Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 4, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

نیا گُھڑ سوار

November 5, 2011November 5, 2011 0 1 min read
Tariq butt
Tariq butt
Tariq butt

کیا تختِ لاہور سمندر کی طوفانی، بے رحم اور جان لیوا موجوں کی نذر ہو چکا ہے یہی وہ سوال ہے جو عمران خان کے ٣٠ اکتو بر کے جلسے کے بعد ہر کس و ناکس کی زبان پر ہے اور جس کا جواب اتنا آسان نہیں ہے جتنا کہ سمجھا جا رہا ہے۔لاہور میاں برادران کا مضبوط گڑھ ہے اور ان کی ساری سیاست کا محور لہذا اسے بچانے کی خاطر میاں برادران اپنا پورا زور لگا دیں گئے لیکن اسے کسی صورت میں بھی دستِ اغیار میں جانے نہیں دیں گئے۔ انھیں بخوبی علم ہے کہ اگر ایک دفعہ لاہور ان کے ہاتھوں سے نکل گیا تو پھر پنجاب سے ان کی سیاست کا بو ریا بستر گول ہو جا ئے گا جو انھیں کسی صورت میں بھی گوارا نہیں ہے ۔میاں برادران کے پاس دھن دولت کی کو ئی کمی نہیں ہے اور خریدو فروخت کے فن میں بھی وہ  یدِ طولی رکھتے ہیں لہذا ان کے پائوں کے نیچے سے کارپٹ کھینچنا بچوں کا کھیل نہیں ہے۔ پنجاب کے سارے سرمایہ دار، جاگیر دار ،صنعت کاراور امراء ان کی پشت پر کھڑے ہیں لہذا انھیں لاہور میں شکست دے کر ا پنا سکہ جمانا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ تحریکِ انصاف اس جلسے سے ایک عوامی لہر کی مانند ضرور ابھری ہے لیکن زمینی حقائق سے نظریں چرانا اور انتخابی سیاست کی موشگافیوں سے صرفِ نظر کرنا دانشمندی کی علامت نہیں ہے ۔٢٨ اکتوبر کو مسلم لیگ (ن) نے بھاٹی چوک لاہور میں ایک جلسہ عام کا نعقاد کیا اور حکومتی مشینری نے اس جلسے کی کامیابی کے لئے جادئوئی ہاتھ دکھایا ۔ حکومتی اہلکاروں ، مشینری، گاڑ یوں اور فنڈز کو اس جلسے کی کامیابی کیلئے بے دریغ استعمال کیا گیا تا کہ حاضرین کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ کیا جاسکے اور اس سا رے عمل میں پنجاب حکومت کا میابی سے ہمکنار ہوئی کیونکہ حاضرین کی تعداد کے کے لحا ظ سے یہ جلسہ کامیاب تھا۔
حکومتی وسائل کو جماعتی جلسوں کے لئے استعمال کرنا کوئی انہونی بات نہیں ہے اور نہ ہی یہ پہلی بار کیا گیا ہے۔ ساری حکومتیں یہی کرتی ہیں اور مسلم لیگ (ن) نے اگر ایسا کیا ہے تو یہ معمول کی کاروائی ہے جس پر چیں بچیں ہو نے کی چنداں ضرورت نہیں ہے لیکن اس جلسے میں جس طرح کی زبان استعمال کی گئی اس نے میاں برادران کی نیک نامی میں کوئی اضافہ نہیں کیا بلکہ ان کی شہرت کو داغدار کیا ہے ۔اگر میں یہ کہوں کہ میاں برادران کے اس جلسے نے عوامی جذبات کو اس بری طرح سے مجروع کیا کہ عوام نے تیس اکتوبر کو عمران خان کے جلسے میں شرکت کر کے میاں بر ادران کے اندازِ سیاست سے اظہارِ بیزاری کیا تو بے جا نہیں ہو گا۔ میں نے ٹیلیویژن پر کئی ٹاک شوز دیکھے ہیں لیکن ان میں سے مسلم لیگ (ن) کا کو ئی عہدیدار بھی میاں برادران کے غیر مہذب اندازِ تکلم کا دفاع نہیں کر پایا۔ بحث و مباحثہ میں وقت گزاری کے لئے آئیں شائیں بائیں تو کیا جا سکتا ہے لیکن منطق اور دلیل کی روح اگر مفقود ہو تو وہ بڑی عیاں ہوتی ہے اور سب کو نظر آتی ہے۔ مسلم لیگ (ن) ٹھوس دلیل کی بنا ء پر ابھی تک صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کے خلاف ا پنے قائدین کی غیر پالیمانی زبان کا موثر دفاع نہیں کر سکی۔ الزام در الزام سے صورتِ حال سنورنے کی بجائے بگڑتی جاتی ہے اور یہی سب کچھ مسلم لیگ کے زعماء کر رہے ہیں۔ الجھی ہوئی ڈور کو زبردستی سلجھانے کی کوشش کی جائے تو وہ اور بھی الجھتی جا تی ہے اور ایسا ہی انداز مسلم لیگ کے جذباتی اور جوشیلے کارکنوں نے اپنایا ہوا ہے جو مسلم لیگ کے لئے مزید خفگی کا باعث بن رہا ہے۔ مکر ، فریب اور شور شرابہ سے جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ نہیں بنیا یا جا سکتا لہذا میاں برادران کی اٹھائیس اکتوبر کے جلسے میں ہذیانی کیفیت دفا ع سے ماورا ہے جس کا نقصان بہر حا ل مسلم لیگ(ن) کو اٹھا نا پڑ رہا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ اس جلسے نے میاں برادران کی جمہوریت پسندی کے نعرے کو بڑا شدید نقصان پہنچا یا ہے۔  پاکستانی سیاست میں اسٹیبلشمنٹ کے کرادر سے آنکھیں بند کرنا کسی کیلئے بھی ممکن نہیں ہے۔اسٹیبلشمنٹ کے گھوڑے ہمیشہ میدان میں اترتے رہے ہیں اور ان کے اشاروں پر میدان فتح بھی کئے جاتے رہے ہیں۔ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کا کمال یہ ہے کہ یہ جیسے چاہتی ہے سیاست کا بہائو اسی جانب موڑ دیتی ہے۔میاں برادران خود اسٹیبلشمنٹ کی پیداوار ہیں اور انہی کی بیساکھیوں کے سہارے انھوں نے اپنی سیاسی دوکان بھی چمکائی تھی لہذا ان سے بہتر اسٹیبلشمنٹ کی چالوں کو سمجھنا کسی اور کے لئے ممکن نہیں ہے۔ پی پی پی ہمیشہ سے اسٹیبلشمنٹ کی مار کھاتی آئی ہے اور اسی لتریشن نے آخر کار انھیں یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ آخر اسٹیبلشمنٹ ہر بار پی پی پی کو تختہِ مشق کیوں بناتی ہے اور اسی کو پھینٹی لگانے کیلئے کیوں کمر بستہ رہتی ہے ۔یہ تھا وہ بنیادی سوال جس پر پی پی پی کے اندر ایک ڈائیلاگ ہوا لیکن پی پی پی نے اپنے مجوزہ اینٹی اسٹیبلشمنٹ رول کو بدل دینے پر آمادگی ظاہر نہ کی اور اس نے اینٹی اسٹیبلشمنٹ جماعت رہنے کو ترجیح دی۔ آصف علی زرداری کی موجودہ حکومت نے شائد اپنی اس بنیادی سوچ میں قدرے تبدیلی کرلی ہے اور اس کی بنیا دی وجہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی وہ مفاہمتی سیاست ہے جس میں سب کو ساتھ لے کر چلنا ہے اور پاکستان کے استحکام اور ترقی کے سارے بڑے اور اہم فیصلے مل بیٹھ کر کرنے ہیں تا کہ ملک کو طاقت ، توا نائی اور استحکام  نصیب ہو سکے اور ملک ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہو سکے۔آصف علی زرداری جس زما نے جیل میں تھے انھوں نے اس وقت بھی اس نظریے کو پیش کیا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ اپنے تعلقات پر نظر ثانی کر کے انھیں بہتر بنا یا جائے لیکن اس وقت پی پی پی کی قیادت نے اس فارمولے کو رد کر دیا تھا لہذا آصف علی زرداری امریکہ میں سکونت پذیر ہو گئے تھے اور پارٹی اپنے نظریے کے مطابق آگے بڑھتی رہی۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت اور ان کے مفاہمتی نظریے کی روشنی میں آصف علی زرداری کو اسٹیبلشمنٹ کے بارے میں پارٹی کی بنیادی سوچ کو تبدیل کر کے آگے بڑھنا پڑا اور شائد یہی وجہ ہے کہ پارٹی نے ذولفقار علی بھٹو کے عہدِ حکومت کے بعد سب سے طویل عرصے کیلئے اقتدار میں رہنے کا ریکارڈ قائم کیا ہے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کی اپنی دونوں حکومتیں تھوڑے تھوڑے وقفوں سے برخاست ہو تی رہیں کیونکہ اسٹیبلشمنٹ ذولفقار علی بھٹو کی پھانسی کے بعد پی پی پی کو اپنے وجود کیلئے خطرہ  تصور کرتی تھی۔ اس بات کا کریڈٹ تو بہر حال آصف علی زرداری کو جاتا ہے کہ وہ ابھی تک اقتدار کی مسند پر بیٹھے ہو ئے ہیں حالانکہ مختلف حیلے بہانوں سے ان کی حکومت کو ختم کرنے کی کئی دفعہ سنجیدہ کو ششیں کی گئی ہیں لیکن ابھی تک یہ ساری کوششیں نقش بر آب ثابت ہو ئی ہیں۔
میں ان لو گوں کی رائے سے اتفاق کرتا ہوں جو یہ سمجھتے ہیں کہ عمران خان کو اسٹیبلشمنٹ کی سر پرستی حاصل ہے۔یہ سچ ہے کہ اگر عمران خان کو  اسٹیبلشمنٹ کی  پشت پنائی حاصل نہ ہوتی تو لاہور کا یہ جلسہ اتنا حیران کن نہ ہوتا۔عمران خان کو یقین ہو گیا ہے کہ پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ کی مرضی کے بغیر پرندہ پر نہیں مار سکتا لہذا اس نے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر سیاسی میدان کو فتح کرنے کا منصوبہ بنا یاہے جس میں اسے کامیابی نصیب ہو ئی ہے ۔عمران خان نے ٣٠ اکتوبر کو سیاست کے بہت سے کھلاڑیوں کو کلین بولڈ کر دیا اور انھیں ابھی تک یہ سمجھ نہیں آرہی کہ راتوں رات ان کے سا تھ کیا واردات ہو گئی ہے ۔ میا ں برادران کی حیثیت کو ان کے اپنے گھر کے اندر سرِ عام چیلنج کیا گیا ہے اور وہ ابھی تک بت بنے اس صورتِ حال کا جائزہ لے رہے ہیں۔وہ ہ سیاسی جماعتیں جن کی سیاست اسٹیبلشمنٹ کے سہارے پر قائم تھی ان کے تو اوسان خطا ہو گئے ہیں کیونکہ اسٹیبلشمنٹ نے ان کی جگہ نیا گھوڑا میدان میں اتار دیا ہے۔اس میں کو ئی شک نہیں کہ پاکستانی سیاست میں اسٹیبلشمنٹ کی سرپرستی کے بغیر کامیابی حاصل کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے لیکن پی پی پی نے برسوں ایسا کر کے دکھایا ہے تبھی تو یہ سیاسی میدان میں ایک قوت کی مانند زندہ ہے۔ پاکستان میں بھٹو خاندان کے علاوہ کوئی سیاست دان ایسا نہیں ہے جس نے اسٹیبلشمنٹ کی بیساکھیوں کے بغیر سیاسی میدان مارا ہو۔ اسٹیبلشمنٹ کتنی طاقتور ہے اس کا پوچھنا ہو تو ان جیالوں سے پوچھو جنھیں قیدو بند کی صعوبتوں سے گزارا گیا تھا اور جن کی پیٹھیں کوڑں کی ضربوں سے اڈھیر دی گئی تھیں۔ ستم با لائے ستم یہ ہے کہ ان سب جیالوں کو اپنی بے مثال قربانیوں کا آج تک کوئی صلہ بھی نہیں مل سکا لیکن ان کی وفاداریاں اب بھی پی پی پی کے ساتھ ہیں۔۔ میری ذاتی رائے ہے کہ تحریکِ انصاف کا یہ جلسہ نئے سیاسی امکانات کو تراشنے میں عمران خان کی بھر پور مدد کرے گا ۔ ہمارے ہاں کچھ ٹیکنو کریٹ اپنی علیحدہ دوکان سجا کر بیٹھے ہو ئے ہیں اور اقتدار کے امیدوار بنے ہو ئے ہیں ۔تحریکِ انصاف ان کیلئے ایک سنہری موقع فراہم کر رہی ہے کہ وہ اس جماعت میں شامل ہو کر اقتدار کی راہ کو آسان بنا لیں ۔ ٹیکنو کریٹ کی صلاحیتوں کا ہر شخص معترف ہے اور ان کی فہم و فراست کا ستائشی بھی۔ عمران خان کو بھی ایک ایسی ٹیم مل جائے گی جو امورِ مملکت میں بڑی مشاق ہے اور اس کا وسیع تجربہ رکھتی ہے لہذا اس پر جو الزام لگا یا جاتا ہے کہ اس کے پاس کوئی ٹیم نہیں ہے وہ الزام بھی ہوا میں تحلیل ہو جائے گا اور عوام کو بھی یقین ہو جائے گا کہ اگر عمران خان بر سرِ اقتدار آگیا تو امورِ مملکت کی انجام دہی کیلئے اس کے پاس ایسے افراد ہیں جو اس کا وسیع تجربہ ر کھتے ہیں۔ لوٹوں کے وارے نیارے ہو گئے ہیں اب ان کو ایک ایسا قائد میسر آگیا ہے جو ان کی مارکیٹ ویلیو میں خاطر خواہ اضافہ کا سبب بن گیا ہے۔ اب ان کے پاس اپنی بولی لگوانے کے کافی آپشن موجود ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ کا اشارہ لوٹوں سے بہتر کو ئی نہیں سمجھ سکتا۔ انھیں خبر ہو گئی کہ اس دفعہ قرعہ فال عمران خان کی تحریکِ انصاف کے نام نکلا ہے لہذا وہ اسی جماعت کا رخ کریں گئے ۔ اسٹیبلشمنٹ کا سٹِکر (بِلا ) جس نام کے ساتھ لگ جائے اس کی جیت یقینی ہو جاتی ہے لہذا عمران خان کی قسمت کا ستارا آنے والے انتخابات میں خوب چمکنے والا ہے۔ میاں برادران مایوس نہ ہوں انھوں نے بھی اسٹیبلشمنٹ کے گھوڑے پر کافی دیر سواری کر لی ہے لہذا اب کسی دوسرے کیلئے اس گھوڑے سے اتر جائیں اور اسے اس کی سواری سے لطف اندوز ہونے دیں۔ یہ حق تو بہر حال گھوڑے کے ما لک کا ہے کہ وہ گھوڑے پر سواری کے لئے کس کا نتخاب کرتا ہے اور مالکان اس معاملے میں بڑے جہان دیدہ ہوتے ہیں اور بڑا سوچ سمجھ کر فیصلہ کرتے ہیں کہ ان کو چنا ہوا گھڑ سوار کتنے پانی میں ہے۔ بات کڑوی ضر ور ہے لیکن ہے تو سچی کہ میاں برادران کا وقت پورا ہو گیا ہے اور نیا گھڑ سوار میدان مارنے کے لئے بے چین ہے۔ میاں بردران نے اسیبلشمنٹ کے ہاتھوں بڑے گلچھڑ ے اڑائے ہیں۔ فیکٹریاں ،ملیں پلازے اور محلات بنا ئے ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ اگر میاں برادران پر مہربان نہ ہوتی تو شائد میاں برادراں ملک سے باہر ہی کاروباری معاملات نپٹا رہے ہوتے۔ وہ اس سلسلے میں یو اے ای میں بھی آئے تھے لیکن ان کے مقدر کا ستارا اس وقت چمکا جب جنرل ضیا الحق کی نظرِ کرم ان پر پڑھ گئی اور وہ پتھرسے ہیرا بنا دئے گئے۔ تھے تو وہ پتھر ہی لہذا انجام تو پتھر ہی رہنا ہے۔ چندیوم کی چمک نے جو ہیرے کا تصور ابھارا تھا وہ اب ملیا میٹ ہوتا جا رہا ہے اور پتھر پھر سے اپنی اصلی شکل میں واپس آتا جا رہا ہے۔۔ پتھر کو لاکھ دھوئیں ،چمکائیں اور پالش کریں وہ رہے گا تو پتھر ہی اور پھر پتھر تو پتھر ہی ہوتا ہے جس میں ارتقا کی قوت نہیں ہوتی۔ جیسا ہوتا ہے ساری حیاتی ویسا ہی رہتا ہے ۔ حیات کے رازدان ڈاکٹر علامہ محمد اقبال سے کسی نے پوچھا کہ ایک زمانہ تھا کہ آپ سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا ۔ ہم بلبلیں ہیں اس کی یہ گلستاں ہمارا لکھا کرتے تھے لیکن اب آپ نے چین و عرب ہماا ہندو ستان ہمارا ۔ مسلم ہیں ہم وطن ہے سارا جہاں ہمارا لکھ کر اپنی بنیادی سوچ میں ا تنی بڑی تبدیلی پیدا کر لی ہے تو ایسا کیوں ہے۔ ڈاکٹر علامہ محمد اقبال نے سوال کرنے والے سے کہا میرے دوست صرف پتھر نہیں بدلا کرتے اور میں پتھر نہیں ایک انسان ہوں اور انسانوں کی فکر اور سوچ میں ارتقا ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے اور ہمیشہ ہوتا رہے گا ہاں البتہ جو پتھر ہیں وہ ویسے کے ویسے ہی رہیں گئے جامد،سخت اور بے حس و حرکت ،کیونکہ ان کے اندر ارتقاء کا کو ئی امکان نہیں ہوتا۔
تحریر :  طارق حسین بٹ (چیرمین پاکستان پیپلز ادبی فورم یو اے ای)

Share this:
Tags:
imran khan lahore Nawaz Sharif pakistan TARIQ BUTT عمران خان لاہور میاں برادران
american army
Previous Post کابل:افغانستان میں امریکی جنرل کو برخاست کردیا گیا
Next Post لندن: ایم۔5پر گاڑیوں میں تصادم، متعدد افراد ہلاک، 35زخمی
Bridge Way

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close