Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 3, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

۔۔۔کٹھ پتلیاں ۔۔۔

January 27, 2012 0 1 min read
Zardari
Zardari
Zardari

پاکستان کے معروضی اور جغرافیائی حالات دنیا کے بہت سے دوسرے مما لک سے بالکل مختلف ہیں لہذا پاکستان کے نظامِ حکومت اور اندازِ حکمرانی کا دنیا کے دوسرے ممالک سے موازنہ کرنا دانشمندی نہیں ہے۔ کوئی بھی نظام کسی بھی ملک کی ثقا فتی اور معاشرتی قدروں کے پیمانوں کے اندر رہ کر ہی عمل پذیر ہو سکتا ہے۔ دوسروں کی نقالی سے ترتیب دیا گیا نظام جلد یا بدیر زمین بوس ہو جاتا ہے اور قوم اس کے نتائج سے بہرہ ور نہیں ہو سکتی کیونکہ وہ نظام قوم کی امنگوں اور آرزوئوں کا ترجمان نہیں ہوتا۔ رسم و رواج میلے ٹھیلے ، ثقافتی سرگرمیاں، عادات و اطوار، شعرو سخن،مشاغل اور مذہبی تہوار کسی بھی ملک کے عوام کے مزاج میں ایک خصوصی امتزاج پیدا کر کے ان کیلئے مخصوص اندازِ حکمرانی کی بنیادیں استوار کرتے ہیں لہذا ہر ملک اندازِ حکمرانی میں جداگانہ تشخص کا حامل قرار پاتا ہے۔پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس میں شدت پسند مذہبی رحجانات ایک مضبوط عنصر کی حیثیت رکھتے ہیں اور یہاں کے رہنے والے لوگ مذہب کے بارے میں بڑے جذباتی واقع ہوئے ہیں لہذا مذہب کے نام پر ان کا استحصال کرنا بڑا آسان ہے اور مذہبی جماعتیں اکثرو بیشتر یہی کرتی رہتی ہیں اور گاہے بگاہے حکومت کے خلاف اس ہتھیار کا استعمال بڑی بے دردی سے کرتی ہیں ۔ پنجاب کے سابق گو رنر سلیمان تاثیر اس کی بڑی واضح مثال ہے کہ کس طرح مذہبی جذبات کو بھڑکا کر دن دھاڑے اس کا قتل کروایا گیا۔ جمہوری سفر میں مذہبی جماعتوں کی ناکامی کی وجہ یہ نہیں کہ لوگ مذہب سے بے گانے ہو تے جا ر ہے ہیں بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ امورِ سلطنت ا یسے لوگوں کے ہاتھوں میں نہیں دینا چاہتے جو جدید علوم سے آراستہ نہ ہوں اور اپنے رجعت پسندانہ خیالات کی وجہ سے قوم کو جمود اور تعطل کا شکار بنا کر ان کی ترقی کی راہیں مسدود کر دیں ۔ مذہب کے نام پر سیاسی دوکان چمکانے والے گروہوں کو عوام اس وجہ سے بھی پسند یدگی کی نظر سے نہیں دیکھتے کیونکہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ایسے افراد ان کی شخصی آزادیوں کو مذہب کے نام پر سلب کر کے انھیں غلامانہ سوچ کا خو گر بنا دیں گئے۔پاکستانی عوام کارزارِ سیاست میں عقل و دانش اور سیاسی بصیرت کے حامل افراد کو سرگرم ِ عمل دیکھنا چاہتے ہیں اور شائد یہی وجہ ہے کہ مذہبی قیادتیں عوام کے مقرر کردہ معیار پر پوری نہیں اترتیں اور یوں انتخابات میں انھیں ہزیمت اٹھانی پڑتی ہے ۔مذہبی جماعتوں میں شدت پسندی کا عنصر بھی عوام کو ان سے بد ظن کرنے کا باعث بنتا ہے کیونکہ لوگ معاشرے کی ترقی کیلئے برداشت اور رواداری کو جزوِ لاینفک سمجھتے ہیں جب کہ مذہبی جماعتوں کی اکثریت اس فلسفے پر یقین نہیں رکھتی۔ اپنی تنگ نظری کی وجہ سے وہ زمانے میں ہونے والی ایجادات کو بھی شک کی نظر سے دیکھتی ہے اور ان کے استعمال کے خلاف فتوے جاری کرتی رہتی ہے جسے عوام ترقی اور ارتقاء میں ایک رکاوٹ تصور کرتے ہیں۔ دنیا میں رونما ہونے والے اہم واقعات کے بارے میں ان کے نقطہ نظر سے بھی عوام اختلافِ رائے رکھتے ہیں اور یوں سیاسی میدان میں مذہبی جماعتیں کسی بڑی کامیابی سے محر وم رہتی ہیں۔ مذہبی قیادتوں کو امورِ سلطنت سو نپنا اور ان کا احترام کر نا دو الگ الگ موضوعا ت ہیں۔ پا کستانی عوام علمائے کرام کا بہت احترام کرتے ہیں لیکن امورِ سلطنت ان کے ہاتھ میں دینا مناسب خیال نہیں کرتے کیونکہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ سیاست کی مشکل اور بائونسی وکٹ پر کھیلنا شائد علمائے کرام کے بس کی بات نہیں ہے۔ مذہبی پیشوا ئیت کے ساتھ ساتھ پاکستان میں جاگیرداری، سرمایہ داری اور سرداری نظام بھی ایک ایسی اٹل حقیقت ہے جس نے پاکستان کے محروم طبقات کو اپنے خون آشام پنجوں میں جکڑ رکھا ہوا ہے۔ مذہبی پیشوا ئیت اکثرو بیشتر وڈیروں، جاگیر داروں، سرمایہ داروں اور سرداروں کی معاونت کیلئے تیار رہتی ہے اور اس کا تحفظ بھی کرتی ہے۔ کیونکہ اس کے اپنے مفادات بھی اسی طبقے سے وا بستہ ہوتے ہیں ۔ اونچ نیچ کی دیواریں اور طبقاتی تقسیم پاکستانی معاشرے کی پہچان ہے۔ ذولفقار علی بھٹو نے اس خلیج کو پاٹنے کی بڑی سنجیدہ کوششیں کی تھیں لیکن اپنی بے پناہ کوششوں کے باوجود بھی ذولفقار علی بھٹو نسلی تفاخر کی اس خلیج کو مکمل طور پر نہ پاٹ نہ سکا جس نے معاشرے کو دیمک کی طرح چاٹ کر اسے اندر سے بالکل کھوکھلا کر دیا ہے۔ معاشرہ ذولفقار علی بھٹو سے توقع کر رہا تھا کہ وہ اپنی طلسماتی شخصیت سے تفاخر کی دیواروں کو ملیا میٹ کر دیگا لیکن ایسا ممکن نہ ہو سکا کیونکہ اسی اشرافیہ کے افراد اہم عہدوں پر فائز تھے لہذا اپنی تباہی کے پروانے پر وہ خود کیسے دستخط کر سکتے تھے۔ یہ سچ ہے کہ ذولفقار علی بھٹو نے عوام کو شعور عطا کیا اپنے حقوق کا دراک عطا کیا اور جمہوری جدو جہد کا بڑا بے باک جذبہ عطا کیا لیکن نسلی امتیاز کی مضبوط دیواریں جس پر پاکستانی معاشرہ کھڑا ہے اسے وہ بھی مکمل طور پر ملیا میت نہ کر سکا کیونکہ یہ صدیوں کے قائم شدہ  معاشرے کی وہ سچائیاں ہیں جنھیں ایک ہی  جٹکے میں گرایا نہیں جا سکتا۔اس کیلئے ایک مسلسل جدو جہد اور آگہی کی ضرورت ہے جو عوام میں اس ا حساس کو جا گزین کر دے کہ پاکستانی معاشرے کا سب سے بڑا مسئلہ وہ نسلی امتیاز اور ناہمواری ہے جس نے اسکی ترقی کی ساری  راہوں کو مسدود کر رکھا ہے لہذا تفا خر کی ان دیواروں کا گرنا پاکستان کی ترقی،بقا اور استحکام کیلئے انتہائی ضروری ہے۔
پاکستان میں مارشل لائوں کے تسلسل کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ جا گیر داروں،سرمایہ داروں ،سرداروں، وڈیروں اور مذہبی پیشوائیت کا ایک مخصوص گروہ مارشل لاء کی حمائت میں ہمیشہ سر گرمِ عمل رہتا ہے اور یوں مارشل لاء کو و جہِ جواز عطا کر دیتا ہے۔ کبھی یہی گروہ نو ستاروں والے پرچم تلے مارشل لاء کو خوش آمدید کہتاہے اور کبھی یہ نئی نئی مسلم لیگیں تخلیق کر کے مارشل لاء کی گود میں عافیت تلاش کرتا ہے۔ مارشل لاء کی حمائت کا صرف ایک ہی مقصد ہو تا ہے اور وہ یہ کہ اقتدار کا ہما ہمیشہ انہی کے سر پر آ کر بیٹھے اور وہ اقتدار کی دیوی کے صبح و شام درشن کرتے رہیں۔ معاشرے کا سب سے مضبوط گروہ اور فعال طبقہ مارشل لائی نفاذ پر شاداں و فرحان ہو جا ئے تو معاشرے میں مارشل لاء کی مخالفت کا تصور کمزور پڑ جاتا ہے۔ اگر بات یہی پر رک جا ئے تو شائد پھر بھی قابلِ فہم ہو جا ئے لیکن یہاں پر تو جمہوری حکومت کی بساط لپیٹنے پر مٹھائیاں تقسیم کی جاتی ہیں اور شب خون مارنے والوں کو مسیحا اور نجات دھندہ کہہ کر سروں پر بٹھا لیا جاتا ہے اور مخالفین کا وہ حشر کیا جاتا ہے کہ انسانیت بھی پناہ مانگے۔ پاکستان کی ساری سیاسی جماعتوں میں متذکرہ بالا اشرافیہ گروہ کا قبضہ ہے اور یہی وہ گروہ ہے جو کہ اسمبلیوں، بیو و کریسی اور میڈیا پر بھی قابض ہے لہذا معاشرے کے مضبوط گروہوں کے مارشل لائی نفاذ پر شاداں و فرحان ہو جانے سے مارشل لاء خود ہی معاشرے میں قابلِ قبول بن جاتا ہے ۔ ہر مارشل لاء کے بعد انہی گروہوں نے ہر فوجی حکومت کا ساتھ دے کر اپنے مفادات کا تحفظ کیا۔ مسلم لیگ،جماعت اسلامی، جمعیت العلمائے پاکستان،جمعیت العلمائے اسلام اور دوسری مذہبی تنظیموں کے سرکردہ افراد جنرل ضیاا لحق کے دست و بازو تھے اور جنرل ضیا ا لحق کی کیبنٹ میں ایک سٹوڈنٹ لیڈر وفاقی وزیر امورِ نوجوانان بھی ہوا کرتا تھا جسے آجکل جمہوریت کا سمبل بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔میری اس سے پنجاب یونیورسٹی سے آشنائی تھی لیکن اسکی سوچ اور میری سوچ میں ز مین و آسمان کا فرق تھا لہذا سوچ میں اختلاف کی وجہ سے میرے اس سے کبھی بھی خوشگوار تعلقات ا ستوارنہ ہو سکے۔
پاکستان کے انہی گروہوں نے ہمیشہ مارشل لائوں کو مضبوط کیا اور اس کیلئے شب و روز کام کیالیکن جب محسوس کیا کہ اب فوجی حکمران کی رخصتی کا وقت قریب آچکا ہے تو سب سے پہلے اسے چھوڑ کر نئے آقا کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے اور جمہوری قدروں کے احیا ء کا علم اٹھا کر لوگوں کو دھوکہ دینے کا نیا ڈ ھکوسلہ شروع کر دیتے ہیں ۔ دور جانے کی ضرورت نہیں ہے جنرل پرویز مشرف کے  مارشل لائی دور کو یاد کر لیجئے اور اپنے ذہن پر زور دے کر اس کے سارے چمچوں کو یاد کیجئے جو دن رات جنرل پرویز مشرف کے گن گاتے نہیں تھکتے تھے لیکن آج اقتدار سے اس کی رخصتی کے بعد اس کا نام لینا بھی اپنی توہین سمجھتے ہیں۔کوئی اس کے ریفر ینڈم کی حمائت کر رہا تھا اور کوئی ہر روز ایوانِ صدر میں حاضر ہو کر اپنی وفائوں کا یقین دلا رہا ہوتا تھا۔ آج کل مارشل لاء کے سائے میں پروان چڑھنے والے یہی سیاست دان بڑھ چڑھ کر جمہوریت کا ڈھڈورہ پیٹ رہے ہیں اور خود کو ایساپاک صاف اور اصول پرست انسان بنا کر پیش کر رہے ہیں کہ اصلی پارسائوں کی پارسائی بھی ان کے سامنے ڈھیر ہو جائے۔ان کے بلند بانگ دعووں کے سامنے کس میں مجال ہے کہ کھڑ ا ہو سکے۔ان کی جمہوری جدو جہد پاکستان کا فخر قرار پا رہی ہے اور وہ ایک نئے انقلاب کا علم تھام کر اپنی پاکدامنی کی ایسی تشہیر کر رہے ہیں کہ زمانے کی آنکھیں چندھیا رہی ہیں لیکن سچ تو یہی ہے کہ وہ ایک بے رحم ڈکٹیٹر کے حاشیہ بردار تھے، اس کے جھولی چک تھے اور اس کے حو اری تھے ۔ وہ بے وفائی کی ایک ایسی شرم ناک تصویر تھے کہ انھیں دیکھ کر گن آجائے لیکن کیا کیا جائے کہ آج کل وہ ایک دفعہ پھر انقلابی تحریک کا ہراول دستہ بنے ہوئے ہیں اور خفیہ ہاتھ انھیں ایک دفعہ پھر تھپکیاں دے رہے ہیں کہ گھبرانا نہیں ہم تمھارے ساتھ ہیں اور جس کے ساتھ ہم ہوتے ہیں سبھی اس کے ساتھ سب ہوتے ہیں لہذا تمھاری جیت یقینی ہے بس ثابت قدم بن کر کھڑے ہو جائو ۔ ہماری بیساکھیاں تمھارے اقتدارکی ساری رکاوٹوں کو دور کر دیں گی اور آنے والا اقتدار ہم نے تمھارے نام لکھ دیا ہے بس ہمارے سارے نمک حلایوں کو اپنے گرد جمع کر لو تا کہ ہمیں یقین ہو جائے کہ کٹھ پتلیوں کے تماشے کا کنٹرول ہمارے ہی ہاتھوں میں ہے اور وہ ہمارے اشاروںپر ناچیں گی۔
تحریر :  طارق حسین بٹ (چیر مین پاکستان پیپلز ادبی فورم یو اے ای)

Share this:
Tags:
pakistan salman taseer World zardari پاکستان
vidya ranbir
Previous Post ودیا بالن، رنبیر کپور نے بہترین اداکار کے ایوارڈز لوٹ لئے
Next Post پی او اے الیکشن، قواعد و ضوابط میں تبدیلی کی منظوری
POA

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close