Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 3, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

پارلیمنٹ پر قدغن

August 5, 2012August 5, 2012 0 1 min read
TARIQ BUTT
TARIQ BUTT
TARIQ BUTT

آئین کسی بھی ملک کی یکجہتی اور سلامتی کی علامت ہوتا ہے اسی لئے مقدس ہو تا ہے ۔ آئین کوئی الہامی کتاب نہیں ہو تی جسمیں ترمیم یا اضافہ نہ کیا جاسکے۔ پارلیمنٹ آئین سازی اور قانون سازی کا فرض سر انجام دیتی ہے اور گاہے بگاہے قومی ضرورتوںکے پیشِ نظر اس میں ترامیم کرتی رہتی ہے۔ یہ تو ممکن نہیں ہو سکتا کہ ایک خاص دور اور خاص وقت کی پارلیمنٹ کو آئین سازی کا اختیار حاصل ہو لیکن بعد میں آنے والے پارلیمنٹیرین اس اختیار سے محروم کر دئیے جائیں اور ان پر یہ حکم صادر کر دیا جائے کہ وہ آئین میں کسی بھی ترمیم کو لانے کے مجاز نہیں۔

کیا آئین تشکیل دینے والے پارلیمنٹیرین فرشتے ہوتے ہیں یا انکی ذہنی استعداد کا معیار کو ئی خاص ہو تا ہے جسکی وجہ سے انکے بعد آنے والوں کو آئین میں ترامیم کرنے اور اسکا حلیہ درست کرنے کا اختیار نہیں رہتا ۔پار لیمنٹیر ین پارلیمنٹیرین ہی ہوتا ہے اس میں کل اور آج کا سوال نہیں ہوتا لہذا اسکے آئین سازی کے حق پر قدغن نہیں لگائی جا سکتی۔ یہ کا م پارلیمنٹیرین کا ہے کہ وہ سوچیں کہ ملک چلانے کیلئے کون سا نظام متعارف کروانا ے اور عدلیہ کو کون سے اختیارات دینے ہیں اور ان پر کہاں پر قدغن لگانی ہے تاکہ جمہوری نظام کامیابی سے رواں دواں رہے۔پارلیمنٹ کی خود مختاری پر کوئی ادارہ پابندی نہیں لگا سکتا اور نہ ہی قانون سازی کے حق کو ان سے چھین سکتا ہے کیونکہ عوام اپنے ووٹ سے انھیں یہ حق تفویض کرتے ہیں۔پابندی اور دبائو کا لفظ پارلیمنٹ کی لغت میں نہیں ہو تا اور جو ادارہ پارلیمنٹ پر پابندی کی شمشیر سونتتا ہے وہ پارلیمنٹ کی خود مختاری اور آزادی پر حملہ آور ہو تا ہے جسے ناکام بنایا جانا ضرو ری ہو تا ہے۔

pakistan parliament
pakistan parliament

ہر آئین میں تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں کیونکہ زمانے کے بدلتے حا لات کا تقاضہ ہو تا ہے کہ ایسا کیا جائے اور پارلیمنٹیرین ایسا کر کے اپنے فرض سے عہدہ برا ہو تے ہیں۔نئے چیلینجزسے نئی قانون سازی سے ہی نپٹا جا سکتا ہے اور یہ کام صرف پارلیمنٹ ہی سر انجام دے سکتی ہے۔دنیا کے سارے آئین وقت کے ساتھ ساتھ تبدیلیوں کے عمل سے گزرتے ہیں جسمیں امریکہ کی مثال سرِ فہرست ہے جس میں پچھلے دو سو سالوں میں درجنوں تبد یلیاں لائی گئی ہیں۔زندہ قوموں کا شیوہ یہی ہے کہ وہ تبدیلی کے عمل سے گزرتے وقت آئین و دسا تیر میں ان بدلتی رتوں کا لحاظ رکھتے ہیں جنھوں نے ان کی معاشرتی، معاشی اور عائلی زندگی پر گہرے نشانات چھوڑنے ہو تے ہیں۔

اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو معاشرہ جمود کا شکار ہو کر مٹ جاتا ہے اسی لئے تو حیات کے رازدان اقبال نے کہا تھا کہ۔ ثبات اک تغیر کو ہے زمانے میں۔پا کستان میں ١٩٧٣ کا آئین ایسی دستاویز ہے جس پر ساری جماعتوں کا اتفاق ہے۔ اس آئین کو ذولفقار علی بھٹو کے عظیم کارناموں میں شمار کیا جاتا ہے کیونکہ متفقہ آئین بنانا بچوں کا کھیل نہیں ہو تا۔ اس کیلئے بڑے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں ۔ مخالفین کو راضی کرنا پڑتا ہے اور ایسی شقوں کو بھی آئین میں شامل کرنا پڑتا ہے جس سے آئین کا خالق خود متفق نہیں ہو تا ۔ اسی کو مفاہمتی سیاست کہتے ہیں کے دوسروں کی رائے کو بھی وزن دیا جائے۔کبھی کبھی ایسی رائے سے بھی اتفاق کرنا پڑتا ہے جو منطق اور دلیل کی کسوٹی پر توپوری نہیں اترتی لیکن چونکہ وہ صفِ عدو سے آتی ہے لہذا اس خاص گروہ کی مفاہمت او ر رضا کی خا طر اس کو وقتی طور پر قبول کر کے آئین کا حصہ بنا دیا جاتا ہے لیکن سچ یہ ہے کہ ایسی تجویز زمانے کے حوادث میں بے اثر ثابت ہو تی ہے اور اپنے ہلکے پن کا ثبوت دے کر قوم کو مصائب و آ لام میں ڈال دیتی ہے۔جس وقت فیصلے کرنے کی کسوٹی صرف یہ قرار پائے کہ کون کہہ رہا ہے تو پھر سچائی کا معیار کمزور پڑ جاتا ہے۔

ہو نا تو یہ چائیے کہ یہ نہ دیکھا جائے کہ کون کہہ رہا ہے بلکہ یہ دیکھا جائے کہ کیا کہا جا رہا ہے اور جب کبھی بھی اس اصول کو رو بعمل لایا جاتا ہے تو پھر جو بھی شاہکار تیار ہو تا ہے اس میں خا میاں اور نقائص بہت کم ہوتے ہیں ۔١٩٧٣ کے آئین میں اپوزیشن کی بہت سی ترامیم کو شامل کیا گیا تھا کیونکہ اس وقت کی اپوزیشن ذولفقار علی بھٹو کی قد آور شخصیت سے خا ئف تھی۔ وہ ان کے وعدوں اور الفاظ پر یقین کرنے کو تیار نہیں تھی ۔ اس میں اپوزیشن کا بھی کوئی قصور نہیں تھا ذولفقار علی بھٹو جیسی قد آور شخصیت کے سامنے اسطرح کے رویے فطری تھے ۔ اپوزیشن انتہائی غیر مقبول تھی اور عوام پر اس کا اثرو رسوخ نہ ہونے کے برابر تھا کیونکہ اس کے پاس کوئی سحر انگیز شخصیت نہیںتھی لہذاا س کی آواز بہت کمزور تھی اور وزیرِ اعظم کی ذات میں سارے اختیارات کا ارتکاز انھیں مزید کمزور کر سکتا تھا۔

اپوزیشن اس عدمِ توازن کو ایسی ترامیم سے پر کرنا چاہتی تھی جہاں پر وزیرِ اعظم کی ذات کلی اختیارت کا منبہ نہ نظر آئے۔ ان کی ساری ترا میم کا بنیادی مقصد اس خوف سے نجات پانی تھی جو ان کے اذہان کے اندر پرورش پا رہا تھا لہذا وہ پارلیمنٹ کواتنے اختیارات نہیں دینا چاہتے تھے جس سے جمہوری نظام میں آمریت کی بو آنے لگے۔عدلیہ کے بے شمار اختیارات اسی خو ف کا ردِ عمل تھے ۔ اپوزیشن کا خیال تھا کہ عدلیہ کے حدود نا آشنا اختیارات پارلیمنٹ پر چیک کی شکل میں ہو ں گئے۔

ذولفقار علی بھٹو کو اسمبلی میں دہ تہائی اکثریت حاصل تھی اور اپوزیشن پارلیمنٹ میں حکومت پر کو ئی بھی دبائو ڈالنے سے قاصر تھی کیونکہ وہ کمزور تھی۔دنیا کے بہت سے دساتیر میں عدلیہ کو پارلیمنٹ کے تابع رکھا گیا ہے اور پارلیمنٹ ججز کا مواخذہ کر کے انھیں فارغ کر سکتی ہے ۔ امریکہ بھارت اور بہت سے دوسرے ممالک میں یہ طریقہ رائج ہے۔ ذولفقار علی بھٹو بھی اسی خیال کے حامی تھے اور عدلیہ کو پارلیمنٹ کے سامنے جوابدہ بنانا چاہتے تھے لیکن اپو زیشن کے انجانے خوف اور تحفظات کی وجہ سے ایسا نہ کر سکے اور پارلیمنٹ کی بجائے سپریم جو ڈیشل کونسل کا ادارہ تخلیق کیا گیا لیکن وقت نے ثابت کیا ہے کہ اپوزیشن کی یہ تجویز انکی کوتا ہ نظری پر مبنی تھی کیونکہ انکی اس تجویز کی وجہ سے آج پوری قوم عذاب میں مبتلا ہے اور اس سے نکلنے کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی۔عدلیہ کے ججز بپھرے ہو ئے ہیں اور انھیں قابو میں رکھنے کا کوئی بھی آئینی راستہ موجود نہیں ہے ۔ مواخذے کا خوف نہ ہو تو پھر ہر شخص تیس مار خان بن جاتا ہے حالانکہ وہ بہادر ہو تا نہیں ہے۔فی الحال ملک کا سب سے بڑا عہدہ عدلیہ کی ذاتی سوچ اور خیالات کا یرغمالی بن کر رہ گیا ہے۔ جمہو ریت پسند قوتیں سر نگوں کھڑی ہیں اور عدلیہ اپنی شمشیر سے انکی گردنیں اڑاتی چلی جا رہی ہے۔

عدلیہ کے ہاتھوں وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی کی نا اہلی اتنا بڑا واقعہ ہے جس نے آئین کی بے بسی کو واضع کر دیا ہے۔ اپوزیشن تو اس پر بہت خوش ہے کہ عدلیہ نے وزیرِ اعظم کی چھٹی کروا کے انکی مشکلیں آسان کر دی ہیں لیکن اسے یہ نظر نہیں آرہا کہ وزیرِ اعظم کے اسطر ح نا اہل ہو جانے سے سارا جمہوری نظام عدلیہ کے رحم و کرم پر رہ گیا ہے۔ وہ کسی بھی وزیرِ اعظم کو توہینِ عدالت کا نوٹس دے کر فارغ کر سکتی ہے لہذا حکومت نے توہینِ عدالت کے قانون میں تبدیلی کا فیصلہ کیا تا کہ کسی دوسرے وزیرِ اعظم کے ساتھ یہ کہانی نہ دہرائی جا سکے۔اپو زیشن نے اس قانون کو عدالت میں چیلنج کر دیا اور اغلب امکان یہی تھا کہ عدلیہ اس قانون کو نامنظور کر کے ایک دفعہ پھر قوم کو غیر یقینی کی کیفیت میں دھکیل دیگی ۔ عوامی خد شات درست ثابت ہو ئے اور سپریم کورٹ نے توہینِ عدالت کے قانون کو بنیادی حقوق سے متصادم قرار دے کر کالعدم قرار دے دیا۔

supreme court
supreme court

یہ کیسے ممکن تھا کہ عدلیہ اپنے اختیارات کا اپنے ہی ہاتھوں سے گلہ گھونٹ دیتی ۔ جو ادارہ زیادہ سے زیادہ اختیارات سمیٹنے کی راہ پر گامزن ہو جائے وہ اختیارات میں کمی پر کیسے رضامند ہو سکتا ہے۔عدلیہ تو زیادہ اختیارات کی متلاشی ہے لہذا اس مقدمے کا نتیجہ بالکل واضح تھا اور پھر ججز کی آبزر ویشن سے بھی واضح ہو رہا تھا کہ پٹیشن پر کیا فیصلہ صادر ہوگا۔عوام اس پٹیشن کے فیصلے پر بڑے مضطرب ہیں کیونکہ اس سے تصادمی فضا اور تیز تر ہو جائیگی۔ اس آئینی پٹیشن کے فیصلے نے پارلیمنٹ کی اتھارٹی ، اس کی حدود، اور قانون سازی میں اسکی بے بسی پر مہر ثبت کر دی ہے ۔ اس پٹیشن پر فیصلے کے نتیجے میں پارلیمنٹ کے آئین سازی کے حق پر جسطرح قد غن لگ گئی ہے اس سے پا رلیمنٹ اور جمہوریت مذاق بن کر رہ گئی ہے اور ملکی معاملات مزید تباہی کی جانب بڑھ گئے ہیں۔عدلیہ نے حالیہ فیصلے سے اس راہ کا انتخاب کیا ہے جس سے ملکی یکجہتی کمزور ہو جائیگی ۔عدلیہ اپنی پسند کے فیصلے تو دے سکتی ہے لیکن وہ ملک کی راہنمائی نہیں کر سکتی۔ ملکی راہنمائی پارلیمنٹ کا کام ہے اور جو ادارہ را ہنمائی کے اس حق میں مداخلت کا سزاوار ہو گا وہ ملکی ترقی اور یکجہتی کا دشمن ہو گا۔ہمیں پارلیمنٹیرین کے طرزِ عمل سے شکائت ہو سکتی ہے۔

ہمیں ان کے اندازِ حکمر انی سے اختلاف ہو سکتا ہے، ہمیں ان کے اصولوں اور طریقہ کار سے اختلاف ہو سکتا ہے، ہمیں ان کی قا نون سازی کی سوچ سے بھی اختلاف ہو سکتا ہے لیکن اس کا فیصلہ کسی ادارے نے نہیں بلکہ خود منتخب پارلیمنٹ نے ہی کرنا ہے کہ اس نے کونساقانون وضع کرنا ہے لہذا ہمارا فرض ہے کہ ہم ایسے نمائندوں کا ا نتخاب کریں جو بہتر حکمرانی کے اوصاف سے ممیز ہوں۔پارلیمنٹ کے اختیارات سلب کرنا یا اس پر قدغن لگانا جمہوری نظام سے دشمنی کے مترادف ہے۔جمہو ریت پاکستان کی یکجہتی اور بقا کی ضمانت ہے اورہمیں اس ضمانت کی حفاظت کرنی ہے ۔

پاکستان ہماری پہلی محبت ہے اور جمہورت اس محبت کا اظہار ہے اور ہم نے اس اظہار کو ہر حال میں توانا،پروقار اور طاقتور رکھنا ہے کیونکہ اسی میں پا کستان کی یکجہتی کا راز مضمر ہے۔تحریر : طارق حسین بٹ

 

Share this:
Tags:
opposition supreme court TARIQ BUTT اپوزیشن پارلیمنٹ عدلیہ
tango dance
Previous Post بیونس آئرس، ٹینگو رقص کے مقابلوں کا اعلان
Next Post شاہ رخ خان کی فلم چنائی ایکسپریس کے حقوق 105کروڑ میں فروخت
Shah Rukh Khan

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close