Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 4, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

۔۔۔ کڑے پہرے ۔۔۔

March 17, 2012 0 1 min read
Tariq Butt
Tariq Butt
Tariq Butt

تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ حق و باطل کے معرکے میں آخری جیت سچ کا مقدر بنتی ہے ۔ سچ کو شکست دینا،دبا دینا یا روک دینا کسی بھی قوت کے لئے ممکن نہیں ہو تا۔ سچ د ھرتی کا سینہ چیر کر نمو دار ہو جاتا ہے اور اپنے ہونے کی خود ہی گواہی بن جاتا ہے۔ہر حکمران کی پہلی اور آخری خواہش یہی ہو تی ہے کہ اس کے دور کا ظلم و ستم اور جبر لوگوں تک اس انداز میں پہنچے کہ تاریخ کے اوراق میں اسے ایک سفاک اور بے رحم حکمران کی بجائے ایک عادل اور اصول پسند حکمران کی حیثیت سے یاد رکھا جائے لیکن اس کا کیا کیا جائے کہ حکمرانوں کی انتہائی کوشش کے باوجود سچ عوام کی دہلیز پر پہنچ بھی جاتا تھا اور تاریخ کے سینے میں محفوظ بھی ہو جا تا تھا۔ سلطانوں ، بادشاہوں اور آمروں نے اپنے اپنے ادوار میں اپنی من پسند تاریخیں لکھوانے کے بڑے حربے آزمائے لیکن وہ اصلی، سچی اور حقیقی تاریخ کو منظرِ عام پر آنے سے نہ روک سکے۔سچائی کی تاریخ منظرِ عام پر کیسے آتی ہے اسے سمجھنا بڑا کٹھن ہے کیو نکہ حاکمِ وقت کی منشاء اور مرضی کے خلاف لکھنا موت کو دعوت دینے کے مترا دف ہوتا تھا لہذا کون سورما ہو گا جو اپنی موت کو صدائیں دے کر خود اپنے پاس بلائے گا۔ فرض کر لیں کہ کسی نے اتنی جرات پیدا کر لی اور اس بات کا عہد کر لیا کہ وہ سچ ہی لکھے گا اور سچ کے علاوہ کچھ نہیں لکھے گا لیکن حاکمِ وقت اسے یہ سچ لکھنے کیلئے زندہ چھوڑے گا تو تبھی وہ سچ کی داستان رقم کریگا لہذا کسی کا یہ دعوی کرنا کہ وہ سچ کی تاریخ رقم کریگا حقیقت کا جامہ نہیں پہن سکتا تھا کیونکہ حاکمِ وقت اسے ایسا کرنے کیلئے زندہ رہنے نہیں دیا کرتے تھے لیکن اس کے باوجود یہ بھی ایک اٹل حقیقت ہے کہ ہر دور کی سچی تاریخ ہمارے درمیان موجود ہے۔

 

ادبائ، شعرا، فلاسفرز، دانشور اور حکماء اپنے اپنے انداز میں سب کچھ رقم کرتے رہے اور سچ مختلف حوالوں، طریقوں اور اندازوں سے انسانوں کی اگلی نسلوں کو منتقل ہو تا رہا اور جو آج ایک انمول خزانے کی شکل میں ہمارے درمیان ہماری راہنمائی کے لئے موجود ہے۔ہزاروں سالہ قدیم تاریخ نویسی پر عائد پابندیوں، قدغنوں اور رموز کو کو آج کے آزادانہ معاشرے میں سمجھنا انتہائی مشکل ہے۔ ایک طرف مذہب اور سا ئنس کی باہمی کشمکش میں انسانوں نے آزادی اظہار کی خاطر جو قربانیاں دیں وہ بیان سے باہر ہیں تو دوسری طرف ظلِ سبحانی کے تصور نے انسانیت کی تذلیل میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی تھی۔ چکی کے ان دو پاٹوں کے درمیان انسان کیلئے نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن والی کیفیت تھی لیکن انسان نے پھر بھی آزادیوں اور حق و صداقت کے اظہار کے سفر کو جاری و ساری رکھا جس کا عملی اظہار آج کی دنیا میں آزاد میڈیا کی صورت میں جلوہ گر ہے اور جس سے آج کا انسان کافی حد تک مستفید ہو رہا ہے۔

 

پاکستان میں بھی مارشل لائی ادوار میں ظلم و جبر کی ایسی ہی درد ناک ا ورسفاک فضا کو جنم دیاہوا تھا جس میں سچ کے اظہار پر کڑے پہرے تھے اور مخا لفین کو زندہ در گور کرنے کی روائت قائم کی گئی تھی۔ ہر وہ شخص جس نے گردن اٹھا کر چلنے کی کوشش کی یا آمریت کو للکارنے کی جسارت کی اسے تہہِ تیغ کر کے رکھ دیا گیا تھا ۔عدلیہ، انتظامیہ اور فوجی جنتا اس کارِ خیر میں یک جان تھی اور کسی بھی قسم کی رعائت دینے کے موڈ میں نہیں تھی لیکن پھر بھی کچھ سر پھرے ایسے تھے جو وقفے وقفے سے حریت کے نعرے بلند کر کے جبر کی اس زہر آلود فضا میں زندگی کی رمق پیدا کرنے کی کوشش کرتے رہتے تھے لیکن ان کا جو حشر ہوتا تھا وہ بیان سے باہر ہے لیکن نجانے وہ کس مٹی سے بنے ہو ئے تھے کہ اپنی سر فروشی سے باز نہیں آتے تھے اور آمریت کو للکارنے سے باز نہیں آتے تھے۔ ان کی مثال ماہِ رمضان میں سحری کو جگانے والی ٹولیوں سے دی جا سکتی ہے جو ماہِ صیام میں لوگوں کو جگانے کیلئے نغمہ سرا رہتی ہیں ۔ پاکستانی عوام کی اکثریت ایسی آوازوں سے مانوس ہے جو وقفوں وقفوں سے گاتی ہوئی گزرتی رہتی ہیں اور ہر گلی محلے میں سونے والوں کو جگانے کا فرض ادا کرتی رہتی ہیں ایک کے بعد ایک ٹولی روزہ داروں کو جگانے کے فرض کا بیڑہ اٹھا ئے گزرتی رہتی ہے اور روزہ داروں کو نیند سے بیدار کرنے کا فر یضہ سر انجام دیتی رہتی ہے ۔کچھ لوگ تو ان آوازوں سے اٹھ جاتے ہیں اور کچھ پر ان آوازوں کا کوئی ا ثر نہیں ہوتا کیونکہ ان کی سوچ کا د ائرہ کسی اور سمت میں بہہ رہا ہوتا ہے یا پھر انھوں نے اپنے آپ کو ایسے رنگ میں رنگ لیا ہو تا ہے جو ان آوازوں سے اترتا نہیں ہے۔سر فروشوں کی قلبی کیفیت کو اردو ادب کے مست شاعر ساغر صدیقی کی شعرہ آفاق غزل کا ایک مصرعہ بڑتے واشگاف الفاظ میں بیان کرتا ہے لہذاا سے یہاں پر درج کر رہا ہوںتاکہ اس کیفیت کی وہ سچائی جو حق کے علمبرداروں کے دلوں میں موجزن رہتی ہے اس کے اظہار کا کماحقہ حق ادا ہو سکے۔

 

سوچتا ہوں کہ اگر یہ سر پھرے محدودے چند لوگ معاشرے میں نہ ہو تے تو جبر کی سیاہ رات کتنی لمبی ہوتی اور پھر پاکستان میں شخصی آزادیوں کی کیا درگت بنتی ۔ کہتے ہیں کہ سب سے بڑا جہاد جابر حکمر ا نوں کے سامنے کلمہ حق کہنا ہے اور پھر اگر یہ سر پھرے لوگ نہ ہوتے تو عوام الناس اس حکم کی تعبیر کہاں سے پاتے ۔یہی ہیں وہ لوگ جو ہر معاشرے کا حقیقی حسن ہو تے ہیں اور جن پر قومیں فخرو ناز کیا کرتی ہیں۔ عجیب اتفاق ہے کہ آمریت کے دور میں یہ لوگ معتوب ہوتے ہیں اور اپنے ناکردہ گناہوں کی سزا بھگتے رہتے ہیں لیکن آمریت کے سامنے سر نگوں نہیں ہوتے۔سچائی سے ان کا رومانس اتنا شدید ہو تا ہے کہ ظاہری اذیتیں بھی ان کی سچائی کی قوت کو پسپا نہیں کر سکتیں ۔ وہ اپنے لہو سے حریتوں کی داستان رقم کرتے جاتے ہیں اور آنے والی نسلوں کو وہ پھول تحفے میں دیتے چلے جاتے ہیں جو خزاں نا آشنا ہو تے ہیں۔ ساغر صدیقی کے شعر کی جانب واپس آتے ہیں کہ وہ اس سارے منظر نامے کو انتہائی خوبصورت اور دل آویز انداز میں بیان کر رہا ہے۔

 

آؤ پھر اک سجدہ کریں عالمِ مدہوشی میں۔۔ لوگ کہتے ہیں کہ ساغر کو خدا یاد نہیں
تاریخ ہمیں بتا تی ہے کہ ظالم ٹولے کے اندر بھی شکست و ریخت کا عمل جاری و ساری رہتا ہے اور ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جب اس گروہ کے چند افراد اپنے ظلم و جبر کی داستانیں خود اپنی زبان سے عوام کو سناتے ہیں ۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان کے ضمیر میں کو ئی میکا نکی عمل سچ کے اظہار کے رویوں کو ہوا دیتا ہے یا مقا فا تِ عمل کا خوف ان سے ا یسے اعمال کو ظہور پذیر کرواتا ہے کچھ بھی یقین سے نہیں کہا جا سکتا۔ ممکن ہے کہ انسان جب بوڑھا ہو جاتا ہے، اس پر موت کا خوف پوری شدت سے اپنا غلبہ قائم کر لیتا ہے اور اسے اپنی زندگی کا چراغ بجھتا ہوا محسوس ہوتا ہے تو پھر اس گروہ کے چند افراد سچ کا اظہار کر کے ،مخلوق سے معافی کے طلب گار بن کر توبہ کی راہ پر نکل جانے کا فیصلہ کر لیتے ہوں ۔ نامہ اعمال جب نیکیوں سے بالکل خالی ہو، برائیوںکا پلڑا بھاری ہواورموت کا فرشتہ جان قبض کر لینے کیلئے سامنے کھڑا ہو تو پھر ایسا ہونا بعیدا ز وہم و گمان بھی نہیں ہو ناچائیے۔ مذہب کے معاملے میں تو انسان بنیادی طور پر ہمیشہ کمزور واقع ہوا ہے لہذا وہ جوابدہی کے تصور سے لرزاں اور خوف زدہ بھی رہتا ہے لہذا ایسے گروہ کے کچھ افراد کے سیاہ کارناموں اور کرتوتوں کے اقرار کو توبہ کے ایک ایسے ہی اندازمیں لیا جا نا چائیے جو ان کے آخرت کے سفر کو آسان بنا سکے۔اسلام میں اپنے گناہوں کو قبول کرنا، اس پر پچھتاوے کا اظہار کرنا اوراپنے سارے برے افعال کے نتائج کو بھگتنے کیلئے آمادہ ہو جانا کوئی معمولی بات نہیں ہو تی لہذا ظالم ٹولے میں سے چند افراد کا اپنے گناہوں کا اقرار نا مہ اسی سوچ کی عکاسی کرتا ہے اقرار نامے کی یہ راہ ہ بڑی مشکل اور خاردار ہوتی ہے کیونکہ اس راہ میں جان جانے اور ساری آسائشات کو ترک کر دینے کے خطرات پو شیدہ ہوتے ہیں لیکن حق کی آبیاری کی خاطر اگر کوئی پھر بھی اس مشکل راہ پر چلنے کا قصد کرتا ہے تو سمجھ لیجئے کہ اس کے اندر ایک بہت بڑے انسان نے جنم لے لیا ہے۔ تاریخ ایسے باہمت انسانوں کے تذکروں سے بھری پڑی ہے جنھوں نے اپنی لغزشوں سے توبہ کر کے خود کو قانون و انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کر دیا اور ا پنے برے اعمال سے توبہ کر کے نیکی اور حق پرستی کی راہ کا انتخاب کیا ۔علامہ اقبال کی ابتدائی دور کی شاعری میں اس کیفیت کا مکمل ا ظہار پایا جاتا ہے ان کا ایک شعر نقل کر رہا ہوں تا کہ بات بالکل صاف اور واضح ہو جائے۔
مو تی سمجھ کے شانِ کریمی نے چن لئے

قطرے جو تھے میرے عرقِ انفعال کے
انسان کے بارے میں تو حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ کس لمحے کن افعال کا اظہار کریگا کیونکہ کبھی کبھی انتہائی پارسا ئوں ،شرفاء اور نیک انسانوں میں بے رحم غنڈوں اور کبھی کبھی انتہائی بد قماشوں، بے راہ رووں میں انتہائی پارسائوں کو جنم لیتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔ انسان ہی تو ایک ایسی مخلوق ہے جسے اپنے فیصلے کرنے کا مکمل ا ختیار و ارادہ دیا گیا ہے، وہ چاہے تو اپنے لئے جنت کی راہ کا انتخاب کر لے اور چاہے تو خود کو دوزخ کے سپرد کر دے۔ فیصلہ اسی کو کرنا ہے کہ اسے کس راہ پر چلنا ہے۔لہذا سچ کے اظہار کو ہمیشہ اسی پیرا ئے میں لیا جانا چائیے۔ یہ انسانوں کی ذ ہنی سوچ اور فکر پر منحصر ہو تا ہے کہ انھیں کس وقت کس راز سے پردہ اٹھانا ہے پردہ اٹھنے کا منظر بھی بڑا عجیب و غریب ہو تا ہے اور جب یہ پردہ خود ظالم کی زبان سے اٹھتاہے تو انسان ششدر رہ جاتا ہے ۔سچائی کے اس انوکھے اظہار سے مجرم،گناہ گار، معتوب اور رائندہ درگاہ لوگ پلک جھپکنے میں ہیرو کی مسند پر جلوہ افروز ہو جاتے ہیں اور فرشتہ خصلت انسانوں کی خود ساختہ عظمت خاک میں مل جاتی ہے پردہ اٹھتا ہے تو پھر جھوٹ معدوم ہو جاتا ہے اور سچ اپنی پورہی تا بانیوں سے ماحول کو روشن کر دیتا ہے سچ کا ایک لمحہ صدیوں کے جھوٹ پر بھاری ہوتا ہے۔ پاکستان میں سچ کے اظہارکی موجودہ روش مبنی بر حقیقت ہے یا اس میں بھی در پردہ ہاتھوں کی کارستانیاں پوشیدہ ہیں۔
تحریر : طارق حسین بٹ (چیرمین پاکستان پیپلز ادبی فورم یو اے ای)

 

Share this:
Tags:
Human leaders pakistan TARIQ BUTT پاکستان
Shehbaz Sharif
Previous Post وزیراعظم کو سوئس حکومت کو خط لکھنا چاہیے۔ شہباز شریف
Next Post کراچی سمیت سندھ میں بھتہ خوری کے خلاف ہڑتال
Karachi

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close