Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
June 11, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

۔۔۔ من کی دنیا ۔۔۔

January 6, 2012 0 1 min read
Tariq
Tariq
Tariq

یہ ایک ابدی اور غیر متبدل حقیقت ہے کہ سچائی کو شکست دینا کسی بھی انسان کے بس میں نہیں ہوتا۔ وقتی طور پر طاقت کے بل بوتے پر سچ کو دبا نے کی روائت بہت قوی اور پرانی ہے۔ لوگ طاقت کے نشے میں رنگی ہوئی عارضی جیت کو سچائی کی جیت تصور کر کے خود کو طفل تسلیاں دے لیتے ہیں لیکن انھیں خبر نہیں ہوتی کہ یہ جیت بہت ہی ناپائدار اور کمزور ہے کیونکہ جیسے ہی ان کے اقتدار کا سورج غروب ہو جائے گا یا موت کا بے رحم ہاتھ ان کی زندگی کا خا تمہ کر د ے گا تو یہ جیت نقش بر آب ثابت ہو گی اور سچا ئی اپنی پوری قوت کے ساتھ منظرِ عام پر آکر ان کے قائم کردہ حصار کو توڑ پھوڑ کر رکھ دے گی اور اس وقت سچائی کو دبانے کی ان میں سکت نہیں ہو گی لہذا سچائی خود کو آشکار کر کے دم لے گی۔ یہ سچ ہے کہ علم کی طرح طاقت بھی ایک قدر ہے لیکن جب یہ قدر انصاف کیلئے استعمال ہوتی ہے تو دادو تحسین پاتی ہے لیکن جب یہ ظلم وستم اور جبر کو ہوا دیتی ہے تو ایک عذاب کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔بے رحم اور سفاک حکمرانوں کے نام ملک اور ادوار تو مختلف ہو سکتے ہیں لیکن ان سب میں ایک چیز مشترک ہو تی ہے اور وہ ہے ان کا ظلم و ستم۔تاریخ کے اوراق ان حکمرانوں کی سفاکیت، طاقت کے بے جا ا ستعمال اور بے گنا ہوں کے خون سے رنگین ہیں ۔آپ تاریخ کے کسی دور کو بھی اٹھا لیجئے ظالم حکمران آپ کو ہر دور میں ملیں گے اور ان کے ظلم و ستم اور عتاب کی داستانیں پڑھ کر آپ کے رونگھٹے کھڑے ہو جائیں گے۔پاکستان میں وقفے وقفے سے مارشل لا ئی حکومتیں اس ملک کا مقدر بنیں اور مارشل لاء چونکہ قوت و طاقت کا مظہر ہو تا ہے لہذ ہمیں قوت و طاقت کے مظاہر بھی بہ امرِمجبوری دیکھنے اور برداشت کرنے پڑے۔ یہ میری ذاتی رائے ہے کہ ان سارے مارشل لائوں میں سفاکیت اور جبر کے لحاظ سے جنرل ضیاا لحق کا مارشل لا تمام حدود پھلانگ گیا تھا کیونکہ اس مارشل لا میں ہر مکتبہِ فکر کے لوگوں کو مشقِ ستم بنا یا گیا۔ طلبا، شعرا ،ادیب، اسا تذہ ،صحافی،کھلاڑی، سیاستدان ، ڈاکٹرز، وکلا، مزدور، کسان، فنکار اور اداکار مارشل لائی جبر کا نشنا نہ بنے۔ سچ کے اظہار میں تمام مکتبہ فکر کے لوگوں نے اپنے اپنے  ضمیر کی آواز پر لبیک کہا اور مارشل لائی جبر کے سامنے حق کی آواز بن کر ڈٹ گئے۔شاہی قلعے کے عقوبت خا نوں کے در ودیوار پر ان سر فروشوں کی جراتوں کی داستانیں آج بھی رقم ہیں اور سرِ عام سچائی کی گواہی دے رہی ہیں۔ شائد فیض احمد فیض نے اسی تنا ظر میں کہا تھا کہ قتل گاہوں سے لے کر ہمارے علم اور نکلیں گے عشاق کے قافلے۔ پھانسی گھاٹوں پر جس طرح بے گنا ہوں کو موت کے گھاٹ اتار کر خوف زدہ کیا گیا شائد وہ بھی اس محبت کو کم نہ کر سکیں جو ان مہتاب صفت لوگوں کو جمہوریت، سچائی اور آزادی کے ساتھ تھی۔
جنرل ضیا الحق کا مارشل لا ایک معرکہ تھا ذولفقار علی بھٹو اور جنرل ضیا الحق کے درمیان۔ ایک طرف سچائی تھی اور دوسری طرف اندھی طاقت تھی ۔بے پناہ طاقت کے سامنے وقتی شکست تو لازم ہوتی ہے ۔خون کو خاک میں مل جا نا ہو تا ہے لیکن اس خاک سے سچائی کے جو پھول کھلتے ہیں انکی جاذبیت کو کون روک سکتا ہے۔ ٤ اپریل ١٩٧٩ کی صبح ہیلی کاپٹر میں ایک لاش ڈالی گئی اور اسے گڑھی خدا بخش کے قبرستان میں انتہائی سرد مہری اور خاموشی کے ساتھ دفن کر دیا گیا ۔اقتدار کے سنگھا سن پر بیٹھے ہوئے بے رحم شخص نے سکھ کا سانس لیا کہ سب کچھ حسبِ خواہش طے پاگیا ہے۔ا سے شائد خبر نہیں تھی کہ میدانِ جنگ میں بہادری سے لڑتے لڑتے گرنے والا لاشہ کبھی نہیں مرتا۔کون ہے جو لہو سے لکھی گئی سچائی کو مٹا سکے۔بے رحم حکمران قتلِ عمد کے بعد لاشوں کی بے حر متی کرتے ہیں ا نھیں گھوڑوں کے ساتھ باندھ کر گھسیٹتے ہیں ۔لا شوں کا مثلہ کرتے ہیں اور کبھی کبھی انکا سر تن سے جدا کر کے نیز ے کی انی پر اٹھا لیتے ہیں تاکہ اہلِ جہاں کو خبر ہو جائے کہ ہم اپنے مخالفین کو کیسے درد ناک انجام سے دوچار کرتے ہیں ۔ یزید نے بھی تو یہی کیا تھا اندھی قوت کے نشے میں اس نے بھی امامِ عالی مقام کی زندگی کا چراغ گل کیا تھا لیکن کیا وہ چراغ گل ہوا، کیا سکی روشنی اور اسکا نور ظلم وجبر کی چیرہ دستیوں سے کم ہوا۔ کیا انکی قربانی اہلِ جہاں فراموش کر سکے ، کیا امام عالی مقام کی جراتیں حریت پسند وں کے دل سے نکل سکیں؟ وقت کا سب سے بڑا سچ یہی ہے کہ یزید لوحِ جہاں پہ حرفِ ملامت ہے اور امامِ عالی مقام علا متِ فخرو ناز ہیں حالانکہ میدانِ جنگ سے لاشہ تو امامِ عالی مقام کا اٹھا تھا ظاہرا َیز ید فتح یاب ہو تھا پھر یہ عزت و وقار کے معیار کیسے بدل گئے ہارنے والے ابدی فاتح کیسے قرار پائے ، ا نسا نیت کے ماتھے کا جھومر کیسے بنے اور جیتنے والے ہمیشہ کیلئے راندہِ درگاہ کیوں ہوئے۔  جنرل ضیا الحق کی بے رحم اور سفا کانہ حرکات کا ساتھ دینے کیلئے اس کے کچھ ساتھی بھی تھے جو اسکی تصویر سے ہمکلام ہوتے تھے،اس کے ہاتھ چومتے تھے، ا سے متبرک سمجھ کر اس کی دست بوسی کرتے تھے ۔اس کے قدموں میں لوٹ پوٹ جاتے تھے ۔اس کی بلائیں لیتے تھے، اسے امیر ا لمومنین کے لقب سے پکارتے تھے اور ایک قاتل بے رحم سفاک انسان کو فرستادہِ خدا تصور کرتے تھے۔اس سے منتیں مانتے تھے اسے اپنا حاجت روا تصور کرتے تھے اور شرفِ باریابی کے منتظر رہتے تھے۔ اس کی ایک جھلک دیکھنے کیلئے اس راہ پر سراپا انتظار بن کر کھڑے ہو جاتے تھے جہاں سے عالم پناہ کی سواری گزرنے کا ا حتمال ہوتا تھا کہ شائد عالم پناہ کی ایک نگاہِ کرم ان کا مقدر بدل کر رکھ دے۔کیا کیا تھا جو اس کی ذات سے انھوں نے وابستہ نہیں کر رکھا تھا۔ اسکی مورتی کو پرنام کرتے۔ اسکی آر تی اتارتے اور اس سے مرادیں مانگتے تھے ا نکا بس چلتا تو اسے خدائی مسند عطا کر دیتے ۔یہ تھی انکی کیفیت اور یہ تھی جنرل ضیا الحق کی طاقت کی پھیلی ہوئی کرشمہ سازیاں جس سے اسکے حاشیہ بردار فیض یاب ہو رہے تھے اور اسکی عظمتوں کے گن گا رہے تھے۔   جنرل ضیا الحق کا ایک منہ بولا بیٹا بھی تھا جس کے مقدر کا ستارا جنرل ضیا الحق کی آمریت میں بہت چمکا۔ جنرل صاحب حیات تھے تو پاکستان کی پوری اسٹیبلشمنٹ اس کے اشاروں پر ناچتی تھی اور اس پر فدا ہونے کو ہمہ وقت تیار رہتی تھی۔ ١٩٨٨ میں جب وزیرِ اعظم محمد خان جو نیجو کی حکومت کو برخاست کیا گیا تو منہ بولے بیٹے نے حقِ نمک ادا کیا اور اپنے و ز یرِ اعظم کو چھوڑ کر جنرل ضیا الحق کے ہاتھ پر بیعت کرنے کا فیصلہ کیا اور یوں مسلم لیگ کی صدارت سے نوازا گیا ۔اسے بعد میں جنرل صاحب کے ساتھ وفا داری نبھانے پر وزارتِ عظمی تک کا سفر بھی کروایا گیا ۔لیکن جب اس نے خود ضیاا لحق ثانی بننے کی کوشش کی تو اس وقت کے صدرِ مملکت اسحاق خان سے اس کا ٹکرائو ہو گیاجو اس کی اقتدار سے ر خصتی کا باعث بنا لیکن جنرل ضیا الحق سے اس کی عقیدت میں کو ئی فرق نہ آیا ۔ وہ اب بھی اس کے مزار پر ١٧ اگست کو حاضری دیتا تھا اور جنرل صاحب سے اپنی عقیدت کا کھلے بندوں اظہار کرتا تھا لیکن جب ١٢ اکتوبر ١٩٩٩ میں جنرل پرویز مشرف نے اس منہ بولے بیٹے کی حکومت پر شب خون مار کر اقتدار پر قبضہ کر لیا تو تب اس بیٹے کی آنکھیں کھلیں اور اسے احساس ہوا کہ آمریت کیا ہوتی ہے، ریاستی جبر کیا ہوتا ہے اور جمہوری جدو جہدکی راہ میں قربان ہونا کتنا جان جوکھوں کا کام ہے ۔ بقولِ  اسد اللہ خان غالب
یارب زمانہ مجھ کو مٹا تا ہے کس لئے۔۔ لوحِ جہاں پہ حرفِ مکرر نہیں ہوں میںحد چائیے سزا میں عقوبت کے واسطے۔۔آخر گنا ہگار ہوں کافر نہیں ہوں میں
ظلم و جبر کے جان لیوا لمحات میں میاں محمد نواز شریف کو ذولفقار علی بھٹو کی بہت یاد بہت آئی ہو گی کیونکہ وہی تو ایک شخص تھا جس نے آمریت اور جمہو ریت کے معنی سمجھائے تھے اور وقتِ ابتلا مر مٹنے کی راہ دکھا ئی تھی لیکن اس سچا ئی کا کیا کیا جائے کہ اسے تو خود اپنے آقا و مو لا کے ساتھ مل کر ایک سازش کے تحت پھانسی کے پھندے تک پہنچایا تھا تا کہ چند روزہ اور عارضی اقتدار کی طاقت اور لذتوں سے لطف اندوز ہوا جائے۔وقت کی سچائی بھی کیا چیز ہے کہ کبھی کبھی وہ لوگ جنھیں انسان اپنے ہاتھوں سے زہر کا پیالہ پلاتا ہے وہی اس کے ہیروبن کر نمودار ہو جاتے ہیں۔ منہ بولے بیٹے پر بھی ایسی ہی سا عتیں آئی تھیں جن میںذولفقار علی بھٹو کا سراپا س کے سامنے کھڑا تھا اور منہ بولا بیٹا فرطِ جذبات میں اس کے سامنے دو زانو بیٹھا ہو ا تھا ۔ دل کی کچھ کیفیتیں بیان کرنے کیلئے نہیں ہوتیں بلکہ صرف محسوس کرنے کیلئے ہوتی ہیں اور عوام کے سامنے جن کا اظہار نہیں کیا جاتا۔اسے من کی دنیا کہتے ہیں۔ یہ من کی دنیا بھی بڑی عجیب و غریب چیز ہو تی ہے سچ کی حقیقی آماجگاہ جس میں مکر و ریا کا کوئی گزر نہیں ہوتا۔ من کی دنیا میں مستغرق رہنے اور حالِ دل چھپانے میں ہی اس کی ساری رعنائیاں پنہاں ہو تی ہیں کیونکہ اگر من کی دنیا کی کیفیت کو فاش کر دیا جائے تو نظامِ کائنات میں ارتعاش پیدا ہو جائے اور اس کا سارا نظم و نسق درہم برہم ہو جائے ۔ منصور حلاج نے من کی دنیا کی ایک جھلک انا ا لحق کے نعرے کی صورت میں دنیا پر آشکارہ کی تھی جس کی گونج کائنات میں آج بھی سنی اور محسوس جا سکتی ہے۔حیات کے رازدان (ڈاکٹر علامہ محمد اقبال) نے اس کیفیت کو جس خوبصورت انداز میں قلم بند کیا ہے جی نہیں چاہتا کہ آپکو اس سے محروم کروں۔ سنئے اور اسمیں چھپے ہوئے حقائق تک پہنچنے کی کوشش کیجئے۔
من کی دنیا میں نہ پایا میں نے افرنگی کاراج۔۔من کی دنیا میں نہ دیکھے میں نے شیخ و برہمن                     من کی دنیا من کی دنیا سوزو مستی جذب و شوق ۔۔ تن کی دنیا تن کی دنیا سود و سودامکرو فن

چڑھتے سورج کی پوجا کرنے والوں کو سچ سے کوئی سرو کار نہیں ہوتا انھیں اپنے مفادات سے غرض ہوتی ہے اور جب تک مفادت کا کھیل زندہ رہتا ہے صاحبِِ اقتدار شخصیت ان داتابنی رہتی ہے۔ اسکی مدح سرائی فرض قرار پاتی ہے۔منہ بولے بیٹے اور دوسرے حواریوں نے بھی یہی تو کیا تھا ۔ان لوگوں نے باہم مل کر جمہوریت کا نام لینے والوں کا وہ حشر کیا کہ الامان۔جنرل ضیا لحق کے برستے کوڑوں میں جمہو ریت پسند درد سے بلبلاتے تھے تو یہی تھے وہ لوگ جو جو واہ واہ کا شور بلند کرتے تھے اور جنرل ضیا الحق کی تعریف و توصیف میں زمین و آسمان کے قلابے ملاتے تھے کہ اس نے جن لوگوں کو سزائوں کے لئے چنا ہے وہ واقعی اس کے مستحق تھے۔ وہ ظلم و ستم کرتا رہا یہ دادو تحسین کے ڈھنڈورے برساتے رہے لیکن ایک دن اس کے بے پناہ ظلم و ستم کے کی گھڑیوں میں مقافاتِ عمل کی گھڑی آپہنچی اور ١٧ اگست ١٩٨٨ کو سفاک آمر کا جہاز ہوا میں آگ کے شعلوں کی نذر ہو کر پاش پاش ہو گیا اور خدائے ذولجلال نے بے ر حم آمر کو ایک جبڑے کی صورت میں باقی رکھا ۔ عبرت کی علامت اور نشانی کے طور پر تاکہ آنے والے اس سے سبق سیکھیں لیکن کیا آنے والوں حکمرانوں نے اس سے عبرت حاصل کی۔ بالکل نہیں کیونکہ بے پناہ طاقت کبھی بھی سبق نہیں سیکھا کرتی یہ منہ زور ہو تی ہے اور لوگوں کو اپنا غلام بنا نے کے خبط میں مبتلا رہتی ہے یہی ازل سے ہوتا آیا اور یہی ابد تک ہو تا رہے گا ۔ طاقت نہتے اور کمزوروں پر وار کرتی رہیگی انھیں اپنا غلام بنا تی رہیگی اور حریت پسند اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرکے سچائی کو زندہ ر کھتے رہیں گئے۔ تاریخ کا جبر تو ملا حظہ کیجئے کہ جسے فوجی سنگینوں کے سائے میں نہائت خاموشی سے منوں مٹی کے نیچے دبا دیا گیا تھا وہ آخرِ کار سچ کا سورج بن کر نمو دار ہوا۔وقت کی میزان میں جھوٹ اور فریب کے سکے نہیں چلتے ۔ وقت کی میزان میں صرف سچ کو تولا جاتا ہے۔اپنی انا کی سولی پر بھٹو کی لاش لٹکانے والے، اپنی محرومیوں کا اس سے بدلہ لینے والے، ذاتی مفا دات کا کھیل کھیلنے والے،جنرل ضیا الحق کی دست بوسی کرنے والے اور اسے امیرا لمومنین کا خطاب دینے والے وقت کی دھول میں گم ہو چکے ہیں اور کوئی ان کانام لیوا نہیں ہے لیکن وہ جو سچ کی علامت تھا تھا آج بھی زندہ ہے۔
تحریر:  طارق حسین بٹ(چیرمین پاکستان پیپلز ادبی فورم)

Share this:
Tags:
Human pakistan power TARIQ BUTT World اقتدار
national assembly
Previous Post ایم کیو ایم کی جانب سے قومی اسمبلی کا بائیکاٹ
Next Post کیا خیال ہے، لاہور میں خواتین کی مخصوص بسوں کا اِجرا
women bus

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close