Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 4, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

کرپشن کے حمام میں …..!

December 18, 2012 0 1 min read
Corruption
Corruption
Corruption

ایک مشہور کہاوت ہے کہ ” مچھلی ہمیشہ سر کی جانب سے سڑتی ہے۔”ہماری قومی اور اجتماعی زندگی کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے، یعنی کسی بھی قوم کے سڑنے یا تباہ ہونے کا آغاز اُس کے سر یا اوپری سطح کی جانب سے ہی ہوا کرتا ہے، مطلب یہ ہے کہ برائی سب سے پہلے قوم کے ارباب اقتدار اور اہل ِ فکرودانش میں پیدا ہوتی ہے، پھراُس کا پھیلاؤ دوسری سمتیں تلاش کرتا ہے ،جو مشہور عربی ضرب المثل ”الناس علیٰ دین ملو کھم” کہ” لوگ اپنے حکمرانوں کے دین پر( پیرو کار) ہوتے ہیں۔”کو سچ ثابت کرتا ہے ، یعنی جیسے حکمران ہوتے ہیں، ویسی ہی اُس کی رعایا ہوتی ہے، ہماری قومی زندگی اِس کہاوت اور عربی ضرب المثل کی مکمل آئینہ دار ہے ،آج ارباب اختیار اور قومی اداروں کے ہر شعبے سے لے کر عوامی سطح تک برائی ایک کینسر کی طرح قومی زندگی کے رگ و پے میں سرائیت کرچکی ہے ، کام چوری قوم کی عادت ثانیہ بن چکی ہے، ڈسپلن کو توڑنا ایک مشغلہ اور قانون شکنی ایک روایت کی شکل اختیار کرگئی ہے، اپنے دائرہ کار اور اختیارات سے تجاوز روز مرہ کا معمول اور عدم برداشت اور تشدد ایک فیشن کا روپ دھار چکا ہے، قوم میںاِن ساری خرابیوں کی تخلیق اور پرورش کسی اور نے نہیں کی ہے بلکہ اِن قومی بیماریوں اور خرابیوں کا اصل سبب نااہل قیادت کے ذمہ جاتاہے،اِس کا ثبوت خود قیادت کا اپنا وہ طرز عمل ہے جولوٹ مار، کرپشن ،بدعنوانی اور قومی وسائل کی بندر بانٹ تک پھیلا ہوا ہے،مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ جو اِس عمل کے ذمہ دار ہیں وہی اِس کے بے نقاب ہونے پر سب سے زیادہ شوروغوغا اورواویلا مچاتے ہیں۔

کچھ ایسا ہی گذشتہ دنوں اُس وقت ہوا جب سینٹر فار پیس اینڈ ڈویلپمنٹ انیشیٹیوز کی رپورٹ میڈیا کی زینت بنی،جس کے مطابق سال 2011 میں صدر مملکت سمیت پارلیمنٹ کے67فیصد ارکان نے اپنے ذمہ واجب الادا ٹیکس جمع نہیں کرایا، ٹیکس ادانہ کرنیوالوں میں 63فیصدسینیٹرزجبکہ 69فیصدارکان قومی اسمبلی شامل ہیں،اسلام آباد میں سنٹر فار انوسٹی گیٹو رپورٹنگ اور سینٹر فار پیس اینڈ ڈویلپمنٹ انیشیوٹیوز کی طرف سے تیار کردہ رپورٹ میں کہاگیاہے کہ ٹیکس ریٹرن فائل نہ کرنیوالوں میں صدر مملکت،سابق وزیراعظم،نائب وزیراعظم، وزیر داخلہ ، وزیر ریلوے ، ڈپٹی چیئرمین سینٹ اور چیئرمین پبلک اکاونٹس کمیٹی کے چیئرمین سمیت چودھری وجاہت حسین ، نذر حسین گوندل ، مخدوم امین فہیم اورفرزانہ راجہ بھی شامل ہیں،جبکہ ٹیکس جمع نہ کرانیوالی پارٹی سربراہوں میں عوامی نیشنل پارٹی کی اسفند یار ولی،جے یو آئی (ف) کے مولانا فضل الرحمان ، پیپلز پارٹی( شیرپاؤ) کے آفتاب احمد خان شیرپاؤ، فنکشنل لیگ کے پیر صدرالدین راشدی اور بی این پی عوامی کے یعقوب بزنجو بھی شامل ہیں،سینٹر فار پیس اینڈ ڈویلپمنٹ انیشیٹیوز کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ قومی اسمبلی اور سینٹ کے مجموعی 446 ارکان میں سے صرف 126 ارکان نے ٹیکس ادا کیا، جن میں حکمران پیپلز پارٹی کے صرف 52 ارکان شامل ہیں،جبکہ حکمراں جماعت کے 107 ارکان نے ٹیکس کی ادائیگی نہیں کی،اِسی طرح مسلم لیگ (ن) کے صرف 32 ارکانِ پارلیمنٹ نے ٹیکس جمع کرایا اور71 ارکان نے ٹیکس جمع ہی نہیں کرایا،رپورٹ یہ بھی بتاتی ہے کہ سینٹ کے 104 میں سے صرف 38 ارکان نے ٹیکس جمع کرایا جبکہ قومی اسمبلی کے 342 میں سے صرف 90 ارکان ٹیکس ادا کرنے والوں میں شامل ہیں، رپورٹ میں ٹیکس ادا کرنیوالے ارکان کی ادا شدہ رقوم کی تفصیلات بھی فراہم کی گئی ہیں جن کے جائزہ سے اکثر ارکان کے انتہائی غریب ہونے کا احساس نمایاں ہوتا ہے۔

غالب گمان یہی ہے کہ سینٹر فار پیس اینڈ ڈویلپمنٹ انیشیٹیوز نے اپنی رپورٹ ایف بی آر کے مرتب کردہ اعداد و شمار کی روشنی میں مرتب کی ہوگی ،جس میں عین ممکن ہے کسی حد تک مبالغہ آرائی سے کام لیا گیا ہو، لیکن اِس رپورٹ سے آپ ہمارے ملک میں ٹیکس نا دہندہ حکمران اور طبقہ اشرافیہ کی چوری اور سینہ زوری کا بخوبی اندازہ لگاسکتے ہیں، خود وفاقی وزیر خزانہ حکمران طبقات اور اسمبلیوں و سینٹ کے ارکان کی ٹیکس چوری کا بھانڈہ پھوڑتے ہوئے گزشتہ سال کی بجٹ تقریر میں اِس بات کا اعتراف کرچکے ہیں کہ” پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے مجموعی ساڑھے گیارہ سو ارکان میں سے 8 سو ارکان سرے سے ٹیکس ادا ہی نہیں کرتے۔”ایف بی آر کے ریکارڈ کے مطابق اِس وقت 87 لاکھ کے قریب شہری ٹیکس نیٹ میں شامل ہیں جن میں سے صرف تنخواہ دار طبقہ پابندی کے ساتھ ٹیکس ادا کرتا ہے جن کی تنخواہوں کی ادائیگی سے پہلے ہی ٹیکس کٹوتی کرلی جاتی ہے، جبکہ بڑے ٹیکس گزاروں میں شامل صنعت کار، تاجر، زمینداراور دیگر شعبہ ہائے زندگی کے بیشتر لوگ ہر حکومت کا حصہ ہونے یا اقتدار کے ایوانوں میں اثر و رسوخ رکھنے کے باعث ٹیکس چوری یا عدم ادائیگی کو اپنا استحقاق سمجھتے ہیں۔

رہی سہی کسرآمدنی گوشواروں میں آمدنی کی تشخیص سے ٹیکس چوری کے راستے نکال کر پوری کرلی جاتی ہے ،جس کی وجہ سے بڑے ٹیکس گزاروں کی اکثریت یا تو ٹیکس ادا ہی نہیں کرتی یا اُن کی جانب سے ٹیکس کی ادائیگی نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے،جس سسٹم میں ٹیکس کلچر کو فروغ دینے اور ٹیکس چوری روکنے کے ذمہ دار افراد ہی ٹیکس چوری اور قومی خزانے کی لوٹ مار کے عمل میں برابر کے شریک ہوں، جس سسٹم میں ارباب اقتدار اور طبقہ اشرافیہ کو اربوں کروڑوں روپے کے قرضے لے کر معاف کرانے اور جعل سازی کی بنیاد پر ٹیکسوں کی ادائیگی سے انکار کی عادت پڑی ہو، جس سسٹم میں صدر مملکت، وزیراعظم، وفاقی وزراء اور صوبائی کابینہ کے ارکان تک ٹیکس ادا نہ کرنے والوں میں شامل ہوں،اُس سسٹم میں ٹیکس چوروں سے قانون کی عملداری کون کرائے گا۔؟ یہ سوال پوری قوم کیلئے لمحۂ فکریہ ہے۔

اَمر واقعہ یہ ہے کہ ترقی یافتہ ممالک میں جب کسی طاقتور اور اعلیٰ شخصیت کا بدعنوان ہونا ثابت ہو جاتا ہے تو اُسے قانون کے کٹہرے میں لاکر قرارواقعی سزا دینے اور نشانِ عبرت بنانے میں ایک لمحہ کی بھی تاخیر نہیں کی جاتی، مگر ہمارے یہاں گنگا اْلٹی بہہ رہی ہے، چیئرمین نیب نے کرپشن کی جس نہر کا ذکر کیاہے،اگر اُس نہر میں احتسابی جال پھینکا جاتا ہے تو یقینا بڑے بڑے مگرمچھ قابو میں آتے ،مگر افسوس اِس پر عمل درآمدکرنے کے بجائے 12 دسمبر کو کابینہ کے اجلاس میں وزراء کی اکثریت نے سینٹر فار پیس اینڈ ڈویلپمنٹ انیشیٹیوز، ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ اور چیئرمین نیب کے بیان کو مسترد کر دیا،جبکہ 13 دسمبر کو چیئرمین نیب کی پریس کانفرنس کے بعد یہ تاثر ابھرا کہ انہیں اپنے بیان کی ثقاہت پر پورا یقین ہے مگر اربابِ حکومت اِسے چیئرمین کی سرکشی تصور کر رہے ہیں۔

ہمارا ماننا ہے کہ اگر اربابِ اقتدار یہ سمجھتے ہیں کہ چیئرمین نیب نے مبالغے سے کام لیا ہے تو وہ ٹھوس حقائق و شواہد اور اعدادوشمار کی روشنی میں اپنی حکومت کی پونے پانچ سالہ دیانتدارانہ کارکردگی کا ریکارڈ پیش کر کے اُن کے مبالغہ کی قلعی کھول سکتے ہیں اور اِس معاملے کی تہ تک پہنچنے کی کوشش کرسکتے ہیں کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹس، گورنر سٹیٹ بینک آف پاکستان، آڈیٹر جنرل آف پاکستان، چیئرمین ایف بی آر اور چیئرمین نیب کے بیانات میں پیش کردہ اعدادوشمار میں فرق کیوں نہیں ہے؟گو وفاقی وزراء نے چیئرمین نیب اور ایمنسٹی کی رپورٹ کو تو مسترد کیا لیکن کسی معزز وفاقی وزیر کو یہ کہنے کی ہمت نہیں ہوئی کہ اُن کے پونے پانچ سالہ دور حکومت میں کسی بھی سطح پر کوئی کرپشن نہیں ہوئی یا کرپشن کی سرکوبی اور انسداد کیلئے اُن کی حکومت نے فلاں فلاں آہنی اقدامات کئے،تعجب خیر بات یہ ہے کہ اصل موضوع پر بات کرنے کے بجائے ایک وفاقی وزیر نے کرپشن کو سندِ جواز فراہم کرتے ہوئے فرمایا کہ دنیا کے کس ملک میں کرپشن نہیں ہوتی۔

یہ درست ہے کہ دنیا کے بیشتر ممالک بدعنوانی اور کرپشن کی لپیٹ میں ہیں، لیکن کیا اِس کا مطلب یہ ہے کہ ہم بھی کرپشن کریں اور دوسروں کے غلط کام سے اپنی کرپشن اور بدعنوانی کیلئے سند جواز حاصل کریں،دنیا میں ایسے بھی بہت سے ممالک اورمثالیں موجود ہیں،جہاں کرپشن کو جرم مانا جاتا ہے اور ٹیکس چوری سب سے بڑا جرم گردانا جاتا ہے،جہاں کرپٹ افراد کو احتساب کے کٹہرے میں لاکر قرارواقعی سزا دی جاتی ہے،کیا ہم اُنہیں سند جواز نہیں بناسکتے ، مگر افسوس ہم نے ہمیشہ منفی مثالوں ہی کو اپنے سامنے رکھا،اِس منفی روش کے فروغ کا نتیجہ آج ایک بھیانک شکل میں ہمارے سامنے موجود ہے، ٹیکس چوری ہمارے معاشرے میں جرم کے بجائے فیشن کی شکل اختیار کر چکی ہے اور بدعنوانی اور کرپشن کے سنگین ترین جرائم میں ملوث ملزمان عدالت عظمیٰ کے واضح احکامات کے باوجود آزاد گھوم رہے ہیں،جب حکمران طبقات ہی اپنے ذمہ واجب الادا ٹیکس ادا نہیں کرینگے تو عام ٹیکس گزاروں سے ٹیکس ادائیگی کی توقع کس طرح کی جا سکتی ہے،جس قوم کے حکمران اور طبقہ اشرافیہ ہی ٹیکس چوری کے مرض میں مبتلا ہوں ، سرکاری پرسرستی میں لوٹ میں ملوث ہوں توپھر کیا دیگر اداروں اور عام طبقے کواِس کی ترغیب نہیں ملے گی۔

جب اعلیٰ ترین مناصب پر فائز افراد ہی بدعنوان ہو جائیں تو وہ نچلی سطح کے لوگوں کو بدعنوانی سے کیسے روکا جا سکتا ہے،ایسی صورت میں قوم کی ترقی کا خواب کیسے شرمندہ تعبیر ہو سکتا ہے،کس طرح اصلاح احوال کی توقع کی جاسکتی ہے،آج ہمارے ارکان پارلیمنٹ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور چیئر مین نیب کی کرپشن کے حوالے سے رپورٹس اور بیانات پر مشتعل اور برافروختہ ہیں، غم و غصہ کی حالت میں وہ اِن رپورٹس اور بیانات کو مسترد کررہے ہیں، مگر حقیقت یہی ہے کہ کرپشن کے معاملے پر کابینہ کا غم وغصہ حقائق کے برخلاف ہے اور کرپشن کی اِن رپورٹس کو مسترد کرنے سے زمینی حقائق تبدیل نہیں ہو سکتے، کیونکہ ایک ایمنسٹی انٹرنیشنل ہی نہیں خود حکومت کی بدعنوانیوں کے حوالے اُس کا اپنا ادارہ نیب بھی انگشت نمائی کر رہا ہے،آج ہماری قومی زندگی کا کوئی شعبہ رشوت خوری، کمیشن اور بدعنوانی سے پاک نہیں ہے،حال یہ ہے کہ سرکاری اداروں میں اب ایماندار افراد ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتے، کرپشن اور بدعنوانی نے زندگی کے تمام شعبوں کو کھوکھلا کر دیا ہے اورکرپشن ، بدعنوانی ،لوٹ مار اور قومی وسائل کی بندر بانٹ ارباب اقتدار اور طبقہ اشرافیہ کا نشان امتیاز بن کر رہ گئی ہے، آج کرپشن اور بدعنوانی پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ بن چکا ہے، ذرائع ابلاغ میں کوئی دن ایسا نہیں ہوتا کہ بدعنوانی کے بارے میں کوئی خبر شائع نہ ہوتی ہو۔

دنیا بھر کے مہذب اور ترقی یافتہ معاشروں میں جمہوریت کے تسلسل اور معاشی ترقی کیلئے بدعنوانی سے پاک حکومت کا وجود اتنا ہی ناگزیر ہے جتنا انسانی زندگی کی بقاء کیلئے آکسیجن کی موجودگی ضروری ہے، مگر جہاں حکمران اور طبقہ اشرافیہ کیلئے خود احتسابی اورجواب دہی کا تصور آئین و قانون سے بالاتر ہو،وہاں مملکت کے ہر شعبے میں ایسا تنزل اور انحطاط طاری ہوجاتا ہے جو ایک عا م آدمی کی زندگی اجیرن بنا دیتا ہے،یہ صورت حال ملک کے طول وعرض میں باآسانی دیکھی جاسکتی ہے ،آج ہمارے اربابِ اقتدار کی عاقبت نا اندیشی، حسن کارکردگی اور عوامی خدمت کی روشن مثالیں پاکستان کے ہردرودیوار پر رقم ہیں۔

Pakistan
Pakistan

روٹی کپڑا اور مکان دینے کے دعویداروں اہل پاکستان سے جس طرح کا سلوک روا رکھا ہوا ہے ،وہ یقینا بے حسی اور حقارت کے رشتے کا عملی ثبوت ہے،یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ حکمران اگر اصول پسند اور قانون و ضابطے کے پابند ہوں تو عوام بھی آئین و قانون کا احترام کرتے ہیں، حکمران اگر سادگی کو اپنا شعار بناتے ہیں تو عوام بھی اپنا طرز زندگی سادہ اور آسان کرلیتے ہیں، حکمران اگر مسائل کے حل میں سنجیدہ ہوں تو عوام کے مزاج میں بھی سکون اور ٹھہراؤ آجاتا ہے ،مگر حکمران اگر تصنع، بناوٹ اور نمائش پسند ی کے دلدادہ ہوں تو عوام اُن سے پہلے عیش و آسائش پر فریفتہ دکھائی دیتے ہیں،حکمران اگر بدعنوان اور کرپشن میں مبتلاہوں تو عوام بھی اِس بیماری میں مبتلا ہوجاتے ہیں،جب ارباب اقتدار صاحب کردار ، صادق و امین اور قانون پسند نہ ہوں تو قوم میں محنت و دیانت، قناعت و ایمانداری اور فرض شناسی و قانون پسندی کے جذبات کیونکر پیدا ہوسکتے ہیں،کسی دانشور نے درست کہا ہے کہ ”معاشرے میں پیدا ہونے والی خرابی کسی ایک شعبے یا ادارے تک محدود نہیں رہتی ۔”چنانچہ آج ملک کا ہر قابل احترام عہدہ کرپشن اور بدعنوانی کے الزامات کی زد میں ہے،جس کے خاتمے کیلئے عدلیہ، پارلیمنٹ ،ارباب اختیار اورمعاشرے کے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا،ہم سمجھتے ہیں جس دن وطن عزیز کا ہر فرد انفرادی طور پر بدعنوانی سے اجتناب کا طرز عمل اختیار کرلے گا کرپشن سے پاک معاشرے کا خواب اُسی دن شرمندہ تعبیر ہوجائے گا۔

تحریر : محمد احمد ترازی
mahmedtarazi@gmail.com

 

Share this:
Tags:
corruption government issues pakistan حکمران کرپشن مسائل
Karachi United Producers
Previous Post غیر ملکی ڈرامے ہماری ثقافت کے خلاف ہیں ، یونائیٹڈ پروڈیوسرز
Next Post جان ابراہام چالیس سال کے ہو گئے
John Abraham

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close