
پرانے وقتوں میں استاذہ اکرام کی تلاش کیلیۓ کوسوں میل پیدل اجاڑ بیابان صحراؤں کی خاک چھاننی پڑتی تھیـ تب کہیں جا کر گوہرِ مقصود حاصل ہوتا تھاـ اس استاد کی قدر بھی زیادہ تھی اس علم کی افادیت بھی بہت تھی جو اپنے پیاروں کو چھوڑ کر دور دراز جا کر حاصل کیا جاتا تھاـ آج نہ وہ استاذہ اکرام رہے اور نہ وہ محنتی شاگرد جو ان کی قدر احترام کریںـ
یہی وجہ ہے علم ہر طرف ہے لیکن رٹے کی حد تک اور اثر صرف درسگاہ تکـ یہی وجہ ہے ہم جیسے”” چھوٹے چھوٹے لوگ”” جب بڑوں کو سامنے نہیں دیکھتے تو مقدور بھر کوشش کرتے ہیں کہ کچھ تو کم علمی کے ساتھ بہتری کا پیغام پہنچایا جائے جو خلقِ خدا کیلیۓ بھلائی کا بہتری کا عنوان بنےـ
ہمارے درد احساسات کو مادی دنیا کسی طویل القامت اژدھے کی صورت نگلتی جا رہی ہےـ آج نہ ہمیں حقوق ہمسائیگی کا احساس ہےـ نہ بطورِ مسلمان اپنے مسلمان بھائی کاـنفسا نفسی کا عالم ہےـ
صدموں سے غموں سے چور یہ قوم اب دکھوں سے اس قدر عاجز آگئی کہ بڑے بڑے حادثے لمحے بھر میں چھو منتر ہو جاتے ہیںـ
ہمارا المیہ اپنی جکہہ لیکن اسلام کا درس انسانیت ہمیں کسی بہانے کے ساتھ دکھ کو فراموش کر کے خوشیوں کی چہچہاہٹ کی سر عام اجازت نہیں دیتاـ
روضہ داروں کیلیۓ انعامی دن عید کا ہے ـ جو آ رہا ہے ویسے تو عید نام ہی خوشی کا ہے مگر جو ظلم و ستم کے پہاڑمیںمیں 2014 غزہ میں توڑے گئے وہ چیخیں وہ سسکیاں وہ ماتم وہ نوحے ہم سے ایک التجا کرتے ہیں کہ خُدارا اپنی خوشگوار عید کی تشہیر نہ کرناـ احساس کو عارضی طور پے زندہ رہنے دیناـ
عید بچوں کیلیۓ بڑوں کیلیۓ رشتے داروں کیلیۓ پیغام ہے ملاقات کا بھائی چارہ پھیلانے کاـ لیکن اس عید پے ہر قہقہے کوفضا میں بلند کرنے سے پہلے ذرا توقف کر کے سوچ لیجیۓ گا کہ ہم کسی کے درد پے مرہم کی بجائے زخم تو نہیں لگا رہے؟ عید اس بار احساسِ ذمہ داری کے ساتھـ
تحریر : شاہ بانو میر
