Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 4, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

پاکستان کیا ہے اور کیسے بنے گا ایک تاریخی دستاویز

November 13, 2011 0 1 min read
Pakistan
Pakistan
Pakistan

مجاہد ملت مولانا عبدالستار خان نیازی یکم اکتوبر 1915ء کو ضلع میانوالی کے گاؤں ”اٹک پٹیالہ”میں پیدا ہوئے،آپ کے والد ذوالفقارخان ایک نیک سیرت اور پاکباز انسان تھے،دینی گھرانہ ہونے کی وجہ سے مولانا نیازی کو بچپن ہی سے مذہبی ماحول میسر آیا،1933ء میں مولانا عبدالستار خان نیازی نے میٹرک پاس کیا اور حصول تعلیم کیلئے لاہور تشریف لے آئے،لاہور میں آپ نے انجمن حمایت اسلام کے زیر انتظام” اشاعت اسلام کالج” میں داخلہ لے لیا اور1936ء میں”ماہر تبلیغ”کی حیثیت سے کالج میں ٹاپ کیا،اسی دوران مولانا عبدالستار خان نیازی کی ملاقات حکیم الامت علامہ اقبال سے ہوئی،اسرار خودی کے مطالعے نے فارسی پڑھنے کے شوق کو اِس قدر ابھارا کہ مولانا نیازی نے چھ ماہ میں منشی فاضل کا امتحان بھی پاس کرلیا،اسی سال آپ نے ایف اے کا امتحان دیا اور اسلامیہ کالج لاہور میں بی اے میں داخلہ لے لیا،یہ وہ زمانہ تھا جب برصغیر پاک وہند میں کانگریس اور مسلم لیگ کا بڑا چرچا تھا،نیشنلسٹ طلباء کی تنظیم”نیشنل اسٹوڈینس فیڈریشن”تعلیمی اداروں میںچھائی ہوئی تھی،چنانچہ1936ء میں مولانا نیازی،مولانا ابراہیم علی چشتی ،میاں محمد شفیع (م،ش)مشہور صحافی حمید نظامی اورعبدالسلام خورشید نے علامہ اقبال کی قیام گاہ پر اُن کے مشورے سے طلباء کی تنظیم ”دی مسلم اسٹوڈینس فیڈریشن ”کی بنیاد رکھی،جس کا مقصد مسلم طلباء  کو نیشنلسٹوں کے اثر سے بچانا اور سیاسی شعور اجاگر کرکے قیام پاکستان کی راۂ ہموار کرنا تھا،مولانا نیازی 1938ء میں اِس تنظیم کے صدر منتخب ہوئے،صدر منتخب ہونے کے بعد آپ نے ”مسلم اسٹوڈینس فیڈریشن ”کے منشور میں پہلی تبدیلی یہ کی کہ ”مسلم اکثریتی علاقوں پر مشتمل ایک الگ خطہ زمین جس میں مسلمانوں کی حکومت ہو”کو خلافت پاکستان”کا نام دیا، 1939میں میں مولانا نیازی نے مسلم اسٹوڈینس فیڈریشن کی جانب سے”خلافت پاکستان اسکیم ”نامی پمفلٹ شائع بھی کیا،جس کی ایک کاپی قائداعظم محمد علی جناح کو بھی بھجوائی گئی،جسے قائد اعظم نے مولانا نیازی سے ملاقات میں ایک گرم اسکیم قرار دیا۔
مولانا عبدالستار خان نیازی نے 1938ء میں اسلامیہ کالج لاہور میں ایم اے عربی میں داخلہ لے لیا اورایم اے کرنے کے بعد 1942ء میں اسلامیہ کالج لاہور میں ڈین آف اسلامک اسٹیڈیز کی حیثیت سے خدمات بھی انجام دیں،23مارچ 1940ء کو جب قرار داد لاہور پیش ہوئی ،اُس وقت مولانا نیازی ایم اے فائنل ایئر میں زیر تعلیم تھے،اِس اجلاس میں شرکت کرنے والے تمام مقررین کا مدعا اگرچہ پاکستان کا قیام ہی تھا مگرکسی نے اپنی تقریر میں پاکستان کا نام نہیں لیا،یہ اعزاز صرف مولانا عبدالستار خان نیازی کو جاتا ہے کہ آپ نے پہلی بار اِس اجتماع میں”پاکستان زندہ باد” کا نعرہ لگایا،جو مسلمانوں کے کسی عظیم اجتماع میں پاکستان کیلئے لگایا گیا پہلا نعرہ تھا،مولانا نیازی نے میانوالی ڈسٹرکٹ میں مسلم لیگ کو دوبارہ منظم کرنے کے ساتھ ساتھ مسلم لیگ ضلع میانوالی کے صدر سمیت مسلم لیگ کے کئی اعلیٰ عہدوں پر خدمات انجام دیں،1945ء میں قائد اعظم نے آپ کو ضلع میانوالی سے پرونشل اسمبلی کا ٹکٹ دیا جس پر آپ نے یونینسٹ پارٹی کے امیداوار کو شکست دے کر کامیابی حاصل کی،مولانا نیازی قیام پاکستان کے بعد 1951ء تک مسلم لیگ سے وابستہ رہے،مگر جب مسلم لیگ کو عملاً ایک لمیٹیڈ کمپنی بنادیا گیا تو آپ نے مسلم لیگ سے علیحدگی اختیار کرکے اپنے آپ کو خلافت پاکستان ،جس کا مقصد ملکی قوانین کو شریعت کے مطابق بنانا اور اسلامی نظام کا مکمل نفاذ تھا،کیلئے وقف کردیا ،مولانا نیازی عمر بھر ایک سربکف مجاہد کا کردار ادا کرتے رہے اورقیام پاکستان کے بعد اپنی وفات 2مئی 2001ء تک اپنے مشن کی تکمیل،مقصد کے حصول اور ریاست کی فوزوفلاح کیلئے کمر بستہ رہے، آپ کی ساری زندگی جبرواستبداد،ظلم واستحصال اور ناانصافی کے خلاف جہاد کرتے ہوئے،غلبہ دین،آزادی جمہوریت اورآمر وقت کے خلاف نعرہ حق بلند کرتے ہوئے گزری،مولانا نیازی اپنی زندگی میں کئی بار قیدوبند کی صعوبتوں سے گزرے،قاتلانہ حملوں کی زد میں آئے،تختہ دار تک پہنچے ، مگرکوئی قید، کوئی حملہ،کوئی سزا اور تختہ دار کی اذیتیں مولانا نیازی کے عزم ،حوصلے اور ارادوں کو متزلزل نہ کرسکی۔
تحریک پاکستان میںمولانا عبدالستار خان نیازی کا کردار روز روشن کی طرح عیاں ہے،یہ مولاناہی تھے جنھوںنے پنجاب میں قائداعظم کی تائیدوحمایت میں پہلی اور موثر آواز بلند کی ، سر سکندر حیات کی سازشوں کا مردانہ وار مقابلہ کرکے مسلم لیگ کے قیام واستحکام کی راہ ٔہموار کی اور مسلم لیگ کو اہل پنجاب کے دلوں کی ڈھرکن بنادیا،مولانا پاکستان بنانے والوںمیں سے ایک تھے،اُن کا اوڑنا بچھونا سب ہی کچھ پاکستان اور نفاذ اسلام کیلئے تھا،وہ فنافی الپاکستان تھے،وہ پاکستان کو دنیا کے سامنے خلافت راشدہ کی طرز پر ایک جدید فلاحی ریاست کی طورپر دیکھنا چاہتے تھے، مولانا نے اِس مقصد کیلئے متعدد کتابچے اور کتابیں بھی لکھیں جن میں”خلافت پاکستان،مسودۂ آئین پاکستان،منشور خلافت،اتحاد بین المسلمین وغیرہ شامل ہیں،زیر نظر کتاب”پاکستان کیا ہے اور کیسے بنے گا؟”بھی اسی سلسلے کی ایک اہم تاریخی کڑی ہے ،جسے1945ء میں مولانا نیازی نے اپنے تحریکی ساتھی میاں محمد شفیع (م ش) کے ساتھ مل کر مکمل کیا،آج پاکستان کے بارے میں بڑے زوروشور کے ساتھ یہ پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے کہ قیام پاکستان کا مقصد کسی مذہبی ریاست کا قیام نہیں تھا،نہ ہی قائد اعظم پاکستان کو ایک اسلامی فلاحی ریاست بنانا چاہتے تھے ، سیکولر ذہین لوگ اپنی بات کی تائید میں قائد اعظم کا ایک آدھ بیان بھی سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کرتے ہیں،حالانکہ قائد اعظم محمد علی جناح کے سینکڑوں بیانات ریکارڈ پر موجود ہیں جن میں پاکستان کے اسلامی خدوخال اورقرآن مجید کا بطور دستور نمایاں تذکرہ موجود ہے، قیام پاکستان کا مطالبہ کیوں کیا گیا،اِس کے اسباب و محرکات کیا تھے، کیوں اِس مطالبے کو اِس قدر پزیرائی ملی اور پاکستان میں کونسا نظام نافذ ہوگا۔؟ ہمارا ماننا ہے کہ اِن سوالوں کے صحیح جواباب وہی لوگ دے سکتے ہیں، جنھوں نے پاکستان بنانے کی جدوجہد میں فعال کردار ادا کیا یاجنھوں نے پاکستان بنایا،وہی لوگ بہتر طور پر بتاسکتے ہیں کہ پاکستان کیوں اور کس لیے بنایا گیاتھا،مجاہد ملت کی کتاب”پاکستان کیا ہے اور کیسے بنے گا”آج بھی اِن تمام سوالوں کے اطمینان بخش جوابات فراہم کرتی ہے۔ قیام پاکستان سے دوسال قبل لکھی گئی اِس کتاب میں مولانا عبدالستار خان نیازی نے برصغیر کی تاریخ ،قیام پاکستان کے حالات و عوامل ،پاکستان کیسے بنے گا،پاکستان کیا ہوگا اور نئی مملکت کے نظام وقانون سمیت اقتصادیات،علوم و تعلیم اور سلطنت و سیاست پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے،مولانا نیازی اِس کتاب میںشریعت فروش مولویوں، نوابوں، برہمنوں، بنیوں، انگریزوں اور پڑھے لکھے طبقے” بابوں” کو زوال کی علامت اورنفاذ اسلام کی راۂ کی سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیتے ہیں، شریعت فروش مولویوں کو مارآستین نمبر ایک قرار دیتے ہوئے مولانا نیازی لکھتے ہیں کہ”یہی وہ حضرات ہیں جو کبھی انگلستان کا بادشاہ مرجائے تو اُس کیلئے مسجدوں میں مغفرت کی دعائیں کراتے ہیں،کبھی سود حلال قرار پاتا ہے،کبھی جہادحرام ہوجاتا ہے،کبھی شہدائے کرام حرام موت مرنے والے قرار پاتے ،کبھی فاسق و فاجر مسلمانوں کی مذمت کرتے کرتے کافروں کی بیعت کرلیتے ہیں،کبھی دین پر وطن کو غالب قرار دیتے ہیں اور کبھی پرانے اسلام کی جگہ نیا اسلام جاری کرنے کو درس قرآن اور حلقہ تلقین کا ڈھونگ رچایا جاتا ہے،انہی لوگوں کے آباؤاجداد نے جزیہ اور گاؤکشی ہندوستان میں حرام قرار دیئے تھے، یہی ٹیپو سلطان اور افغان مجاہدین کے خلاف سکھوں اور مرہٹوں کے حق میں فتوے دیتے تھے۔”نواب مولانا کے نزدیک ”ہوس و حرص کا غلا م، قوم کا غدار اور دین سے بے پرواہ طبقہ ہے۔
مولانا لکھتے ہیںکہ ”فرنگی اور مرہٹوں سے اِن نوابوں نے سازش کرکے انہیں ملک میں داخل کیا،میر جعفر سے لے کر میر صادق تک سب نواب ہی تھے،آج سرفضل حسین اور سر سکندر حیات بھی نوابوں ہی کی فہرست میں داخل ہیں، جو ہمارے ہی لٹے ہوئے دسترخوان سے چند ریزے ہمارے سامنے ڈال کر ہمیں یقین دلاتے ہیں کہ دیکھو ہم تمہارے لیے کیا کیا خوان نعمت لائے ہیں۔”وہ برہمنوں کے بارے میں کہتے ہیں کہ ”یہی برہمن مرہٹوں کا پیشوا بن انہیں مسلمانوں کے خلاف لایا ،کیونکہ اسلامی مساوات برہمن کے اقتدار کے منافی تھی،یہی تھا جو اُمی چند بن کر سراج الدولہ کی تباہی کا باعث بنا،یہی ٹیپو سلطان کا غدار مشیر مال تھا،اسی نے 1857ء کے انقلاب میں جاٹ مل بن کر جاسوسی کی،اسی نے شیواجی کو گرو بن کر سوراجیہ کا سبق پڑھایا اور یہی مہاتما بن کر عدم تشدد اور چرخے کی آڑ میں اسلامی علیحدگی ختم کرنا چاہتا ہے۔”وہ لکھتے ہیں کہ بنیا مسلمان کے خون کا پیاسا ہے ،یہ برہمن جتنا ذہین تو نہیں، لیکن حریص بلا کا ہے ،ہیموبقال سے لے کر آج تک اُس کی ہر کوشش اسلامی اقتدار کی تخریب پر ہی مذکور رہی۔”وہ کہتے ہیں کہ فرنگی کا نسخہ حکومت سادہ بھی ہے اور آسان بھی ،پہلے جسم کی طاقت اور دماغ کی چال سے کھانے پینے کا سامان سب چھین لو،پھر بھوک کے ماروں کو بقدر ضرورت وہی سامان دے کر اُن سے جو چاہو کرواتے رہو،اُن کے اخلاق،دین حتیٰکہ فطرت تک بدل ڈالو،نوکری اُن کا مزاج بن جائے،موت کا ڈر اور حاجت کا خوف انہیں جیتے جی مار ڈالے اور سب کچھ ہوتے ہوئے بھی وہ محتاج رہیں۔”بابو کے بارے میں مولانا لکھتے ہیں کہ”کبھی انہیںآزادی کا بخار ہوتا ہے،کبھی جمہوریت کے دورے پڑتے ہیں،کبھی مزدور کی ہمدردی کی قے آنے لگتی ہے،کبھی اصلاح معیشت وتمدن کے دست لگ جاتے ہیں،اِن کے استدلال میں ممالک غیر کی تاریخ سے اکثر مثالیں نقل ہوتی ہیں ،گو اپنے جدامجد کا نام بھی یاد نہیں ہوتا۔” مولانا تعبیر پاکستان کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ” ہماری تعبیر پاکستان اگر کچھ ہے تو وہ ایک فلسفہ زندگی اور ضابطہ حیات ہے،یہ فلسفہ زندگی اور ضابطہ حیات اپنی تصنیف کے اعتبار سے کچھ نیا نہیں بلکہ وہی اسلام اور شریعت کے تیرہ سو سال پرانے اصول ہیں ،ہم نے صرف اِن اصولوں کو موجودہ حالات پر عائد کرکے اِس سے جو نتیجے برآمد ہوئے وہ آپ کے سامنے پیش کیے ہیں۔”مولانا لکھتے ہیں کہ” پاکستان کے معنی ہیں ایک ایسا تمدن،ایک ایسی سلطنت،ایک ایسی اُمت،جس کی بناء محض توحید و ایمان پر ہو،گویا ہم ہندوستان میں اسلام کا ایک دینی ،تمدنی،سیاسی اور جنگی مرکز قائم کرنا چاہتے ہیں،جہاں روحانی، اخلاقی، معاشرتی، اقتصادی،سیاسی،فوجی،نفسیاتی غرض کہ ہر قسم کی قوت نفاذ کے مالک ہم اور صرف ہم ہونگے….اور….خلافت پاکستان کی اسلامی حکومت کا قانون دیوانی اور فوجداری معنوں میں شریعت اسلامی پر ہوگا۔”قارئین محترم !یہ تھا وہ تصور پاکستان جس کیلئے ہمارے اسلاف نے بے پناہ قربانیاں دیں اور قیام پاکستان کو ممکن بنایا،ہمارے اسلاف صرف نمازیں پڑھوانے اور روزے رکھوانے کیلئے پاکستان نہیں بنوانا چاہتے تھے بلکہ اُن کے پیش نظر ایک ایسی فلاحی ریاست کا تصور تھا جہاں وسائل رزق سب کیلئے،عدل وانصاف ہر شخص کیلئے ،علاج معالجے اور جان ومال ،عزت وآبرو کا تحفظ ہر شہری کیلئے ریاست کی ذمہ داری تھی،جہاں وجہ عزت سرمایہ داری وجاگیرداری نہیں بلکہ اعلیٰ اخلاقی اوصاف ،دیانت،امانت،تقویٰ اور خداترسی ہوگی۔
حقیقت یہ ہے کہ اسلامیان ہند نے اسلامی تصور قومیت ہی کی بنیاد پر ہندوؤں سے الگ ہونے کا فیصلہ کیا اور تحریک پاکستان اپنے ارفع مقاصد کے اعتبار سے تحریک احیاء اُمت تھی،مگر افسوس کہ آج تک ہم اُسی جگہ ٹھہرے ہوئے ہیں بلکہ ترقی معکوس کی بدولت آدھا پاکستان گنوا چکے ہیں، قیام پاکستان کے بعد ہمارے غلام حکمرانوں اور ابن الوقت سیاسی لیڈروں نے پاکستان کا جو حشر کیا،وہ سب کے سامنے ہے،اِن لوگوں نے پاکستان کو نہ صرف اُس کی حقیقی منزل سے دور کیا بلکہ خود منزل کو ژولیدہ فکری کے ذریعے خواب پریشاں کرنے میں اب تک مصروف ہیں،چنانچہ اِن حالات میں ضروری معلوم ہوتا ہے کہ نئی نسل کو اِس فکری گمراہی سے بچایا جائے اور انہیں اپنے اسلاف کے سیرت وکردار اور اُن حالات و عوامل سے روشناس کرایا جائے جو قیام پاکستان کی اساس و بنیاد ہیں،”پاکستان کیا ہے اور کیسے بنے گا۔؟”اسی سلسلے کے ایک اہم نادر تاریخی دستاویز ہے ،مجاہد ملت مولانا عبدالستار خان نیازی تحریک پاکستان کے روح رواں تھے ، زیر نظر کتاب میں مولانا عبدالستار خان نیازی نے قیام پاکستان کے تاریخی حالات و عوامل کے ذکر کے ساتھ مملکت پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے بعد اُسے کامیابی وکامرانی سے چلا کر دنیا کے سامنے ایک ماڈل ریاست کے طور پرپیش کرنے کا مکمل لائحہ عمل بھی پیش کیا ہے،صاحب مصنف نے اِس کتاب میں مملکت کے مختلف شعبوںاقتصادیات،دفاع،خارجہ پالیسی،قانون،تعلیم وغیرہ پر بھی اسلامی نکتہ نظر سے سیر حاصل گفتگو کی ہے،کتاب کی ابتداء میں صاحب بصیرت حضرت بابا بلند کوہی زابلستانی کے وہ فکر انگیز ایمانی ملفوظ بھی شامل کئے گئے ہیں،جو16اور 17مئی 1945ء کوروزنامہ نوائے وقت کی زینت بنے تھے ،اِن ملفوظ کے مطالعہ سے واضح ہوتا ہے کہ قیام پاکستان اَمر الٰہی اور مشیعت ایزدی تھا، ہمارا ماننا ہے کہ زیر نظر کتاب مطالعہ پاکستان،تاریخ اور سیاسیات کے طلباء کیلئے بہت سود مند ثابت ہوسکتی ہے کیونکہ کتاب کا مطالعہ نئی نسل کو ماضی کا آئینہ ہی نہیں دکھاتا بلکہ مستقبل کے خطوط بھی متعین کرتا ہے۔
ہمیں امید ہے کہ تحریک پاکستان کے نامور قائد اور مجاہد مولانا عبدالستارخان نیازی کی تحریر کردہ اِس نادر قیمتی اثاثے کی 66سال بعددوبارہ اشاعت قیام پاکستان کی وجوہات پر پڑنے والی گرد کو صاف کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی ،ہم اِس کامیاب کوشش وکاوش پر ماہر نیازیات جناب صادق قصوری اور مجاہد ملت فاونڈیشن کے جملہ رفقاء کو مبارکباد پیش کرتے ہیں،کتاب مجاہد ملت فاؤنڈیشن ،برج کلاں ضلع قصور (پاکستان)پوسٹ کوڈ 55051 سے چالیس روپے کے ڈاک ٹکٹ بھیج کر حاصل کی جاسکتی ہے۔   تحریر : محمد احمد ترازیmahmedtarazi@gmail.com

Share this:
Tags:
Ahmed pakistan Quaid Azam students پاکستان طلباء
punjab assembly
Previous Post پیپلز پارٹی پنجاب میں فاروڈ بلاک بن گیا
Next Post سلمان اورآصف پاکستانی جیل منتقلی کی اپیل کرینگے
amir salman

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close