دیاتھا وگرنہ آج بودیوں والے ہمیں ذلیل و خوار کر رہے ہوتے اور ہم بندے ماترم گا رہے ہوتے۔
جمہوریت کے اندر پوشیدہ فیصلہ سازی کی اس روح کو ڈاکٹر علامہ محمد اقبال نے کمال دانشمندی ،ہوشمندی اور ذہانت سے بھانپ لیا تھا لہذا اسے نظر آنے لگا تھا کہ نئے جمہوری نظام کے تحت بر صغیر پاک وہند میں مسلم قوم اپنا تشخص کھو بیٹھے گی اور ہندو غلبے کے اندر اسے سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا اور مسلمان قوم اپنی ساری توانائیاں اپنی بقا کی جنگ کی نذر کر دے گی۔مذہب پرست طبقے مذہب کی بنیاد پر مسلمانوں کا استحصال کریں گے اور انھیں ہمیشہ مذہبی تنازعوں میں الجھا کر اپنے مفادات حاصل کرتے رہیں گے اور عوام کے ہا تھ محرومیوں کے سوا کچھ نہیں آئے گا ۔ تاریخ اور فلسفے کے عظیم دانشور کی حیثیت سے علامہ اقبال کو علم تھا کہ بر صغیر پاک و ہند میں ہندو مت نے جو سلوک دوسرے مذاہب کے ساتھ روا رکھا تھا اور جس طرح ان مذاہب کی پہچان کو مختلف حربوں سے ختم کیا تھا اسلام کے ساتھ وہ ایسا ہی کوئی سلوک روا رکھ کر اس کی بیخ کنی میں کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہیں کرے گا ۔
ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کو علم تھا کہ موجودہ جمہوری رویوں کے پیشِ نظر بر صغیر پاک و ہند میں مسلمان کبھی بھی اقتدار کی مسند پر نہیں بیٹھ سکتے کیونکہ مسلمان کل آبادی کا صرف پچیس فیصد ہیں لہذا اقلیت میں ہوتے ہوئے مکمل اقتدار ایک خواب کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہو گا۔ اقلیت میں ہونے کے سبب وہ ملکی معاملات اور قوانین سازی میں کوئی بھی کردار ادا کرنے سے محروم رہیں گئے۔ ہندو چونکہ کثریت میں ہیں لہذا اقتدار پر انکی گرفت ایک حقیقت ہے ۔ستم بالائے ستم یہ ہے کہ مسلمانوں میں میر جعفر اور میر صادق تو ہمیشہ سے موجود رہے ہیں لہذا وہ قومی مفادات کا سودا کر کے کانگریس کی کاسہ لیسی اختیار کر لیں گے اور یوں مسلمان مزید اقلیت میں بدل کر کمزور تر ہو جائیں گیاور انگریز کی غلامی کے بعد ہندو کی غلامی میں چلے جائیں گے جس سے مسلمانوں کا مستقبل بالکل تاریک ہو جائے گا۔ علامہ اقبال کی یہ سوچ اس وقت سچ ثابت ہوئی جب  ١٩٤٦ کے انتخابات میں مسلم لیگ نے تاریخی کامیابی حاصل کی لیکن پنجاب میں یونینسٹ پارٹی اور سرحد میں سرخ پوش راہنما خا ن عبدالغفار خان کی جماعت نے کانگریس کے ساتھ اتحاد کر کے مسلم لیگ کو اپوزیشن بنچوں پر بیٹھنے پر مجبور کر دیا۔
لہذا ا س المیے ِخفت اور بے بسی اور رسوائی سے بچنے کیلئے کسی ایسی راہ کو تلاش کرنا ضروری تھا جس سے برِ صغیر کے مسلمانوں کا مقدر محفوظ ہو جائے اور اسلام کی عظمت اور حر مت بھی برقرار رہے ۔ علیحدہ اسلامی مملکت کا قیام ہی وہ راہ تھی جو مسلمانوں کے مستقبل کو محفوظ کر سکتی تھی اور یہی فکرِ اقبال کا ماحصل تھا۔ اس دور میں مہ اور ہے جام اور ہے جم اور۔ساقی نے بنا کی روشِ لطف و ستم اور                           مسلم نے بھی تعمیر کیا اپنا حرم اور۔ تہذیب کے آذر نے ترشوائے صنم اور( ڈاکٹر علامہ محمد اقبال )
یہ تھی وہ بنیادی فکر اور سوچ جس کی بنیاد پر ڈاکٹر علامہ محمد اقبال نے ١٩٣٠ میں الہ آباد کے مقام پر اپنا تاریخی خطبہ دیا اور اور ایک علیحدہ اسلامی ریاست کا تصور پیش کر کے آنے والے وقتوںکے لئے جدوجہد کی ٹھوس بنیادیں رکھ دیں۔ اس وقت تو اس خطبے کو شاعر کی موشگافیاں اور ایک فلسفی کا دماغی خلل ہی قرار دیا گیا اور ایسا ہونا بھی چائیے تھا کیونکہ اس نے جو اچھوتا تصور پیش کیا تھا اس زمانے کے حالات و واقعات کے پیشِ نظر لوگوں کیلئے اس طرح کی سوچ کا تصور کرنا بھی محال تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب انگریز کے اقتدار کا سورج پورے نصف ا لنہار پر پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا اور جس کی سلطنت پر سورج غروب نہیں ہو تا تھا۔ مشرق و مغرب میں ہر سو اس کے نام کا ڈنکا بج رہا تھا اور وہ دنیا کی اکلوتی سپر پاور کی مسند پر جلوہ افروز ہو کر پوری دنیا کے فیصلے صادر کر رہا تھا۔
ان انتہائی جان لیوا حالات میں جب مسلمانوں کو ا پنی جان کے لالے پڑے ہو ئے تھے اور وہ اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے تھے الہ آباد کے جلسے میں ایک دانشور ببانگِ دہل علیحدہ اسلامی ریاست کا تصور پیش کر کے سب کو حیران کر دیتا ہے ۔ اسے اپنی فکر پر اتنا یقین تھا کہ وہ بر ملا کہتا ہے کہ یہ ریاست جس کا میں تصور پیش کر ہا ہوں کو ئی خواب نہیں ایک حقیقت ہے اور میں اسے قائم ہوتے ہوئے دیکھ رہا ہوں اور دنیا کی کوئی طاقت اسے قائم ہونے سے روک نہیں سکتی۔افسوس صد افسوس کے آج میاں محمد نواز شریف یہ اعلان کر رہے ہیں کہ ہم ایک ہیں اور دونوں ملکوں کے درمیاں کھینچی گئی لکیروں کی کوئی اہمیت نہیں ہے حالانکہ تاریخ ہمیں بتا تی ہے کہ ہم کبھی بھی ایک نہیں تھے۔
عزیز انِ من سوچئیے کہ ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کے علیحدہ اسلامی مملکت کے تصور نے کیسے کیسے گروہوںکے مفادات پر کاری ضرب لگائی ہو گی اور  ہندوستان کی وہ اکثریت اور گروہ جو ہمیں اپنا غلام بنانے کا خواب دیکھ رہے تھے انھیں کتنی تکلیف پہنچی ہو گی لہذا ان سب گروہوں کا ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کو مجذوب کہنا اور اس کے تصور کی مخالفت کرنا سمجھ میں آتا ہے۔ شکار ہاتھ سے نکل جائے تو بڑی تکلیف ہوتی ہے اور یہاں تو پوری مسلمان قوم ہاتھ سے نکل رہی تھی لہذا ہندو تلملا رہا تھا ۔لیکن کتنا باجرات تھا تصورِ پاکستان کا خالق جو ساری مخالفت کے باوجود اپنی دھن میں اس تصور کو اپنی شاعری کے ذریعے نکھارتاچلا گیااور قوم کو اس مملکت کے لئے ذہنی طور پر تیار کرتا چلا گیا۔ وہ انھیں باور کراتا رہا کہ جو کچھ میں کہہ رہا ہوں کوئی خواب نہیں ہے بلکہ حقیقتت ہے۔ خدا کے لئے خوابِ غفلت میں سونے والو آنکھیں کھولو اور ہوش میں آئو کیونکہ تمھارا مستقبل اسی پیش کردہ علیحدہ اسلامی ریاست میں ہی محفوظ ہے لہذا اس تصور کو اپنا مقصدِ حیات بنا ڈالو نہیں تو سب کچھ طو فا نوں کی نذر ہو جائے گا اور تمھاری داستاں تک نہ ہو گی۔ حادثہ وہ جو ابھی پردہِ افلاک میں ہے۔ عکس اس کا میرے آئینہ ادراک میں ہے                    نے ستارے میں نے گردشِ افلاک میں ہے تیری یقدیر میرے نالہِ بے باک میں ہے( ڈاکٹر علامہ محمد اقبال )
تحریر : طارق حسین بٹ

Share this:
Tags:
business Muslim League Nawaz Sharif pakistan TARIQ BUTT پاکستان مسلم لیگ نواز شریف
Iraq
Previous Post عراق: امریکی فوجیوں کے ہاتھوں شہری ہلاکتوں کی ازسر نوتحقیقات
Next Post نائین الیون کی برسی پرکسی دہشت گرد منصوبے کا سراغ نہیں ملا: امریکہ
America

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close