لاہور: 2013ء میں لاہور کی سیشن عدالتوں نے دیرینہ دشمنی و ڈکیتی مزاحمت پر قتل اور دیگر سنگین جرائم میں ملوث 60 مجرموں کو سزائے موت سنائی جبکہ 79کو عمر قید کی سزا دی گئی۔سیشن عدالتوں کے احکامات کے باوجودملزمان اورگواہان کو فاضل عدالتوں میں پیش نہ کرنے عدالتی حکم عدولی کے الزام میں250پولیس اہلکاروں کے وارنٹ گرفتاری اور ایک ہزار کی تنخواہوں کی قرقی کے احکامات جاری کئے گئے۔
مختلف جرائم میں ملوث 285ملزموں کو باعزت بری کیا گیا جواس بات کا واضح ثبوٹ ہے کہ پولیس ناقص تفتیش کے باعث بڑی تعداد میں بے گناہ شہریوں سے انکا آزادی کا حق چھین کر انہیں پابند سلاسل کردیتی ہے ۔گھریلوناچاقی کے باعث600خواتین نے فیملی کورٹ سے خلع کی ڈگریاں حاصل کیں اور 500سے زائد بچے ماں باپ کی شفقت سے محروم ہوئے ۔کینٹ کچہری ،ماڈل ٹائون کچہری اور ضلع کچہری سے 2ہزارسے زائدمجرموں کو سزائیں سنائی گیئں۔
بینکنگ کورٹس نے مختلف بینکوں کی طرف سے دائرکئے جانے والے ریکوری کے دعوئوں پرایک ہزار کے قریب بینک کے نادہندگان کے خلاف ڈگریاں جاری کیں جبکہ بینک جرائم سے متعلقہ عدالتوں نے 266فیصلے کئے ۔سال ل 2013ء میں لاہور کی سیشن کو رٹس میں 75ہزار2سو39نئے مقدمات دائر کئے گئے ۔یہ مقدمات ضمانت ،اندراج مقدمہ کے احکامات ،اجراڈگری ،دیوانی وفوجداری تنازعات کی اپیلیں ودیگر معاملات سے متعلقہ ہیں ۔2013ء میں گارڈین کورٹس میں 8ہزار282، سول کورٹس میں 46ہزار851،فیملی کورٹس میں 14ہزارایک سو25مقدمات دائر کئے گئے۔
