بھمبر (ڈسٹرکٹ رپورٹر) پاکستا ن میں تین کروڑ انسان خوراک کی کمی کا شکار ہیں دنیا بھر میں ضائع ہونے والی خوراک سے 95کروڑ انسانوں کا پیٹ بھرا جا سکتا ہے امریکہ کی 8فیصد آبادی زراعت سے وابستہ ہو کر اپنی غذائی ضرورت پوری کرنے کیساتھ دنیا میں برآمد بھی کرتا ہے پاکستان کی 75 فیصد آبادی زراعت سے منسلک ہونے کے باوجود اپنی غذائی ضروریات پورا کرنے سے قاصر ہے ضلع بھمبر آزادکشمیر کا زرخیز ترین خطہ ہے جہاں سے نہ صرف اپنی غذائی ضرورت پوری کی جاسکتی ہے بلکہ دوسروں کو بھی برآمد کی جاسکتی ہے۔
ضلع بھمبرمیں زراعت کی ترقی کیلئے منگلا ڈیم سے نہر نکالی جا رہی ہے جو منگلا سے مرالہ تک جائے گی ان خیالات کا اظہار ڈپٹی کمشنر بھمبر چوہدری محمد طیب نے محکمہ خوراک بھمبر کے زیر اہتمام خوراک کے عالمی دن کے موقع مقامی ہوٹل میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہاکہ دنیا میں اس وقت تین ارب سے زائد لوگ غذائی قلت کا شکار ہیں خوراک کی کمی کا گہرا تعلق ذریعہ آمدن سے ہے دنیا کے ارب لوگوں کی یومیہ آمدن ایک ڈالر سے بھی کم ہے غریب ملکوں میں لوگ اپنی آمدنی کا 88فیصد خوراک پر خرچ کر دیتے ہیں عالمی ادارہ خوراک کی رپورٹ کی مطابق دنیا میں ایک ارب تیس کروڑ ٹن خوراک ضائع ہو جاتی ہے۔
جو کہ کل پیداوار کا ایک تہائی ہے اس خوراک سے 95کروڑ لوگوں کا پیٹ بھرا جا سکتا ہے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایڈمنسٹریٹر بلدیہ چوہدری ولید اشرف نے کہاکہ محکمہ خوراک نے خوراک کے حوالے سے ریلی اور تقریب منعقد کر کے لوگوں کے اندر خوراک کی اہمیت کا شعور بیدارکرنے کی کوشش کی ہے انسانوں کے معاشرتی اور تہذیبی رویوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اقوام متحدہ کے ادارہ خوراک و زراعت نے 16اکتوبر کو عالمی یوم خوراک منانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ اقوام متحدہ کے رکن ممالک میں لوگوں کوکانفرنسز ورکشاپ مذاکرے اور دیگر پروگراموں کے ذریعے خوراک کی اہمیت پیداوار تقسیم اور حفاظت کے بارے میں آگاہی دی جاسکے پاکستان اورآزادکشمیر کے اندر کسانوں کو سہولیات کی کمی ہے پٹرول ڈیزل کھاد اور بیج مہنگا ہونے پیداوار کو محفوظ رکھنے کے غیر معیاری طریقوں اور سمگلنگ کی وجہ سے ہم اپنیغذائی ضروریات پوری نہیں کر پا رہے لوگوں نے گھروں کے اندر بھی خوراک کے حوالے سے کاشتکاری چھوڑ دی ہے ۔
جسکی وجہ سے آج ہم بہت سے مسائل کا شکار ہیں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر چوہدری محمد ضمیر نے کہاکہ یوم عالمی خوراک جدید دنیا کی جدید سرگرمی ہے لیکن مسلمانوں کو14سو سال پہلے خوراک کی اہمیت اور تقسیم کے فلسفے کو سمجھا دیا تھادنیا کے اند ر بڑھتی ہوئی آبادی اور مہنگائی کے پیش نظر ہمیں اپنے رویوں پر نظر ثانی کرنا ہو گی خصوصاً وہ عادات ترک کر دینی چاہیے جس سے خوراک کم اور ضائع ہونے کا اعتما ل ہو یہی عالمی یوم خوراک کا پیغام ہے تقریب سے اسسٹنٹ ڈائریکٹر امور حیوانات ڈاکٹر تصور چیمہ اور حاجی محمد عبداللہ نے بھی خطاب کیا ۔
