Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 4, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

کڑوا گھونٹ

July 17, 2012July 17, 2012 0 1 min read
supreme court
supreme court
supreme court

طالع آزماؤں کے دور میں ہماری عدالتیں طالع آزمائوں کو آئین میں تبدیلی کا اختیار بھی دیتی ہیں اور ان کے شب خو نوں کو جائز بھی قرار دیتی ہیں لیکن جب جمہوری حکومتیں آ تی ہیں تو پھر عدلیہ کو آئین کی پاسداری کا مرض لا حق ہو جاتا ہے جو پورے ملک میں جمہوری روایات کو کمزور کرنے اور غیر یقینی صورتِ حال پیدا کرنے کا باعث بن جاتا ہے حالانہ عدلیہ کو پارلیمنٹ کی مضبوطی اور آئین کی بالادستی کی خاطر پارلیمنٹ کے ہاتھ مضبوط کرنے چائیں تا کہ غیر یقینی کے سارے بادل چھٹ جائیں۔عدلیہ کو پارلیمنٹ کے قانون سازی اور آئین سازی کے حق کو تسلیم کرنا چائیے تاکہ کوئی آمر دوبارہ شب خون مارکر جمہوری بسا ط کو لپیٹنے کی جرات نہ کر سکے ۔یہ بات ساری دنیا کے علم میں ہے کہ ١٢ اکتوبر ١٩٩٩ کے ماشل لائی اقدام کو سپریم کورٹ نے نہ صرف جائز قرار دیا تھا بلکہ جنرل پرویز مشرف کو آئین میں اپنی مرضی کی تبدیلیوں کا اختیار بھی سونپا تھا۔

سپریم کورٹ کے اسی فیصلے کی روشنی میں جنرل پرویز مشرف نے تمام اختیا رات اپنی ذات میں مرکوز کر لئے تھے جسے موجودہ حکومت نے اٹھارویں آئینی ترمیم کے ذریعے پارلیمنٹ کو واپس لوٹائے ہیں جس سے پارلیمنٹ کی مضبوطی کا سفر دوبارہ شروع ہو گیا ہے ۔ساری دنیا میں پارلیمنٹ کو ہمیشہ سب سے بالا تر ادارہ تسلیم کیا جاتا ہے کیونکہ عوام اپنے ووٹ سے اسے ہی حقِ حکمرانی تفویض کرتے ہیں۔ اس بات پر تو بحث ہو سکتی ہے کہ پارلیمنٹ عوامی توقعات پر پورا کیوں نہیں اترتی اور عوامی مسائل کو حل کرنے میں اس حد تک کیوں نہیں جاتی جس حد تک لوگ اس سے توقعات وابستہ کر لیتے ہیں لیکن اس پر کوئی دو رائے نہیں کہ حقِ حکمرانی صرف پارلیمنٹ کو ہی حاصل ہے۔

parliament
parliament

دنیا کا کوئی ادارہ پارلیمنٹ کا نعم ا لبدل نہیں ہو سکتا اور نہ اس کی بالا دستی کو کمزور کر سکتا ہے کیونکہ سارے ادراے پارلیمنٹ کی کوکھ سے جنم لیتے ہیں۔یہ پارلیمنٹ کی صوابیدید پر ہو تا ہے کہ وہ کس قسم کی قانون سازی کرنا چاہتی ہے اور کس طرز کا نظامِ حکومت رائج کرنا چاہتی ہے کیونکہ پارلیمنٹ کی مرضی اور منشاء کو کسی دوسرے ادارے کی خواہشوں کے تابع نہیں کیا جا سکتا۔سپریم کورٹ کسی قا نون کی تشریع ضرور کر سکتی ہے لیکن کسی آئینی شق کو آئین سے نکال باہر کرنے کی مجاز نہیں ہو تی اور ر نہ ہی آئین میں کسی قسم کا کوئی اضافہ کر سکتی ہے۔ سپریم کورٹ ان قوانین پر نظر ثانی کا حق ضرور رکھتی ہے جہاں پر کوئی ابہام پایا جا تا ہولیکن جہاں پر ابہام موجود نہ ہو اسے نظر ثانی کے زمرے میں لانا پارلیمنٹ کی اتھارٹی کو چیلنج کرنے کے مترادف ہو تا ہے۔ اٹھارویں ترمیم کے اندر جب ججز کی تعیناتی کیلئے ایک طریقہ کار وضع کیا گیا تو سپریم کورٹ کو اس پر تحفظات تھے اور اس نے وہ بل پارلمینٹ کو نظر ثانی کیلئے واپس بھیج دیا تھا۔

پارلیمنٹ نے ان اعتراضات پر نظر ثانی کر کے انیسویں ترمیم میں انھیں دوبارہ آئین کا حصہ بنا دیا تھا لہذاا گر کوئی شخص یہ سمجھتا ہے کہ کسی بھی آئینی شق یا قانون سازی کو سپریم کورٹ اپنی صوابیدید ی قوت سے ردی کی ٹوکری میں پھینک سکتی ہے تو وہ غلط سوچ رہاہے ۔فرض کریں کہ توہینِ عدالت کے مجوزہ قانون پر سپریم کورٹ ایسا کرتی ہے تو پھر سپریم کورٹ آئین میں دئیے گئے اختیارات سے تجا وز کر جائے گی اور اس کے اپنے کردار پر سوا لیہ نشان لگ جا ئے گا ۔ ایک ایسا پنڈورا باکس کھل جا ئیگا جس کے انجام کے بارے میں کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہو گا۔یہ سچ ہے اس وقت سپریم کورٹ اور پارلیمنٹ کے درمیان ایک تصادم اور کھینچا تانی کی کیفیت موجود ہے جس میں اس بات کے قوی امکانات ہیں کہ پارلیمنٹ کے منظور کردہ توہینِ عدالت بل کو سپریم کورٹ عدلیہ کی آزادی پر حملے کا نام دے کر غیر فعال کر دے اور یوں وہ کچھ ہو جائے جو پورے جمہوری نظام کی بساط لپیٹ کر رکھ دے لہذا سپریم کورٹ کو ذاتی انا سے بلند ہو کر سوچنا ہو گا۔اسے فیصلہ کرنا ہو گا کہ اس کی ذاتی انا بڑی ہے یا جمہور ی نظام بڑا ہے۔

سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی جمہوری نظام کے حق میں ہو نا چائیے کیونکہ آمریت کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ا ب عدلیہ کے فیصلے جمہوری نظام کو تقویت عطا کرتے ہیں یا طالع آزمائوں کو ا اس ملک کی قسمت سے کھیلنے کا موقعہ فراہم کرتے ہیں اس کا فیصلہ بھی بہت جلد ہو جائے گا۔موجودہ حکومت نے عدلیہ کے ایکٹو ازم میں انتہائی صبر و تحمل کا مظا ہرہ کیا ہے اور قانون کی سربلندی اور عدلیہ کے احترام میں اپنے وزیرِ اعظم کی قربانی دی ہے لیکن اب پانی سر سے گزر چکا ہے۔ حکومت اس دفعہ قربانی کا بکرا بننے کیلئے تیار نہیں ہے اگر اس دفعہ بھی سپریم کورٹ نے توہینِ عدالت کی آڑ میں پرانی تاریخ دہرانے کی کوشش کی تو پھر حکومت بھی پیچھے نہیں رہیگی اورعدلیہ کے چہرے پر چڑھے ہو ئے جانبد داری کے نقاب کو نوچ پھینکے گی۔

آزاد عدلیہ کے بہت سے حواری ابھی سے چھریاں چاقو تیز کر کے بیٹھے ہو ئے ہیں اور توہینِ عدالت کے قانون کے خلاف میدان میں نکل کھڑے ہوئے ہیں ۔وہ حکومت کے خلاف ایک محاذ تشکیل دینے کی کوشش کر رہے ہیں اور پھر گلی گلی وہی نعرے بازی ہو گی وہی بساط بچھائی جائیگی جس میں حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے کی کوشش کی جائیگی لیکن ایسا سوچنے والے بھول جاتے ہیں اس وقت ملک میں جنرل پرویز مشرف کی نہیں بلکہ پی پی پی کی حکومت ہے جس نے ججز کو بحال کیا تھا اور عدلیہ تحریک میں اپنا لہو دیا تھا لہذا ایسے ہتھکنڈوں سے وہ دبنے والی نہیں ہے وہ جمہوریت کی حفاظت کیلئے کسی بھی حد تک جائیگی لیکن پارلیمنٹ کو کسی بھی گروہ کی غنڈہ گردی اور دھونس دھاندلی کا یرغمال نہیں بننے دے گی۔

parliament
parliament

توہینِ عدالت قانون کے منظور ہونے سے حکومت یکسوئی سے حکومتی معاملات کو چلانے میں اپنی توانائیاں صرف کرنا چاہتی ہے اور عوامی فلاح و بہبود کیلئے اپنا قبلہ درست کرنا چاہتی ہے لیکن آزاد عدلیہ نے اس کا ناطقہ بند کر کے اسے الجھا رکھا ہے ۔اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ موجودہ ججز نے پی سی او کے تحت حلف اٹھا یا ہوا ہے اور یہ وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی کی صوابیدید پر تھا کہ وہ ان پی سی او ججز کو بحال کرتے یا انھیں فارغ کر دیتے لیکن انھوں نے عوامی خواہشات کی پاسداری کرتے ہوئے انھیں بحال کر دیا تھا لیکن اس نے اپنے عمل کی وہ قیمت چکائی جو جمہوری تاریخ میں اپنی مثا ل نہیں رکھتی۔ یہ زہر کا پیالہ تھا جسے پی پی پی کی حکومت نے خود ہی پیا تھا اور زہر تو آخر زہر ہے جو اپنے اثرات دکھا کر رہتا ہے۔

یہ تو ہو نہیں سکتا کہ کوئی زہر تو پی لے لیکن اس سے شہد کے اثرات تلاش کرتا پھرے۔ سنکھیا کا نام مِشری کی ڈلی بھی رکھ لیا جائے تو وہ رہے گا سنکھیا ہی ااور اس سے ہلا کت یقینی ہوگی ۔ وزیرِ اعظم پاکستان کی قربانی کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ ایک زلز لہ تھا جس نے پورے پاکستان کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ عدلیہ کی آزادی کے متوالے تو اس پر جشن برپا کئے ہو ئے تھے۔ اور جشن برپا کرنا انکی پرا نی روائت ہے۔ وہ ا پنے مخالفین کے قتل پر ایسے ہی جشن برپا کئے کر تے ہیں۔ ان کی ساری زندگی ایسے جشن مناتے ہی گزر گئی ہے اور وہ اسی طرح کے ایک اور جشن کی امید بھی لگائے ہو ئے ہیں لیکن شائد اس دفعہ ان کے جشن منانے کی آرزو پوری نہ ہو کیونکہ موجودہ حکومت خم ٹھونک کر میدان میں نکل آئی ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ چیف جسٹس افتحار محمد چوہدری سے عوام نے انصاف کی امیدیں وابستہ کر رکھی تھیں اور چاہتے تھے کہ انصاف کا ایسا نظام متعارف ہو جائے جس میں انھیں فوری اور سستا انصاف مہیا ہو جائے لیکن ان کی یہ خواہش پوری نہیں ہوسکی کیونکہ عدالتوں میں وہی پرانی روش کا دور دورہ ہے اور انصاف کا حصول ایک خواب بن کر رہ گیا ہے۔

میری ذاتی رائے ہے کہ موجودہ عدلیہ چونکہ حکومت سے تصادمی محاذ پر ہے لہذا اس عدلیہ سے موجودہ حکومت کو انصاف ملنے کے امکانات بالکل معدوم ہیں۔پچھلے چار سالوں سے تو یہی دیکھنے میں آرہا ہے کہ عدلیہ حکومت کو کچھ بھی کرنے نہیں دے رہی بلکہ ایک طے شدہ منصوبے کے تحت اس کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر رہی ہے جس کا سارا فائدہ حکو مت کے مخالفین کو پہنچ رہا ہے۔ حکومت کو ئی بھی بڑا فیصلہ کرتی ہے عدلیہ اس پر خطِ تنسیخ پھیر دیتی ہے اور اچھی حکوت کی آرزو ملیا میٹ ہو کر رہ جاتی ہے۔

حکومت اپنا سارا وقت اپنے بچاو کی تدابیر میں ضائع کر تی رہتی ہے لہذا عوامی فلا ح و بہبود کاشعبہ ان کی نگاہوں سے قدرے اوجھل رہتا ہے۔پی سی او ججز کے بارے میں افتحار محمد چوہدری نے اپنے حالیہ فیصلے میں انھیں نااہل قرار دے رکھا ہے حالانکہ وہ خود بھی پی سی او جج ہیں لیکن اس فیصلے کا اطلاق اپنی ذات پر نہیں کرتے اور جب کوئی انھیں یاد دلانے کی کوشش کرتا ہے تو پھر وہ جنرل پرویز مشرف کے خلاف اپنے موقف کو ڈھال بنا کر ایسے ہر اعتراض کو رد کر دیتے ہیں۔قانون کی نظر میں اخلاقی پہلو وں کی نہیں بلکہ قانونی پہلووں کی اہمیت ہو تی ہے۔ بادی ا لنظر میں جنرل پرویز مشرف کی آمریت کے سامنے ان کا ڈٹ جانا ایک جرات مندانہ اظہار ہے اور قوم اس باجرات کارنامے پر ان کا احترام کرتی ہے لیکن سچ تو یہ ہے کہ جنرل پرویز مشرف کے خلاف ان کی مورچہ بندی بھی ان کی اپنی ذات کے دفاع میں تھی جسے انصاف وقانون کی جنگ بنا کر پیش کیا گیا۔

اس سے یہ حقیقت کہ وہ پی سی او جج ہیں پھر بھی بدل نہیں سکتی۔حکومت اگر چاہے تو وہ اسی پی سی او کے فیصلے کو بنیاد بنا کر انھیں چیف جسٹس کے عہدے سے فارغ کر سکتی ہے اور ان کی جگہ نیا چیف جسٹس نامزد کر سکتی ہے بالکل اسی طرح جس طرح میاں محمد نواز شریف نے اپنے دورِ حکومت میں ١٩٩٨ میں سید سجاد حسین شاہ کے فیصلے کی بنیاد پر انھیں چیف جسٹس کے عہدے سے سبکدوش کر کے میاں محمد اجمل کو نیا چیف جسٹس نامزد کر دیا تھا لیکن اس کیلئے جراتِ رندانہ کی ضرورت ہے جو موجودہ حکومت میں مفقود نظر آ رہی ہے۔یہ کام بہت اہم بھی اور بہت مشکل بھی ہے لیکن اس فیصلے کے بغیر چارہِ کار بھی نہیں ہے۔ ملک کی نائو کو غیر یقینی کے بھنور سے نکالنے کیلئے ایسا کرنا اشد ضروری ہے۔

Lawyers
Lawyers

یہ سچ ہے کہ وکلاء برادری اس فیصلے کے خلاف عدلیہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیلئے سڑکوں پر نکل آئے گی اور نئے ججز کی نامزدگی میں دیوار بن جائے گی اور وہ وکلاء جو حکومت کا ساتھ دینے کی جرات کریں گئے ان کے خلاف تادیبی کاروائی کرے گی لیکن حکومت کو ریاستی رٹ کی بحالی کی خا طر کچھ بڑے فیصلے کرنے ہوں گئے اور اگر کوئی گروہ اور جماعت اس رٹ کو چیلنج کرنے کیلئے میدان میں کودتی ہے تو بہتر حکمتِ عملی اور عوامی حمائت سے اسے ناکام بنا ہوگا ۔ وہ وکلاء جو بیرسٹر اعتزاز احسن، زاہد بخاری اور عاصمہ جانگیر جیسے نامی گرامی وکلاء کو حکومتی مقدمہ لڑنے کی وجہ سے غداروں کی فہرست میں شامل کر سکتے ہیں تو اس بات کا اندازہ لگانے میں چنداں دشواری نہیں ہونی چائیے کہ نئی عدلیہ کو نامزد کرنے پر وہ کونسا طوفان برپا نہیں کریں گئے۔

وہ موجو دہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کیلئے کسی بھی حد تک جانے کیلئے تیار ہوں گئے اور حکومتی اقدامات کے خلاف بھر پور مزاحمت کریں گئے لیکن اگر پارلیمنٹ کی بالا دستی کو قائم رکھنا ہے، جمہوریت کو بچانا ہے اور ملک کو غیر یقینی کی کیفیت سے نکا لنا ہے تو پھر یہ کڑوا گھونٹ تو پینا ہی پڑے گا۔تحریر : طارق حسین بٹ

 

Share this:
Tags:
iftikhar muhammad chaudhry Lawyers parliament supreme court پارلیمنٹ عدالتیں عدلیہ
Imtiaz ali shakir
Previous Post قانون کی حکمرانی
Next Post لوئراورکزئی : وین میں دھماکا، 8 مسافر جاں بحق
bomb blast

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close