Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 4, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

پاکستان امریکی یلغار کے نرغے میں

September 29, 2011 0 1 min read
America Pakistan
America Pakistan
America Pakistan

عراق میں صدام حسین حکومت کی معزولی،افغانستان میں طالبان اقتدارکے خاتمے ، اُسامہ بن لادین کی شہادت،پاکستان کے قبائلی علاقوں پر ڈرون حملے اور لیبیا میں قذافی دور زوال کے بعد بھی امریکی خون آشام بھیڑیانئے اور تازہ خون کا متلاشی ہے،اُس کی جارحیت اور سفاکی کی شعلے ابھی سرد نہیں ہوئے،اب اُس کے ظلم و بربریت کا سفر اُس فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہونے جارہا ہے جس کا اظہار محب وطن حلقے،اہل علم ودانشور اوروطن پرست میڈیاو صحافی عرصہ دراز سے کرتے چلے آرہے ہیں اور آج اُن کے وہ خدشات کہ ”نائن الیون بہانہ، افغانستان ٹھکانہ اور پاکستان اصل نشانہ” ،حقیقت کا روپ دھارتا نظر آرہا ہے،رفتہ رفتہ اُس کے لہجے میں وہ ہی انداز آتا جارہا ہے جو اُس نے صدام حسین کے خلاف جارحیت سے پہلے اپنایا تھا،آپ کو یاد ہوگا کہ صدام حسین پہلے امریکہ کا حلیف اور ایران کے خلاف اُس کا فرنٹ لائن اتحادی تھا،لیکن جب امریکی مقاصد پورے ہوگئے تو صدام کے روابط اور سرگرمیاں مشکوک ہوگئیں، پھر اچانک امریکہ پر انکشاف ہوا کہ صدام کے پاس دنیا اور خصوصاً امریکہ کو وسیع پیمانے پر نقصان اور تباہی پہنچانے والے جوہری و کیمیائی ہتھیار  موجودہیں پھردیکھتے ہی دیکھتے امریکہ کا لہجہ نہایت درشت سے درشت تر ہوگیا اور نتیجہ صدام کی معزولی اور پھانسی پر منتج ہوا،لیکن وہ تباہی پھیلانے کیمیائی ہتھیار آج تک دنیا کے سامنے نہ آسکے،اب ذرا موجودہ حالات پر غور کیجئے تو ہمیں بعینہ وہی صورت نظر آتی ہے جوکل عراق کے ساتھ تھی، پاکستان امریکہ کا فرنٹ لائن اتحادی ہے، لیکن امریکہ کا رویہ پاکستان کے ساتھ بالکل ویسا ہی ہے جیسا کل عراق کے ساتھ تھا،امریکہ پاک فوج کو دباؤ میں رکھنے کیلئے مسلسل ایسے الزامات لگارہا ہے جیسے کہ پاکستان، افغانستان اور امریکہ میں دہشت گردی کا اصل سبب ہے،امریکی انتظامیہ کے تازہ فرمودات اُسی نفسیات کا مظاہرہ کررہے ہیں جو اُنہوں نے ماضی میں عراق کے ساتھ اپنائی تھی،آج امریکی عہدیداروں کے بیانات یہ ظاہر کررہے ہیں کہ پاکستان ہی دراصل ساری دہشت گردی کروا رہا ہے، وہ کہتے ہیں کہ آئی ایس آئی کی اصل قوت حقانی نیٹ ورک ہے،جس نے آئی ایس آئی کی مدد سے کابل میں امریکی سفارت خانے اور ہوٹل پر حملے کیے،اِن بیانات میں پاکستان کے حوالے سے سب سے زیادہ خطرناک بات یہ بھی کہی گئی کہ پاکستان نے تشدد برآمد کرکے اپنی داخلی سلامتی خطرے میں ڈال لی ہے،گویا اِن بیانات کے ذریعے دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ دنیا کی بدمعاش ترین اور تخریب کار قوت القائدہ یا طالبان نہیں بلکہ آئی ایس آئی ہے جو اِن قوتوں کی مدد سے دنیا بھر میں دہشت گردی کررہی ہے۔ حالانکہ خود امریکیوں کی تحقیق کے مطابق دنیا بھر میں جتنی بھی عسکریت پسند اوردہشت گرد تنظیمیں ہیں ،وہ سب سی آئی اے نیٹ ورک سے تعلق رکھتی ہیں،تحقیق کرنے والے تو یہاں تک لکھ چکے ہیں کہ امریکی خفیہ اداروںکا اُسامہ بن لادین، صدام حسین، القائدہ، طالبان اور لیبیا کے سابق صدر قذافی تک سے رابطہ تھا اور یہی ادارے دنیا بھر میں امریکی مفادات کیلئے دہشت گردی کو فروغ دیتے رہے ہیں، سب جانتے ہیں کہ دنیا میں گذشتہ کئی عشروں سے صرف امریکی خفیہ ادارے ہی دہشت گردی کو فروغ دے رہے ہیں،جبکہ یہ بات بھی ریکارڈ پر موجود ہے کہ بلیک واٹر جیسی بدنام زمانہ دہشت گرد تنظیم بھی امریکی سی آئی اے کے ماتحت ہی پاکستان سمیت مختلف ممالک میں تخریبی کاروئیاں کررہی ہے ،لیکن اِن ناقابل تردیک حقائق کے باوجود جس کی لاٹھی اُس کی بھینس والا معاملہ ہے،انسداد دہشت گردی اورامریکہ کو محفوظ بنانے کے جھوٹے پروپیگنڈے کی آڑ لے کر امریکہ دنیا بھر اسلام پسند قوتوں کے خلاف دندتا پھر رہا ہے، ویسے بھی امریکہ کی یہ روایت رہی ہے کہ جب تک اُس کے احکامات کی پابندی اور جائز اور ناجائز اور خواہشات کا احترام کیا جاتا ہے ،امریکہ دوستی کا دم بھرتا ہے ،لیکن جونہی کوئی ملک اپنے قومی مفاد کی بات کر تا تو امریکہ الزامات،دھمکیوں اور ننگی جارحیت پر اتر آتا ہے ،جیسا کہ اُس کے موجودہ طرز عمل سے عیاں ہے، اِس تناظرمیں پاکستانی فوج اور خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے اوپر امریکی فوجی اور سیاسی قیادت کے الزامات اور پاکستان کے داخلی حالات کی سنگینی نے ملک کی سلامتی کوشدید خطرے میں ڈال دیاہے اور بظاہر پاکستان پرامریکی جارحیت کے سائے منڈلارہے ہیں،دوسری طرف ہماری سیاسی قیادت کا حال یہ ہے کہ وہ قوم کو اعتماد میں لینے اور حقائق سے آگاہ کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کرتی،بلکہ الٹا یہ سمجھتی ہے کہ امریکہ افغانستان کی جنگ پاکستان کے بغیر نہیں جیت سکتا اور ہم اُس کی لازمی ضرورت ہیں،دراصل یہی خام خیالی اور اور خود فریبی امریکی شہہ کا باعث ہے امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ پاکستان کے حکمران صرف ایک حدتک ہی مزاحمت کرتے ہیں اور بالآخر ہتھیار ڈال دیتے ہیں،یہی خطرہ ہمیں سابقہ آمری روایات کے امین موجودہ حکمرانوں سے بھی ہے،جبکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ افغان جنگ میں ناکامی کی وجہ سے امریکی فوجی اور سیاسی قیادت کو احتساب کا سامنا ہے،کیونکہ دس سال کی مارا ماری اور امریکی ٹیکس دہندگان کے کھربوں ڈالر جنگ کی بھٹی میں پھونک دینے کے باوجود امریکہ کو افغانستان میں سوائے ہزیمت کے کچھ حاصل نہیں ہوا،دوسری طرف امریکہ کو تاریخ کی بدترین کساد بازاری اور بے روزگاری کے خوفناک آتش فشاں کا بھی سامنا ہے،اِس صورتحال میں امریکی ڈیموکریٹ کے ذمہ داران یہ سمجھتے ہیں کہ اگر 2012ء کے انتخابی سال میں یہ زہریلا مواد پھٹ پڑا تو اُن کی پارٹی کی کامیابی کے سارے خواب بھسم ہوکر رہ جائیں گے،چنانچہ اپنے ملک کی رائے عامہ کی توجہ ہٹانے اور آئندہ صدارتی انتخابات میں ڈیموکریٹ امیدوار کی کامیابی کو زیادہ مستحکم بنانے کیلئے افغانستان شکست کا ملبہ پاکستان پر ڈال کر پاکستان کو قربانی کا بکرا بنایا جارہا ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ افغانستان میں تعینات امریکی فوج کے کمانڈر جنرل میک کرسٹل اورجنرل ڈیوڈ پیٹریاس کے بعد اب ایڈمرل مائیک مولن بھی(جو 30 ستمبر کو ریٹائرڈ ہونے والے ہیں)امریکہ کو افغان جنگ جیت کر نہیں دے سکے اور اب یہ شکست خوردہ سورما اوردنیا کی سب سے بڑے جنگجو اپنی شرمناک شکست کو تسلیم کرنے کے بجائے اُس کی ذمہ داری پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی پر ڈالنا چاہتے ہیں،دراصل امریکہ ناٹو ہیڈ کوارٹر اور امریکی و مغربی ممالک کے سفارت خانوں پر طالبان حملوں سے بوکھلا گیا ہے اور اپنی شکست ماننے کوتیار نہیں، اِس لیے وہ پاکستان اور حقانی حریت پسندوں پر بہتان تراشی کرکے اپنی ہزیمت کی خفت مٹانا چاہتا ہے، اِس تناظر میںامریکی انتظامیہ کے حالیہ بیانات اِس خدشہ کو ہوا دے رہے ہیں کہ وہ شمالی وزیرستان پر کوئی بڑا حملہ کرنے والا ہے ، بالکل ویسے ہی جیسے اُس نے ویتنام سے فرار ہوتے ہوئے لاؤس اور کمبوڈیا پر ویتنام چھاپہ ماروں کو محفوظ پناہ گاہ فراہم کرنے کا الزام لگاکر اُن کی شہری آبادیوں پر اندھادھند بمباری کی تھی اور دونوں ریاستوں کے دس لاکھ باشندوں کو ہلاک کردیا تھا،ایسا معلوم ہوتا ہے کہ امریکی شہنشاہ معظم اور دنیا کی واحد سپر پاور کے سربراہ اوبامہ 70سالہ حریت پسند کمانڈر سراج الدین حقانی سے خائف ہیں اور طالبان کے ہاتھوں شکست سے دوچار ہونے کے بعد ہزیمت سے بچنے کیلئے پاکستان کو کمبوڈیا بنانے پر تلے ہوئے ہیں،اس صورتحال کا صاف مطلب یہ ہے کہ افغانستان میں شکست نے امریکی فوجی، سیاسی اورخفیہ ایجنسیوں کی قیادت کو پاگل کردیاہے اور اُن کے پاس ایک ہی حربہ باقی رہ گیا ہے کہ وہ اپنی خفیہ کارروائیاں پاکستان میں کریں،جس کا پس پردہ مقصدیہ ہے کہ پاکستان میں انتشار اور عدم استحکام پیدا ہو اور امریکہ اپنے اہداف باآسانی حاصل کرسکے، دوسرے یہ کہ امریکہ ایبٹ آباد طرز کی فوجی کارروائی کے ذریعے پاکستان کی جوہری صلاحیت کو تباہ کرکے بھارت کو علاقے کا چوہدری بنادے ،لیکن طالبان حریت پسندوں کی چھاپہ مار کاروائیوں نے امریکہ ہلا کر رکھدیاہے اور وہ پاکستان میں حقانی نیٹ ورک کی موجودگی کی فرضی داستان گھڑ کے پاکستان کو افغانستان میں نیٹو افواج والے کردار کی ادائیگی پر مجبور کر رہا ہے،بصورت دیگر پاکستانی علاقوں پر خود حملے کی دھمکیاں دے رہا ہے، اَمر واقعہ یہ ہے کہ امریکی مفادات کی جنگ میں اُس کے فرنٹ لائن اتحادی کا کردار ادا کرتے کرتے ہم پہلے ہی ناقابل تلافی نقصان اٹھا چکے ہیں، ہماری ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے، امن و امان تہہ و بالا ہو چکا ہے اور ملک کے کسی بھی حصے میں شہری زندگی محفوظ نہیں ہے، ہماری سیکورٹی فورسز کے ارکان اور تنصیبات دہشت گردوں اور خودکش حملہ آوروں کی ہی نہیں،پاکستان دشمن طاقتوں کے بھی نشانے پر ہیں،اس صورتحال میں غور طلب بات یہ ہے کہ امریکی فرنٹ لائن اتحادی کا کردار برقرار رکھ کر کیا ہم مزید ملک و قوم کے جانی اور مالی نقصان کے متحمل ہو سکتے ہیں؟اب جبکہ امریکی طرزعمل سے یہ حقیقت کھل کر سامنے آچکی ہے کہ ہماری حکومتی اور عسکری قیادتیں چاہے جتنے بھی امریکی ناز نخرے اٹھائیں،اُس کی چاپلوسی اور کاسہ لیسی کریں،لیکن کبھی بھی امریکہ نہ ہمارے کردار پر اعتبار کرے گا اور نہ ہی وہ ہماری کارکردگی سے مطمئن ہو گا، کیونکہ اِس خطے میں شروع کی گئی امریکی مفادات کی جنگ کا بنیادی ایجنڈہ ہی پاکستان کو غیرمستحکم اور ایٹمی قوت سے محروم کرنا ہے ،یہی وجہ ہے کہ اُسے نہ ہمارے سسٹم سے کوئی غرض اور نہ ہی ہمارے نقصانات سے کوئی سروکار ہے، نہ ہی وہ ہماری ترقی و خوشحالی اور امن و سلامتی کیلئے فکرمند ہے، اُس کی اپنی کروسیڈی پالیسیاں اور ایجنڈہ ہے جس پر کاربند رہنا ہرامریکی انتظامیہ کی بنیادی ذمہ داری ہے، اپنی اِن ہی پالیسیوں کے تابع رہ کر امریکہ کبھی ہمارے ساتھ دوستی کا دعویدار ہوتا ہے، تو کبھی ہمیں اپنا فرنٹ لائن اتحادی بناتا ہے، کبھی ہمیں براہ راست دھمکیاں دیتا ہے اور کبھی ہماری خود مختاری و سا  لمیت پر خود حملہ آور ہونے سے بھی گریز نہیں کرتا،اِس کے باوجود بھی ہم اُسے اپنا دوست اور ہمدرد سمجھتے ہیں ، کیا یہ پرلے درجے کی بے وقوفی نہیں ہے۔؟  ہمارا ماننا ہے کہ زمینی حقائق اور بین الاقوامی اُمور سے واقفیت رکھنے والا ہر شخص اِس بات سے اختلاف نہیں کرے گا کہ دنیا کی سب سے بڑی سپر پاور امریکہ کے ساتھ براہ راست تصادم کا راستہ اختیار کرنا کسی بھی ملک کا پسندیدہ آپشن نہیں ہوسکتا ،خاص طور پر پاکستان کیلئے ،کیوں کہ ہمارا معاشی، سیاسی اور عسکری ا سٹرکچر گذشتہ کئی دہائیوں سے امریکہ کے ساتھ منسلک ہے،مگر یہ بھی تاریخ کی ایک بہت بڑی سچائی ہے کہ قوموں کی زندگی میں ایسے موڑ آتے ہیں جب پسندیدہ آپشن اختیارکرنے کا راستہ اُن کو بندگلی میں لے جایاہے اور وہ مجبور ہوکر ایسے آپشن تلاش کرتی ہیں جو پسندیدہ اگر نہ بھی ہو تو بھی قابل عمل اور زمینی حقائق سے مطابقت رکھتا ہو اور قومی مفادات کے تحفظ، بقاء اور استحکام کا ضامن ہو، آج وطن عزیز پاکستان کو ایک ایسے ہی موڑ کا سامنا ہے،امریکہ نے ہمیں ایک ایسی بند گلی میں لاکھڑا کیا ہے، جہاں ہم نے اپنے وسیع ترقومی مفادات ،اپنی آزادی اور ملکی سا  لمیت و استحکام کیلئے جرأت مندانہ فیصلے کرنے ہونگے ،کیا اب بھی ‘ ‘ہو رزم حق وباطل تو فولاد ہے مومن” والا لمحہ نہیں آیا، یہ درست ہے کہ ہم امریکہ سے تصادم نہیں چاہتے،لیکن امریکہ کے احکامات مان کر اجتماعی خودکشی کرنا بھی ہمیں منظور نہیں،ہمیں افغانیوں سے خودداری، عزت وناموس اور غیرت و حمیت کے ساتھ ایمان کی سر بلندی اور پختہ یقین کے ساتھ جہاد کرنے کا سبق سیکھنا چاہیے،آج ہمارے بہت سے امریکہ نواز دانشوروں کا خیال ہے کہ اگر امریکہ نے اپنا دست کرم ہمارے سر وںسے ہٹا لیا تو ہم زندہ نہیں رہ سکیں گے،لیکن وہ ہمیں امریکی طاقت سے ڈ رانے کی کوشش کرتے وقت یہ بھول جاتے ہیں کہ سر اونچا کرکے چلنے اور اپنی اَنا اور خودی کا سودا نہ کرنے والے نان جویں کو ضرور ترستے ہیں لیکن بڑی ہی آبرومندانہ موت مرتے ہیں۔   تحریر : محمد احمد ترازی

Share this:
Tags:
america iraq Libya Osama pakistan امریکہ پاکستان عراق
Clinton Panetta
Previous Post تنقید میں کمی لیکن کشیدگی برقرار
Next Post قومی ٹی ٹوئنٹی: پشاور،فیصل آباد اور راولپنڈی کی فتوحات
T20 National

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close