Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
June 11, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

۔۔۔ علیحدگی کی جنگ ۔۔۔

December 26, 2011 0 1 min read
Tariq Butt
Tariq Butt
Tariq Butt

ذوالفقار علی بھٹو پی سی او کی لٹکتی ہوئی تلوار کی تلخ حقیقت سے بخوبی آگاہ تھے لہذا انھوں شیخ مجیب الرحمان سے مذاکرات کا راستہ اپنانے کا فیصلہ کیا۔ مجھے بہت سے ایسے جلسے سننے کا اعزا حاصل ہے جہاں پر عوامیلیگ کے چھ نکات پر بڑی لمبی چوڑی تقاریر ہو تی تھیںاور ا ن نکات کو  چیر پھاڑ کر کے اصلی حقائق تلاش کرنے کو کشش کی جاتی تھی۔ لیکن چونکہ مغربی پاکستان میں شیخ مجیب الرحمان کے خلاف ایک خاص فضا تیار ہو چکی ہو ئی تھی لہذ مغربی پاکستان میں شیخ مجیب الرحمان کی شخصیت کو کوئی بھی قبول کرنے کو تیار نہیں تھا۔مغربی پاکستان کے عوام کے ذہنوں میں شیخ مجیب الرحمان کے بارے میں بڑے سخت تحفظات تھے اور وہ اسے ملک دشمن قرار دیتے رہتے تھے لہذ مغربی پاکستان کے عوام کے بھر پور مینڈیٹ کے بعد ذولفقار علی بھٹو کیلئے بھی شیخ مجیب الرحمان کیلئے نرم گوشہ رکھنا ممکن نہیں تھا۔ آئین بنانے کیلئے دو تہائی اکثریت کی ضرو رت ہو تی ہے اور شیخ مجیب الرحمان کے پاس سادہ اکثریت تو ضرور تھی لیکن اس کے پاس آئین بنانے کی مطلوبہ تعداد ہر گز موجود نہیں تھی ۔آئین بنانے کی کلید ذولفقار علی بھٹو کے پاس تھی کیونکہ پی پی پی پارلیمنٹ کی دوسری بڑی جماعت تھی اور اس کی حمائت کے بغیر آئین بنانا ممکن نہیں تھا۔ مغربی پاکستان کی ساری قابلِ ذکر جماعتیں شیخ مجیب الرحمان کے چھ نکات کی سخت مخالف تھیں اور اسے غدارِ وطن کے نام سے پکارتی تھیں۔ مغربی پاکستان کی ایک جماعت نیشنل عوامی پارٹی (نیپ)نے شیخ مجیب الرحمان کی حمائت کا اعلان کیا تھا کیونکہ ان کی نظر میں علاقائی سیاست کے شجر سے بر گ و بار پانے کے امکانات بہت زیادہ زر خیز تھے اور وہ اپنی کھلی حمائت کے بدلے پختونستان کے دیرینہ مطالبے کو ثمر بار ہوتے ہوئے دیکھ رہی تھی لیکن اس کے ممبران کی تعداد انتہائی قلیل تھی جو دو تہائی اکثریت بنانے کی قدرت نہیں رکھتی تھی۔ پاکستان مسلم لیگ کے مختلف دھڑے شیخ مجیب الرحمان کے سخت ناقدین میں سے تھے اور شیخ مجیب الرحمان کے چھ نکات کو ملک توڑنے کی سازش قرار دیتے تھے مذ ہبی جماعتیں تو چھ نکات کی وجہ سے مشرقی پاکستان میں شیخ مجیب الرحمان کے ساتھ پہلے ہی بر سرِ پیکار تھیں لہذا ان کا شیخ مجیب الرحمان کا ساتھ دینا بعید از قیاس تھا۔
آئین ایک ایسی مقدس دستا ویز ہوتی ہے جسے سب نے مل کر تیار کرنا ہوتا ہے کیونکہ دستور کسی جماعت کا نہیں ملک کا د ستور ہوتا ہے لہذا پارلیمنٹ کی ساری جماعتوں کا اس پر اتفاقِ رائے ہونا ضروری ہوتا ہے۔١٩٧٣ کا متفقہ آئین بنانے کیلئے کئی سال لگ گئے حالانکہ پاکستان پیپلز پارٹی کو ایوان میں دو تہائی اکثریت حاصل تھی اورجماعتی آئین بنانا س کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا لیکن اس نے ایسا نہیں کیا بلکہ اتفاقِ رائے سے ایسا آئین تشکیل دیا جو آج بھی نافذالعمل ہے۔یہ ناممکن تھا کہ ایک سادہ اکثریت رکھنے والی عوامی لیگ مقررہ ٦٠ دنوں میں آئین سازی  کے مراحل با آسانی طے کر لیتی یہی وجہ ہے کہ ذولفقار علی بھٹو اسمبلی کے اجلاس سے قبل شیخ مجیب الرحمان کے ساتھ مل کر آئین کے بنیادی خدو خال پر اتفاقِ رائے پیدا کرنا چاہتے تھے تاکہ اسمبلی میں جانے سے قبل ا ختلافی امور پر اتفاقِ رائے پیدا کر لیا جائے اور یوں اسمبلی کے قتل کی واردات سے بچا جا سکے۔ چھ نکات پر چونکہ کسی بھی قابلِ ذکر جماعت کا اتفاق نہیں تھا لہذا آئین کا مدون ہونا بعید ازقیاس تھا۔ اس بات کو ایک اور انداز سے یوں بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ موجودہ اسمبلی میں پاکستان پیپلز پارٹی اور اس کے اتحادیوں کو واضح اکثریت حاصل ہے لیکن اٹھارویں اور انیسویں ترمیم کی منظوری کیلئے اسے ایک سال سے زیادہ کا عرصہ لگ گیا لہذا یہ کیسے ممکن تھا کہ پاکستان کا متفقہ آئین ساٹھ دنوں کی قلیل مدت میں مدون ہو جاتا ۔ حقیقت یہ ہے کہ فوجی جنتا پاکستان میں اپنے اقتدار کو دوام دینا چاہتی تھی اور اقتدار سیاسی قوتوں کے حو الے نہیں کرنا چاہتی تھیں جس کیلئے انھوں نے ٦٠ دنوں کی تلوار لٹکا رکھی تھی۔ جنرل یحی خان ہر حال میں صدارت کے منصب پر فائز رہنا چاہتے تھے اور یہ تلوار اسی مقصد کے پیشِ نظر لٹکائی گئی تھی جب کہ سیاسی قوتیں کسی جنرل کی جگہ سیاسی قائدکو اس منصب پر فائز دیکھنے کی آرزو مند تھیں۔ اقتدار سے فوجی جنتا کی مسلسل دلچسپی ہی اس سانحے کی اصل بنیاد ہے اور اس بنیاد کی پہلی اینٹ اس دن ر کھی گئی تھی جب جنرل ایوب خان نے ملک پر پہلا مارشل لاء نافذ کیا تھا۔حد تو یہ کہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد بھی جنرل یحی خان اقتدار سیاست دانوں کے حو الے کرنے کیلئے تیار نہیں تھا وہ تو اب بھی اپنی صدارت کا خواب دیکھ رہا تھا لیکن جی ایچ کیو میں دوسرے فوجی جرنیلوں کی بغاوت نے اسے مجبور کیا کہ وہ اقتدار مغربی پاکستان کی سب سے بڑی جماعت کے قائد ذولفقار علی بھٹو کے حوالے کردے تا کہ باقی ماندہ پاکستان کو بھارتی یلغار سے بچانے کا اہتمام کیا جا سکے۔ سیاست میں مذاکرات کی اہمیت سے کوئی بھی ذی شعور انسان انکار نہیں کر سکتا یہی وجہ ہے کہ ذولفقار علی بھٹو نے آئین سازی کی مشکل صورتِ حال پر قابو پانے کیلئے ڈھاکہ جانے کا فیصلہ کیا تا کہ کسی طرح سے شیخ مجیب الرحمان کو چھ نکات میں لچک پیدا کرنے کیلئے آمادہ کر سکیں لیکن ایسا ممکن نہ ہو سکا کیونکہ شیخ مجیب الرحمان نے ذولفقار علی بھٹو کی پیشکش کو ٹھکرا دیاتھا۔ شیخ مجیب الرحمان پر بھارت کا شدید دبائو تھا کہ وہ آزاد بنگلہ دیش کے قیام کا اعلان کریں۔ شیخ مجیب الرحمان کی ساری توجہ اب اپنے اسی ھدف کے حصول پر مرکوز تھی اور وہ کسی کی بات کو در خورِ اعتنا نہیں سمجھ رہا تھا۔ اتنی واضح جیت کے بعد ان کے دماغ میں اس طرح کی سوچ کا ابھرنا ایک فطری ردِ عمل تھا کیونکہ جو وعدے اس نے بنگالی عوام کے ساتھ کئے تھے اور جن کی بنیاد پو عوام نے اسے بے پناہ حمائت سے نوازا تھا اس سے انحراف کرنا شیخ مجیب الرحمان کیلئے بھی ممکن نہیں تھا مذ اکرات کی ناکامی میں ایک اہم عنصر یہ بھی تھا کہ شیخ مجیب الرحمان کی بے مثال کامیابی نے اس کے دما غ کو ساتویں آسمان پر پہنچا دیا تھا۔ ذولفقار علی بھٹو نے بڑی کوشش کی کہ کسی طرح سے چھ نکات پر کوئی مفاہمتی راہ نکل آئے لیکن ایسا ممکن نہ ہو سکا ۔ مغربی پاکستان والوں کا چھ نکات کا نام سن کرخون کھول جاتا تھا اور پاکستان پیپلز پارٹی نے مغربی پاکستان میں ہی فتح حاصل کی تھی لہذا وہ اپنی جیت سے بھی بے وفائی کی مرتکب نہیں ہو سکتی تھی۔پی پی پی کا یہ استدلال تھا کہ چھ نکات پورے پاکستان کو آزاد ریاستوں میں تقسیم کرنے کی سازش ہے لہذا وہ اس کا حصہ نہیں بنناچاہتی۔وہ چھ نکات کی مخالف تھی کیونکہ پاکستان کی محبت اس کی مخالفت کا تقاضہ کر رہی تھی ۔ ذولفقار علی بھٹو نے مفاہمت کی فضا پیدا کرنے کیلئے چھ نکات میں سے چند نکات کو تسلیم کرنے کا اعلان بھی کیا لیکن شیخ مجیب الرحمان اپنی جیت کے نشے میں اتنا مدھوش تھا کہ اس کے کان سچائی کی آواز سننے ،اس کا دماغ سچائی کا ادراک کرنے اور اس کی آنکھیں زمینی حقائق کو دیکھنے سے قاصر تھیں لہذا اس نے اس پیشکش کو کوئی اہمیت نہ دی اور اپنی دھن میں آگے بڑھتا چلا گیا۔
جنرل یحی خان نے انتخابات کے چند ہفتوں بعد ڈھاکہ میں آئین ساز اسمبلی کا پہلا اجلاس مارچ کے مہینے میں بلانے کا اعلان کر دیا لیکن ذولفقار علی بھٹو نے اس اجلاس کا بائیکاٹ کر دیا کیونکہ بھٹو صاحب کا خیال تھا کہ چھنکات کی روشنی میں آئین ساز اسمبلی کا یہ اجلاس پاکستان کی یکجہتی کے لئے سنگین خطرہ ہے ۔ ذولفقار علی بھٹو نے اپنے مو قف کے حق میں عوامی رائے عامہ کو ہموار کرنے کیلئے اقبال پارک لاہور میں ایک تاریخی جلسے کا اہتمام کیا ۔ مجھے اس جلسے کو سننے کا شرف حاصل ہے۔ ذولفقار علی بھٹو نے کہا کہ جو ڈھاکہ جائیگا اس کی ٹاگیں توڑ دی جائیں گی کیونکہ یہ اجلاس پاکستان کے حصے بخرے کر نے کی سازش ہے ۔ ذولفقار علی بھٹو نے ارکانِ اسمبلی کو وارننگ دی کہ وہ ایک طرف کا جہاز کا ٹکٹ لے کر ڈھاکہ جائیں کیونکہ جو اس مجوزہ اجلاس میں شرکت کیلئے ڈھاکہ جائے گا اسے واپس نہیں آنے دیا جائے گا۔ ذولفقار علی بھٹو نے ایک بہت لمبی چوڑی تقریر کی لیکن انکی تقریر کے آخری الفاظ اتنے جذباتی تھے کہ اتنے سال گزرنے کے باوجود بھی میں انہیں فراموش نہیں کر پایا ۔ ذولفقار علی بھٹو نے بڑے درد آمیز لہجے میں کہا تھا کہ اے راوی کی لہرو ،اے بادشاہی مسجد کے مینارو ۔ اے شاہی قلعے کی دیوارو ، اے زندہ دلانِ لاہور یا د رکھنا ہم مینارِ پاکستان کو کبھی بھی یادگارِ پاکستان نہیں بننے دیں گئے۔
خوف و ہراس کی اس فضا میں جنرل یحی خان نے مارچ کا اجلاس ملتوی کر دیا تاکہ حالات کی بہتری کیلئے نئے امکانات تلاش کئے جا سکیں ۔ شیخ مجیب الرحمان کیلئے اسمبلی کا التوا کسی د ھماکے سے کم نہیں تھا لہذا عوامی لیگ نے گھیرائو جلائو کی تحرییک شروع کر دی اور آزاد بنگلہ دیش کا باقاعدہ اعلان کرکے چھ نکات کو عملی جامہ پہنانے میں جٹ گئے ۔مارچ  ١٩٧١ میں جنرل یحی خان نے مشرقی پاکستان کی بدلتی صورتِ حال کے پیشِ نظر فوجی اپر یشن کا حکم صادر کر دیا ۔بھارت پہلے ہی ایسے موقع کی تلاش میں تھا۔ فوجی اپریشن کے بعد عوامی لیگ کے سارے شدت پسند کارکن بھارت فرار ہو گئے اور بھارت نے انھیں اسلحے سے لیس کر کے مکتی با ہنی کے نام سے آزادی کی جنگ لڑنے والے دستوں کو مسلح کرنا شروع کر دیا۔ مکتی باہنی اور پاکستانی فوج کا آمنا سامنا ہی آزادبنگلہ دیش کے قیام کی پہلی اینٹ تھی اور پھر اس تصادم میں روز بروز اضافہ ہو تا چلا گیا۔ بنگالی پاکستانی فوج سے نفرت کرنے لگے اور بھارتی فوج کی محبت کے گیت گانے لگے۔ بھارت نے اس موقع سے بھر پور فائدہ اٹھا کر ایسی من گھڑت کہانیاں تخلیق کیں جس میں پاکستانی فوج کے مظالم کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا اور پوری دنیا میں اس کی تذلیل کی گئی ۔آبرو ریزی ، قتل اغوا اور تشدد کے واقعات روزمر کا معمول بن گئے لیکن ان سارے واقعات کا الزام پاکستانی فوج کے سر تھوپ دیا گیا تا کہ بنگالیوں کی نفرت کو ہوا دی جا سکے حالانکہ سچ یہ تھا کہ ان سب واقعات کے پیچھے بھارتی ایجنٹ تھے جو ایسے واقعات کو جنم دے رہے تھے تا کہ پاک فوج کے خلاف بنگالیوں کی نفرت کو شدید کیا جا سکے حالات دن بدن بد سے بد تر ہو تے چلے گئے اور پاکستانی فوج مشکلات میں گرتی چلی گئی۔ جب معاملات بالکل ہاتھ سے جاتے ہوئے محسوس ہوئے تو پھر جنرل یحی خان نے جنرل ٹکا خان کو مشرقی پاکستان بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ جنرل ٹکا خان نے  آزاد بنگلہ دیش کی تحریک کو قوت سے کچلنے کی بڑی کوشش کی لیکن بہت دیر ہو چکی تھی لہذا وہ اس میں کامیاب نہ ہو سکے۔ اب یہ جنگ بنگالیوں اور پاکستانی فوج کے درمیان نہیں تھی بلکہ یہ جنگ بھارت اور پاکستان کے درمیان تھی اور عوامی حمائت کے بغیر بھارتی فوج کا مقابلہ کرنا پاکستانی فوج کیلئے ممکن نہیں تھا۔ مسلم لیگ ، جماعت اسلامی اور دوسری مذہبی جماعتوں کے کارکن فوجی حمائت کا مظاہرہ کر رہے تھے لیکن ان کی طاقت دن بدن دم توڑتی جا رہی تھی۔ا لبدر اور ا لشمس تنظیموں کے ہزاروں کارکن مکتی با ہنی اور عوامی لیگ کے مسلح کارکنوں کے ساتھ کھلی جھڑ پوں کا منظر پیش کرتے تھے اور انھیں پاک فوج پر حملوں سے روکنے میں اپنا کردار ادا کر رہے تھے ۔بنگلہ دیش کے کیمپوں میں جو لاکھو ں لوگ مہاجرین کی زندگی بسر کر رہے ہیں ان میں ا کثریت انہی لوگوں کی ہے جنھوں نے عوامی لیگ اور مکتی با ہنی کے خلاف مزا حمت کی تھی۔ان لوگوں کی اکثریت کا تعلق مسلم لیگ اور مذہبی جماعتوں سے تھا۔پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے ایک وقت میں کیمپوں میں مقیم ان افراد کی ایک خاص تعداد کی پاکستان میں آمد کو ممکن بنایا تھا لیکن بعد میں ایک لسانی تنظیم کے وجود پذیر ہونے اور ان سارے افراد کے سندھ میں آبا د ہو جانے کی روش نے کیمپوں سے ان افراد کی وطن واپسی میں ر کا وٹیں کھڑی کر دیں اور یوں لاکھوں مہاجرین آج بھی کیمپوں میں پا کستا نی ہونے کی سزا بھگت رہے ہیں۔ کراچی میں لسانیت کی بنیادوں پر کشت و خون نے کیمپوں میں مقیم ان افراد کی وطن واپسی میں مزید مشکلات کھڑی کر دی ہیں کیونکہ کچھ حلقے یہ خیال کرتے ہیں کہ کیمپوں میں مقیم ان افراد کی واپسی سے لسانیت کی یہ جنگ شدید ہو جائے گی اور ایک مخصوص جماعت کی جڑیں ایک خاص صوبے میں مزید مضبوط ہو جائیں گی جو کہ انھیں کسی حال میں بھی گوارہ نہیں ہے۔
تحریر:  طارق حسین بٹ(چیرمین پاکستان پیپلز ادبی فورم یو اے ای )

Share this:
Tags:
pakistan TARIQ BUTT zulfiqar ali bhutto ذوالفقار علی بھٹو
karachi
Previous Post سرجانی ٹاؤن میں لڑکیوں پر تیزاب پھینکنے والا ملزم گرفتار
Next Post لاہور :بجلی کی لوڈ شیڈنگ میں اضافہ ہوگیا
load shedding

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close