Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
July 27, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

۔۔۔ بھیڑ بکریاں ۔۔۔

March 8, 2012 0 1 min read
Tariq Butt
Tariq Butt
Tariq Butt

ماہِ ربیع الاول کے انوارو تجلیات کی مناسبت سے ایک ایسے واقعے کا ذکر کرنا اپنے لئے سعادتِ دین و دنیا تصور کرتا ہوں جس میں فرمانِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی فصاحت و بلاغت کا ایسا بیش قیمت خزانہ پوشیدہ ہے کہ میں اس پر جتنا غو رو عوض کرتاہوں اتنا ہی حیرت کی اتھا ہ گہرائیوں میں گم ہو جاتا ہوں۔ ویسے تو سرکارِ دو عالم حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سارے فرمان فصا حت وبلا غت کے نادر شاہکار ہوتے ہیں لیکن اس واقعے میں فصاحت و بلاغت کی کیفیت اپنی انتہائوں کو چھو رہی ہے ۔ حنین کی جنگ کے عواقب میں چند ایسے واقعات کا ذکر آتا ہے جو جہاں فکری اعتبار سے بڑے بلند ہیں تو وہاں سوزو گدا ز کی ایک دنیا بھی اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہیں۔ سوزو گداز کا یہ عالم ہے کہ میں قرآنِ کریم کو سال ہا سال سے دجہِ شادابیِ قلب و نگا ہ بنا ئے ہو ئے ہوں لیکن میری کیفیت یہ ہے کہ میں جب بھی غزوہ حنین کے ان مقامات پر پہنچتا ہوں تو بلا ساختہ دل میں جذبات کا طلاطم برپا ہو جاتا ہے جو آنسو بن کر آنکھوں سے ٹپک پڑتا ہے یہ بخیلی ہو گی کہ اگر میں قارئین کو اس میٹھے درد کی لذت میں شامل نہ کروں ۔ واقعہ کچھ یوں ہے کہ حنین کی جنگ میں کفار کی شکست خوردہ فوج طا ئف میں جا کر جمع ہو گئی ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جا کر شہر کا محاصرہ کر لیا۔ بیس دن تک محاصرہ رہا اور جب معلوم ہو گیا کہ کہ کفار کا زور ٹوٹ چکا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم محاصرہ اٹھا کر واپس تشریف لے آئے۔ حنین میں بہت سا مالِ غنیمت ہاتھ آیا تھا ۔ اس کی تقسیم میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ رعائت ملخوظ رکھی تھی کہ قریشِ مکہ میں سے جو لوگ فتح مکہ کے وقت مسلمان ہوئے تھے ان کی تالیفِ قلوب کے لئے انہیں زیادہ حصہ دیاجائے۔

 

واضح رہے کہ تالیفِ قلوب سے مراد رشوت یا لالچ نہیں ہو تا اس سے مقصد یہ ہوتا ہے کہ جن لوگوں نے دین کی خاطر کسی قسم کا نقصان اٹھا یا ہو ان کے اس نقصان کی تلافی کر کے ان کی دل جوئی کا سامان کر دیا جائے اس سے انصار کے بعض افراد کے دل میں غالباْ یہ خیال ابھرا کہ یہ لوگ چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور مہاجرین کے اہلِ قبیلہ اور اعزہ و اقارب ہیں اس لئے انھیں زیادہ مال دیا گیا ہے۔ نبی ِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بحثیتِ امیرِ ملت تقسیمِ غنیمت کے کلی اختیارات حاصل تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فیصلوں کے خلاف کو ئی آواز بلند نہیں ہو سکتی تھی ۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چاہتے تو ایک لفظ سے اس خیال کو ابھرنے سے روک دیتے لیکن یہ مستبدانہ آمریت تصور میں بھی نہیں لائی جا سکتی تھی۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تمام صحابہ کرام کو جمع کیا اور ایک ایسا خطبہ ارشاد فرمایا جو ایک طرف فنِ بلاغت میں اعجاز کا حکم رکھتا ہے تو دوسری طرف ان قلبی تعلقات کو نکھار کر سا منے لا رہا ہے جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو انصار کے ساتھ تھے۔

 

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انصار کو مخاطب کر کے فرمایا۔ کیا یہ سچ نہیں کہ تم گمراہ تھے ۔خدا نے میرے ذریعے تم میں اتفاق و اتلاف پیدا کیا۔ تم مفلس تھے خدا نے میرے ذریعے تمھیں دولت مند کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ فرماتے جاتے تھے اور انصار ایک ایک فقرہ پر کہتے جاتے تھے کہ خدا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا احسان سب سے بڑھ کر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں تم ٹھیک جواب نہیں دے رہے۔ تم یہ جواب دو کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب اور لوگوں نے تمھیں جھٹلایا تو ہم نے تیری تصدیق کی۔ جب لوگوں نے تجھے چھوڑ دیا تو ہم نے تجھے پناہ دی تو مفلس آیا تھا ہم نے ہر طرح کی مدد کی۔ یہ کہہ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرما یا تم یہ کہتے جائو اور میں ایک ایک فقرے پر کہتا جائوں گا کہ تم سچ کہتے ہو ۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے انصار یہ سب سچ ہے لیکن کیا تم یہ پسند نہیں کرو گئے کہ یہ لوگ اونٹ اور بکریاں لے جائیں اور تم محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے گھر لے جائو۔ اب کسے یارائے ضبط تھا ۔ مجمع کی بے ساختہ چیخیں نکل گئیں اور انہوں نے پکار کر کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمانہیں سب کچھ دے دیجئے اور ہمارے لئے صرف محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہی رہنے دیجئے۔

 

سب کچھ خدا سے مانگ لیا تجھ کو مانگ کر۔۔اٹھتے نہیں ہیں ہاتھ مرے اس دعا کے بعد
اکثر کا یہ حال تھا کہ روتے روتے ان کی ہچکیاں بندھ گئیں ۔ اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انھیں سمجھا یا کہ اس رعائت سے کیا مقصود تھا اور یوں ان کے دل کے ساتھ دماغ کو بھی مطمئن کر دیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فیصلہ کس طرح عدل و انصاف پر مبنی تھا۔اسلام میں بات منوائی ہی دل و دما غ کے پورے پورے اطمینان کے ساتھ جاتی ہے اس میں نہ آمرانہ استبداد ہو تا ہے اور نہ ہی خالص جذباتی اپیل۔ اس میں عشق اور زیرکی دونوں کا حسین امتزا ج ہو تا ۔ حنین کے چھ ہزار قیدی ابھی تک محصور تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انتظار کیا کہ ان کے اعزہ و اقارب آئیں اور فدیہ کی بات کی جائے لیکن ان میں سے کوئی نہ آیا تو آپ نے سب کو احساناْ چھوڑ دیا کہ یہی قرآن کا حکم تھا۔

 

چودہ سو سال قبل سیرتِ النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ درخشاں واقعہ پڑھنے کے بعد دل میں یہ تصور ابھرتا ہے کہ وہ مالِ غنیمت جسے سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھیڑ بکریاں کہہ کر دنیاوی محبت کی علامت بنایا تھا وہ اب بھی ہماری زندگیوں پر اپنا تسلط جمائے ہوئے ہے ۔ سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وہ خالص اور سچی محبت جس کے سامنے دنیاوی مال و متاع کی حیثیت ثانوی ہو جا نی چائیے ہماری زندگیوں سے ناپید ہو تی جا رہی ہے۔ ہم بھیڑ بکریوں کو جمع کرنے کیلئے سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت سے دور ہو تے جا رہے ہیں اور اس پر شرمسار بھی نہیں ہوتے۔ زبان سے محبت کے دعوے بے شمار کرتے ہیں لیکن عمل کی میزان میں ان کا کوئی وزن نہیں ہے کیونکہ یہ سب خالی جمع خرچ ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ ہم نے دولت کو اپنا الہ بنا کر اس کی پرستش شروع کر رکھی ہے۔ ہم ما ل و دولت اور لا ل و زرو جواہر کو جمع کرنے میں اتنے مگن ہیں کہ ہم نے کبھی یہ سوچنے کی ز حمت بھی گوارہ نہیں کی کہ سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت ہم سے کس بات کا تقاضا کر رہی ہے۔ ہم بھیڑ بکریاں اکٹھی کرنے میں لگے ہو ئے ہیں اور اس محبت کو جو دین و دنیا کی فلاح اور سرخروئی کی کلید ہے اسے فراموش کر بیٹھے ہیں ۔ اسی لئے تو اقبال نے کہا تھا زبان سے کہہ بھی دیا لا ا لہ تو کیا حاصل۔ دل و نگاہ مسلماں نہیں تو کچھ بھی نہیں۔ باعثِ عبرت ہے کہ ہم آج بھی خالی دعوں پر زندگی کی سا عتیں گزارتے چلے جا رہے ہیں۔ ہمیں احساس تک نہیں کہ روزِ حساب سرکار کی محبت ہی ہماری نجات کا ذریعہ ہو گی یہ بھیڑ بکر یوں کے ریوڑ تو اسی فانی دنیا میں رہ جائیں گئے اور وہاں سرکارِ سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت ہی ہمارا حقیقی سرمایہ ہو گی جس کے حصول کیلئے ہم تساہل سے کام لے رہے ہیں۔

 

مقامِ فکر ہے کہ جس شہ کی حیثیت بالکل ثانوی ہے اسے ہم نے مقصدِ حیات بنا رکھا ہے اور وہ چیز جو ایمان کا درجہ رکھتی ہے اسے ہم نے ثا نوی حیثیت دے رکھی ہے۔ بھیڑ بکریوں کے طمع میں ہم نے دین و دنیا اور آخرت کو دائو پر لگا دیا ہے لیکن پھر بھی ہماری آنکھیں نہیں کھل رہیں اور ہم اندھا دھند اس کنو یں میں گرنے کے لئے تیزی سے بڑھتے جا رے ہیں جس میں ہماری ہلاکت اور بربادی یقینی ہے۔ اقبا ل نے عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عظمتوں کے بارے میں اپنی عمر کے آخری ایام میں ایک انتہائی پر اثر رباعی لکھی تھی اورا س رباعی کے بارے میں اہلِ علم اور اہلِ عشق لوگوں کی متفقہ رائے ہے کہ عشقِ رسول میں اس رباعی سے بہتر رباعی نہیں لکھی گئی یہ رباعی بھیڑ بکریوں کی جگہ اس عشق کا جوہر کھولتی ہے جو ہر مسلمان کا مطمع نظر ہو نا چائیے تاکہ ہماری زندگیوں میں ایسا نقلاب آسکے جس سے یہ دنیا جنت نظیر بن جائے۔ افسوس ہم نے عشق کی آگ کو ٹھنڈا کر دیا ہے اور دولت کی طمع اور لالچ کو حدود نا آشنا کر دیا ہے۔بے حدو حساب دولت اس محبت پر غا لب آتی جا رہی ہے جو ہر مسلمان کا مطمع نظر ہو نا چائیے رباعی کو پڑھئے اور وجد میں آجا ئیے کہ اس میں عشق کے ایک ایسے افق کی بات کی گئی ہے کہ اگر اس کی ہلکی سی جھلک بھی ہماری زندگیوں میں موجود ہو جائے تو پھر یہ جہاں ایک ایسے جہاں میں بدل جائے جس میں محبت، اخوت ، انصاف، بھائی چارے اور احترامِ انسانیت کے اعلی ا و ارفع جذبات ہوں، جس میں ہر سو محبت کے زمزمے بہہ رہے ہوں اور جس پر انسانیت فخرو ناز کر رہی ہو۔
تو غنی از ہر دو عالم من فقیر روزِ محشر عذر ہائے من پذیر

گر تو می بینی حسابم نا گزیر از نگاہِ مصطفے پنہاں بگیر
تحریر : محمد اعظم عظیم اعظم

Share this:
Tags:
Islam muslims TARIQ BUTT ربیع الاول
zakham
Previous Post دل کے ارمان مرتے مرتے جاتے ہیں
Next Post مستئی حال کبھی تھی کہ نہ تھی بھول گئے
Aatish e ishq

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close