Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 4, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

3 دسمبر عالمی یومِ معذوراں اور پنجاب میں معذوروں کی حالت زار

November 27, 2012 0 1 min read
Rohail Akbar
Rohail Akbar
Rohail Akbar

اقوامِ متحدہ کے ایک سروے کے مطابق معذور افراد کی تعدار ہماری کل آبادی کے 10%کے برابر ہے۔ معذور افراد کی بحالی اور معذور بچوں کی تعلیم و تربیت ہماری معاشرتی، اخلاقی ،قومی اور مذہبی ذمہ داری ہے کیونکہ ہمار ا مذہب اسلام معذور افراد کے ساتھ اچھا سلوک روا رکھنے کی تلقین کرتا ہے۔ تاہم پچھلی تین دہائیوں سے معذور افراد کی بحالی خصوصاً معذور بچوں کی تعلیم و تربیت نے بین القوامی سطح پر اہمیت اختیار کر لی تھی۔ اقوام متحدہ نے اّسی(80) کی دہائی(dacade) کو معذور افراد کی دہائی کے طور پر منایا۔ اگرچہ ملک بھر کے چھوٹے بڑے شہروں میں بعض فلاحی تنظیموں کے زیرِ انتظام معذور بچوں کی تعلیم و تربیت کے لئے کئی ایک ادراے کام کررہے تھے تاہم مذکورہ بین القوامی تحریک کے زیر اثر پاکستان میں بھی سرکاری سطح پر معذور بچوں کی تعلیم و تربیت کے لئے کئی ایک انقلابی اقدامات کئے گئے ۔ وفاقی حکومت نے معذور بچوں کی تعلیم تربیت کے لئے وفاقی سطح پر 1985میں ایک ڈائریکٹریٹ قائم کیا ، جس کے تحت فاٹااور آزاد کشمیر سمیت ملک بھر میں معذور بچوں کی تعلیم و تربیت کے لئے ادارے قائم کئے۔

وفاقی حکومت نے معذور بچوں کے اساتذہ کی تربیت کیے لئے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی ، جامعہ کراچی اور جامعہ پنجاب میں معذور بچوں کے اساتذہ کی تربیت کے لئے ماسٹر ڈگری پروگرام کے اجراء کے لئے فنڈز فراہم کئے ۔ وفاقی حکومت نے تمام چاروں صوبائی حکومتوں کے زیرِ انتظام چلنے والے اداروں کی حالتِ زار میں بہتری لانے او ر انہیں ترقی دینے کے لئے بھی فنڈز فراہم کئے۔اس طرح وفاقی حکومت کے ساتھ ساتھ صوبائی حکومتوں کے زیر انتطام چلنے والے خصوصی تعلیم کے محکموں کی کارکردگی میں بھی نمایا ں تبدیلی رونما ہونے کے امکانا ت روشن ہوگئے۔ چند سال قبل تک صوبہ پنجاب میں معذور بچوں کی تعلیم و تربیت کی ذمہ داری سرکاری سطح پر محکمہ تعلیم کے سپرد تھی۔ ان معذور بچوں میں گونگے بہرے، نابینا، جسمانی معذور اور ذہنی پسماندہ بچے شامل ہیں۔ پنجاب بھر میں معذور بچوں کی تعلیم و تربیت کے لئے چند ایک ادارے سرکاری سطح پر محکمہ تعلیم کے زیر انتظام1955سے ہی کام کر رہے تھے۔ معذور افراد کی بحالی کی مذکورہ بین القوامی تحریک کے زیرِ اثر پنجاب میں محکمہ تعلیم کے زیرِ انتظام معذور بچوں کی تعلیم و تربیت کے لئے 1983میں ایک الگ ڈائریکٹریٹ قائم کیا گیا۔

پنجاب حکومت نے بے شمار تکنیکی اور کئی ایک انتظامی امور کے پیش نظر یہ جان لیا کہ معذور افراد کی تعلیم و تربیت کے شعبہ کو محکمہ تعلیم کے زیرِ انتظام نہیں چلایا جا سکتا ، لہٰذا اس کام کے لئے ایک الگ محکمے کے قیام کی ضرورت محسوس کی گئی ۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت کے وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی نے خصوصی تعلیم کے شعبہ کی اہمیت کے پیش ِ نظر یکم اکتوبر 2003کو سپیشل ایجوکیشن کا ایک الگ محکمہ قائم کر دیا۔ قدسیہ لودھی صاحبہ کو وزیر اور جناب سہیل مسعو کو اس محکمہ کا سیکرٹری مقرر کیا۔ الگ محکمہ کا قیام اس لئے ناگزیر تھا کہ خصوصی بچوں کی تعلیم و تربیت کو ان کی ضروریات کے مطابق جدید خطوط پر استوار کیا جا سکے ۔ چنانچہ پنجاب بھر میں معذور بچوں کے اداروں کا ایک جال بچھا دیا گیا اور خصوصی تعلیم کے ادارے جو کہ پہلے صرف بڑے شہروں میں ہی کام کر رہے تھے، اب ان کو تحصیل کی سطح پر قائم کر دیا گیا۔ اداروں میں بچوں کی بحالی کے لئے نہایت ہی تکنیکی شعبہ جات قائم کئے گئے۔ ان شعبہ جات میں بیش قیمت طبی وامدادی آلات(electronic aids) مہیا کرنے کے لئے فنڈز مہیا کئے گئے۔ اس کے علاوہ معذور بچوں کے والدین کو اپنے بچوں کو ان اداروں میں داخل کروانے کی جانب راغب کرنے کے لیے کئی ایک ترغیبات جیسے مفت یونیفارم، مفت درسی کتب، مفت بریل کتب،مفت آلاتِ سماعت،مفت وہیل چیئرز، مفت ٹرانسپورٹ سروس، روزانہ مفت دودھ کا پیکٹ اور ہر طالبعلم کو دو سو(200)روپے ماہانہ وظیفہ پر کثیر رقم خرچ کی گئی۔یہ بات انتہائی تکلیف دہ ہے کہ پنجاب میں خصوصی تعلیم کے الگ محکمہ کے قیام کے ساتھ ہی اسکا زوال بھی اسی روز سے شروع ہو گیا تھا۔

حکومت پنجاب نے شعبہ خصوصی تعلیم کی تکنیکی حیثیتtechnical status) (کو تسلیم کرتے ہوئے اگرچہ خصوصی تعلیم کا الگ محکمہ تو قائم کر دیا لیکن محکمے کی باگ ڈور غیر تکنیکی (non-technical) اور غیر تربیت یافتہ افراد کے حوالے کر دی جنہوں نے اپنی ناتجربہ کاری کی وجہ سے اس شعبہ کو نہ صرف اپنی مشقِ ستم کا نشانہ بنایا بلکہ اپنی حوصِ زر کے باعث اسے مالِ غنیمت سمجھ کر لوٹا۔ منصونہ بندی اور نااہلی کا عالم یہ ہے کہ الگ محکمہ بننے کے باوجود جنرل ایجوکیشن کے ایسے غیر تربیت یافتہ اساتذہ جو اپنے محکمے میں گھر کے قریب آسامیاں دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے سفارش پر لاہور سمیت بڑے شہروں میں سپیشل ایجوکیشن کی پوسٹوںپر براجماں تھے، انہیںاس نئے محکمے نے سپیشل ایجوکیشن کا الگ محکمہ بننے کے باوجود واپس بھیجنے کی بجائے صرف سفارش کی بنیاد پر اپنے سینے سے لگائے رکھا ۔ جنرل ایجوکیشن کے ایسے افراد جو غیر قانونی طور پر سپیشل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی پوسٹوں پر تعینات تھے ان میں جنڈڈیالہ شیر خان ضلع شیخورہ کے گرلز کالج کی اسسٹنٹ پروفیسر مسز عفیفہ افتخار بھی شامل تھی جس نے گورنمنٹ انِ سروس ٹریننگ کالج فار دی ٹیچرز آف ڈس ایبلڈ لاہور کے پرنسپل کی پوسٹ پر قبضہ جمائے رکھا۔ موصوفہ اسسٹنٹ پروفیسر اور اس کے ساتھی ،بیوروکریسی میں اپنے اثر ورسوخ کی وجہ سے محکمہ کے سیاہ سفید کے مالک بن گئے اورمحکمہ کے افسران کو معذور بچوں کے تعلیمی امور پر مشورے دینے لگے ۔ ان کے مشوروں نے تو نیم حکیم خطرہ جان کے مصداق معذور بچوں کی تعلیم تربیت کے منصوبوں کا بیڑہ ہی غرق کردیا۔

غیر تربیت یافتہ افر د کروڑوں روپے کے تکنیکی پراجیکٹس کی منصوبہ بندی کرتے رہے جس میں وہ محکمہ میں دستیاب تربیت یافتہ اساتذہ سے قطعاً کوئی مشاورت نہ کرتے ۔ اس ناقص منصونہ بندی نے معذور بچوں کو تعلیم میں کسی بہتری کی بجائے اسے مزید تباہی اور بربادی کی دلدل میں دھکیل دیا۔ چند اقدامات کی جھلک ملاحظہ کیجئے: ۔سپیشل ایجوکیشن سنٹرز۔مذکوہ نام نہاد ماہرین کے مشورے سے تحصیل کی سطح پر چاروں معذوریوں(disabilities) کے طلبا و طالبات کی تعلیم و تربیت کا انتظام ایک ہی سنٹر میں کر دیا گیا۔ اس طرح یہ نام نہاد ماہرین معذور بچوں کے اداروںکے قیام پر اٹھنے والے اخراجات کو کم کرنے میں تو یقیناً کامیاب ہو گئے لیکن وقت نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ایک ہی ادارے میں چاروں قسم کی معذوریوں کے اختلات کی وجہ سے ان تمام ہی بچوںکی معذوری کے مجموعی تاثر میں اضافہ ہوا ہے۔آڈیالوجی (Audiology) کے شعبہ کی حالت زار ۔ان نام نہاد ماہرین کے مشورے سے بیورکریسی نے کروڑوں روپوں کے تکنیکی اور طبی آلات اپنی ناقص منصوبہ بندی کی وجہ سے یہ سوچے بغیر خرید لئے کہ جب ان آلات کو چلانے کے لئے محکمہ کے پاس تربیت یافتہ ماہرین موجود ہی نہیں ہیں تو ان آلات سے استفادہ کیسے کیا جائے گا؟ لہٰذاکروڑوں روپوں کی لاگت سے خریدے گئے یہ انتہائی حساس آلات (electronic aids) ڈبوں میں بند پڑے ناکارہ ہوگئے۔ ناقص منصوبہ بندی کا عالم یہ ہے کہ ایک جانب تو حکومت نے گونگے بہرے بچوں کے لئے کروڑوں روپے کی لاگت سے آلات سماعت (hearing aids)خریدے بلکہ گونکے بہرے درجنوں بچوں کو فی کس تقریباً بیس(20)لاکھ رروپے کی کثیر رقم خرچ کرکے بذریعہ آپریشن کاکلیئر امپلانٹ (cochlear implant)بھی کروائے، جبکہ دوسری جانب سپیشل ایجوکیشن کے اداروں میں آڈیالوجسٹ (Audiologist) کی پینتیس (35)پوسٹوں کو ختم (Abolish)کردیا۔ افسران کو معلوم ہی نہیں ہے کہ معذور بچوں کے ادارہ میں صرف آڈیالوجسٹ ہی ایک ایسا ماہر پیشہ ور فرد (professional) ہوتا ہے جو بچوں کے آلات سماعت اور کوکلیئر امپلانٹ کی نگرانی کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ ستم ظریفی یہ کہ محکمہ ہذا میں پرنسپل ہیلتھ افسر کی گریڈ 19کی ایک پوسٹ ہے جس پر سروس رولز کے مطابق ایم بی بی ایس (MBBS)ڈاکٹر کو تعینات کیا جاتا ہے تاکہ معذور بچوں کی طبی جانچ ، صحت اور تکنیکی تربیت و بحالی کے پروگرام کو بطر یقِ احسن مانیٹر (monitor)کیا سکے۔ ایسی اہم پوسٹ پر بھی سیکرٹری سپیشل ایجوکیشن پنجاب جناب عبداللہ سنبل نے خالصتاً سفارش کی بنیا د پر وفاقی حکومت کے ایک سوشل ویلفئر افسر کو تعینات کر رکھا ہے ۔

ا ڈیالوجسٹ کی خدمات اداروں میں دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے ان بچوںمیں کسی بہتری کی بجائے ان میں جذباتی اور نفسیاتی مسائل نے جنم لے لیا ہے ۔ یاد رہے کہ حکومت نے کاکلئیر امپلانٹ پر دس کروڑ روپے سے زائد کی رقم خرچ کر رکھی ہے ۔ بیس سے زائد طلبہ کے کاکلیئر امپلانٹ ناکارہ ہوچکے ہیں ۔ متاثرہ سماعت طلبہ و طالبات کا کوئی پرسان حال نہیں ہے عدمِ توجہی کی وجہ سے معاشرے میں ان کی بحالی کی بجائے ان کی معذوری میں اضافہ ہو گیا ہے۔ اب ایسے تمام گونگے بہرے بچوں کے والدین، جن کا حکومت نے کاکلیئر امپلانٹ کروایا تھا وہ جھولیاں اٹھا اٹھا کر میڈیا پر حکومت کو بد دعائیں دیتے نظرآتے ہیںلیکن ستم ظریفی یہ کہ ان کی فریاد سننے والا کوئی نہیں ہے۔

World Day Paralysis
World Day Paralysis

۔سپیچ تھراپی (Speeh Therapy)۔ متاثرہ سماعت بچوں کی تعلیم و بحالی کا دارومدار سپیچ تھراپی پر ہوتا ہے ۔ سپیچ تھراپی کا شعبہ خالصتاً طبی نوعیت کا ہے ۔ پاکستان کی تقریباً تمام میڈیکل یونی ورسٹیاں سپیچ تھراپی میں ایم بی بی ایس کی طرز پر ایف ایس سی کے بعدچار سالہ بی ایس سی( آنرز) کروا رہی ہیں ۔ لیکن محکمہ سپیشل ایجوکیشن اپنے اساتذہ کی تربیت کے ایک ادارے گنگ محل میں یہی چار سالہ پروگرام ایک سالہ ڈپلومہ کی صورت میں مکمل کروا رہا ہے ۔ اداراہ کے پرنسپل شہزاد بھٹہ اور محکمہ کے کئی افسران نے اس ڈپلومہ میں داخلے کو کمائی کا دھندہ بنا لیا ہے اور سیکرٹری سپیشل ایجوکیشن عبداللہ سنبل صاحب زائدالعمر امیدواروں کو داخلہ دینے کے لئے اپنے اختیارات سے تجاوز کرکے عمر کا اوپر والی حد میں چھوٹ (age relaxation)دے رہے ہیں۔ گنگ محل میں سپیچ تھراپی کے ڈپلومہ کا اجراء در اصل ایک بڑی سازش کا حصہ ہے جس کے تحت اداروں میں سپیچ تھراپست (speech therapist)کی گریڈ 17کی منظور شدہ پوسٹوں کے سروس رولز میںسال 2009میں اس وقت ایک سالہ ڈپلومہ ان سپیچ تھراپی(one year diploma in speech therapy) کے الفاظ شامل کروائے گئے جب نہ ہی گنگ محل میںاس ڈپلومہ کا ابھی اجراء ہوا تھا اور نہ ہی پاکستان بھر میں سپیچ تھراپی میں ایک سالہ ڈپلومہ کا کوئی وجود تھا۔

افسران نے اپنے عزیز و اقارب کو چور دروازے کے ذریعے گریڈ 17میں بطور سپیچ تھراپست بھرتی کروانے کے لئے میڈیکل یونیورسٹیوں کی سپیچ تھراپی کی ڈگری کو نظر انداز کرکے پہلے تو سروس رولز میں 2009میں ایک سالہ ڈپلومہ کوشامل کروایا اورپھر گورنمنٹ ٹریننگ کالج فار دی ٹیچرز آف ڈیف گلبرگ لاہور میں زبردستی اس کا اجراء بھی کروایا۔ یاد رہے کہ محکمہ نے اس سے قبل اسلام آباد کے ایک غیر منظور شدہ ادراے کے سپیچ تھراپی میں ڈیڑھ سالہ ڈپلومہ کے حامل امیدواروں کو بطورسپیچ تھراپست بھرتی کیا جن کی کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی جس سے ان بچوںمیںبول چال کی صلاحیت پیدا ہونے کی بجائے کئی جذباتی اور نفسیاتی مسائل نے جنم لے لیا ہے۔ اور اب یہ گنگ محل کا ایک سالہ جعلی ڈپلومہ رہی کسر بھی نکال دے گا۔

متاثرہ بصارت بچوں کے لو و ژن(Low Vision) سنٹرز اور بولتی کتابیں ۔حکومت نے متاثرہ بصارت بچوں کے لئے بڑے نابینا بچوں کے چھ(6)اداروں میں لو وژن سنٹر قائم کئے جن میں لاکھوں روپوں کی لاگت سے متاثرہ بصارت طلبہ کے لئے سامان خریدا گیا۔ ان اداروں میں گریڈ 17میں کونسلرز بھی بھرتی کئے گئے ۔ ان اداروں کے قیام کا مقصد یہ تھا کہ متاثرہ بصارت بچے بریل سسٹم (Braille system)سے ہٹ کر لو وژن آلات اور لارج پرنٹ(large print)کی مدد سے عام بچو ں کی طرح تعلیم حاصل کرسکیں۔ ناقص منصونہ بندی کی وجہ سے حکومت کا یہ پراجیکٹ بھی بری طرح ناکام ہوگیا اور متاثرہ سماعت بچے اب بھی نابینا بچوں کی تعلیم کے روایتی طریقہ کار یعنی بریل سسٹم کے مطابق تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ حکومت نے نابینا بچوں کے لئے بولتی کتابیں تیار کرنے کے لئے ایک پراجیکٹ پر لاکھوں روپے خرچ کئے گئے، لیکن یہ پراجیکٹ بھی لو وژن سنٹرز کی طرح بری طرح ناکام ہوگیا۔ نام نہاد ماہرین کی منصوبہ بندی کی وجہ سے نہ ہی لو وژن سنٹر چلتے دکھائی دیتے ہیں اور نہ ہی کوئی بولتی کتابیں تیا ر ہوتی نظر آتی ہیں ۔

ان پراجیکٹس کا فائدہ صرف اور صرف ان افسران کو پہنچا جنہوں نے صرف اپنی جیبیں گرم کرنے کے لئے ان پراجیکٹس کی منصوبہ بندی کی اور بے کار میں ان پراجیکٹس کا سامان خریدا ۔سلو لرنر ز (Slow Learners) کے ادارے ۔گورنمنٹ ان سرو س ٹریننگ کالج فار ٹیچرز آف ڈس ایبلڈ لاہور کی پرنسپل مسز عفیفہ صاحبہ کے مشورے سے پنجاب بھر میںنام نہاد سلو لرنر بچوں کے35 ادارے قائم کئے گئے ۔ان اداروں کے لئے ہر سنٹر کے لئے ایک سو یعنی کل تین ہزار پانچ سو ڈی وی ڈی (DVD) ستر لاکھ روپے سے زائد کی لاگت سے خریدے گئے۔بعد میں ان اداروں کے لئے سلیبس اور امتحانی مسائل نے ثابت کیا کہ سلو لرنز کے اداروں کا قیام ایک ڈرامہ تھا لہٰذا حکومت نے اس منصوبے کو رول بیک کرنے کے لئے اساتذہ کی منظور شدہ تعداد جو کہ پہلے دس تھی اسے بعد میں پانچ کر دیا ۔ جنرل ایجوکیشن کے اداروں کے بچے ان خصوصی اداروں میں داخل کرنے کے بعد یہ پالیسی بنا دی گئی کہ یہ بچے سلو لرنز کے اداروں میںرہتے ہوئے جنرل ایجوکیشن کا سلیبس پڑھنے کے بعدجنرل ایجوکیشن کے پنجاب ایجوکیشن کمیشن کا امتحان دیں گے ۔چونکہ یہ بچے اس کمشن کا امتحان کا پاس کرنے کے قا بل نہیں ہوتے اس لئے امتحان میں فیل ہو جاتے ہیں۔ اس طرح یہ بچے تعلیمی مسائل کے ساتھ ساتھ معاشرتی اور جذباتی مسائل کا شکار بھی ہو چکے ہیں۔

شاملاتی تعلیم (Inclusive Education)کے برعکس اقدامات۔ایک جانب تو محکمہ کے افسرا ن مذکورہ بالا نام نہاد ماہرین خصوصی تعلیم کے مشورے سے شاملاتی تعلیم (inclusive education)کا ڈھنڈوا پیٹے رہتے ہیں کہ معذور بچوں کو لازمی طور پر عام سکولوں میں عام بچوں کے ساتھ ہی تعلیم حاصل کرنی چا ہیئے اور اس نظریئے کی تشہیر کے لئے بین القوامی تنظیموں کے اشتراک سے سیمنار(seminar) بھی کرواتے پھرتے ہیں ، جبکہ دوسری جانب محکمہ میں یہ لوگ نابینا بچوں کے لو وژ ن(low vision)سنٹرز اور نارمل سکولوں کے پڑھائی میں کمزور بچوں کے لئے سلو لرنرز سنٹرز جیسے نت نئے ایسے پراجیکٹ بناتے ہیں جو ان معذور بچوں کو شاملاتی تعلیم سے کوسوں دور کردیتے ہیں۔

یہاں تک کہ ڈیپارٹمنٹ نے اپنے سپیشل ایجوکیشن سنٹر ز کو پرائمری سے مڈل کرتے ہوئے ایسے جسمانی معذور اور نابینا بچوں کی کلاسوں کو بھی اپ گریڈ کردیا جو بڑی آسانی سے عام بچوں کے سکولوں میں اپنی تعلیم کو جاری رکھ سکتے تھے۔ معذور بچوں کے جنسی و معاشرتی مسائل کی جانب عدمِ توجہی ۔یہ بات اظہرمن الشمس ہے کہ بچوں اور بچیوں کا ایک ہی کلاس میں اکٹھا پڑھنا ان گنت جنسی اور معاشرتی مسائل کو جنم دیتا ہے اور ماہرین بھی اس بات پر متفق ہیں کہ عام بچوں کی نسبت سپیشل بچوں کے جنسی اور معاشرتی مسائل کی نوعیت زیادہ سنگین ہوتی ہے۔ سپیشل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے منصوبہ سازوں کی کم عقلی دیکھئے کہ انہوں نے معذور بچوں کے ادروں میں مخلوط تعلیم (co-education)کو رواج دے رکھا ہے۔ بچوں اور بچیوں کے آزادانہ اختلاط کی وجہ سے سپیشل سکولوں میں درجنوں نازیبا واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں جن کو محکمہ کے افسران اور ہیڈ ماسٹر صاحبان اپنی سروس کو بچانے کے لئے دبا لیتے ہیں۔ افسران کی نا اہلی کا عالم یہ ہے کہ وزیراعلیٰ پنجا ب کی منظوری سے سپیشل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے ایک نوٹیفیکیشن جاری کر رکھا ہے کہ جب بھی معذور بچوں کا کوئی ادارہ مڈل سے ہائی میں اَپ گریڈ (upgrade)ہو گا تو ایسی صورت میں اس ادارے کو دو حصوں میں تقسیم کرکے لڑکوں اور لڑکیوں کے لئے دو الگ الگ ادارے بنا دیئے جائیں گے لیکن حکومت نے نوٹیفیکیشن جاری ہونے کے بعد بھی جتنے اداروں کو مڈل سے ہائی میں اَپ گریڈ کیا، ان تمام اداروں کو مخلوط تعلیم (co-education) کے اداروں کی صورت میں ہی اَپ گریڈ کیا جو کہ سراسر غیر قانونی عمل ہے۔

محکمہ میں مذہبی اور اخلاقی اقدار کی پامالی۔ سیکرٹری سپیشل ایجوکیشن جناب عبداللہ سنبل نے تبادلوں اور تقریوں میں لبرل (liberal)پالیسی کے نام پر مذہبی اور اخلاقی اقدار کا دیوالیہ نکال دیا ہے وہ نا معلوم وجوہات کی بناہ پر کلیدی آسامیوں پر قادیانی افسروں کی تعیناتی کوترجیح دے رہے ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں گریڈ 18کے سینئر موسٹ پرنسپل محمد فاروق کو ہٹا کر گریڈ 17کی ایک قادیانی کنٹریکٹ ٹیچر ماریہ امیر کو گونمنٹ سیکنڈری سکول فار ڈیف بوائز گلبرگ لاہور تعینات کر دیا ہے ۔ یاد رہے کہ سروس رولز کے مطابق گورنمنٹ سیکنڈری سکول فار ڈیف بوائز لاہور میں صرف اور صرف مرد (male) پرنسپل ہی تعینات کیا جا سکتا ہے ۔ اب ادارے کے ملازمین اور ٹیچرز یہ کہتے ہوئے سنائی دیتے ہیں کہ ہم اپنی اچھی اے سی آر لکھوائیں یا پھر اپنے ایمان کی خیر منائیں۔ سیکرٹری صاحب نے ایک اور قادیانی لاء افسر(law officer) جناب ملک آصف منیر کو ان کے اصل کام کے علاوہ تمام محکمہ کے افسران اور ملازمین کی انکوائریوں کا کام دے رکھا ہے جس سے انہیں پشیمان حال ملازمین کو اپنی مرضی کے مطابق ڈیل کرنے کا موقع مل جاتا ہے اور وہ انہیں اپنے دام محبت میں گرفتا ر کرنے کا ایسا کوئی موقع ضائع نہیں کرتے ۔
تربیت یافتہ اساتذہ کی کمی کا مسئلہ۔ تربیت یافتہ اساتذہ معذور بچوں کی تعلیم و تربیت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ گونگے بہرے، نابینا، جسمانی معذور اور ذہنی پسماندہ ہر قسم کی معذوری کے لئے یو نیورسٹیوںمیں نہ صرف الگ الگ تربیت دی جاتی ہے بلکہ پبلک سروس کمیشن کے ذریعے ان معذوریوں کے لئے الگ الگ اساتذہ بھرتی کئے جاتے ہیں۔ یعنی نظریاتی اور قانونی دونوں ہی پہلوئوں سے ایک معذوری کا ماہر استاد دوسری معذوری کے بچوں کو پڑھانے کا اہل نہیں ہوتا۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ معذور بچوں کی کلاسوں میں پڑھانے کے لئے طالبعلوںکی تعداد جنرل ایجوکیشن میں بچوں کی تعداد کے مقابلے میں کہیں کم ہوتی ہے۔محکمہ خصوصی تعلیم پنجاب کے نوٹیفیکیشن نمبر SO(B&D)10-33/2005(A) بتاریخ 6اکتوبر 2009کے مطابق سپیشل ایجوکیشن کے سنٹرز اور پرائمری اداروں میں دس(10) گونگے بہرے بچوں کے لئے ایک،چار(4) نابینا بچوں کے لئے ایک، دس(10) جسمانی معذور بچوں کے لئے ایک اور چار(4)ذہنی پسماندہ بچوں کے لئے ایک ٹیچرہو گا۔ یہ بھی سب کو معلوم ہے کہ سپیشل ایجوکیشن کے سنٹرز یا پرائمری اداروں میں ہر معذوری کی لازماًسات(7)کلاسیں تو ہوتی ہیں اور یہ بات بھی طے ہے کہ ایک کلاس کے لئے کم از کم ایک ٹیچر کی ضرورت تو ہوتی ہے۔ اس طرح ا یک سپیشل ایجوکیشن سنٹر یا پرائمری سکول میں ایک معذوری کے لئے کم از کم سات ٹیچرز درکار ہیں۔

معذور بچوں کے بیوروکریسی کے ہاتھو ں استحصال کی حد دیکھئے کہ ان بچوں کے پرائمری سنٹرز میں ہر معذوری کے لئے صرف ایک ٹیچر کی پوسٹ کی منظوری دی گئی ہے او ر بیوروکریسی کی نااہلی کی وجہ سے منظور شدہ آسامیوں میں سے بھی تقریباً چالیس فیصد آسامیا ں ابھی تک خالی پڑی ہیں۔ شومی قسمت دیکھئے کہ ان ساٹھ فیصد آسامیوں پر جو ٹیچرز بھرتی کئے گئے ہیں اُن سب کا جھمگٹا لاہور سمیت بڑے شہروں میں لگا دیا گیا ہے اور دور دراز کے چھوٹے شہروں کے معذوربچے اپنی قسمت پر ماتم کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

گڈگورننس(Good Governance)۔ پورے ڈیپارٹمنٹ میں یہ بات مشہور ہے کہ اگر آپ کو ٹرانسفر یا تقرری کروانی ہے تو پھر سیکرٹری صاحب کی بجائے آپ ڈائریکٹ ایس او ایسٹیبلشمنٹ اختر بخاری صاحب سے طے کر لیں، آپ کا کام ہو جائے گا۔ اس بات کی تصدیق کسی بھی غیر جانبدار ذریعے سے کی جا سکتی ہے اور سیانے کہتے ہیں کہ دھواں وہیں سے اُٹھتا ہے جہا ں آگ لگی ہوئی ہو۔ موصوف سیکشن افسر صاحب کے ٹھاٹھ باٹھ ہی نرالے ہیں ، موصوف دراصل گریڈ 16میں ایڈیشنل سیکرٹری صاحب کے پی اے ہیں جسے انہی کی سفارش پر سیکرٹری صاحب نے عارضی طور پر سیکشن افسر لگا رکھا ہے۔ وہ دفتر اپنی ذاتی ہینڈا سوک (honda civic)کار پر تشریف لاتے ہیں۔ وہ اتنے محنتی ہیں کہ رات دیر گئے تک دفتر میں کام کرتے ہیں اور ٹرانسفر اور پوسٹنگ کے آرڈر دفتری اوقات میں جاری کرنے کا ان کے پاس وقت ہی نہیں ہوتا، وہ ایسے آرڈرز عموماً رات کے دس بجے نکالتے ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں اپنے حقیقی بیٹے کو بطور سٹور کیپر کنٹریکٹ پر لاہور سے دور دراز کسی شہرمیں بھرتی کروایا تاہم چند ہی ہفتوںکے بعد اس کا تبادلہ گورنمنٹ ان سروس ٹریننگ کالج فار دی ٹیچرز آف ڈس ایبلڈلاہور میںہوسٹل وارڈن کی پوسٹ پر کروالیا۔یہ بھی سیکشن آفیسر اختر بخاری صاحب کا ہی کمال ہے کہ ان کی اپنی حقیقی بیٹی شازیہ اگرچہ بلائنڈ سکول شیرانوالہ گیٹ لاہور میں ایک ماتحت پوسٹ پر بطور کونسلر تعینات ہے لیکن انہوں نے اسے ضلع شیخوپورہ میں گورنمنٹ سپیشل ایجوکیشن سنٹر شرقپور کی ہیڈ مسٹریس کا ایڈیشنل چارج (additional charge) دے رکھا ہے ۔سنا ہے کہ لاہور کی معروف EMEسکیم میں ان کا ایک ذاتی ریسٹورنٹ بھی ہے۔

غیر قانونی تقرر و تبادلے۔تقرریوں او ر تبادلوں میں رشوت، سفارش اور اقربا پروری کا عالم یہ ہے کہ نوکریوں کے حقدار صرف وہ لوگ قرار پاتے ہیں جو یا تو محکمہ کے افسران اور ملازمین کے رشتہ دار ہوں یا انہوں نے افسروں کی جیب گرم کی ہو۔ اس محکمے میں تبادلے کے لئے بھی یا تو رشوت یا پھر سفارش چاہئے۔ اگر کسی کے پاس رشوت میں دینے کے لئے رقم ہے یا اس کے پاس کوئی بڑی سفارش ہے تو پھر اس کے لئے نہ کوئی قانون ہے اور نہ کوئی ضابطہ۔ گونگے بہرے بچو ں کو پڑھانے کے لئے نہ صرف نابینا بچوں کے استاد کو تعینات کر دیا جاتا ہے بلکہ کبھی کبھی نابینا استاد کو بھی تعینات کر دیا جاتا ہے۔اسی طرح گونگے بہرے اور نابینا بچوں کے استادوں کو ذہنی معذور کو پڑھانے کے لئے تعینات کردیا جاتا ہے۔ کوئی تخصیص نہیں ،کوئی لحاظ نہیں، مقصد ایک ہی ہے کہ معذور بچوں کی خدمت کا عہد لے کر نوکری کرنے والے اساتذہ کو ان کی مرضی کی جگہ پر ان کے گھر کے قریب تعینات کر دیا جائے، اس کے نتیجے میں بے شک پنجاب بھر کے چھوٹے شہروں کے تمام تعلیمی ادارے خالی ہوجائیں۔ اس سے عام آدمی بھی حیرت زدہ رہ جاتا ہے۔مسز صباء اشفاق سائیکالوجسٹ ساہیوال کو تبدیل کرکے لاہور میں آکوپیشنل تھراپست (Occupational Therapist)تعینات کیا گیا۔ نابینا سکول راوی روڈ لاہور کی ہیڈ مسٹرس مسز ماجدہ بٹ جو کہ خود بھی نابینا ہے اسے گوجرانوالہ کے گونگے بہرے بچوں کے سکول میں لگا دیا گیا جبکہ گوجرانوالہ کے گونگے بہرے سکول کے بچوں کے ہیڈ ماسٹر محمد علیم شاہ کو نابینا سکول راوی روڈ کا ہیڈ ماسٹر تعینات کیا گیا۔

مسز عاصمہ شوکت جو کہ دینہ ضلع جہلم میں گریڈ 16میں ذہنی معذور بچوں کی ٹیچر تھی اسے نیشنل سپیشل ایجوکیشن سنٹر جوہر ٹائون لاہور میں گریڈ 17کی سینئر ٹیچر کی پوسٹ پر تعنات کر دیا۔ مسر سوفیہ مقبول جو کہ سکول کیڈر میں گونگے بہرے بچوں کی ٹیچر ہے اسے کالج کیڈر میں بلائینڈ کے ٹیچر ٹریننگ کالج میں لیکچرار موبیلیٹی اینڈ اورینٹیشن (Mobility & Orientation)تعینات کر دیا گیا۔ شیرانوالہ سکول کے ایک نابینا بریل ٹیچر ملک محمد امین کی جے ایس ای ٹی (jSET)پروموشن کرکے اسے اسی سکول میں ایک میڈیکل پوسٹ پر اپتھل مالوجسٹ (opthalmologist)لگا دیا۔ سکول کیڈر کے پرنسپل گریڈ(18) محمد فاروق کو گونمنٹ سیکنڈری سکول فار ڈیف بوائز سکول لاہور سے تبدیل کرکے کالچ کیڈر میں ٹریننگ کالج فار ٹیچر زآف ڈیف لاہور میں اسسٹنٹ پروفیسر لگا دیاگیا، یاد رہے کہ محمد شہزاد ہارون بھٹہ جو کہ گریڈ 17میں گونگے بہرے بچوںکے ہیڈ ماسٹر ہیں اسی کالج کی گریڈ 19کی پوسٹ پر بطور پرنسپل تعینات ہیں۔

Special Education
Special Education

نان ٹیکنیکل ڈائرکٹر کی تعیناتی۔ یہ تو سبھی کو معلوم ہے کہ صوبہ پنجاب کے تمام ٹیکنیکل محکموں میں ڈائریکٹر زجنرل اور ڈائریکڑز کی تعیناتی انہی محکموں کے سینئر ترین آفیسرز میں سے کی جاتی ہے ، اسپیشل ایجوکیشن کا شعبہ بھی انتہائی ٹیکنیکل اور حساس ہے، اس کے باوجود ڈائریکٹر ہ سپیشل ایجوکیشن پنجاب کی پوسٹ پر ہمیشہ نان ٹیکنیکل ڈی ایم جی یا پی سی ایس آفیسر کو تعینا ت کر دیا جاتا ہے جس کی وجہ سے شعبہ ہمیشہ میں غلط منصونہ بندی ہوتی ہے اور نتیجہً حکومت کے کروڑوں روپے برباد ہوجاتے ہیں ۔ موجودہ ڈائریکٹر جناب رانا فضل عباس صاحب کی نااہلی نے تو معذور بچوں کی تعلیم کے میعار کا بیڑہ غرق کردیا ۔ ان کے دور حکمرانی میں کرپشن کی انتہاء کر دی گئی ہے ۔ انہوں نے غیر قانونی ٹرانسفرز کی بھرمار کردی ہے یہاں تک کہ زیادہ ضرورت مندوں کو تو لاہور میں بغیر پوسٹ کے ہی اس طرح تعینات کردیاجاتا ہے کہ وہ بغیرکسی کام کے لاہور میں اپنے گھر میں آرام فرمائیں تاہم تنخواہیں اپنی اصل پوسٹ سے وصول کرتے رہیں۔

ایسے خوش نصیبوں میں زیادہ تر محکمہ کے افسرا ن کے اپنے قریبی رشتہ دار شامل ہیں۔ ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے ٹرانسفر اور بھرتیوں کی اگر غیر جانبدار انکوائری کروائی جائے تو بڑے گھمبیر اور لرزہ خیز انکشافات سامنے آنے کی توقع ہے۔ سپیشل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کی نا اہلی اور بد انتظامی نے معذور بچوں کی تعلیم و تربیت کا ستیا ناس کر دیا ہے۔ بچوں کی معذوری قدرت کی مرضی لیکن اُن کی بربادی بیوروکریسی کا کھیل: کیا کوئی نوٹس لینے والا ہے۔

تحریر : روہیل اکبر 03466444144

 

Share this:
Tags:
Punjab Punjab Government Rohail Akbar Special Education پنجاب معذور افراد
Previous Post الطاف حسین کے ویژن پر عمل کرتے ہوئے فرقہ واریت کے خاتمے اور اتحاد و بین المسلمین کے فروغ کے لئے کردار ادا کر رہی ہے۔ اقبال محمد علی خان
Next Post دوہری شہریت نئے حلف نامے،ایم کیو ایم کی جانب سے درخواست دائر
Dr Farooq Sattar

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close