Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 4, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

یکم مئی، مزدوروں سے یکجہتی کا عالمی دن

May 1, 2012 0 1 min read
Labour Pakistan
Labour Pakistan
Labour Pakistan

اٹھارہ سو تہتر کی کساد بازاری نے مزدوروں کے حالات کو ناقابل برداشت حد تک سنگین بنادیا، بھوک و افلاس کا شکار مزدور روٹی، کپڑا اور مکان کے حصول کیلئے مظاہرے کرنے لگے، 8گھنٹے کی لیگ کے قیام سے امریکہ بھر میں تنظیموں کا وجود عمل میں آیااور 1880ء کے دوران یورپ ،شمالی اور لاطینی امریکہ، جاپان، آسٹریلیا و دیگر ممالک میں بھی مزدور اپنے حقوق کے تحفظ اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کیلئے سرگرم ہو گئے، 1882ء میں جاپان کی ٹراموے ورکرز کی ایک بہت بڑی ہڑتال ہوئی مزدور لیڈر ”گومبرس”نے دنیا بھر کے مزدوروں کو ایک ہو جائو مزدورو کا نعرہ دیا، اس کی فیڈریشن نے اجتماعی جدوجہد کے باقاعدہ آغاز کیلئے 1884ء میں ایک بڑا کنونشن شکاگو میں طلب کیا، اس موقع پر کی جانیوالی ہڑتال دنیا کی پہلی سب سے بڑی عام ہڑتال ثابت ہوئی جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ یکم مئی1886ء سے مزدوروں کے اوقات کار 8گھنٹے مقرر کئے جائیں ، یہ بھی فیصلہ ہوا کہ اس مطالبہ کو پورا نہ کرنے کی صورت میں یکم مئی 1886ء کو بھی عام ہڑتال ہو گی۔

اس منعقدہ کنونشن 1884تا 1886ء کے دوران امریکہ کی مختلف ریاستوں میں ایک لاکھ سے زائد کارکنوں نے 22ہزار مختلف جگہوں پر3092ہڑتالیں ہوئیں جبکہ صرف امریکہ میں 5ہزار ہٹرتالیں کی گئیں، جن میں تقریباً 3لاکھ 50ہزار مزدور حصہ لے رہے تھے ، ماسکو میں 1885ء اور فرانس میں 1886ء میں ہونیوالی ہڑتالیں بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی تھیں مگر اس وقت کی حکومتوں نے مزدوروں کے ان مطالبات کو نہ تو کوئی اہمیت دی بلکہ مزدوروں کے مطالبات کو تسلیم کرنے کی بجائے ہڑتالیںختم کرنے کیلئے ایسے اقدامات اٹھائے کہ جن سے مزدوروں کی اپنے حقوق کیلئے جاری پر امن تحریک اشتعال انگیزی کا شکار ہوتی چلی گئی، یکم مئی 1886ء میں ہڑتال کا آغاز اسکارپک ہاروسٹر کمپنی شکاگو سے ہوا ان دنوں شکاگو ایک بڑا صنعتی شہر ہونے کے باعث مزدور تحریکوں کا مرکزتھا یکم مئی کے اس مظاہرے میں 80ہزار مزدوروں نے حصہ لیا۔

سرمایہ داروں نے ہڑتال کو ناکام بنانے کیلئے روائتی ہتھ کنڈے استعمال کئے، مگر ہڑتال کئی روز تک کامیابی سے جاری رہی اور باٹی مور، واشنگٹن، نیویارک اور ہوسٹن جیسے بڑے شہروں میں لاکھوں مزدوروں نے سڑکوں پر آ کر احتجاجی مظاہرے کرنے کے ساتھ اپنے حقوق کیلئے جلوس نکالے، ان احتجاجی مظاہروں میں سرمایہ داروں اور حکومتی ایما پر پولیس سمیت دیگر قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی فائرنگ سے متعدد مزدور وں نے اس اہم کاز کیلئے اپنی جانوں کا نذرانہ دیاجبکہ سینکڑوں زخمی ہونیوالے مزدوروں کی بڑی تعداد فوری اور موثر علاج معالجہ نہ ہونے کے باعث معذوربھی ہوئے اس صورت حال کے باوجود سرمایہ دار اور حکمران مزدوروں کو حقوق کی فراہمی کیلئے قطعی تیار نہ تھے جو ان کی اس سوچ کی عکاسی تھی کہ معیشت کی ریڑھ کی ہڈی مزدور طبقہ انکے قریب کتنی اہمیت کا حامل ہے،تاہم استحصال زدہ مزدور طبقہ بھی کسی صورت اپنے حقوق کی جنگ سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں تھا، تیسرے روز یعنی 3مئی کو شکاگو میں لاکھوں مزدور احتجاجی اجتماع میں شریک تھے جنہیں منتشر کرنے کیلئے پولیس نے اندھا دھند فائرنگ کر دی جس کی زد میں آکر 4مزدور ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے۔

اس واقعہ کے خلاف بھی 4مئی کو یوم احتجاج منایا گیاجس کے اختتام پر ایک پولیس آفیسر نے وہاں پہنچ کر احتجاج ختم کرنے اور پرامن منتشر ہوجانے کا حکم دیا بات بنتی دیکھائی نہ دی تو پولیس کی طرف سے مبینہ طور پر احتجاجی اجتماع میں دستی بم پھینکا جس سے پولیس کا اپنا ہی ایک سپاہی مارا گیا بعد ازاں پولیس نے اس واقعہ کو جواز بنا کر مزدوروں کی پر امن ریلی پر فائرنگ کردی جس کے نتیجہ میں شکاگو کی سرزمین ان غریب محنت کش اور نہتے مزدوروں کے خون سے لہو رنگ ہو گئی جبکہ سینکڑوں مزدوروں کو گرفتار کر کے پابند سلاسل کیا گیا، ستم بالائے ستم کہ اس واقعہ کی بھی ذمہ داری محنت کشوں پر ڈالتے ہوئے گرفتار شدہ 5مزدور رہنمائوںکو پھانسی اور دو کو عمر قید کی سزا سنائی گئی، شکاگو کی جیل بے گناہ مزدوروں سے کچھا کھچ بھر گئی، دوران قید مزدوروں پر اس قدر وحشیانہ جسمانی تشدد کیا گیا کہ ایک مزدور تشدد کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہو گیا جبکہ درجنوں مزدور اپاہج ہو گئے، آجر اور اجیر کے درمیان جاری اس کشمکش میں کئی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں مگر ان کی قربانیوں نے مزدوروں کے روشن مستقبل کی بنیاد رکھی۔

سانحہ شکاگو کی باز گشت پوری دنیا تک پہنچی اور دنیا بھر کے مزدوروں نے امریکی مزدوروں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا جس پر بعدازاں حکومت نے اپنے اٹھائے گئے مذموم اور پر تشدد اقدامات پر مزدوروں سے معافی مانگی اور مزدور رہنمائوں کو پولیس اہلکار کے قتل میں سنائی گئی پھانسی و عمر قید کے فیصلے واپس لے لئے، 1888ء میں ہونیوالی ایک یونین کانفرنس میں 8گھنٹہ یومیہ کام کرنے کے حق میں احتجاجی مظاہرہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا، 1889ء میں کانگرس نے یکم مئی 1890ء کو مزدوروں کے دن کو بین الاقوامی سطح پر منانے کا فیصلہ کیا ، اپریل 1890ء میں چیکو سلواکیہ میں 30ہزار سے زائد کارکن ہڑتال کا حصہ بنے اور تا دم تکمیل مطالبات تک یہ سلسلہ جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا، 1890ء میں تاریخ عالم کا پہلا یوم مئی مزدور ڈے کے حوالے سے منایا گیا جس میں دنیا بھر کے لاکھوں مزدوروں نے حصہ لیا اور اپنے بھرپور اتحاد کا مظاہرہ کیا اور اس وقت سے لیکر اب تک یہ دن دنیا بھر کے مزدوریکم مئی عزم اور حوصلہ کے ساتھ مناتے ہیں اس جدوجہد کے نتیجہ میں 1919ء میں آئی ایل او کا وجود عمل میں آیا، اوقات کار روزانہ 8گھنٹے مقرر کئے جانے کیساتھ ساتھ محنت کشوں کے بنیادی سہولیات کی فراہمی کے حقوق بھی تسلیم کئے گئے۔

عالمی سطح پر مزدور اور محنت کش شکاگو کی مزدورتحریکوں میں ہلاک ہونیوالوں کی یاد میں یکم مئی کو لیبر ڈے کے طور پر منا کر نہ صرف اظہار یکجہتی کرتے ہیں بلکہ مزدوروں کے حقوق کی فراہمی کیلئے بھی شعور و آگہی فراہم کرتے ہیں ، یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان کے قیام سے لیکر اب تک ہر سال یکم مئی کو ملک بھر کے مزدور ہر دور کی برسر اقتدار حکومتوں کے خلاف احتجاج کے طور پر مناتے آرہے ہیں جس کی بڑی وجہ مزدوروں کیلئے کوئی خاطر خواہ مراعات کی فراہمی و اقدامات کا نہ اٹھایا جانا ہے آج پاکستان کا مزدور دو وقت کی روٹی کیلئے مارا مارا پھر رہا ہے، غربت و افلاس کے باعث اجتماعی و انفرادی خود کشیوں کا رجحان بڑھ رہا ہے، ہوشربا مہنگائی نے کمر توڑ کر رکھ دی ہے، مفت تعلیم سمیت دیگر اقدامات کے دعوے مزدوروں کیلئے حکومتی طفل تسلیوں کے مترادف ہیں ، مزدور کی مزدوری پسینہ خشک ہونے سے قبل ادا کئے جانے کی بجائے کئی کئی ماہ کی اجرت ہی ہڑپ کرلی جاتی ہے اور احتجاج کرنیوالوں کو نشان عبرت بنانے کیلئے ناصرف کام سے فارغ کردیا جاتا ہے بلکہ مختلف ہتھکنڈوں سے زباں بندی پر مجبور کیا جاتا ہے، محنت کش طبقہ کسی بھی دور میں حکمرانوں کی توجہ کا مرکز نہیں رہا، بلند و بانگ دعوے اور عوامی ریلیف کے وعدے کرنے والے حکمران مزدوروں اور محنت کشوں کے ووٹ کے حصول کے بعد انہیں حالات کے رحم و کرم پر چھوڑتے آئے ہیں جس نے مزدوروں میں نا امیدی اور مایوسی کو جنم دیا ہے، موجودہ حالات میں ہر مزدور بازبان شاعر یہ کہنے پر مجبور ہے کہ۔

صرف ست ہزار تنخواہ اے میری
تاں سوچاں فکراں نے جند گھیری
اوور ٹائم لان لئی گھردی کہندی
ناں لگے تے کھان نوں پیندی
اٹھ تو ںاٹھ پہلاں ای کرناں
جین لئی میں روز ای مرناں
بیگم کہندی ایویں مغز نہ کھا
ہانڈی ٹکر ہن توں آپ پکا
سوچناں بال میں کم تے پاواں
اینی مہنگائی وچ کنج پڑھاواں
شاپر دے وچ ویکھ کے آٹا
شریکا ہسدا پے گیا اے گھاٹا
ہٹیاں والے وی ہن کہندے پا
پچھلا کھاتا پہلوں صاف کرا
دس دن بعدای مہینہ آجاوے
کرایہ دا سن پسینہ آجاوے
سانوں وی اپنا گھر توں دے
ربا! بھاویں اوہدے ڈگن لے
ہر دم ٹینشن وچ میں رہندا
کوئی نہ مینوں متھ کے بیہندا
سجھ نئیں آئوندی جاواں کتھے
ہن اپنا منہ لکاواں کتھے
جتیاں کپڑے میں لینا بھل گیا
غمی خوشی وچ بہینا بھل گیا
بجلی دا بل ویکھ کے روواں
غصے دے نال بوہا ڈھواں
اتوں پانی دا وکھ ہوئے سیاپا
چوکیدار وی منگے سو دا پاپا
تنخواہ لئی ساحر ریلی تے کڈاں
لبنی نئیں اگوں جے پچھلی چھڈا

غریب مزدور اور کسانوں کی پارٹی یعنی پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی و چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو شہید نے یکم مئی 1972ء کو مزدوروں اور محنت کشوں کی معاشی سیکٹر میں اہمیت و کردار اور خدمات کے اعتراف میں یکم مئی لیبر ڈے کے سلسلہ میں عام تعطیل کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ مزدور اور کارکن ہماری ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں اور مزدور طبقہ طاقت و ترقی کا حقیقی سرچشمہ ہیں جسے مدنظر رکھتے ہوئے حکومت زراعت و صنعت کے شعبوں میں بنیادی اصلاحات لارہی ہے جن کا مقصد کارکن طبقے کو اپنے پائوں پر کھڑا کرنا ہے ، آج خود کو مزدوروں، کسانوں اور محنت کشوں کی نمائندہ جماعت ہونے کی دعویدار پی پی پی کی حکومت ہے جو اپنے دور اقتدار کے پانچویں آخری بجٹ کی تیاری کررہی ہے۔

مگر افسوس صد افسوس کہ ایک طرف حکومتی پلیٹ فارم سے مزدوروں کی فلاح و بہبود اور خوشحالی کیلئے کوئی خاطر خواہ اقدامات اٹھائے نہیں گئے تو دوسری طرف ملک کی اکثریتی صنعتیں اور کارخانے بند ہونے اور فیکٹریوں میں مزدوروں کیلئے روزگار کے مواقع بہت کم میسر ہونے کے باعث مزدوروں کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑچکے ہیں، کیا فائدہ ایسی حکومت کا جس میں محنت کش اور مزدور طبقہ غربت و افلاس کی وجہ سے خود کشیوں پر مجبور ہے ، البتہ موجودہ حکمرانوں سے مہنگائی کو کم کرنے اورمزدور طبقہ کو در پیش مسائل کے حل کی امید تو دیکھائی نہیں دیتی مگر پھر بھی اپیل ہے کہ 18کروڑ عوام کیلئے اس بجٹ کو پہلا اور آخری سمجھتے ہوئے یادگار بناجائیں تاکہ اگر جینا آسان نہیں کرسکتے تو کم از کم مرنا ہی آسان کر دیں۔

تحریر : ساحر قریشی

 

Share this:
Tags:
america japan Labour Day pakistan امریکہ یورپ
Pakistan Hockey Training
Previous Post اذلان شاہ کپ ہاکی ٹورنامنٹ: تربیتی کیمپ کا دوسرا مرحلہ
Next Post لیاری میں دھماکوں کی گونج 5ویں روز بھی برقرار
Karachi

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close