Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
June 11, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

چینی کی بے چینی کیوں اور کیسے !!واحد حل

December 15, 2011 0 1 min read
sugar
sugar
sugar

اب پھر چینی کا رولا رپا پڑ گیا ہے حکومتی کار پرداز دو لاکھ ٹن چینی باہر سے انسٹھ روپے کلو خریدنے کیلئے پلید پلان بنا چکے تھے حالانکہ یہاں اس سے کم قیمت پر سٹاک شدہ چینی مل سکتی تھی کہ چینی کے مل مالکان نے جو سبھی ہی مختلف حکومتوں کے کارپرداز رہے ہیں اور ہیں کئی لاکھ ٹن چینی سٹاک کر رکھی ہے مطلب یہ کہ چھپا کر رکھ رکھی ہے سوال اٹھتا ہے کہ کس لئے ظاہر ہے زیادہ منافع لینے کے لالچ میں جو کہ ایک سخت لعنتی عمل ہے جس کے لئے احکام خدا وندی ہیں کہ ایسے لوگ معاشرے کے ناسور ہیں جو ذخیرہ اندوزی کرتے ہیں اور عوام الناس کو تنگ کرتے ہیں انہی ملوں کے مالکان نے گنا کم قیمت پر لیا تاکہ غریب کسان کی محنت کا پھل اسے نہ مل سکے اور مسلسل کئی سالوں سے تو جو ادھار پر گنا ہتھیا لیا گیا ہے اس کی رقوم بھی ادا نہیں کی جا رہی ہیںجو پھر صنعت کاروں کی سرمایہ ہڑپ کرنے کی مسلسل غلیظ حرکت ہے کراچی کے ایک مشہور شوگر ملز کے مالک نے یہ کہا تھا میں نے پنجاب میں ایک بھینس پال رکھی ہے اسے میں چارہ ڈالوں یا نہ وہ دودھ دیتی رہتی ہے وہ کبھی بوائلرز وغیرہ اور پائپوں کی مرمت نہیں کرواتا اور ہر سال حادثات سے مزدور مرتے رہتے ہیں حکومت تین ارب کی سبسڈی دیکر جو شوگر یوٹیلٹی سٹور پر 5روپے کم قیمت پر فروخت کرتی ہے اس میں سے یوٹیلٹی سٹورز والے ہی کماتے ہیں کہ عوام کو تو چینی ملتی نہیں بلکہ زیادہ تر چینی بازاروں میں بیچ کر یوٹیلٹی سٹور کارپوریشن والے منافع ہڑپ کرتے ہیں اور سارا کالا دھن اوپر تک خوشی خوشی بانٹ لیا جاتا ہے شوگر ملز ایسوسی ایشن ، اقتصادی رابطہ کمیٹی وغیرہ ایسی نام نہاد تنظیمیں ہیں جو مالکوں سے اربوں روپے لے کر کھاتی ہیں اور قیمت فروخت ان کی مرضی کے مطابق اعلان کر دیتی ہیں اس طرح سے یہ تمام اعمال عوام کا خون چوسنے اور ان کا مہنگائی کے ذریعے کچومر نکال ڈالنے والے ہیں اگر آئندہ انتخابات کے ذریعے اقتدار اللہ اکبر تحریک کو ملا تو تمام خوردنی اشیاء کی قیمت سبسڈی دے کر 1/5رہ جائے گی جو مہنگائی کو دور کرنے کا ایک پسندیدہ عمل ہو گا اس طرح چینی تو دس یا بارہ روپے کلو ملے گی دنیا میں قیمتیں کم ہو رہی ہیں اور یہاں بڑھائی جا رہی ہیں اس دفعہ توحکومت نے بہت عرصہ قبل تمام شوگر ملز مالکان کو ایک فکسڈ تاریخ دی تھی کہ فلاں تاریخ تک تمام کاشتکاروں کی پچھلے سال کے گنے کی فروختگی والی رقم ادا کردیویں۔ اور سابقہ کئی سالوں کے غریب زمینداروں کو بھی ادا کر دیں۔ انکے قرضے اتار دیں ۔ چونکہ یہ لوگ رقم تو منافع سمجھ کر ہڑپ کر چکے ہیں ۔ ملوں میں توسیع کرنے کے ضمن میں یا پھر نئی مل لگانے یا نئی مشینری کے لئے رقوم خرچ کر چکے ہیں۔ غریب کسانوں کو کہاں سے دیں گے اسلئے اُلٹی گنگا بہانے کے لئے حکومت کو پریشرائز کر رہے ہیں۔ وقت بے وقت شوگر ملز ایسوسی ایشن کے صدور کے نام نہاد استعفے اور پھر واپسی صرف حکومتی اداروں کو بلیک میل کرنے کے لئے ہی نہیں ہوتے ہیں بلکہ غریب عوام کے لئے جوہر مرتبہ دوبارہ / سہ بارہ چینی کو مزید مہنگا کرنے کا پلان صنعتکار بناتے ہیںاسکا صرف ٹریلر ہی ثابت ہو تے ہیںاگر اس غریب ملک کے اندر سود خور سرمایہ دار اور صنعتکار بھی تنظیمیں بنا کر مطالبے شروع کر دیں تو پھر غریبون کا خون نچوڑ کر جو یہ لوگ کروڑ پتی بنے ہوئے ہیں ان کی تو پھر چاندی ہی چاندی ہے۔ انکی طرف سے لاکھوں روپے خرچ کر کے ملک کے مختلف شہروں میں  ا پنی سرمایہ داروں کی انجمن یا ایسوسی ایشن کے اجلاس طلب کرنا تا کہ حکمرانوں کو آنکھیں دکھا کرغر یب عوام کی مزید کھا ل کھینچی جائے قابل نفرین عمل ہی نہیں بلکہ شدید قابل مذمت بھی ہے ۔ان اجلاسوں کی کوئی قانونی حیثیت نہ ہوتی ہے چونکہ کبھی بھی کوئی ملک کا  ذی شعور فرد ایک لمحے کے لیے بھی تصور نہیں کر سکتا کہ سودخور سرمایہ داروں کے کسی بھی قسم کے اجلاس غریب عوام کے مفاد میںمنعقد کئے جا سکتے ہیں لا کھوں روپے خرچ کر کے ایسے اجلاسوں کے انقعا د کا مقصد صرف پھر وہی چینی کا ایکس مل ریٹ بڑھا کر غریب عوام کو مزید تڑپانا ہوتا ہے ۔ جس کسان نے بھی  زمین  یا مکان گروی رکھ کر قرضہ حاصل کیا ہوا ہے اسکی تو جان کو پڑی ہوئی ہوتی ہے اور تحصیلدارکے دفترسے روزانہ وارنٹ جاری ہوتے رہتے ہیں۔ انکی گرفتاری معمولی رقوم ادا نہ کرسکنے پر ہوجاتی ہے لیکن آج تک کوئی سود خور سرمایہ دار یا صنعتکار پکڑا نہیں گیا۔ مثلاًجب تک کہ متعلقہ ایس ایچ او کو حصہ نہ ملے پر چی جوئے کا دھندہ ، ڈکیتی، اغواء برائے تاوان جیسے عمل ہو ہی نہیں ہو سکتے۔ اسی طرح سے سرمایہ داروں کی انجمنیں اوپر تک مال دے رہی ہوتی ہیںاور کوئی عدالت یا قانون انکا کچھ بھی بگاڑ نہیں پاتا۔ کرشنگ سیزن کو لیٹ کرنے کے بھی کئی مقاصد ہوتے ہیں ۔زمیندار نے زمین خالی کر نی ہے۔ اسلئے وہ اونے پونے گنا کسی آڑھتی کو یا درمیانی دلال کو بیچ ڈالے گا اور جب ملیں کرشنگ شروع کر ینگی تو سفارشی لوگ اور حکومتی ٹائوٹوںکا گنا ملیں لیں گی اور غریب کسان صرف رشوت دینے کے دھندے کے باوجود بھی اپنا گنامل کو اونے پونے داموں فروخت نہ کر سکیں گے۔ اور وہ بھی آئندہ سال کے ادھار پر ۔حکومتی ایوانوں میں تو ہمیشہ بوجوہ سود خور سرمایہ داروں ،جاگیرداروں ، صنعتکاروں اور وڈیرہ شاہی کا راج ہی رہتا ہے انکی تعداد ہر دور میں زیادہ رہی ہے۔ اسلئے انہیں کسی سیاسی پارٹی کے منشور یا پروگرام سے بھی کوئی فکر اور خطرہ نہ ہے ۔ کیا ملیں اسی لئے ریشم کے تار بُنتی ہیں کہ غریب کے بچے اسکی تار تار کو ترسیں؟۔ کیا یہ سبھی لوگ غریبوں کا خون چوسنے کے عمل کو جاری رکھنے پر ہر دورمیں متفق علیہ نہیںرہے ؟ جس روز غریب عوام اکٹھے سر جوڑ کر بیٹھ گئے اسی روز انقلاب آ جائیگا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے ملیںنیشنلائزڈ کی تھیں مگر کرپٹ بیورو کریسی نے بھی وہی کام کیا جو کہ مالک صنعتکارکرتے رہے تھے۔وہ ملوں کو لوٹ کا مال سمجھ کر اسکا فرنیچر تک اٹھا کر گھروں کو لے گئے اہم پرزہ جات بیچ کر کھا گئے۔ اور ملوں کی جگہ پر صرف خراب مشینری اور مکانوں کے ڈھانچے باقی رہ گئے ہیں۔ اور صنعتوں کا بھٹہ بیٹھ گیاکاش کہ یہی ملیں ایماندار افسروںیا پھر منتخب مزدور یونینوں کے حوالے کر دی جاتیں۔ تو آج انقلاب آچکا ہوتا اور مہنگائی کا سیلاب تھم گیاہوتا۔اسی طرح نابغہ عصر اور عقبری اسلام  مولانا سید ابو الاعلیٰ کا وہ قول بالکل آج صادق آتا ہے جب انہوں نے 1947میں ہی اس برصغیر کے سرمایہ داروں اور جاگیر داروں کو اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ روپے کی خدائی کا تخت اب  متزلزل ہے۔ لوگوں کی محنتوں سے ناجائز منافع خوری کا کاروبار اب بند کرنا ہو گا۔ انصاف کے تقاضے پورے کرنا ہوں گے وگرنہ روپے کے ساتھ ساتھ آپکی نام نہاد شخصیت کو بھی یہ سرمایہ داری کا ڈوبتا  ہواسفینہ لے ڈوبے گا۔ یہ لوگ غریب عوام کا خون  چوس چوس کر جس طرح سے جسمانی طور پر سرمایہ کی بنیاد پر موٹے ہو رہے ہیں انکا یہ کریہی عمل انکو انکے انجام سے نہ بچا سکے گا۔ اور کوئی بھی تدبیر کارگر نہ ہو سکے گی۔ نام نہاد سیاستدان صرف نعرے بازی کرتے ہیں نئے نئے خان اور پہلوان جب ٹیکس بڑھائیں گے تو لا محالہ مہنگائی ہی بڑھے گی ۔ شہروں میں تو دوکانداروں کی انجمنیں اورتنظیمیں موجود ہیں وہ بھی کیا کریں ؟مال ان کو مہنگا ملے گا تو مہنگا ہی بیچیں گے بلکہ خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑ لیتا ہے کے مصداق جب وہ صنعتکاروں کا پروگرام غریب عوام کی کھال ادھیڑنے والا دیکھتے ہیں تو خود بھی لالچ کا شکار ہو کر اسی دوڑ میں لگ جاتے ہیں ۔ اس ملک کے کسان دور دراز دیہاتوںمیں بکھرے ہوئے ہیں اور وہ کولہو کے بیل کی طرح فرصت ہی نہیں رکھتے ۔ مجتمع اور منظم بھی نہیں ہو سکتے نام نہاد کسان تنظیمیں ائیر کنڈیشنڈ دفتروں میں کا غذوں تک محدود ہیں وگرنہ اس ملک میں انقلاب آچکا ہوتا ۔ مختلف کسان راہنما یان بھی بیان بازی سے باہر نہیں نکلتے ،اور پجاروگاڑیوںپر سفر کرتے ہوئے غریب کسانوں کے مطالبات کے لئے نعرہ زن نظر آتے ہیں تا کہ بین الا قوامی تنظیموں سے مال بٹور کر اپنے پیٹ کی تجوریوں کو مزید موٹا کرسکیں۔ مل مالکان نے قرضے لیکر یا تو معاف کروا لئے ہیں یا پھر منافع سے حاصل کردہ سرمایہ کا پچاسی فیصدباہر کے بینکوں میں شفٹ کر چکے ہیں ۔ یہ سرمایہ ملک کے اندر واپس کسی قاعدہ قانون یا اپیلوں سے نہیں بلکہ صرف مولا بخش کے ڈنڈے سے ہی آسکتا ہے۔ مگر وہ ڈنڈا کس کے ہاتھ میں ہونا چاہئے صرف یہی طے کیا جانا باقی ہے۔ غریب کسانوں سے گنا مل مالکان کے مقرر کردہ درمیانی ایجنٹ اور دلال وغیرہ اونے پونے داموں خرید کر لیتے ہیں کرشنگ سیزن شروع ہونے کے بعد بھی گنا غریب کسانوں کا نہیں بلکہ بڑے بڑے جاگیرداروں کا ہی اولین ترجیح پر خریدا جاتا ہے غریب کسانوں کا پھر بھی کوئی پرسان حال نہیں ہوتا ۔ اگر انکا گنا خریدا بھی جاتا ہے تو تما م سابقہ سالوں کی طرح اس کی ادائیگی بالکل نہیں کی جاتی اور سال ہا سالوں کے ادھار کی طرح پھر غریب کسان کئی سال مزید مل مالکان کے دفتروں کے چکر اپنی رقوم حاصل کرنے کے لئے لگاتے رہتے ہیں۔ عقل کے اندھے سرکاری پالیسی ساز ادارے اتنے احمق واقع  ہوئے ہیں کہ پالیسی اس طرح سے مرتب کرتے ہیں کہ چینی مزید مہنگی تر ہوتی جائے مثلاً بیرون ملک سے چینی منگوا کر اس پر دس فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی وصول کرنے سے چینی کی مہنگائی کا کیا عالم ہو گا عام آدمی تصور کرتا ہے تو اس کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور یہ صرف اس لئے کہ شوگر ملز مالکان میں سے شجاعت حسین، پرویز الٰہی،نواز شریف ،  جہانگیر ترین کی طرح کے پچاسی فیصد مل مالکان وزارتوں یا سرکاری عہدوں پربراجمان ہیں اور دیگر مالکان کرپٹ بیورو کریٹس ہیں ۔ تمام پلاننگ ان لالچی صنعتکاروں کو زیادہ سے زیادہ منافع کمانے کے ذرائع مہیا کرنے کے لئے ہے ریگولیٹری ڈیوٹی اسی لئے وصول کی جا رہی ہے تاکہ ملکی صنعتکار وں یعنی ” حکومتی کارندوں” کا منافع کم نہ ہو سکے ۔ جب اس ملک کے انقلابی کہتے ہیں کہ ہم ناجائز منافع خور سرمایہ دار صنعت کاروں ، جاگیرداروں اور وڈیروں کی کھالوں کے جوتے” انقلاب” کے بعد بنائیں گے تو کیا وہ غلط کہتے ہیں؟ ؟ اگر صنعتکاروں کا حکومتی ملی بھگت سے یہی رویہ رہا تو چینی لازماً میری گزشتہ سالوں کی معروضات کی طرح ساٹھ روپے کلو کی قیمت پر عام آدمی کے پاس پہنچے گی۔ کیونکہ مخصوص پالیسی کے تحت روزانہ بوری کی قیمت میں سو روپے تک کا اضافہ کیا جا رہا ہے اسی طرح سے دیکھا دیکھی دوسری اشیائے صرف کی قیمتیں بھی آسمان کو چھونے لگی ہیں  پیا ز 45 روپے اور ٹماٹر80 روپے کلو تک بک رہا ہے ان دو  سبزیوں کی قیمتوں کی بنیاد پر پاکستان کو دنیا کا  چیمپئن قرار دے کر گولڈ میڈل دیا جانا چاہئے کہ پوری دنیا میں اتنی قیمت کہیں بھی نہ ہے ۔یہ ملک میں افرا تفری  اور آپس میں سرپھٹول کے ذریعے خون کی ندیاں بہانے کے لئے حکومتی پلان اور اسکے حیلے بہانے ہیں اور تمام پلاننگ کہیں بیٹھے وہ کرپٹ افراد تیار کر رہے ہیں جنہوں نے اسلام آباد میں کوٹھیاں اور پلازے بنا رکھے ہیں اور اربوں روپے بنک بیلنس اندرونی اور بیرونی ممالک میں جمع کر رکھا ہے آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک کا صنعت کار اس پاک دھرتی کا قرض اتارے اشیائے صرف (چینی وغیرہ)کی قیمت کم از کم نصف کر دے مگر حکمرانوں کی  پالیسی تو الیکشن میں دھاندلیوں کے لئے پری پول رگنگ کی طرح اپنی صفوں میں موجود صنعتکاروں بلکہ زیادہ بہتر ہو گا کہ کہا جائے ” چینی چوروں”  کے تحفظ پر مبنی ہے جنہوں نے چینی ملوں میں نہیں بلکہ خفیہ گوداموں میں سٹاک کر رکھی ہے تاکہ مصنوعی قلت پیدا کر کے زیادہ سے زیادہ مال بٹورا جا سکے اور غریب عوام کی رگوں سے خون کا آخری قطرہ بھی امسال نچوڑ ڈالا جائے ۔ ایسے ہی ظالم صنعتکاروں کے بارے میں کسی نے خوب کہا ہے کہ خونِ مزدور شرابوں  میں ملا دیتے ہیں چینی کے بحران کی بے چینی کا واحد حل تو صرف اور صرف یہ ہے کہ تمام چینی تیار کرنے والی ملیں فوری طور پر منتخب مزدور یونینز کے نمائندوں کے حوالے کی جائیں ان نمائندوں سے ملوں کے مالکان کو مناسب منافع دینے کا  وعدہ لے لیا جائے باقی منافع کی رقوم مزدوروں میں تقسیم کی جائیں۔ اس طرح سے مزدور جان توڑ محنت کر یں گے اور زیادہ منافع کی شرح کے لئے کو شاں رہیں گے۔ ہمارے ملک میں زرعی اور صنعتی شعبے ایک ہی گاڑی کے دو پہئے بن چکے ہیں خام مال زرعی زمینوں سے حاصل ہوتا ہے اور ملیں اسکی پروڈکٹس تیار کر کے مارکیٹ میں پھینک رہی ہیں اگر منتخب مزدور یونینز کا کنٹرو ل ہو جائے تو لازماً  چینی اوردیگر مصنوعات کی قیمت ایک سال میں نصف رہ جائے اور ملک کے عوام اس سے بہتر طور پر مستفید ہونگے وگرنہ پانچ چھ درجن ملوں کے مالکان ہی تمام رقوم ہڑپ کر جاتے ہیں اور اوپر والوں کو حصہ دار بنا کر قرضے معاف کروا لینا تو انکے بائیں ہاتھ کا کا م ہے پچھلے سالوں میں بھی” مہنگی چینی کی بے چینی کا واحد حل مزدور یونینز کا کنٹرول” نامی کالم میں عرض کیا تھا کہ ” بے روز گار اور مہنگائی کے سانپ (جو کہ اب اژدھا بن چکا ہے )سے ڈسے ہوئے لوگ دوسرے ” احسن ذرائع ”  چوری ڈ کیتی ، رہزنی اور اغوا برائے تاوان جیسے اقدام بھوک مٹانے کیلئے کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں اور درست بات تو یہ ہے کہ ناانصافی پر مبنی معاشرتی ماحول امن عامہ کو تباہ کرنے کیلئے کسی بھی وقت بم دھماکہ کر سکتا ہے جو کہ حملہ آور خود کش بمبار سے بھی بڑا ہو گا غرضیکہ ”  سب نظام تلپٹ ہو کر رہ جائے گا!۔ڈاکٹر میاں احسان باری                  drihsanbari@yahoo.com

Share this:
Tags:
government pakistan prices sugar چینی قیمت
elections
Previous Post منا فرت پر مبنی سیاست
Next Post ڈیزل مل گیا، ریلوے کا پہیہ دوبارہ چلنے کی امید
train

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close