Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
July 27, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

گرم پانیوں تک رسائی

February 26, 2012February 26, 2012 0 1 min read
balochistan
balochistan
balochistan

دنیا کی بڑی طاقتوں کے درمیان ایک طویل عرصہ سے خود کو معاشی طور پر ترقی یافتہ بنانے کیلئے وسطی ایشیائی ممالک کے معدنی وسائل اوربحیرہ عرب کے گرم پانیوں تک رسائی کیلئے خاموش جنگ جاری ہے جو کسی وقت عالمی جنگ کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔ اس خاموش جنگ میں پاکستان کا کردار مرکزی نوعیت کا ہے کیونکہ ان معدنی وسائل اور گرم پانیوں تک رسائی کیلئے مختصر ترین راستہ بلوچستان سے ہو کر گزرتا ہے جبکہ خود بلوچستان میں گیس، تیل، سونے، تانبے، یورینیم اور دوسری قیمتی معدنیات کے وسیع ذخائر موجود ہیں۔ جہاں برطانیہ سرزمینِ افغاناں کو سامراجی تسلط میں لے کر پورے برصغیر پر اپنے قبضے کو ہمیشہ کیلئے یقینی بنانا چاہتا تھا وہیں روس کا گرم پانیوں تک تلاش کا سفر بھی دراصل یہی تھا کہ وہ بلوچستان تک رسائی حاصل کرے۔ اب گرم پانیوں اور معدنی وسائل تک رسائی کا یہ خواب امریکا کا ہے جبکہ چین بھی گرم پانیوں تک رسائی کا خواہاں ہے تاکہ اُس کی معیشت مزید ترقی کر سکے۔ اِدھر جاپان، بھارت اور یورپی ممالک کو بھی اپنی اقتصادی اور تجارتی ضروریات پوری کرنے کے لیئے ایران، افغانستان اور وسطی ایشیاء کی گیس اور تیل کی اشد ضرورت ہے ،اس لیئے یہ ممالک بھی بلوچستان کے ساحل پر اپنی موجودگی کو یقینی بنانا چاہتے ہیں۔ ان ممالک کی بلوچستان میں دلچسپی کے باعث یہ صوبہ عالمی سازشوں کا مرکز بن چکا ہے، جس کا اندازہ یہاں پھوٹ پڑنے والی بغاوت سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔

 
دوسری طرف عالمی ایجنڈا بھی بلوچستان میں ایسی شورش کو برقرار رکھنا ہے تاکہ پاکستان مستقبل میں بلوچستان کے معدنی وسائل اور گوادر کی بندرگاہ سے کوئی فائدہ نہ اُٹھا سکے کیونکہ ایسی صورت میں ایٹمی ملک کی معیشت بھی ایٹم کی طرح مضبوط ہو سکتی ہے جو پاکستان دشمن قوتوں کو کسی طور قبول نہیں۔ بلوچستان اپنے قدرتی وسائل کی وجہ سے پاکستان کیلئے سونے کے انڈوں کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ اس صوبہ سے ملک کا روشن مستقبل وابستہ ہے جبکہ گوادر اور پسنی کی بندرگاہیں پاکستان کے علاوہ چین، افغانستان، وسط ایشیاء کے ممالک تاجکستان، قازقستان، آذربائیجان، ازبکستان، ترکمانستان اور دیگر روسی ریاستوں کے استعمال میں آئیں گی جس سے پاکستان کو بیش بہا محصول ملے گا۔ اگر ان دونوں بندرگاہوں نے اپنا کام درست طور پر شروع کر دیا تو پاکستان اور چین گرم پانیوں کی حکمرانی دوسرے ممالک سے چھین لینگے، تیل کی ترسیل کا بڑا حصہ جو روس کی بندرگاہوں سے کیا جاتا ہے وہ بھی اس سے چھن جائیگاجبکہ دوسری جانب ایرانی بلوچستان میں بننے والی بندرگاہ کی اہمیت بھی کم ہو جائے گی ۔گوادر کی تعمیر سے ایران کے بحری ٹریفک کنٹرول اور اسکے مفادات پر سخت ضرب پڑتی ہے کیونکہ اس طرح گزرنے والی تمام ٹریفک کو گوادر سب سے بہترین مقام پڑتا ہے۔ایران نے اس سے نبرد آزما ہونے کیلئے ایرانی بلوچستان میں بھارت کے تعاون سے ایک نئی بندرگاہ تعمیر کی ہے جس کے ذریعے بھارت بھی گرم پانیوں پر حکمرانی کے خواب دیکھ رہا ہے۔ اس تمام صورتحال کے تناظر میں بلوچستان امریکا، چین،بھارت، ایران، یورپ اور ایشیائی ممالک کیلئے انتہائی اہمیت کا حامل خطہ بن گیا ہے۔ امریکا کے اس خطے میں دو مقاصد ہیں ایک وسط ایشیاء سے توانائی کا حصول جبکہ دوسرا چین اور ایران کیخلاف گھیرا تنگ کرنا۔ چین کی ابھرتی طاقت کو روکنا اور اپنی سپرپاوری کو برقرار رکھنا امریکی خارجہ پالیسی کا اصل ہدف ہے۔ پاک چین کی لازوال دوستی کی بدولت امریکا اپنے اِن اہداف کے حصول میں فی الحال ناکام دکھائی دیتا ہے ۔امریکا جانتا ہے کہ اگر اس کا پاکستان پر مکمل تسلط قائم ہو جاتا ہے تو نہ صرف بلوچستان اور سندھ کی معدنیات اس کے کنٹرول میں آ جائیں گی بلکہ اسے پوری دنیا کا گیٹ وے بھی میسر آ جائیگا جس میں چین، بھارت اور ایران سرفہرست ہیں۔ امریکا گرم سمندروں سے ملحقہ بلوچ علاقوں کو پاکستان سے الگ کرکے وہاں ایسی ریاست قائم کرنا چاہتا ہے جو خلیجی ممالک کی طرح اس کی طفیلی ہو۔ اس لیئے وہ بلوچستان میں شورش برقرار رکھ کر اور چند بلوچ سرداروں کے ذریعے آزاد بلوچستان کے مسئلے کو ہَوا دیکر یہ مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے۔اسی مقصد کے لیئے روس نے بلوچستان کو پاکستان سے الگ کرنے کی کوشش کی تھی اور یہی امریکا کا بھی مقصدہے۔ روس کا مفاد یہ ہے کہ پاکستان مستقبل میں افغانستان اور وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ کسی قسم کا معاہدہ نہ کر سکے۔ جنوبی سمندروں تک رسائی کا روس کا پرانا خواب ہے اور وہ اسی مقصد کے لئے افغانستان پر قابض ہوا تھا تاکہ گوادر کے راستے گرم پانیوں تک پہنچ کر وسط ایشیاء کی دولت کو کیش کروا سکے۔

 
چین ہمیشہ گوادر کو دوست پاکستان کی سویلین بندرگاہ کہتا ہے کیونکہ گرم پانیوں تک پہنچنے کی خواہش اس کی بھی ہے۔ اس نے گوادر میں بہت بڑی سرمایہ کاری کر رکھی ہے جسے چین کی جنگی اور سٹریٹجک چال بھی کہا جا سکتا ہے ۔ چین ہر اس ملک پر اپنی بھاری سرمایہ کار ی کر رہا ہے جہاں سے امریکا یا اس کے دیگر دشمن ممالک ممکنہ طور پر اس کی تیل کی ٹریفک کو روک سکتے ہیں۔ چنانچہ گوادر پورٹ پر چین کی موجودگی سے گرم پانیوں کی ٹریفک محفوظ ہو جائے گی، لہٰذا چین ہرگز یہ نہیں چاہے گا کہ بلوچستان اُس کے دوست ملک پاکستان کے ہاتھ سے نکل جائے۔ جہاں تک بلوچستان میں بھارت کا کردار ہے تو وہ سمجھتا ہے کہ مستقبل میں گوادر بندرگاہ کے ذریعے پاکستان اور چین کی اس خطے پر اجارہ داری قائم ہو جائے گی اس لیئے بھارت پاکستان کو کسی قسم کا چانس دینے کو تیار نہیں ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ نہ صرف پاکستانی بلوچستان میں بغاوت کو ہَوا دے رہا ہے بلکہ ایران کیساتھ مل کر ایرانی بلوچستان میں ایک بندرگاہ بھی تعمیر کر رہا ہے اور ساتھ ہی ایک سڑک بھی بنانے میں مدد کر رہا ہے جو اس بندرگاہ کو افغانستان کے راستے وسطی ایشیائی ممالک سے ملائے گی۔ مزید برآں ایران کیساتھ تعاون کے نتیجے میں وہ گوادر میں چین کے اثرات کو بھی کم کر سکتا ہے۔ گوادر بندرگاہ کی تعمیر اور بلوچستان کے معدنی وسائل سے ایران کے بحری ٹریفک کنٹرول اور اس کے دیگر مفادات پر بھی سخت ضرب پڑتی ہے۔ اس لیئے اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ ایران بھی پاکستانی بلوچستان کے حالات کی خرابی میں کسی حد تک ذمہ دار ٹھہرتا ہے۔ اگر سوویت یونین کی گرم پانیوں تک رسائی کی خواہش پوری ہو جاتی تو روس کبھی نہ ٹوٹتا اور آج امریکہ کی بجائے سوویت یونین ہی سپر پاور ہوتا اور اس کے بحری بیڑے بحرِ ہند اور بحیرہ عرت میں اُتر کر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا ناطقہ بند کر دیتے۔پہلے امریکا ہمیں ڈراتا رہا کہ روس گرم پانیوں تک پہنچنا چاہتا ہے لہٰذا اس نے پاکستان کو استعمال کرتے ہوئے اس کا راستہ روکا اور خود سپر پاور بن بیٹھا۔ اب امریکا اپنی سپر پاوری کو برقرار رکھنے کیلئے گرم پانیوں تک رسائی کا خواہاں ہے لیکن اس کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ چین ہے۔ اگر امریکہ گرم پانیوں تک پہنچنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو وہ ایک طویل عرصے تک خود کو سپر پاور برقرار رکھنے میں کامیاب ہو سکتا ہے، بصورت دیگر چین سپر پاور بننے کی پوزیشن میں ہے۔ حالیہ برسوں میں چین نے خود کو علاقائی سپر پاور ثابت کر دیا ہے اور اب وہ عالمی سپر پاور بننے کی منزل پر پہنچنے والا ہے۔ امریکا کے نزدیک پاکستان کی زیادہ اہمیت بلوچستان کی وجہ سے ہے لیکن اسکے ایٹمی طاقت ہونے اور چین کی گوادر میں موجودگی کے باعث وہ براہ راست جارحیت سے قاصر ہے لہٰذا امریکا بہادر اپنی حکمت عملی تبدیل کرکے قوم پرستوں کے ذریعے پاکستان کو مختلف ٹکڑوں میں تقسیم کرنیکی منصوبہ بندی پر عمل پیرا ہے ۔ بلوچستان میں شورش کا بڑا مقصد صرف اتنا ہے کہ کسی طرح چین کو گوادر کی بندرگاہ سے دور رکھ کر اسے گرم پانیوں پر حکمرانی سے روکا جا سکے۔

 
پاکستان اس وقت سبھی کی نظروں میں چبھ رہا ہے اور دشمن قوتیں بلوچستان کو الگ کرنا چاہتی ہیں ۔ کچھ مبصرین کا خیال ہے کہ پاکستان کے ہاتھ سے بلوچستان نکلتا جا رہا ہے اور بہت جلد ایک آزاد ریاست کے طور پر اپنا وجود تسلیم کرانے میں کامیاب ہو جائیگا لیکن یہ محض ایک خام خیالی ہے کیونکہ پاکستان اور چین اس خطے کو کسی صورت بھی اپنے دشمن ممالک کے ہاتھ نہیں لگنے دینگے ۔ اگر بلوچستان کے معاملہ پر جنگ شروع ہو تی ہے تو یہ عالمی جنگ بن جائے گی۔ پاکستان اس جنگ میں آخری حد تک جائیگا جبکہ چین، ایران اور روس بھی ایک بلاک کا حصہ بن کر پاکستان کا ساتھ دینے پر مجبور ہو جائیں گے ۔ بلاشبہ روس اور ایران کے بلوچستان میں اپنے اپنے مفادات ضرور ہیں لیکن سامراجی امریکا کیخلاف کمیونسٹ ممالک چین اور روس ایک ہو سکتے ہیں جبکہ ایران کے ساتھ امریکا کے تعلقات پہلے سے کشیدہ ہیں۔ ایران اور چین بھی یہ سمجھتے ہیں کہ اس خطے میں امریکا کی موجودگی سے دونوں ملکوں کی سلامتی کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں جبکہ روس کو امریکا سے اپنی شکست کا بدلہ چکانے کا موقع ہاتھ آ جائیگا۔ یہ سچ ہے کہ دشمن قوتیں اپنے ایجنڈے کی تکمیل کیلئے پاکستان کو غیر مستحکم کرکے نہ صرف اس کی تقسیم چاہتی ہیں بلکہ ایٹمی ہتھیاروں پر بھی قبضہ کرنا چاہتی ہیں لیکن پاکستان کی خفیہ ایجنسیاں بھی اس کے توڑ میں متواتر لگی ہوئی ہیں۔ ان کی رفتار اس لیئے سست ہو سکتی ہے کہ بیک وقت ساری دنیا سے لڑنا آسان نہیں جبکہ حکمران بھی اس طرح کا تعاون نہیں کر رہے جیسی ضرورت ہے۔ اگر حکمران، فوج، خفیہ ایجنسیاں اور عوام کسی ایک نظریہ پر متحد ہو جاتے ہیں تو پھر بہت جلد پاکستان کی دشمن طاقتیں پسپا ہو جائیں گی۔ حکومت کو چاہئے کہ بلوچی عوام کو اُن کے بنیادی حقوق فراہم کرے تاکہ وہ اِن سرداروں کے چنگل سے نکل سکیں جو صرف پیسے کو خدا سمجھتے ہیں۔تحریر: نجیم شاہ

 

Share this:
Tags:
Balochistan pakistan بلوچستان پاکستان
osama bin ladens compound
Previous Post اسامہ بن لادن کا ایبٹ آباد کا مکان مسمار
Next Post افغانستان کی وزارتوں سے نیٹو کا انخلاء
afghanistan

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close