Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 4, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

کس سے منصفی چاہیں

April 21, 2012 1 1 min read
Mehran Gate
Mehran Gate
Mehran Gate

یونس حبیب پاکستان کے معروف بینکار ہیں، انہوں نے12 دسمبر1963میں ایک معمولی کلرک کی حیثیت سے حبیب بینک جوائن کیا، چار سال بعدیکم جنوری 1967کو تیسرے گریڈ میں ترقی پائی،20سال بعد یکم جنوری1986کو انہیں ایگزیکٹو وائس پریزیدنٹ بنایا گیا، اس کے 4ماہ بعد انہیںسندھ کا صوبائی چیف بنایا گیا،1990میں انہیں ڈیوٹی فری شاپ پروجیکٹ میں30کروڑ کا قرضہ منظورکرنے پر گرفتارکیا گیا ، اگلے سال انہیں ان کی غیر اخلاقی سرگرمیوں کی بنا پر انہیں معطل کر دیا گیا، ان پر بدعنوانی کے الزامات ہونے کی وجہ سے نوازشریف نے9اکتوبر1990کو انہیں برطرف کر دیا، تاہم سیاسی دبائو کی وجہ اس برطرفی کوریٹائرمنٹ میں بدل دیا گیا، لیکن نواز شریف کے وزیر اعظم بنتے ہی یہ حیرت انگیز طور پرایک ماہ کے اندر اندر مہران بینک کے چیف آپریٹنگ آفیسر بن گئے، اسی ماہ انہیں مہران بینک قائم کرنے کی اجازت ملی، اس وقت کے وزیر اعلیٰ سندھ جام صادق علی ان کے یارِ غار تھے، اس سلسلے میں انہوں نے ان کو کروڑوں روپے دئیے تھے۔

یہ بینک چونکہ نواز شریف کے دور میںکھلا تھا، اس لیے انہوں نے شریف برادران کوبھی20کروڑ روپے دیے، مہران بینک نے اپنے قیام کے تیسرے سال1992میںکراچی، لاہور، پنڈی، کوئٹہ، پشاوراور میرپور میںاپنی برانچیںکھول لیں، اس وقت مہران بینک کی کل مالیت 600کروڑ تھی،اس میں لوگوں سے 30کروڑ روپے لیے گئے اور 10روپے فی شیئر دیئے گئے، انہیں مہران بینک کے بورڈآف ڈائیریکٹرزکا چیف آپریٹنگ آفیسر بناتے وقت اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ان کی تقرری پرتحفظات کا اظہار کیا تھا،کیونکہ ان کا پورا کیرئیر کرپشن، غبن اور فراڈ کے کیسز سے عبارت تھا، لیکن اسٹیٹ بینک کی اتھار ٹی کو تسلیم نہیں کیا گیا، نواز شریف اور وزیر ِ خزانہ سرتاج عزیزکو اس بارے میں آگاہ کیا گیا ، تاہم انہوںنے بھی کوئی ایکشن نہیں لیا مہران بینک کے اعلی عہدے پر فائز ہو کر بینک کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کو نظر انداز کر کے بینک میں اپنی مرضی کے افراد بھرتی کرائے، اس دوران انہوں نے فیصل بینک سے بھی 30کروڑ کا قرضہ لیا، جس کے لیے انہیں اپنی جائیداد گروی رکھوانی پڑی، ان کی سربراہی میں مہران بینک شدید ترین بحرانوں کا شکار بھی ہوا، اس کے علاوہ یونس حبیب نے مختلف جعلی اکاؤنٹس بنا کر بینکوں، شخصیات اور اداروں کو کنگال کیا، ان کے کرپشن،لوٹ کھسوٹ اور غبن کی لسٹ بہت طویل ہے، انہی حرکات کی وجہ سے یہ زیرِ حراست بھی رہے ۔

یونس حبیب اس وقت پاکستانی میڈیا کی لیڈ اسٹوری بنے ہوئے ہیں،آپ ان کو1990کے سانتا کلاز بھی کہہ سکتے ہیں، یہ بڑے عرصے سے منظرِ عام سے روپوش تھے، تاہم فروری کے آخرمیں انہیں سپریم کورٹ نے 16سال پرانے اصغر خان کیس کے سلسلے میں حاضر ہونے کو کہا، عدالت کے بُلاوے پر مہران بینک کے سابق سربراہ یونس حبیب وہیل چیئر پر عدالت حاضر ہوئے، انہوں نے چیف جسٹس افتخار چوہدری کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کے سامنے بیان دیتے ہوئے بے شمار انکشافات کیے، ان انکشافات نے گویا ننگوں کو مزید ننگا کر دیا، انہوں نے سابق آرمی چیف جنرل مرزا اسلم بیگ، سابق صد غلام اسحق خان اور سابق وزیراعظم نواز شریف پرقومی خزانوں کے ذریعہ ملک کی سب سے بڑی سیاسی پارٹی کے ساتھ آنکھ مچولی کھیلنے کا الزام لگایا، ان کا کہنا تھا کہ مارچ1990میں اس وقت کے صدر غلام اسحق خان اوراسی زمانے کے آرمی چیف مرزا اسلم بیگ نے سیاسی جماعتوں میں تقسیم کرنے لیے پیسوں کا بندوبست کرنے کے لیے ان پر دباؤ ڈالا تھا، انہوں نے انکار کر دیا تو انہیں خطرناک نتائج کی دھمکیوں کے بعدکراچی ائیرپورٹ سے ایف آئی اے کے اہلکاروں نے حراست میں لے لیا تھا۔

پھر ان کی صدر اور آرمی چیف سے اگلی ملاقا ت بلوچستان ہاؤس میں ہوئی، صدر اور چیف آرمی دونوں نے انہیں عظیم ترقومی مفاد کا جھانسہ دے کر دوبارہ جائز یا ناجائز طریقے سے ہر صورت میں پیسوں کے انتظام کا مطالبہ کیا تو انہوں نے اس شاہی فرمان کی بجا آوری کرتے ہوئے ایک ارب48کروڑروپوں کا بندوبست کر دیا، انہی پیسوں میں سے انتخابی مہم کے لیے انہوں نے سیاست دانوں میں 34کروڑ روپے تقسیم کیے، باقی ایک ارب سے زائد رقم دیگر افراد کے لیے سرمایہ کاری پر خرچ کی گئی، ان کا مزید کہنا تھا کہ انہیں اس کام میں سابق صدر غلام اسحق خان ، سابق آرمی چیف مرزا اسلم بیگ، سابق آئی ایس آئی چیف اسد درانی اور سابق بیوروکریٹ روئیداد خان نے استعمال کیا تھا، انہوں نے ان شخصیات کے اسما گرامی اور ان حضرات کو دی جانے والی رقوم کی تفصیل بھی بتائی، ان انکشافات کے منظرِ عام پر آنے کے بعد اصولی سیاست کے دعویدارشریفوں، سچائی کے علمبردار صحافیوں اورہمیشہ مظلومیت کا ڈھونگ رچانے والے مظلوموں کے ساتھی بھی یونس حبیب کے حمام میں ننگے نظر آئے، اس کے علاوہ عدالت میں شواہد کا سربمہر پیکٹ بھی حاضر کیا گیا۔

انہوں نے ابتداء میں جو کچھ انکشافات کے ڈونگرے برسائے تھے وہ سارے شریفوں کے خلاف تھے، اس وقت ایسا لگ رہا تھا کہ یہ سب کچھ زرداری صاحب کا کیا دھرا ہے، وہ رائے ونڈ کے محلوں میں خیمہ زن شریفوں کی چمک چھیننے کے لیے یہ تگ و دو کررہے ہیںلیکن پھر تھوڑے ہی دنوں بعد موصوف نے یہ کہہ کر کچھ اوروںکا بھی کچا چٹھا کھول دیا کہ میں نے اپنے 1990کے گناہوں کا کفارہ ادا کرنے کے لیے 1993میں مسلم لیگ کے خلاف پیپلز پارٹی کو بھی چندے سے نوازا تھا، انہوں نے پہلے تو اس کیس کے فریقین کو لڑایا ، بعد میں خودنے اپنے آپ کو بدمعاش جبکہ رقم بٹورنے والوں کو مہا بدمعاش کہہ کرملبہ اپنے پر سے ہٹانے کی کوشش کی، اگر چہ یونس حبیب کا پورا کیریئر ہمیشہ کرپشن،دھوکہ اور جعلسازی سے عبارت ہے، لیکن انہوں نے جو حقائق بیان کیے ہیں، ان میں سو فیصد نہیں تو نوے فیصد سچائی ضرور ہے۔

یہ کیس آج کا نہیں،16سال پرانا ہے، اس کیس کے خالق سابق چیف ائیر مارشل اصغر خان ہیں، یہ پاکستان نیشنل الائنس کے صفِ اول کے رہنماء اور تحریکِ استقلال کے بانی ہیں، یہ ضیاآمریت کے ہیرو تھے، انہوں نے ہی پاکستان قومی اتحاد(P.N.A)کی تشکیل کے بعد بھٹو حکومت کے خاتمہ کے لیے فوج کو حکومت پر قبضہ کی دعوت دی تھی ، قومی خزانہ کی بندربانٹ کا یہ فریضہ 1990میں ادا کیا گیا تھا، اس کی خبریں1991میں ہی اخبارات میں آنا شروع ہو گئی تھیں، تاہم پیسے لینے والے ارکان کی مداخلت کی وجہ سے یہ حقائق سامنے نہیں ا پائے، اس زمانے میں نواز شریف اور ان کے اتحادیوں کے ساتھ مل کر فوج نے آئی جے آئی کے نام سے جو گیم کھیلا تھا، اسی پلیٹ فارم کے تحت میاں صاحب وزیر اعظم بن گئے تھے،20اپریل1994کو اس وقت کے وزیر داخلہ میجر جنرل نصیراللہ بابر قومی اسمبلی میں اس حوالے سے یہ انکشاف کر چکے تھے اس کے بعداصغر خان نے 16جون1996میںسپریم کورٹ میں ایک پٹیشن دائر کی تھی،جس میں انہوں نے پیپلز پارٹی کے خلاف غلام اسحق خان، مرزا اسلم بیگ اور نواز شریف کی اسلامی جمہوریہ اتحاد کے گٹھ جوڑ سے جو کچھ سازشیں کی گئیں، ان کا حوالہ دیتے ہوئے عدالتِ عالیہ سے التجاء کی تھی کہ اس کیس کو حل کیا جائے۔

اس سے پہلے اس وقت کے آئی ایس آئی چیف اسد درانی بھی اس حوالے سے بیانِ حلفی دے چکے ہیں، اس کے بعد عدالت میں 1997اور1999کو اس کیس کی سماعتیں ہوتی رہیں، تاہم اس دوران حکومتوں کی آنیاں جانیاں لگی رہیں اور کیس کی فائل پر دھول جمتی رہی، اکتوبر1999کو جسٹس سعید الزمان صدیقی اس کیس کی سماعت کر رہے تھے لیکن پھر فوجی بغاوت کی وجہ سے کیس دوبارہ کلوز ہوگیا، اب ایک بار پھر12سالوں بعد29فروری کواس کی سماعت شروع ہوئی اور یوں یونس حبیب کے یہ انکشافات سامنے آئے، ان ہوش رُبا انکشافات کے منصہ شہود آنے کے باوجوداب تک عدالت کی طرف سے کوئی خاص قابلِ ذکرایکشن نہیں ہوا، قوم کی امیدیں اپنی آزاد عدلیہ کے ساتھ وابستہ ہیں،جبکہ دوسری طرف ایسی خبریں بھی ہیں کہ اس کیس میں چونکہ فوج اور نواز لیگ ملوث ہیں، اس لیے پیپلز پارٹی ملک کی عسکری قیادت کے ساتھ میمو اسکینڈل پرجبکہ شریف برادران کے ساتھ سوئس بینک اسکینڈل پر مک مکا کرنا چاہتی ہے۔

اس کیس کے ری اوپن ہونے سے پہلے تک نواز لیگ عدالت کے ذریعہ سوئس گورنمنٹ کو خط لکھوانے پر ڈٹی ہوئی تھی، جبکہ فوج اور آئی ایس آئی میمو اسکینڈل پرکسی کی شہادت کی منتظر تھی لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ یہ سارے عزتِ سادات بچانے کے واسطے نظریں نیچی کیے ہوئے ہیں،عدالت کے ایوانوں میں بھی سکوت طاری ہے اور زرداری صاحب کا طلسم کامیاب ہوتا نظر آرہا ہے اس کیس کے ذریعہ پاکستانی سیاست، انتخابات اور حکومتوں کی تشکیل میں اسٹیبلشمنٹ کے رول کو چیلنج کیا جا سکتا ہے اگر اس کیس کا حتمی فیصلہ ہوجائے تو سیاستدان،پیسہ اورفوج کی ٹرائیکا گیم ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے سکتی ہے۔

انتیس فروری2012کو جب اس کیس کی شنوائی ہونا شروع ہوئی تو قوم کی آنکھیں امید سے جھلملانے لگی تھیں کہ آزاد عدلیہ قومی خزانہ کو شیرِ مادرسمجھ کر ہڑپ کرنے والے والوں کو وہ سارا کچھ ڈکارنے پر مجبور کرے گی، لیکن یہ خواب بھی شرمندئہ تعبیر ہوتا نظر نہیں ا رہا، حالانکہ یہ انتہائی سیریس ایشو ہے لیکن اب تو سینیٹ الیکشن بھی ہو چکے ہیں، میاں صاحب بھی شاداںہیں اور زرداری صاحب بھی فرحاں نظرا رہے ہیں، لگتا ہے میمو گیٹ اسکینڈل کی طرح یہ اسکینڈل بھی تاریخ کے قبرستان میں دفن ہو جائے گا اور ہم عوام انصاف کے لیے دردر ٹھوکریں کھاتے رہیں گے، عدلیہ کو ہم مسیحا سمجھ بیٹھے تھے،لیکن اب تو کوئی مسیحا بھی نہیں رہا، ہم کس کے سامنے اپنا دُکھڑا روئیں اب ہم عوام کسے وکیل کریں اور کس سے منصفی چاہیں۔

تحریر : محمد زاہر نور البشر

 

Share this:
Tags:
Nawaz Sharif pakistan پاکستان
imran khan
Previous Post اکبر بگٹی کے قاتلوں کو قانون کی گرفت میں لائیں گے۔ عمران خان
Next Post بھوجا ایئر، اسلام آباد کی پہلی پرواز آخری بن گئی
Crash

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close