Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 4, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

کراچی صوبہ ضروری ہے؟؟؟

May 23, 2012May 23, 2012 0 1 min read
mahajir
mahajir
mahajir

کراچی صوبے کی گونج تو ہم ایک مدت سے سنتے چلے آرہے ہیں بلکہ ایک زمانے میں کراچی صوبہ تحریک بھی موجود تھی۔مگر آج اسی سے ملتا جلتا مطالبہ مہاجر صوبے کا سامنے آیا ہے۔جو ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان کی سا لمیت اور مہاجرین کے حقوق کی آواز ہے۔جس کو دبایا نہیں جا سکتا ہے۔اس سے قبل پاکستان میں 22 صوبے بنانے کا بھی غلغلہ اٹھا تھا۔ جس کو جاگیر داروں نے اپنی شکست سمجھ کر سامنے آنے سے ہر ممکن طریقے پر روکا۔ مگر یاد رکھو صوبوںکی آواز کو دبایا گیا تو مشرقی پاکستان کا حال ہم سے چھپا ہوا نہیں ہے۔آج 350کروڑ لوگوں کی آواز کو دیایا نہیں جا سکتا ہے۔سندھ میں جاگیرداروں اور ان کے گماشتے بیورو کریٹ جو ان ہی کی زبان بولنے والے ہیںصوبے کا مطالبہ کر نیوالوں کو بنگالیوں کی طرح گالیاں دیتے ہوے غدار کہہ رہے ہیں ۔جو ان کی گندی زبانوں سے اچھا بھی نہیں لگ رہا ہے۔سندھ کے ایک جاگیردار نے اپن انا کی تسکین کی خاطر رستے بستے پاکستان کو دو لخت کر دیا تھا اور پھر قائد اعظم کے پاکستان کو ٹوڑ کر اس مظلوم مملکت کو نیا پاکستان کہنا شرو ع کر دیا تھا ۔آج پھر ایسے ہی انا پرستوں کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ یہ مہاجر دیش بنانے کی بات ہو رہی ہے۔ مجھے 1978کی پنڈی میں ایک بزرگ کی بات آج تک یاد ہے۔میں ان کا لب و لہجہ سن کر سوال کر دیا کہ آپ کراچی کیوں تشریف نہیں لائے؟تو انہوں نے سرد آہ بھر کر جواب دیا بیٹا کراچی تو ہم اس وقت آئیں گے جب کراچی صوبہ بن جائے گا ان ہجرت کرنے والوں کا احساسِ محرومی تو اس وقت بھی تھا۔ایوب خان جو ایک فوجی ڈکٹیٹرتھا، نے ڈھٹائی کے ساتھ کہا تھا کہ مہاجر ہندوستان سے تو پاکستان آگئے ہیں اب ان کے لئے سمندر ہیتو میری سوچ میں ایک وقتی تبدیلی اس وقت کے حالات اور تجربات کے تحت پیدا کر دی تھی۔ہم نے پہلی بار کراچی صوبے کا ذکر ان بزرگ کی زبانی سنا تو مت پوچھئے ہمارے جذبات اس وقت کے حالات کے تحت کیا تھے؟ مگر اندازہ یہ ہوا کہ کراچی صوبے کی سوچ ابتداسے ہی تیزی سے پروان چڑھ رہی ہے۔اس کی کوئی اور وجہ نہیں ہے صرف ان کا احساسِ محرومی ہے۔اس کے بعد بڑی شدومد سے کراچی صوبے کی آوازیںآتی رہیں۔بلکہ کراچی 1972کے اردو سندھی ہنگامے کے بعد تو کراچی صوبے کا نعرہ مسلسل لگایا جاتا رہا تھا،اب اسے چاہے مہاجر صوبے کا نام دے لیں یا کراچی صوبے کا۔ بڑے افسوس کی بات یہ ہے کہ جو لوگ اور سیاست دان مزید پاکستان میں صوبوں کی بات کر رہے ہیں ۔کراچی یا مہاجر صوبہ ان سب کے گلے میں اٹک رہا ہے۔حکمران اور سیاست دان سب ہی کہہ رہے ہیں کہ صوبے لسانیت کی بنیاد پر نہیں بننے چاہیئںکوئی مجھے بتائے کیا سرئکی صوبے کا مطالبہ لسانیت کی بنیاد پر نہیں ہیاور کیا ہزارہ صوبے کا مطالبہ زبان کی بنیاد پر نہیں ہے۔ہم تو سندھ کی تقسیم نظم و نسق کی بنیاد پر اس لئے چاہتے ہیں کہ حکومت اس کے نظم و نسق کو چلانے میں مکمل نام ہے ۔کوئی سسٹم حکومت سندھ سنبھال نہیں پا رہی ہے۔لاایند آرڈر کی کیفیت لے لیں یا جرائم اور قتل و غارتگری کی کیفیت لے لیں عوم کی نیدیں حرام ہو چکی ہیں۔پھر کیا وجہ ہے کہ
بانیانِ پاکستان کی اولادوں کے ساتھ یہ تعصب کیا معنی!!!

karachi
karachi

اس بات سے تو سب ہی واقف ہیں کراچی صوبے کی چنگاری بہت عرصے سے دبی ہوئی ہے۔لاکھ اس کو دبایا جائے ایک دن تو اسے شعلہ بنناہی تھا۔مفاد پرست سیاست دانو ںاور نام نہاد قوم پرستوں نے کراچی صوبے کی راہ میں ہمیشہ رکاوٹیں ڈالیں۔ حالانکہ کراچی میں صوبہ بنائے جانے کی تمام خصوصیات موجود ہیں اور یہ کسی کے حقوق پر ڈاکہ زنی بھی اس لئے نہیں ہے کہ کراچی کی صنعت وتجارت کو اس اسٹیج تک پہنچا والے اہلیانِ کراچی ہی نہیں۔جنہیں 1946میں خود جی ایم سید نے سندھ کی صنعت و تجارت کو سنبھا لنے کی درخوست کی تھی۔آج جب یہ مہاجروں کا لگایا ہوا پودا پھلوں سے لدا تناور درخت بن گیا ہے تو لٹیرے کہتے ہیں لاشیں بچھ جائیں گی مگر ان کو صوبہ بنانے نہیں دیا جائے گا۔ پاکستان کو بر باد کرنے کا منصوبہ بنانے والوں کو یاد رکھناچاہئے بانیانِ پاکستان کی اولادیں اپنے وطن کا دفاع بھی کرنا جانتی ہیں۔اس بات سے کون واقف نہیں ہے کہ کراچی کے باسیوں کے سا تھ ہمیشہ سے ہی امتیازی سلوک ہوتا رہا ہے ۔کوٹہ سسٹم دس سالوں کے لئے لگا یا جاتا ہے تو وہ چالس سال گذر جانے کے با وجود بھی ختم نہیں کیا جاتا ہے۔اگرکراچی کا رہنے والا، اردو زباں بولنے والا کسی سر کاری دفتر میں اپنے کام کے سلسلے میں چلا جائے تو ایک کمتر درجے کے دفتری سے لیکر اعلی افسر تک زبان کی بنیادکی وہ ہتک کرتا ہے کہ پھر اسے اپنے آقا جیسے کلرک کے پاس جا نے کی ہمت ہی نہیں ہوتی ہے۔جن کے ساتھ یہ معاملات ہوتے ہیں وہ خوب بہتر جانتے ہیں ۔اس پر نہ تو ہمارے سیاسی لوگوں کو آواز اٹھانے کی توفیق ہوتی ہے اور نہ ہی حکومت وقت اس زیادتی سے کراچی والوں کونجات دلانا چاہتی ہے۔بس تعصبات کا ایک بازار ہے جس کو پاکستان کے دشمنوں نے گرم کیا ہواہے۔

ہم تین کروڑ مہاجروں ،سندھ میں پیدا ہونے والوں کو بھی نام نہاد قوم پرستوں میںعجیب عجیب ناموں سے پکارا ہے۔کوئی ہمیں مکڑ کہتا ہے تو کوئی تلِیئر،کوئی مٹروا کہتا ہے تو کوئی بھیئے!!! مگراس پر بھی صبر کر کے خون کا گھونٹ اتار جاتے ہیں۔ہم کہتے ہیں کہ سندھ کسی کے باپ کی جاگیر اس وجہ سے نہیں ہے کہ سندھ کے تمام باسی اور دعویدار وں میں سے اکثر یت سندھ کے اصل باشندے ہی نہیں ہیں کوئی یہاں ہزار سال پہلے آکر آباد ہوا ہے تو کوئی پانچ سو سال پہلے تو کوئی ساٹھ پینسٹھ سال قبل یہاں پر آکر آباد ہوا ہے۔سن آف سوائل وہ تمام لوگ ہوتے ہیں جنہوں نے اس دھرتی پر جنم لیا ہو۔مگر اردو بولنے والے اس سے مسنتثنی سمجھے جاتے ہیںسندھ دھرتی کے سب سے بڑے دعویدار سائیں جی ایم سید بھی بنیادی طور پر عرب سے تعلق کی بنا پر ہی اپنے نام کے ساتھ سید لگاتے تھے۔ مگر پھر بھی وہ سندھ کی ملکیت کے دعویدا رتو ضرور تھے تو ہم کیوں نہیں؟؟؟

22 مئی 1948کوکراچی کو پاکستان کا دارالحکومت بنانے کی غرض سے باقاعدہ قومی اسمبلی نے ایک قرار داد بھاری اکثریت سے منظور کی ،تو اس وقت بھی ایسے لوگ موجود تھے جنہوں نے اس قرار داد کی شدت کے ساتھ مخالفت کی تھی۔تاہم اس وقت سندھ اسمبلی نے بھی کراچی کی سندھ سے علیحدگی کی قرارداد منظور کرنے میں کوئی وقت نہیں لگایا اس طرح سندھ کو مرکزی کا حصہ بنا دیا گیا ۔یہ حیثیت ایک مدت تک یعنی اگست 1960تک بر قرار رہی۔مگر پھرکراچی کے لوگوں کو دشمن سمجھنے والے ایک فوجی آمرنے کراچی وا لو ں کی دشمنی نبھاتے ہوے یہاں کی ترقی کو ہمیشہ کے لئے پابند حالات کر دیا اورکراچی کی قسمت کا ظالمانہ فیصلہ کر دیا۔جس سے سندھ کے تمام ہی لوگوں کا نقصان ہوا،اس نقصان پر ان سب کی زبانیں گنگ تھیں۔کراچی ہر لحاظ سے صوبہ بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ مگر ایک مائنڈ سیٹ ہے جوجو انگریزوں کی غلامی کا نمائندہ ہے ۔وہ سندھ میں صوبے بنانے کا سب سے بڑا مخالف اس لئے ہے کہ ان کے ذہنوں میں یہ بات موجود ہے کہ خدا نا خواستہ پاکستان کوکسی طرح توڑ دیا گیا تو ان کی حکمرانی کھٹائی میں پڑ جائے گی ۔ یہ بات ہمارے حکمرانوں کو ذہن نشین ہونا چاہئے کہ جب تک ہم ملک میں نئے صوبے نہیں بنائیں گے اس وقت تک ملک میں علیحدگی کی آوازیں بھی شد ومد سے اٹھتی رہیں گی۔اگر قیام پاکستان کے وقت کے ڈیویژنوںکو صوبوں کا درجہ دیدیا جائے تو بہت سے لوگوں کا احساس محرومی بھی خود بخود ختم ہوجا ئے گا اور علیحدگی پسند بھی اپنی موت آپ مر جائیں گے، اور کوئی اعتراض بھی سامنے نہیں آئے گا۔

hindustan map 1940
hindustan map 1940

ہندستان آزادی کے وقت صرف 11صوبوں پر مشتمل ملک تھا۔جس میں 1956میں تبدیلی کر کے 28صوبوں پر مشتمل ریاست بنا دیا گیاہے۔ جس میںمزید 9،ایسے صوبے بھی ہیں جو وفاق کے کنٹرول میں ہیں۔اس کے باوجود ملک میں کوئی انتشار یا علاقائی تعصب ابھر نہ سکا اور ملک بحسن و خوبی چل رہا ہے۔جب ہندوستان 11سے 37صوبوںمیں بٹ کر مستحکم ملک ہے۔ پاکستان کی ترقی وخوشحالی کے لئے جو اقدام بھی کئے جاتے ہیں انکی یہ لوگ دل کھول کر مخالفت پر آمادہ رہتے۔وہ چاہے پانی کا مسئلہ ہو یا عوامی ترقی کا مسئلہ ہو بعض کوتاہ ذہن تو یہاں تک کہتے ہوے پائے گئے ہیں کہ اگر ہم نے سندھ میں نئے صوبوں کی بات کی تو ہمارا حشر بھی مستقبل میں مشرقی پاکستان کے بہاریوں جیسا ہو جائے گا۔ گویا میرے منہ میں خاک یہ لوگ اس وقت کے منتظر ہیں جب پاکستان کا نام و نشان ختم کر کے سندھوں دیش قائم کر دیا جائے گا۔حالانکہ ایم کیو ایم کے رہنما الطاف حسین کا یہ بیان ریکارڈ پر موجود ہے کہ جس میں انہوں نے کہا تھاکہ پاکستان میں مزید صوبے بنا دیئے جائیں تو پاکستان مضبوط ہوگادوسری جانب عمران خان نے بھی کراچی صوبے کی حمایت کی تھی۔ شہباز شریف نے بھی کراچی صوبے کی بات تو کی تھی مگر وہ چند گھنٹے بھی  برداشت نہ کر سکے جس کے نتیجے میں کچھ گھنٹوں کے بعد ہی انہوں نے اپنے بیان سے رجوع کر لیا تھااور آج نوازشریف بھی کھل کر سامنے نہیں آرہے ہیں۔ ہمارا کہنا یہ ہے کہ جب تک وطنِ عزیز میں مزید نئے صوبے نہیں بن جاتے اس وقت تک یہاںکی سیاست میں سدھار لایا ہی نہیں جا سکتا ہے اور پاکستان کی یکجہتی کے دشمن موقعے کی تاک میں بیٹھے ہیں۔جو پاکستانی عوام کو ریلیف دینا ہی نہیں چاہتے ہیں۔یہی جاگیر دار پاکستان میں مزید صوبوں کی مخالفت بھی کر رہے ہیں۔کیونکہ ان کی راج دہانیوں میں اس عمل سے دراڑیں پڑ جائیںگی۔ تو ان کا راج سنگھا سنگ سونا پڑ کر بکھر جائے گا ۔ ہمیں یہ یاد رکھنا ہوگا کہ پاکستان میں کرپشن کی ایک بڑی وجہ صوبائی حکمرانوں کا کرپشن بھی ہے۔ جو طاقت کے بل پر الیکشن کے نتائج اپنے حق میں کرانے کے بعد مختلف وزارتوں اور سفارتوں کے ذریعے جی بھر کر لوٹ مار کرتے ہیں۔بقیہ وقت میں اپنے پریوار کی گرومنگ کر تے رہتے ہیں۔تاکہ کل ان کے بعد ان کا پرنس راج سنگھا سنگ سنبھال سکے۔

Pakistan flag
Pakistan flag

حال ہی میں وزیر اعظم نے نا صرف سرائکی صوبے کا شوشہ چھوڑ ابلکہ اس کو اسمبلی میں بھی لے گئے۔یہ متضاد سوچوں کے لوگ اس ملک کو پنپنے دینا نہیں چاہتے ہیں۔ ہمیں اپنے تضادات ختم کر کر کے خالص پاکستان کی سوچ پیدا کرنا ہوگی تاکہ ہم دنیا میں عزت و وقارکی زندگی جی سکیں۔ پورے پاکستان میں مزید صوبو ں کے مطالبات شدت کے ساتھ کیئے جا رہے ہیں مگر مقتدر ایوانوںکے ایک مائنڈ سیٹ نے پورے سسٹم کو تباہی کی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔یہاں ہم اس بات کا جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں کہ کراچی یا مہاجرصوبہ کیوں ضروری ہے؟اس سوال کا جواب چند بنیادی حقائق دیکھ لینے کے بعد قائرین خود فیصلہ دیں۔
1۔کوٹہ سسٹم جو دس سالوں کے لئے نافذکیا گیا تھا آج چالیس سالوں کے بعد بھی اردو بولنے والوں کو غلام بنانے کے لئے جاری ہے۔
-2جب ہم سندھ کے کسی سرکاری ادارے مثلاسندھ سیکریٹریٹ میں جاتے ہیں تو اردو بولنے والوں کی شکلیں دیکھنے کو ترس جاتے ہیں اور پھر ان کے رویوں سے جو تکلیف ہوتی ہے وہ الگ ہے۔
3۔جب اردو بولنے والے ان متعصب سرکاری اہلکاروں کے پاس اپنا کوئی جائزکام لیکر جاتے ہیں تو ایک تو ان کا رویہ اردو بولنے والوں کے ساتھ انتہائی تکلیف دہ ہوتا ہے۔ دوسر ے جائز کام کی بھی اتنی بھاری رشوت طلب کی جاتی ہے کہ کام کروانے والا خودکشی کے منصوبے بنانے لگتا ہے۔اور پھر تکلیف دہ بات یہ ہے کہ رشوت کی بھاری رقم وصول کر لینے کے بعد بھی صاحب بہادر مہینوں اپنے دفتر کے چکر لگواتے ہیں۔سونے پہ سہاگہ یہ کہ اگر آپنے نے صاحب بہادر کی کہیں کمپلینٹ کردی تو آپ زندگی بھر اپنا جائز کام بھی کروا نہ سکیںگے جس کی مثال میں خود ذاتی طور پر بھی ہوں
4۔ایک مرتبہ ہمارے دماغ میں بھی کیڑا کاٹاکہ کوئی یونیور سٹی قائم کرلیں۔ہم معلومات حاصل کرنے کی غرض سے سندھ سیکریٹریٹ کے بیرک میں قائم اس ادارے میںچلے گئے جو یونیورسٹیز کی رجسٹریشن کرتا ہے۔جہاں ایک انتہائی کرپٹ ریٹائرڈ سندھ کے متصاصب صاحب براجمان ہیں ۔انہوں نے میری شکل دیکھتے ہی انتہائی بد اخلاقی کا مظاہرہ کیا۔ میں یونیورسٹی کی معلومات تو حاصل کرنا بھول گیا موصوف کے روئیے پر سر پیٹنے لگا ۔یہ رویئے ہمارے ساتھ ان لوگوں کے ہیں جنہیں ہم نے بیس لاکھ جانوں کی قربانیاں دے کر یہ وطن حاصل کر کے دیا اور آج بانیاں پاکستان کی اولادوں کے ساتھ جو پیدا بھی سندھ میں ہوئیں نام نہاد سنز آف سوائل کا رویہ یہ ہے!!!
5۔کل تک کراچی سے پاکستان کی کریم نکلتی تھی جب تک ان پر کوٹا سسٹم نا تھا۔ مگر آج کراچی سے تلچھٹ کے علاوہ کچھ پیدا ہونے دیا ہی نہیں جاتا ہے۔ یہاں کے تعلیمی نظام کو بر باد کر کے رکھ دیا گیا ہے۔
6۔ہمارے بچے ڈگریاں ہاتھوں میں لے کر ملازمت کے لئے مارے مارے پھرتے ہیں اور کوئی سفارشی کسی گاں سے نکل کر آتا ہے وہ قابلیت نہ ہونے کے باوجود بھی بغیر کسی جدوجہد کے ملازمت کے اعلی مقام پر بیٹھا دیا جات ہے۔ یہ اور اسی قسم کے سینکڑوں روئیے ہیں جو لوگوں کو اپنے حقوق چھین لینے کی ترغیب دے رہے ہیں اور مہاجر صوبے کا نعرہ لگانے پر مجبور کر رہے ہیں۔ پورے پاکستان کو مقامی آقاں کی غلامیوں سے چھٹکارا دلانے کے لئے ضروری ہے کہ پاکستان میں مزید صوبوں کا جال پھیلا دیا جائے تاکہ اس کی معاشی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ان سیاسی بھوتوںاور انگریز کے غلاموں سے یہ قوم نجات حاصل کر سکے۔

تحریر: پروفیسر ڈاکٹر شبیر احمد خورشید
shabbir4khurshid@gmail.com

 

 

Share this:
Tags:
karachi pakistan Sindh پاکستان کراچی مہاجرین
Mubashir Hassan
Previous Post امریکا کا اعتراف شکست حریت پسندوں کی فتح ہے۔ مبشر حسن
Next Post آرمی ایوی ایشن کا ہیلی کاپٹر وزیر آباد کے قریب لا پتا
Helicopter

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close