Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 4, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

ووٹ بینک

December 31, 2012 0 1 min read
Pakistan
Pakistan
Pakistan

پاکستانی سیاست کا باوا آدم ہی نرالا ہے۔اس میں اکثر و بیشتر تجزیے اور تبصرے اپنی سیاسی وابستگی ، ذات کی تشہیر اور مخصوص سوچ کی علمبردار ی کے پسِ پردہ پیش کئے جاتے ہیں۔ ان میں حقائق کو اپنی خواہشوں کی میزان میں تولا جاتا ہے اور انھیں ذاتی مفادات کے تابع رکھا جاتا ہے۔ان میں وہ کچھ دکھانے کی کوشش کی جاتی ہے جو تبصرہ نگار کی اپنی ذہنی سوچ کا عکاس ہو تا ہے ۔ حقائق کوحقائق سمجھ کر پیش کرنے کی روائت ہماریہاں بہت کمزور ہے، سچ تویہ ہے کہ ذاتی سوچ کو بڑی مشاقی سے عوامی سوچ کا لبادہ پہنا دیا جاتا ہے۔

مقتدر حلقوں کی خو شنودی اور اپنی سیاسی وابستگی بھی تجزیوں میں سدِ راہ بنتی ہے لہذا اکثرو بیشتر تبصرے مخصوص مقاصد کی تکمیل کے لئے کئے جاتے ہیں۔ان میں ملکی مفاد یا سیاسی نطام کی بہتری کے کوئی امکانات پوشیدہ نہیں ہوتے بلکہ یہ تجزیے کسی مخصوص گروہ اور سیاست دان کو خوش کرنے کی نیت سے کئے جاتے ہیں تا کہ گلشن کا کاروبار بھی چلتا رہے اور اپنے مفادات کا تحفظ بھی ہو جائے ۔ان تجزیوں سے ایک خا ص فضا تخلیق کی جاتی ہے تا کہ مقتدر حلقے اگر کوئی چارہ ر گری کا مجرب نسخہ استعمال کرنا چاہیں تو یہ تبصرے ان کی معا ونت بھی کریں اور ان کے لئے ایسے اقدامات کو حق بجانب ہونے کا سرٹیفکیٹ بھی عطا کریں۔ آپ سارے مارشل لائوں کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں مارشل لائوں سے قبل ایک خاص فضا تیار کی جاتی رہی ہے اور ایک مخصوص لابی حکومت کے کرپٹ اور نا اہل ہونے کا ڈھول پورے زور سے بجا تی نظر آتی ہے تاکہ مارشل لاء کا اقدام لوگوں کے لئے حیرانی کا باعث نہ بن سکے اور وہ اس اقدام کو بخوشی قبولیت کی سند عطا کر دیں۔

آج بھی ایسا ہی ہوتا ہوا نظررہا ہے الیکٹرانک میڈیا اور ،اخبارات ورسائل اور دوسرے ذرائع کے ذریعے سے موجودہ حکومت کی ایسی درگت بنائی جا رہی ہے کہ جھوٹ پر سچ کا گمان ہونے لگتا ہے۔ روز نت نئی کہانیاں اخبارات کی زینت بنتی ہیں اور روز نئے نئے سکینڈلز ہوا میں اچھاے جاتے ہیں جن کا واحد مقصد اس حکومت کو ناکوں چنے جبوانا اور اس کی شہرت کو داغدار کرنا ہوتا ہے۔عجیب صورتِ حال ہے کہ جو کہانی ایک ماہ قبل شروع کی جاتی ہے وہ قصہ پارینہ بن جاتی ہے اور سنسنی خیزی کے لئے کو ئی نیا موضوع چن لیا جاتا ہے اور میڈیا پر ایک ایسا عدالت انگیز ماحول تخلیق کیا جاتا ہے جس میں حکومت پر الزامات کے علاوہ کچھ بھی نظر نہیں آتا اور حکومت کو مجرم ثابت کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی جاتی کسی بھی جمہوری معاشرے میں سیاسی جماعتیں اس لئے قائم کی جاتی ہیں تا کہ عوام کو ملکی معاملات سے با خبر رکھا جائے، انھیں اپنے پروگرام سے روشناس کروا کے انھیں اپنا ہم خیال بنا یا جائے ،انھیں شریکِ اقتدار کیا جائے اور یوں جمہوری طریقے سے اقتدار کی منزل کا حصول ممکن بنایا جائے۔

Pakistan Elections
Pakistan Elections

پاکستان میں بے شمار سیاسی جماعتیں ہیں جو صر ف کاغذوں کی حد تک قائم ہیں اور عوام میں ان کی کوئی پذیرائی نہیں ہو تی  اور جنھیں اسٹیبلشمنٹ ہمیشہ اپنے مفادات کے تخفظ کے لئے استعمال کرتی ہے۔ ان جماعتوں کا مقصد نہ تو انتخابات لڑنا ہوتا ہے اور نہ ہی خدمتِ خلق اور عوام الناس کے مفادات کے اعلی و ارفع مقاصد کا حصول ہوتا ہے بلکہ ان کا واحد مقصد کسی نہ کسی بہانے سے اہلِ اقتدار طبقوں کی توجہ حاصل کر کے اپنے مفادات کا حصول ہوتا ہے۔ انتخابات کا وقت قریب آتا ہے تو پھر یہ جماعتیں کسی اتحاد کی تلاش میں نکل کھڑی ہوتی ہیں تاکہ دوسر ی جماعتوں کی بیسا کھیوں کے سہارے خیرات کا ایک آدھ ٹکڑا انھیں بھی مل جائے اور ان کے وارے نیارے ہو جائیں۔  1977کے انتخابات کے بعد سے یہ طریقہ واردات ایک مجرب نسخے کی صورت اختیار کر گیا ہے اور اسے ہر انتخاب کے وقت آزمایا جاتا ہے۔اس نسخے کے حکیم اور تخلیق کار ا سٹیبلشمنٹ میں بیٹھ جاتے ہیں اور حسبِ ضرورت سیاسی جما عتوں کا اتحاد تشکیل دے دیتے ہیں تاکہ اسٹیبلشمنٹ کے حاشیہ بردار کچھ نشستیں جیت کر پارلیمنٹ میں پہنچ جائیں اور یوں اسٹیبلشمنٹ کی موج مستیوں کی طرف کسی بھی حکومت کو دیکھنے کی جرات نہ ہو سکے۔ کٹھ پتلیوں سے جرات مندانہ موقف کی امید رکھنا الٹی گنگا بہانے کے مترادف ہوتا ہے۔

کٹھ پتلیوں سے ملکی مفادات کے تحفظ کی آس لگانا اور جمہوری روایات کی مضبوطی کی توقع رکھنا احمقوں کی جنت میں رہنے کے مترادف ہو تا ہے۔ کٹھ پتلیوں کا واحد کام ناچنا ہو تا ہے اور وہ دوسروں کی انگلیوں پر ناچ کر اپنے وجود کا احساس دلاتی رہتی ہی ہیں۔ جمہوری اندازِ فکر کے لوگ کٹھ پتلیاں نہیں  ہوتے کیونکہ انھیں عوام الناس کی تائید حاصل ہوتی ہے اور وہ بوقتِ ضر ورت اسٹیبلشمنٹ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر انھیں چیلنج کرتی ہیں اور اہلِ نظر کی یہ ادا سٹیبلشمنٹ کو گوارا نہیں ہوتی۔ بات سیا سی جماعتوں کی ہو رہی تھی جو کسی دوسری جانب نکل گئی۔ سیاسی جماعتوں نے اگر الیکشن میں شمولیت نہیں کرنی تو پھر سیاسی جماعت بنانے کا مقصد کیا ہے۔ کیایہ پریشر گروپ ہیں جن کے پریشر پر سیاسی فوائد حاصل کئے جانے ہیں یا لوگوں کی آرزئوں کی تسکین کرنی ہے۔کچھ جماعتیں تو ایسی ہیں جو جاگیرداروں نے اپنے اپنے علاقوں میں قائم کر رکھی ہیں تاکہ الیکشن کے دنون میں اسمبلی کی نشست جیت کر پاکستان کے فیصلوں میں شریک رہیں اور اپنا مالی حصہ حکومت سے وصول کرتے رہیں۔

عمران خان کے30 اکتوبر 2011 کے جلسے اور علامہ ڈاکٹر طاہرالقادری کے23 دسمبر 2012کے حالیہ جلسے کے بعد مسلم لیگ (ن) کے پالتو تجزیہ نگاروں کی جان پر بنی ہوئی ہے۔ انھیں ایک انجانا خوف ہے جو اندر ہی اندر انھیں کھائے جا رہا ہے کہ کہیں میاں برادران کا تختِ لاہور طوفانی لہروں کی نظر نہ ہو جائے۔تجزیہ نگاروں کی میاں برادران سے صرف اس حد تک دلچسپی ہے کہ ان کے ذا تی مفادات ان کی چوکھٹ سے پورے ہوتے رہیں ۔ انھیں میاں برادران کی نہیں بلکہ اپنی روٹی روزی کی فکر دامن گیر ہے وگرنہ وہ تو میاں برادران کو بھی اپنے آقا و مولا جنرل ضیا الحق کی طرح بھو لتے دیر نہیں لگائیں گئے۔ جنرل ضیا لحق کو صاحبِ بصیرت اور صاحبِ کردار ثابت کرنے کے لئے وہ کیسی کیسی دور کی کوڑی لایا کرتے تھے۔اس کے اندازِ حکمرانی کے کیسے کیسے گن گایا کرتے تھے۔

اس کی انصاف پسندی کے کیسے کیسے ڈھنڈورے پیٹا کرتے تھے لیکن آج کل وہی نام ان کے لئے کوئی اہمیت نہیں رکھتا کیونکہ اب فقط نام لینے سے تو نوازشوںکی بارش نہیں ہو سکتی لہذا  انھوں نے بر وقت فیصلہ کیا کہ اس نام سے اجتناب کیا جائے۔رشتہ تو بنیادی طور پر مفادات کی حصول مندی سے شروع ہوا تھا لہذا جب مفاد کا پردہ ہی ا ٹھ گیا ہے تو پھر کیسا رشتہ کیسی دوستی۔ یہ ذولفقار علی بھٹو کی داستانِ حیات نہیں کہ جس کے ایک ایک پنے پر جیالوں نے اپنے لہو سے وفائوں کی داستانیں رقم کی ہیں۔ محبت میں سودے بازی کا عنصر شامل ہو جائے تو محبت دھندلا جاتی ہے تبھی تو جیالوں نے بے لوث محبت کی ہے۔ شفاف اور اجلی محبت جس کی چاندنی آج بھی اہلِ نظر لوگوں کے دلوں کو  تسخیر کرتی ہے۔

Tariq Hussain Butt
Tariq Hussain Butt

مسلم لیگ کے ووٹ بینک پر عمران خان  اور علامہ ڈاکٹر طاہر القادری کی یلغار تو سمجھ میں آتی ہے کیونکہ مسلم لیگ (ن) اسٹیبلشمنٹ کی جماعت تھی اور اسٹیبلشمنٹ اب کچھ نئی جماعتوں کو میدان میں اتار رہی تو ان کے ووٹ بینک کا متاثر ہونا فطری ردِ عمل ہے۔ مسلم لیگ (ن) چونکہ ایک مخصوص طبقے کی نمائندہ جماعت ہے جس میں سیاسی جدوجہد عنقا ہو تی ہے۔ وہ دولت کے بل بوتے پراپنی سیاسی دوکاندری چلاتے ہیں ۔ ان کے لئے جیلوں میں جانا اور زندانوں کی سختیاں برداشت کرنا ممکن نہیں ہوتا،نرم و نازک جسم زندانوں کے بے رحم ماحول میں کہاں زندہ رہ سکتے ہیں لہذا وہ زندانوں کی سیاست سے ہمیشہ اجتناب کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ جب 12 اکتوبر1999 کو جنرل پرویز مشرف نے میاں محمد نواز شریف کی حکو مت پر شب خوبن مار کرا سے برخاست کیا تھا تو کسی ایک شخص نے بھی احتجاجی جلسے کا اہتمام نہیں کیا تھا سب کے سب اپنے اپنے محلوں میں یوں سہم کے بیٹھ گئے تھے جیسے کوئی بلائے ناگہانی ان پر نازل ہو جائے گی ۔ انھیں خدشہ تھا کہ اگر وہ سڑکوں پر نکلے تو کوئی عقاب انھیں اپنے پنجوں میں دبوچ کر انھیں شکار کرلے گااور یوں ان کے لئے ایک ایسی شام کا آغاز ہو جائیگا جس کے اندھیروں میں زندہ رہنا ان کے لئے ممکن نہیں ہو گا لہذا وہ  اپنے قائد کی حمائت میں باہر نکلنے سے ڈرتے رہے اور یوں ان کا قائد ان کی نظروں کے سامنے بڑی بے رحمی سے جلاوطن کر دیا گیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا پی پی پی کے وہ جیالے جن کی ساری عمر اپنے قائد سے محبتوں اور وفائوں کی دل آویز داستان ہے کیا وہ بھی اس پروپیگنڈے کا شکار ہو کر اپنی سیاسی وابستگی کو بالائے طاق رکھ دیں گئے۔

کسی ایسی جماعت کا ا نتخاب کرلیں گئے جو ان کے موقف اور سیاسی سوچ سے مطابقت نہیں رکھتی۔انھوں نے اپنی ساری حیاتی ایک ایسے فلسفے کی نذر کی ہے جس میں عوامی حا کمیت اور تکریمِ انسانی کا اصول بنیادی پتھر کی حیثیت رکھتا ہے اور اسی اصول کی خاطر ان کی لیڈرشپ نے جانوں کا نذرانہ دیا ہے۔ کیا وہ اپنے قائدین سے کیا ہوا وعدہ فراموش کر دیں گئے۔انھوں نے جس جاگیردانہ اور ظالمانہ معاشرے میں انقلاب کا خواب دیکھا تھا وہ خواب پی پی پی کے ہاتھوں ہی پایہ تکمیل کو پہنچے گا لہذا ان کی وابستگی کو بدلنا کسی بھی جماعت کے لئے ممکن نہیں ہے۔ پی پی پی کے جیالے پی پی پی کی اصل قوت ہیں اور ان کی یہی قوت پی پی پی کے وجود کی ضمانت ہے۔جب تک پی پی پی کے جیالے پی پی پی کا دامن تھامے کھڑے رہیں گئے پی پی پی کو شکست دینا کسی بھی قوت کے لئے ممکن نہیں ہو گا۔

تحریر : طارق حسین بٹ چیر مین پیپلز ادبی فورم یو اے ای

Share this:
Tags:
pakistan Pakistani politics ppp pakistan tariq hussain butt پاکستانی سیاست پی پی پی
Previous Post وزیر اعلٰی پنجاب شہباز شریف اگلے ہفتے چکوال کا دورہ کریں گے
Next Post نگران وزیراعظم بننے کی طلب ہے نہ حاجت ، اللہ نے مجھے صدر اور وزیراعظم سے زیادہ عزت دے رکھی ہے ، ڈاکٹر طاہر القادری
Tahir Ul Qadri Addressing

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close