Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 3, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

۔۔۔ فتح کا تاج ۔۔۔

April 30, 2012 0 1 min read
Tariq Butt
Tariq Butt
Tariq Butt

چھبیس اپریل کا عدالتی فیصلہ پاکستان میں جمہوریت پر ایسا کاری وار ہے جسکی گہرائی کا ادراک شائد بہت دیر کے بعد ہو گا۔جمہوریت کی تاریخ میں یہ واحد فیصلہ ہے جس میں توہینِ عدالت کے مقدمے میں کسی بھی وزیرِ اعظم کو سزا سنائی گئی ہے جسکی وجہ سے اسکی اہلیت پر سوالیہ نشان پڑ گئے ہیں۔ اس فیصلے کا مقدر بھی ذولفقار علی بھٹو کے خلاف دئے گئے فیصلے سے مختلف نہیں ہو گا کیونکہ عوام کی اکثریت نے اسے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے وزیرِ اعظم کو ہٹانے کا اختیار صرف اور صرف پارلیمنٹ کے پاس ہو تا ہے کیونکہ پارلیمنٹ ہی اسے منتخب کرتی ہے لیکن ہمارے ہاں چونکہ جمہوری روا یات کی جڑیں زیادہ مضبوط نہیں اس لئے یہاں پر عدالتوں کے فیصلے بھی بڑے انوکھے اور منفرد ہو تے ہیں یہ کبھی مارشل لائوں کو جائز قرار دیتی ہیں ،کبھی جمہوری حکومتوں کی بساط لپیٹنے میں دستِ تعاون پیش کرتی ہے اور کبھی منتخب وزیرِ اعظم کو سرِ ِ دار کھینچ دینے میں اپنا زور صرف کرتی ہیں ۔ پاکستانی عدلیہ کی تاریخ بڑی دلچسپ ہے اسکی پیشا نی پر آمریت کا ساتھ دینے اور مارشل لائوں کو تحفظ دینے کے بڑے بڑے جھومر لٹک رہے ہیں جو ان کی ناز ک پیشا نی کو کبھی کبھار زخمی بھی کر دیتے ہیں ۔عد لیہ اپنے دامن کو اپنے ان غیر آئینی رویوں سے جتنا بھی پاک و صاف کرنے کی کوشش کرے یہ داغ اس کی پیشانی سے مٹ نہیں سکتے کیونکہ ان داغوں کو دھو نے کیلئے جتنی آزاد ا نہ سوچ کی ضرورت ہے اسکا ابھی تک مکمل اظہار نہیں ہو رہا۔محمد علی احمد کردکا تجزیہ بڑا بر محل ہے کہ وہ ججز جنھیں بڑی کاوشوں کے بعد عدلیہ کی مسند پر بٹھایا گیا تھا ان میں سے پیشتر خود فرعون بن بیٹھے ہیں۔

کسی کو اس بات میں رتی برابر بھی شک نہیں ہونا چائیے کہ پاکستان میں جمہوری جنگ کی داستان صرف اور صرف پاکستان پیپلز پارٹی نے رقم کی ہے اور اپنے لہو سے رقم کی ہے۔ جمہوریت کیلئے اس نے اپنے قائدین کی قربانیاں دی ہیں۔ قائدین بھی وہ جن کی صلاحیتوں کی دنیا معترف ہے ۔ ہر شخص کو بخوبی علم ہے کہ عدالتِ عظنی نے جب ٤ا پریل ١٩٧٩ کو ذولفقار علی بھٹو کو سرِ دار لٹکا دیا تو اس نے پا کستا ن کی ترقی اس کے استحکام، اس کی مضبو طی اور اس کے ا تحاد کو پھانسی پر لٹکایا تھا۔ جنرل ضیال الحق اور اس کے حاشیہ بردار ا اپنی ھٹ دھرمی سے باز نہ آئے اور عدالتِ عظمی سے یہ مکروہ فعل سر انجام دلوا کر دم لیا۔ اس بات کا عتراف تو خود عدلیہ کے معزز جج صاحبان نے بھی کیا ہے کہ ان پر ذوالفقار علی بھٹو کو سرِ دار لٹکانے کیلئے سخت دبائو تھااور یہ وہی مقدمہ ہے جسے دنیا عدالتی قتل سے تعبیر کرتی ہے۔ حیران کن بات یہ تھی ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی پر پاکستان پیپلز پارٹی کے مخالفین نے گلے پھاڑ پھاڑ کر اعلان کیا تھا کہ عدالتِ عظمی نے جو فیصلہ دیا ہے وہ انسانی تاریخ کا نادر فیصلہ ہے اور اس فیصلے کو انسانی تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھا جائیگا کیونکہ عدالتِ عظمی نے ملک کے مضبو ط ترین شخص ذوالفقار علی بھٹو ت کو سزائے موت دی ہے اور ایسا مشکل فیصلہ کوئی باجرات عدلیہ ہی کر سکتی تھی۔

ذوالفقار علی بھٹو کی سزا پر بڑے جشن برپا کئے گئے تھے اور مخالفین نے ڈھول ڈھمکے اور باجے تاشوں میں اپنی اس فتح کا جشن منایا تھا۔ بڑے بڑے جلوسوں کی شکل میں شہر شہر اس بات کا ڈ ھنڈورا پیٹا گیا تھا کہ ایک آمر اپنے عبر ت ناک انجام کو پہنچ گیا ہے۔ پریس کانفرنسیں بھی برپا کی گئی تھیں بالکل ویسے ہی جیسے آج کل سید یوسف رضا گیلانی کی سزا پر پریس کانفرنیں منعقد ہو رہی ہیں۔وہی انداز، وہی دلائل،وہی سوچ، وہی مخاصمت اور وہی سٹائل لیکن وقت کے یہ سارے ڈ ھنڈ ورچی آخر کار ذلیل و خوار ہوئے اور فتح کا تاج ذولفقار علی بھٹوکے سر پر سج گیا۔

ضمیر فروشوںکیلئے ذولفقار علی بھٹو کی پھانسی انکی زندگی کی خوش بختی کا سب سے قیمتی لمحہ تھا کہ سب سے بڑا دشمن بھی ملیا میٹ ہو گیا تھا اور جنرل ضیاء الحق کی کابینہ میں وزار تیں ِ بھی سنبھا ل لی تھیں اس وقت تو انکی پا نچو ں انگلیاں گھی میں تھیں اور سر کڑا ہی میں تھا۔ اقتدار انکی مٹھی میں بند تھا اور مخالفین کا مقدر جیلیں کوڑے اور پھانسی گھاٹ بنے ہو ئے تھے۔ راوی ہر طرف چین ہی چین لکھ رہا تھا۔ نہ کوئی ضمیر کی خلش اور نہ ہی کو ئی اخلاقی اصولوں کا خوف تھا۔ دشمن کو مارنا ہو تو پھر محبت اور جنگ میں سب جائز ہوتا ہے اور ذوالفقار علی بھٹو کو صفحہِ ہستی سے مٹا نے کیلئے ہر ناجائز حربہ جائز قرار پایا تھا۔ اقتدار ان کے پاس تھا، طاقت انکے پاس تھی لہذا بے گناہ مجرم قرار پائے اور گناہ گار اقتدار کی راہداریوں میں موج میلہ کرتے رہے۔ لیکن ایک بات بڑی صاف واضح تھی کہ تاریخ کے فیصلے کو بدلنے کا انھیں اختیار نہں تھا اور تاریخ کا فیصلہ یہی ہے کہ آخری فتح سچ کی ہوا کرتی ہے اور سچ کی اس میزان میں صرف ذولفقار علی بھٹو ہی پورا اترا تھا باتی سارے خس کم جہاں پاک کی مثال بن گئے تھے یہ لوگ بھیڑ کی کھال میں بھیڑیے تھے جنکا واحد مقصد اپنے دشمن پر حملہ آور ہو کو اسے لہو لہان کر کے موت کے گھاٹ اتارنا تھا اور یہی سب کچھ انھوں نے کیا تھا لیکن انکی مکا ری کی داد دینی پڑتی ہے کہ اپنی ان گھنائونی حرکات کو چھپانے کیلئے کبھی اخلاقیات کی چادر اوڑھ لیتے ہیں، کبھی مذہب کا لبادہ پہن لیتے ہیں اور کبھی شرافت کو شور مچا یتے ہیں ۔ انکا یہ مکروہ کھیل آج بھی اسی طرح جاری ہے اور وہ نئے نعروں کے ساتھ عوام کو دھوکہ دینے کیلئے میدان میں اترے ہو ئے ہیں ۔

جنر ل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف کے وہ سارے دست و بازو جنھوں نے عدلیہ کو معزول کیا تھا پابندِ سلا سل کیا تھااور اس پر حملہ کیا تھا آج آزاد عدلیہ کی بحالی کا علم تھامے نعرہ زن ہیں اور اخلاقیات، پارسائی اور جمہوریت کے سرٹیفکیٹ تقسیم کر رہے ہیں حالانکہ عدلیہ کی رسوائی کے یہی لوگ ذمہ دار ہیں لیکن اسکا الزام دوسروں کے سر تھوپ کر خود برالذمہ ہونے کی کوشش کر رہے ہیں ۔۔۔ہے نہ بالکل ہی انوکھی بات۔ بقولِ شاعر

دامن پہ کوئی داغ نہ آنچل پہ کوئی دھبہ
تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو

جب کبھی بھی مارشل لاء نافذ ہوا ہماری عدلیہ نے اسے آئینی اور قانونی جواز مہیا کرنے میں کبھی بھی بخل سے کام نہیں لیا۔ آئینی چھتری مہیا کرنے میں ہماری عدلیہ بڑی فراخدل واقع ہو ئی ہے۔ جو نہیں مانگا جاتا وہ بھی عنائیت کر دیتی ہے لیکن جہاں پاکستان پیپلز پارٹی کانام آتا ہے اس کی آنکھوں میں خون اتر آتا ہے۔ خون نہ اترا ہو تا تو ذولفقار علی بھٹو کو پھانسی کے تختے پر کیوں لٹکا د یا جاتا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کی حکومت کے خلاف دو دفعہ کرپشن کے مقدمات میں فیصلے کیوں صا در ہوتے اور آصف علی زرداری گیارہ سال زندانوں کی بے رحم ساعتوں کے حوالے کیوں ہوتے۔ عجیب اتفاق ہے کہ جن کے لہو سے جمہوریت کا چراغ روشن ہے انھیں ہی ہمیشہ تختہ مشق بنا یا جاتا ہے اور ایسا کرنے والوں کو بالکل ا حساس نہیں ہوتا کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔ آئین و قانون کے پیچھے چھپ جانا بڑا آسان ہے لیکن جب میدان میں نکل کر آئین و قانون کی جنگ لڑنے کا مرحلہ درپیش ہو تاہے تو پھر بڑے بڑو ں کا پتہ پانی ہو جاتا ہے ۔کوئی لندن کی راہ لیتا ہے اور کوئی سعودی عرب کے محلات میں چھپ جاتا ہے۔ اس وقت ساری اخلاقی حدود و قیود یوں فراموش ہو جاتی ہیں جیسے ان کا وجود تھا ہی نہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کی پاکستان پیپلز پارٹی میدان میں تنہا ڈٹی رہتی ہے اور جمہوریت کی اس جنگ کو اپنے لہو سے توانائی عطا کرتی رہتی ہے۔

جنرل پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں موجودہ عدلیہ کے ججز تو حراست میں تھے اور لاکھ کوششوں کے باوجود ان خار دار تاروں کو بھی نہیں ہٹوا سکے تھے جنھیں جنرل پرویز مشرف نے ان کی ر ہا ئش گاہوں کے باہر لگوا رکھا تھا یہ تو سید یوسف رضا گیلانی تھے جنھوں نے ان خار دار تاروں کو ہٹوایا تھا اور ججز کو رہا کرنے کا حکم صادر فرمایا تھا لیکن اس نیکی کا جس طرح کا بدلہ موجودہ عدلیہ نے دیا ہے اس کی مثال بھی کہیں نہیں ملے گی۔ بقولِ شاعر

ہمارے ہی خون سے چمن کے پھول مہکے
اور ہمیں کو چن لیا صیاد نے شکار کے لئے

سوال یہ ہے کہ عدلیہ فوجی جنتا کے خلاف فیصلے دینے میں کیوں ہچکچاتی ہے اور پاکستان پیپلز پارٹی کی جمہوری حکو مت کے خلاف فیصلے دینے میں کیوں اتنی جارح ہو جاتی ہے مارچ ١٩٩٣ میں میاں محمد نواز شریف کی حکومت کی بحالی کا فیصلہ اسی عدلیہ کے ہا تھوں ہوا تھااور پھر جنرل مشرف کے مارشل لاء کے بعدمیاں محمد نواز شریف دس سالہ معاہدے کے تحت سعودی عرب چلے گئے تھے۔ اپنے اس معاہدے کا اعتراف تو خود میاں محمد نواز شریف نے بھی کیا تھا اور کہا تھا کہ یہ معاہدہ دس سال کا نہیں بلکہ پانچ سال کا تھا بلکہ غلطی سے دس سال لکھ دیا گیا ہے لیکن عدالتِ عظمی نے اس معاہدے کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا اوریو ں میاں محمد نواز شریف کو ریلیف عطا کر دیا گیا تھا۔ طیارہ ہائی جیکنگ کیس جس کی بنا پر میاں محمد نواز شریف کی حکومت بر خاست ہو ئی تھی اور جس میں میاں محمد نواز شریف کو عمر قید کی سزا ہو ئی تھی اور اسی سزا سے بچنے کے لئے میاں محمد نواز شریف سعودی عرب میں جلا وطن ہو ئے تھے۔ نو سالوں کے بعد ان کی وطن واپسی ہو ئی اور مسلم لیگ (ن) نے میاں نواز شریف کی سزا کے خلاف اپیل دائر کر دی وہ اپیل سنی گئی اور میاں محمد نواز شریف کو طیارہ اغواء کے مقدمے سے بری کر دیا گیا ۔

عدالتِ عظمی نے میاں محمد نواز شریف کو کس قانون کے تحت اس مقدمے سے بری کیا تھا یہ سوال ابھی تک تشنہ جواب ہے۔ انھیں سزا ہو چکی تھی اور وہ انتخاب لڑنے کے اہل نہیں تھے لیکن عدالتِ عظمی نے ان کا یہ مسئلہ انتہائی عجلت میں حل کر دیا انھیں تمام الزامات سے بری قرار دے دیا اور یوں وہ بالکل پاک صاف اور کلین ہو گئے حالانکہ آئین کی رو سے ایسا بالکل نہیں ہو سکتا تھا لیکن ایسا ہوا۔ قانون کی نظر میں وہ نا اہل تھے اور کوئی انھیں اہل قرار نہیں دے سکتا تھا لیکن یہ سب کچھ ہماری آنکھوں کے سامنے ہوا اور میاں محمد نواز شریف نا اہلیت کی منزل سے اہلیت کی منزل پر پہنچا دئے گئے لیکن جب پاکستان پیپلز پارٹی کی باری آئی تو پھر عدالتِ عظمی کو آئین میں لکھی ہوئی شقیں بھی غیر ضروری محسوس ہو نے لگیں جبکہ میاں محمد نواز شریف کو آئین سے ماورا ر یلیف دے دیا گیا۔ ان کی ریلیف کو آئینی رو سے ثابت نہیں کیا جا سکتا کیونکہ آئین ایسا کرنے کی اجازت نہیں دیتا اور نہ ہی آئین کی کسی شق کا حوالہ دیا جا سکتا ہے کیونکہ آئین میں ایسا کچھ بھی د رج نہیں ہے لیکن کسی دوسرے سائل کو اپنے تحفظ کیلئے آئینی شق کا حوالہ دینے کیلئے زبان کھولنے کی اجازت بھی نہیں دی جاتی اور جو کوئی ایسا کرنے کی جسارت کرتا ہے اس پر توہینِ عدالت کا قانون لاگو کر کے سزا سنا دی جاتی ہے۔

تحریر : طارق حسین بٹ

 

Share this:
Tags:
pakistan supreme court TARIQ BUTT پارلیمنٹ پاکستان جمہوریت
Previous Post یتیم بچوں کی پرورش کے لئے سویٹ ہوم قائم کیے گئے ہیں :چوہدری سرور
Next Post یوم شہداء
Najeem Shah

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close