Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 4, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

۔۔۔ غداری ۔۔۔

November 25, 2011 0 1 min read
Tariq Butt
Tariq Butt
Tariq Butt

پاکستانی سیاست میں سنسنی خیزی ہمیشہ سے ہی اسکی پہچان رہی ہے لیکن آزاد میڈیا نے اس سنسنی خیزی میں جو نئے رنگ بھرے ہیں وہ بیان سے باہر ہیں۔ پلک جھپکنے میں الزامات کا طومار کھڑا کر د ینا ا ن کیلئے معمولی سی بات ہے اور ستم بالا ئے ستم یہ ہے کہ اپنے خود ساختہ الزامات کی بنیادوں پر مخالفین کو مجرموں کی صف میں کھڑا کرنا ان کی صحافتی فن کاری کا نقطہ کمال بھی ہے ۔بے گناہوں کو گناہ گار اور گناہ گاروں کو معصوم بنانے کا فن کوئی ان سے سیکھے ۔ مجھے نہیں معلوم کے میڈیا کی موجودہ روش پاکستان کو کہاں پر لے جائیگی لیکن اتنا بہر حال طے ہے کہ پاکسان کی سلامتی، ترقی اور استحکام اور اس سے متعلقہ خفیہ معاملات اور دستا ویز پر جس بر جستگی اور ڈھٹائی سے مکالمہ پاکستانی میڈیا پر دکھایا جاتا ہے اس سے جگ ہسا ئی کے سوا کچھ بھی ہاتھ نہیں آتا۔ جب انسان خود ہی اپنی تذلیل پر اتر آئے اور خود کو برہنہ کرنے کے شوق میں مبتلا ہو جائے تو کو ئی اس کی مدد نہیں کرسکتا۔ جگ ہسائی کے ساتھ ساتھ رسوائی بھی مقدر بنتی جاتی ہے اور ایسا غیروں کے ہاتھوں سے نہیں بلکہ ہمارے اپنے ہی کمالات کا شاخسانہ ہوتا ہے۔ ٹی وی اینکرز کو اس بات سے کوئی دلچسپی نہیں کہ ان کی اسطرح کی موشگافیوں سے ہمارا عالمی برادری میں کیا مقام ہو گا اور ہم دنیا کو کیا منہ دکھائیں گئے انھیں اگر کوئی دلچسپی ہے تو اس چیز سے کہ ان کے فرمودات کیا رنگ دکھاتے ہیں اور وہ ہر چیز سے بے نیاز اپنے ریٹنگ کے مشن میں جٹے رہتے ہیں ۔ عوام کو حالات و واقعات سے باخبر رکھنے کا نعرہ ان کے اس اندازِ فکر کا وہ بنیادی پتھر ہے جس پران کی سنسنی خیزی کی پر شکوہ عمارت کھڑی ہوتی ہے۔ باعثِ حیرت ہے کہ با خبری کے جنون میں مبتلا سنسنی خیز میڈیا کچھ دنوں کے بعد انتہائی اہم خبر کو یوں نظر انداز کر دیتا ہے جیسے ایسی خبروں کا کبھی کوئی وجود تھا ہی نہیں ۔ سنسی خیزی اور مقصدیت دو الگ الگ شعبے ہیں اور پا کستانی میڈیا مقصدیت کا نہیں سنسنی خیزی کا قائل ہے اور سنسنی خیزی میں سکینڈلز اور الزامات کی اہمیت ہمیشہ مسملمہ ہوتی ہے لہذا میڈیا ایسی ہی خبروں کی ٹو میں لگا رہتا ہے جس میں الزامات اور سکینڈلز کی بھر مار ہو تاکہ عوام کی توجہ اور ہمدردیوں کو حاصل کیا جا سکے اور اپنے ٹی وی چینل کی ریٹنگ کو گرنے سے بچا یا جا سکے۔ ان کی اس سوچ کا ملکی سا لمیت پر کیا اثر پڑے گا یہ ان کی دردِ سری نہیں ہے۔
پاکستانی میڈیا نے آجکل سفیرِ پاکستان حسین حقانی کو اپنے نشانے پر رکھا ہوا ہے اور اس کے خلاف ایک ایسی مہم چلائی جا رہی ہے جس میں اسے ایسے شخص کے روپ میں پیش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جس نے افواجِ پاکستان اور آئی ایس آئی کے خلاف میمو لکھوا کر وطن سے غداری کی ہے لہذا اس پر غداری کا مقدمہ قائم کر کے اسے سزا دی جانی ضروری ہے تاکہ دوسرے اس سے عبرت حاصل کریں ۔اس میمو کے بارے میں مزید واضح کر دوں کہ اس میمو کو دو مئی کو مائک مولن کو لکھا گیا تھا لیکن موجودہ سیاسی مصلحتوں کے پیشِ نظر اسے اب یکا یک منظرِ عام پر لایا گیا ہے اور اس کا رخ بھی ایوانِ صدر کی جانب ہے ۔اسٹیبلشمنٹ نے ہمیشہ اپنے نمک خواروں کو جمہوری حکومتوں کے خلاف استعمال کیا ہے اور اس دفعہ قرعہ فال منصور اعجاز کے نام نکلا ہے اور اسے موجودہ حکومت کو بدنام کرنے اور اس کی حب الوطنی پر الزامات لگانے کے کام پر معمور کیا گیا ہے۔ منصور اعجاز کاکام اتنا ہی ہے کہ اس نے یہ شہادت دینی ہے کہ اس نے یہ میمو سفیرِ پاکستان حسین حقانی کے کہنے پر لکھا تھا اور سفیرِ پاکستان حسین حقانی کو صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے میمو لکھنے کی یہ اہم ذمہ داری سونپی تھی کیونکہ حسین حقانی نے ان خیالات کا اظہار خود مجھ سے ٹیلیفون پر کیا تھا ۔ منصور اعجاز نے یہ انکشاف بھی کیا ہے کہ میرے ایک استفسار پر سفیرِ پاکستان حسین حقانی نے مجھے بتا یا تھا کہ اس میمو کو لکھوانے میں اسے بگ باس کی تائید حاصل ہے لہذا غداری کا مقدمہ بگ باس ( صدرِ پاکستان آصف علی زرداری) کے خلاف بھی قائم ہونا چائیے کیونکہ آصف علی زرداری کی پشت پناہی کے بغیر سفیرِ پاکستان حسین حقانی ایسا میمو لکھنے کا رسک نہیں لے سکتے تھے۔ میں ٹیلیویژن پر ٹاک شو دیکھ رہا تھا جس میں اس بات پر زور دیا جا رہا تھا کہ جو کچھ اس میمو میں لکھ گیا ہے اور جس طرح کی یقین دہانیاں امریکہ کو کروائی جا رہی ہیں وہ حسین حقانی کے بس میں نہیں ہیں اور جو چیز اس کے بس میں نہیں ہے اسے امریکی احکام تک پہنچانے کی کوئی تُک نہیں بنتی لہذا ثابت ہوا کہ اس میمو کو کسی ایسے شخص نے لکھوایا ہے جو بڑے فیصلے کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔ حسین حقانی چونکہ صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کے انتہائی قابلِ اعماد ساتھیوں میں سے ہیں لہذا اسے صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے کہا تھا کہ وہ امریکی حکام کو اس طرح کی یقین دہانی کروائیں لہذا غداری کے اصل مجرم  صدرِ پاکستان آصف علی زرداری ہیں لہذا ان کے خلاف قانون کو حرکت میں آنا چائیے۔یاد رکھیں سچ وہی ہو گا جو منصور اعجاز اپنی زبان سے ادا کرے گا اورر منصور اعجاز وہی بولے گا جو اسے آئی ایس آئی بولنے کے لئے مجبور کرے گی اور آخری فیصلہ وہی ہو گا جو آئی ایس آئی چاہے گی ۔
موجودہ صورتِ حال کو سمجھنے کیلئے ہمیں ٥ جولائی ١٩٧٧ کے واقعات کی طرف رجوع کرنا ہو گا کیونکہ اس کے بغیرموجودہ سازش کو سمجھا نہیں جا سکتا ۔ پانچ جولائی ١٩٧٧ کو جنرل ضیا لحق نے اقتدار پر غا صبانہ قبضے کے بعد ذولفقار علی بھٹو کو اپنے راستے سے ہٹانے کیلئے ایک بین الا قوامی سا زش کا جال بھنا اور اس کیلئے ایف ایس ایف کے چیف مسعود محمود کا انتخاب کیاگیا۔ ذولفقار علی بھٹو کے خلا ف قتل کی ایک پرانی ایف آئی آر کو از سرِ نو زندہ کیا گیا اور ذولفقار علی بھٹو کو اس میں نامزد کر کے اس کے خلاف قصقری کے قتل کی کاروائی کا آغاز کیا گیا۔مسعود محمود کو قتل کے اس مقدمے میں وعدہ معاف گواہ بنا یا گیا۔پولیس کے پانچ دوسرے اعلی عہدیداروں کو بھی اس سازش میں شریک کیا گیا لیکن انھیں یہ ضمانت دی گئی تھی کہ انھیں سزا سنائے جانے کے بعد معافی دے کر پھانسی سے بچا لیا جائے گا۔ انھوں نے جنرل ضیا الحق کے حکم پر اقبالِ جرم بھی کیا اور اس بات کی شہادت بھی دی کہ قصوری کا قتل ذولفقار علی بھٹو کے احکامات پر ہوا تھا۔پولیس کے ان سارے افسران کو اس بات کا یقین دلایا گیا تھا کہ ذولفقار علی بھٹو پر سزاکے بعد ان کی رحم کی اپیلیں منظور کر لی جائیں گی اور یوں انھیں کسی قسم کی کوئی سزا نہیں ہو گی اور وہ باعزت بری ہو جائیں گئے لیکن ہوا بالکل اس کے بر عکس اور ان سارے پولیس افسران کو بھی ذولفقار علی بھٹو کے ساتھ ہی تختہ دار پر کھینچ دیا گیا تھا تاکہ دنیا کو یہ تاثر دیا جا سکے کہ جنرل ضیا لحق بڑا ا نصاف پسند شخص ہے اور وہ کسی سے بھی رو ر عائت نہیں کرتا۔اگر جنرل ضیا لحق پانچ پولیس افسران کی اپیلیں منظور کر لیتا تو پھر اس پر عالمی دبائو بڑھ سکتا تھا کہ وہ ذولفقار علی بھٹو کی جان بخشی کی اپیل پر اس کی سزائے موت بھی منسوخ کرے لہذا نہ رہے با نس نہ بجے بانسی کے مصداق اس نے سب کو موت کی وادی میں دھکیل کر سارے ثبوتوں کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ختم کر دیا۔ مسعود محمود کو امریکہ میں گمنام زندگی میں دھکیل دیا گیا تھا اور اب کوئی ایسا ثبوت باقی نہیں بچا تھا جو جنرل ضیا لحق کی سفاکیت کا بھانڈا پھوڑ سکتا ۔ راوی چین ہی چین لکھ رہا تھا اب اسے کسی بات کا ڈر نہیں تھا لیکن وہ لہو جوآستین پر لگا رہ گیا تھا وہ تو پکار پکار کر کہہ رہا تھا کہ قاتل جنرل ضیا الحق ہے۔ جب تمام معاملات حسبِ منشا طے پا گئے تو نیلی چھتری والے نے جنرل ضیا الحق کو اپنے پاس بلانے کا فیصلہ کرلیا تو اسکی ساری تد بیریں دھری کی دھری رہ گئیں اور کوئی بھی اسے موت سے بچا نہ سکا۔ خدا نے اسے عبرت کا نمونہ بنا دیا لیکن اقتدار کی خا طر جھوٹ کا کھیل پھر بھی جاری ہے۔
پاکستان کی عدلیہ کے ججز بھی اس سازش میں برابر کے شریک تھے۔ ان سے اس بات کا حلف لیا گیا تھا کہ وہ ہر حال میں ذولفقار علی بھٹو کو سزائے موت دیں گئے۔ ، عدلیہ کے ججز نے ایسا ہی کیا اور یوں ایشیا کے ذہین و فطین سیاستدان ذولفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل عمل پذیر ہوا۔ مٹھا ئیاں بانٹی گئین بھنگڑے ڈالے گئے اور جشن منائے گئے کہ ایک قاتل اپنے منطقی انجام کو پہنچا۔پاکستان کی ساری مذہبی قیادت بھی اس سازش میں شریک تھی ۔حیرت ہوتی ہے کہ خانہ کعبہ کی دیواروں سے لپٹ لپٹ کر رونے والے، عشقِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دعوی کرنے والے، درودو سلام کی محفلیں سجانے والے، تسبیح ، نماز روزے اور درودو سلام میں اپنے شب و روز گزارنے والے علما ئے کرام بھی جھوٹ کے علمبردار بن جائیں گئے ۔سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روضہ مبارک کے روبرو تو وہ سچ کا ساتھ دینے اور جھوٹ کی بیخ کنی کا وعدہ کرتے ہیں لیکن ذاتی مفادات کی خا طرسرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کیا گیا وعدہ بھی فراموش کر دیتے ہیں اور اس گروہ میں شامل ہو جاتے ہیں جن کا مطمع نظر دنیاوی مفادات کا حصول ہو تا ہے۔اگر اپنے وقت کے چند جید علما نے بھی اپنے ایمان کو مفادات کے چند ٹکڑوں کے عوض بیچ دیا تھا تو پھر سچ کے ساتھ کھڑا رہنے کیلئے کیا فرشتے آسمان سے اتریں گئے ۔ اللہ ہو کا ورد اور سینے پر اسمِ محمد ۖ کی پھونکیں اس وقت بے اثر ہو جاتی ہیں جب سچائی کی بجائے جھوٹ کا ساتھ دیا جاتا ہے اور یہی سب کچھی مولائیت نے کیا تھا اور ایک بے گناہ کو سرِ دار کھینچ کر اپنے مفادات کے تحفظ کو یقینی بنا یا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اب کوئی بھی ان کی کہی ہوئی باتوں اور ان کے دعووں کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہے کیونکہ ان کے ہر عمل کے پیچھے ان کے ذاتی مفادات کار فرما ہو تے ہیں۔ حیات کے رازدن علامہ اقبال نے اس سارے فلسفے کو ایک شعر میں جس جامعیت اور خوبصورتی سے بیان کیا ہے جی نہیں چاہتا کہ اس سے آپ کو محروم کروں۔
یہ ذکرِ نیم شبی یہ مراقبے یہ سرور۔۔تیری خودی کے نگہبان نہیں تو کچھ بھی نہیں
سچائی کو قتل کرنا کسی بھی انسان کے لئے ممکن نہیں ہوتا ۔ سچائی ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔ ذولفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل ہوا لیکن اس کے قاتل خود پکار اٹھے کہ ہم نے ذولفقار علی بھٹو کے قتل کا فیصلہ دبائو میں کیا تھا ۔ سچ تو یہی ہے کہ سچ وقت کی کوکھ سے خود بخود جنم لیتا ہے اور اپنی حقانیت کی گواہی دے جاتا ہے۔ ذولفقار علی بھٹو کا قتل بھی ایسی ہی سچائی تھی جسے فوجی جرنیل عدلیہ اور مولائیت سمجھنے سے قاصر تھی ۔ان سب نے مل کر اس کا قتل کیا لیکن کیا ان کی سازشوں سے وہ واقعی اس انجام سے ہمکنار ہوا جس کی آرزو ان سارے کرداروں نے اپنے من میں پال رکھی تھی ۔ اس نے جان دے کر آپنے لئے ایک ایسی راہ کا انتخاب کر لیا جس میںانسان ہمیشہ ہمیشہ کیلئے امرہو جاتا ہے اور مخالفین کے مقدر میں ذلت و رسوائی کے سوا کچھ بھی ہاتھ نہیں آتا۔وہ تاریخ کے سینے میں ایک دل کی مانند دھڑک رہا ہے لیکن اس کے مخالفین وقت کی عدالت میں عبرت کی ایسی علامت بنے ہوئے ہیں جن سے ہر کوئی نفرت کرتا ہے۔ جنرل ضیا لحق اور اس کے حواریوں کا کوئی نام لیوا باقی نہیں ہے لیکن ذولفقار علی بھٹو سے عوام کی محبت کا یہ عالم ہے کہ اس کے مزار سے کبھی بھی سرخ گلاب خشک نہیں ہوتے۔لوگ اس کے مزار پر اس کی جراتوں کو ہدیہ تبریک پیش کرتے ہیں، اس کی عظمتوں کے گیت گاتے ہیں اور اس کے نقشِ قدم پر چلنے کے عہدو پیمان کرتے ہیں۔ وہ ایک ایسی شان سے زندہ ہے جس میں ہر سو محبت کے زمزمے بہہ رہے ہیں لیکن ایک وقت تھا جب اسے بھی سازش کے تحت گناہ گار ثابت کیا گیا تھا جیسا کہ آج صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کو مجرم ثابت کرنے کی سر توڑ کوشش کی جا رہی ہے۔ ایسا کیوں ہوتا ہے کہ فوجی جرنیل صرف سیاسی قیادت کو ہی اس اعزاز سے سرفراز کرتے ہیں اور ان کے خلاف سازشوں کا جال بن کر ان کا کریا کرم کر کے اقتدار پر قبضہ کر لیتے ہیں۔
تحریر : طارق حسین بٹ(چیرمین پاکستان پیپلز ادبی فورم یو اے ای )

Share this:
Tags:
hussain haqqani pakistan TARIQ BUTT سیاست غداری
nurse protets
Previous Post نرسوں کا احتجاج، سی ایم ہاؤس کے سامنے دھرنے کا اعلان
Next Post بھاویں چُلیاں دودھ پلائیے ہُو!!
Kifait Hussain

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close