Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 4, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

۔۔۔اقتدار کا نشہ ۔۔۔

March 13, 2012March 13, 2012 0 1 min read
asif ali zardari
asif ali zardari
asif ali zardari

پاکستانی سیاست میں حصولِ اقتدار کیلئے اسٹیبلشمنٹ کی پشت پناہی ایک ایسی حقیقت ہے جس سے صرفِ نظر کرنا ممکن نہیں ہے۔ اگر ہم ماضی کے واقعات پر ایک نگا ہ ڈالنے کی کو شش کریں تو یہ حقیقت اظہر من ا لشمس نظر آتی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے ہمیشہ اپنی من پسند حکو متیں قائم کیں اور پھر انھیں اپنی صوابیداد سے چلتا بھی کیا اور کسی کے کانوں پر جوں تک نہ رینگ سکی ۔ 1985کے غیر جماعتی انتخابا ت سے ایک ایسے کھیل کا آغاز ہوا جس میں جمہو ری چہرے کے پیچھے ا سٹیبلشمنٹ نے خوب گل کھلائے اور جمہوری حکو متوں کی رخصتی کا ایک نیا ،انوکھا او دلچسپ طریقہ کار ا یجاد کیا ۔ عدلیہ نے اسٹیبلشنٹ کے تیار کردہ اس سکرپٹ میں اپنا رول بڑی خوبصورتی سے ادا کیا۔مئی 1988میں وزیرِ اعظم محمد خان خان جونیجو کی حکومت کو جنرل ضیا الحق نے کرپشن کے الزامات کے تحت برخاست کیا تو عدلیہ نے انتہائی نیاز مندی سے اس پر مہرِ تصدیق ثبت کی۔

 
جنرل ضیا الحق نے آرمی چیف اور صدرِ پاکستان کے دونوں عہدے کئی سال تک اپنے پاس رکھے لیکن کسی میں اتنی جرات نہیں تھی کہ وہ جنرل ضیا الحق کے خلاف ان کے ان دونوں عہد وں کے بارے میں کوئی آئینی درخواست داخل کر کے انھیں نا اہل کروانے کی جسارت کرتا ۔آج کل عوام کو جو بڑے بڑے پارسا چہرے میڈیا پر توہینِ عدالت۔ ملکی سلامتی، میمو گیٹ اور آصف علی زرداری کی نااہلی کے لئے بڑے متحرک نظر آتے ہیں یہ سارے کے سارے پارسا جنرل ضیا الحق کی مٹھی میں بند تھے اور جنرل ضیا الحق کی خوشنودی اور اس کی قدم بوسی کو اپنی زندگی کی سب سے بڑی سعادت سمجھتے تھے۔ ابھی تو کل کی بات ہے مسلم لیگ (ق) کے سارے لیڈر جنرل پرویز مشرف کو وردی میں سو دفعہ صدرِ پاکستان منتخب کروانے کا اعلان کر رہے تھے اور یہ اعلان کوئی پہلی بار نہیں ہوا جنرل ضیا الحق کے سارے حواری بھی اسی طرح کے جذبات کا اظہار کیا کرتے تھے لیکن پی پی پی کی عوامی حکومت کے بر سرِ اقتدار آتے ان پارسائوں کی غیرتِ ملی بھی جاگ جاتی ہے اور ان کی جمہوری رگ بھی پھڑکنے لگتی ہے حالانک آمریت کے ادوار میں یہ رگ اپنا کام کرنا بھول جاتی ہے اور غیرت والی رگ کی جگہ ذاتی مفادات کی رگ اپنا کام شروع کر دیتی ہے جو انھیں خاموش رہنے کا درس دیتی رہتی ہے۔

 

پی پی پی تو جنرل ضیا الحق کے عتاب کا نشانہ بنی ہو ئی تھی لہذا اسے تو چن چن کر چھتر مارے جا رہے تھے۔ پی پی پی کے جیالے تو معاشرے کے معتوب افراد تھے لہذا عدالتوں میں ان کی شنوائی کا کوئی امکان نہیں تھا۔ جن کے بے گناہ لیڈر کو پھانسی چڑھا دیا گیا ہو اس جماعت کی عدلیہ میں شنوائی کا تصور کرنا چنداں مشکل کام ہے لیکن وہ جو آج خود کو جمہوریت کا چیمپین اور عدل و ا نصاف کا علم بردار کہتے ہیں اس وقت ان کی بولتی کیوں بند تھی۔وہ اس وقت کہاں تھے جب آئین کو پسِ پشت ڈال دیا گیا تھا اور جمہوریت کو شجرِ ممنوعہ قرار دے کر جمہوریت پسندوں کو کوڑے مارے جا رہے تھے۔ اس وقت بھی پی پی پی کی قربانیاں ہی جمہورت کی بحالی کی بنیاد بنی تھیں اور پھر جب جنرل پر ویز مشرف کی آمریت ملک پر اپنے خون آشام پنجے گاڑے ہوئے تھی تو ایک دفعہ پھر پی پی پی کی قربانیوں سے ہی جمہوریت کا سورج طلوع ہوا تھا۔ وکلا ء تحریک میں پی پی پی کے جیالوں کا لہو شامل نہ ہوتا تو آج افتحار محمد چوہدری بھی بولی بسری داستان ہو تے۔

 

محترمہ بے نظیر بھٹو وطن واپس نہ آتیں اور جنرل پرویز مشرف کی آمریت کونہ للکارتیں تو پھر میاں محمد نواز شریف بھی کبھی وطن واپس آ کر سیاسی سرگرمیوں میں حصہ نہ لے سکتے ۔ یہ محترمہ بے نظیر بھٹو کے لہو کا صدقہ ہے کہ آج پاکستان میں جمہوریت ہے وگرنہ یہاں تو آمریت قابض تھی اور میرے یہ سارے پارسا دوست اسی آمریت میں خا موشی کی چادر لپیٹ کر سو رہے ہوتے۔مفادات بھی عجیب و غریب چیز ہیں۔ یہ اصولوں کو نگل جاتے ہیں، نظریات کا خون کر دیتے ہیںاور سچ کے وجدان سے بے بہرہ کر دیتے ہیں ۔ کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ جب جنرل ضیا الحق کے حواری اور خوشہ چین جمہوریت کی جنگ لڑنے کا اعلان کرتے ہیں تو ان کا ضمیر ان کو کتنی لعنت ملامت کرتا ہو گا لیکن جب ضمیر ہی مردہ ہو جائے توپھر کیا ہوتاہو گا یہ بھی ایک دن ان نام نہاد پارسائوں سے پوچھنا پڑے گا کیونکہ ضمیر کا سودا کرنے میں ان کا کوئی ثانی نہیں ہے۔ایک ہی تو چیز ہے جس میں وہ بے مثال ہیں اور وہ چیز ضمیر کو بیچنے کا فن ہے اور اس دھندے میں وہ بالکل یکتا اور منفرد ہیں اور کوئی ان کی ہمسری کا دعوی نہیں کر سکتا۔

 

جنرل ضیا الحق کی الم ناک موت کے بعد غلام اسحاق خان پاکستان کے صدر بنے تو اسٹیبلشمنٹ کی چالوں میں کوئی فرق نہ آیا۔ جنرل ضیا الحق کے مدون شدہ آئین کے مطابق ٥٨ ٹو بی کے تحت صدرِ پاکستان کو اسمبلی تورنے کا اختیار حاصل تھا اور غلام اسحاق خان نے دل کھول کر اس اختیار کو استعمال کیا۔ ایک دفعہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی حکومت کو رخصت کیا تو دوسری دفعہ میاں محمد نواز شریف کی حکومت کو چلتا کیا ۔ پی پی پی تو معتوب جماعت تھی لہذا عدلیہ نے بھی کھٹ سے اس کی رخصتی کو حق بجانب قرار دے دیا لیکن جب آئی مرزا دی واری تے ٹٹ گئی تڑک کر کے کہ مصداق میاں محمد نواز شریف کی اسمبلی بحا ل کر دی گئی کیونکہ میاں محمد نواز شریف جنرل ضیا لحق کے منہ بولے بیٹے تھے اور اسٹیبلشمنٹ کی ایک واضح اکثریت میاں محمد نواز شریف سے اظہارِ عقیدت رکھتی تھی۔

 

بہر حال بہت سے حیلے بہانوں سے میاں محمد نواز شریف کو استعفے دینے پرمجبور کیا گیا جو انھوں نے شرافت میں پکڑوا دیا اور لوٹ کے بدو گھر کو آئے کے مصداق اقتدار سے انھیں دیسن کالا ملا اور یوں اسٹیبلشمنٹ نے اپنی بالا دستی کو قائم رکھا۔نئے انتخابات کے بعدایک دفعہ پھر محترمہ بے نظیر بھٹو وزیرِ اعظم پاکستان بنیں لیکن اسٹیبلشمنٹ کی سازشوں میں رتی برابر فرق نہ آیا۔ اس دفعہ بھی ان کی حکومت کو کرپشن کے الزامات کے تحت پرخاست کیا گیا اور عدلیہ نے حسبِ روائت ا سٹیبلشمنٹ کے فیصلے پر مہرِ تصدیق ثبت کرنے میں نہائت عجلت کا مظاہرہ کیا۔اس دفعہ کی کاروائی پچھلی ساری کاروائیوں میں زیاداہ سفاک تھی کہ محترمہ بے نظیر بھٹو اور آصف علی زرادری کے خلاف سوئیس عدالتوں میں بھی مقدمات دائر کر دئے گئے تھے۔آصف علی زرداری جیل میں تھے اور محترمہ بے نظیر بھٹو جلا وطنی کی زندگی گزار رہی تھیں ۔ اسٹیبلشمنٹ خوش تھی کہ ان کی راہ کا کانٹا بڑی آسانی سے نکل گیا ہے اور پی پی پی بحثیتِ جماعت دھیرے دھیرے بکھر تی جا رہی ہے اور اقتدار پر ا سٹیبلشمنٹ کی گرفت مضبوط سے مضبوط تر ہو تی جا رہی ہے لیکن انھیں شائد خبر نہیں تھی کہ عوامی جماعتیں یوں بکھرا نہیں کرتیں اور پی پی پی جس کی بنیادوں میں شہیدوں کا لہو ہے وہ یوں بکھرنے والی جماعت نہیں ہے اسے ختم کرنے والے خود خاک میں مل کر بولی بسی داستان بن چکے ہیں لیکن یہ آج بھی پہلے کی طرح مظبوط اور توانا ہے۔

 

حضرت علی(شیرِ خدا) کا قول ہے کہ میں نے خدا کو اپنے ارادوں کے ٹوٹنے سے پہچانا۔ انسان اپنی خو ا ہشوں کے بڑے قوی اور خوبصورت محل تعمیر کرتا ہے لیکن اس کے تعمیر کردہ محل کبھی کبھی ان دیکھی آندھیوں کی زد میں اس بری طرح سے آجاتے ہیں کہ ان کا نام و نشان تک ہی مٹ جاتا ہے۔ تحتِ طا ئوس کہاں ہے اور اس تحت پر جلوہ افروز ہو نے والی رضا شاہ پہلوی کی شخصیت جو خود کو ناگزیر سمجھا کرتی تھی اور اپنے اقتدار کے دوام کی خاطر لاکھوں لوگوں کو موت کے حوالے کر دینا معمولی بات تصور کرتی تھی کس مٹی میں مل گئی ؟ امام خمینی کے عظیم الشان انقلاب نے اس شخصیت کو اس بری طرح سے اقتدار سے بے دخل کیا کہ اس کیلئے اپنے وطن کی زمین تنگ پڑ گئی اور وہ بے بسی کے عالم میں اس دنیا سے رخصت ہو گیا ۔ اس کا آقا امریکہ بھی اسے بچانے کیلئے کچھ نہ کر سکا۔ جب فیصلے مقافاتِ عمل کی میزان میں ہوتے ہیں تو پھر وہاں پر کسی کو دم مارنے کی جا نہیں ہوتی۔ وہ کچھ ہو جاتا ہے جو انسان کے وہم و گمان سے ماورا ہو تا ہے۔

 

ساسانی خاندان کی ہزاروں سالہ تاریخ کے بے تاج بادشاہ کے خیطہ ادراک میں یہ بات نہیں آسکتی تھی کہ ایک امام مسجد کا انتہائی غریب بچہ اس کی سلطنت کو تہہ و بالا کر کے رکھ دے گا لیکن ایسا ہی ہوا کیونکہ ساسا نی حکمران کے ظلم و ستم کی داستانیں حدود فرا موش ہو تی جا رہی تھیں اور ظلم جب حدود فراموش ہو جاتا ہے تو پھر اس کو مٹ جا نا ہوتا ہے۔ یہ ظلم وعدوان کس کے ہاتھ سے مٹے گا اس کا فیصلہ وہ کاتبِ تقدیر کرتا ہے جس کی مٹھی میں ہر ذی روح کی جان بھی ہے اور روزِ محشرجس کے سامنے ہر ایک کو ہیش ہو کر اپنے اعمال کی جوابدہی کے عمل سے بھی گزرنا ہے۔ حکمران آنے والے کل کو بھول جاتے ہیں اور یہی سمجھتے ہیں کہ ان کے اقتدار کا سورج کبھی غروب نہیں ہو گا لیکن سورج تو بہر حال سورج ہے جسے ایک معینہ مدت کے بعد ضرور غروب ہو نا ہو تا ہے لیکن اقتدار کا نشہ شا ئد غروب ہو نے کے سچ کو تسلیم کرنے سے عاری ہو جاتاہے تبھی تو ہلاکت اس کے مقدر میں لکھ دی جاتی ہے۔تحریر : ۔طارق حسین بٹ

 

 

Share this:
Tags:
government pakistan TARIQ BUTT سیاست کرپشن
nadal
Previous Post انڈین ویلزٹینس: رافیل نڈال کی اسٹریٹ سیٹ میں کامیابی
Next Post وہ جو ہم کو بھلائے بیٹھے ہیں
lonely beautiful beauty

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close