Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 29, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

انسانی حقوق، پنجاب پولیس اور جرائم

January 28, 2015January 28, 2015 0 1 min read
United Nations
United Nations
United Nations

تحریر: غلام مرتضیٰ باجوہ
پاکستان کا آئین انسانی حقوق کی ضمانت دیتا ہے۔ اقوام متحدہ کے منشور میں انسانی حقوق کا خیال رکھتے ہوئے اس کے متن میں انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کے احترام کا بار بار اعادہ کیا گیا ہے۔ چاٹر کا آغاز ہی اس توثیق سے ہوتا ہے۔ اقوام عالم کے مابین برابری کے حقوق اور عوام کی خود ارادیت کی بنیاد پر باہمی دوستانہ تعلقات کو فروغ دیا جائے اور اس کے حصول کیلئے بین الاقوامی تعاون کی فضا پیداکی جائے اور ایسا وقت ہو گا جب انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کو بلا امتیاز نسل، جنس،زبان اور مذہب فروغ حاصل ہو گا۔اقوام متحدہ کے منشور کے تحت انسان حقوق کے فروغ کی بنیاد ذمہ داری جنرل اسمبلی پر عائد کی گئی ہے جس کیلئے انسانی حقوق کا ایک کمیشن تشکیل دیا گیا ہے جو انسانی حقوق کے میدان میں یو این کا مرکزی پالیسی آرگن تصور کیا جاتا ہے کمیشن کی سرگرمی زیادہ تر تصوراتی قدر پیمائی اور مشاورتی نوعیت کی ہے۔ یہ سالانہ مجلس عاملہ کے گروپ کا قیام عمل میں لاتا ہے تاکہ مبینہ سنگین انسانی حقوق کے خلاف ورزیوں کی نشان دہی کر کے فارشات پر غور و حوض کر کے انہیں پیش کیا جائے۔انسانی حقوق پر کمیشن نے اقوام متحدہ کی دیگر تنظیمات آئی ایل او اور یونسکو کے ساتھ ملکر حقوق انسانی کے تحفظ کیلئے قوانین بنائے ہیں۔ ان میں سب سے اہم انسانی حقوق کا عالمی ڈیکلریشن سول اور سیاسی حقوق کا بین الاقوامی اور اقتصادی، معاشی اور ثقافتی حقوق کا بین الاقوامی معاہدہ 1976ء کو اجتماعی طور پر انٹرنیشنل بل آف رائٹس کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ تینوں قوانین اقوام متحدہ کے منشور کی انسانی حقوق کی شقوں کی تشریح و تعبیر کیلئے بنیادی راہنمائی فراہم کرتے ہیں۔

ویسے تو پورے پاکستان کو پولیس اسٹیٹ بنانے کا سلسلہ کافی عرصے سے جاری ہے لیکن اگر گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو پنجاب اس میں کافی حد تک خود کفیل نظر آتا ہے۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہم اس بات کا سراغ لگانے میں قاصر ہیں کہ جب بھی پاکستان کے کسی حصے میں معاشی سرگرمیاں شروع کی گئیں جن سے ملکی معیشت کو سہارامل سکتا تھا تو وہاں حالات کیوںخراب کر دیے گئے؟۔ ایسا عموماً پاکستان کے صنعتی شہروں میں ہوتا آیا ہے۔ قیام پاکستان کے بعد کراچی کو پاکستان کی معاشی شہ رگ کا درجہ حاصل تھا جہاں پاکستان کے تمام علاقوں کے رہنے والے بلا تخصیص نسل آکر مزدوری کرتے تھے اور اسے غریبوں کا دبئی بھی کہا جاتا تھا۔ یہ شہر پاکستان میں سب سے زیادہ زر مبادلہ کمانے والا شہر تھاجسے حکمرانوں نے گزشتہ 25برس سے میدان جنگ بنا رکھا ہے۔ اس کی بربادی میں سب سے زیادہ کردار پولیس نے ادا کیاجو ایک لمبے عرصے تک بھتہ خور اور دیگر جرائم پیش گروپوں کی پشت پنا ہی کر کے ان سے اپنا حصہ وصول کرتی رہی۔ دوسر ی طرف یہی پولیس ملازمین اپنے سرپرست سیا ستدانوںاور جاگیر داروں کے ”احکامات”بجا لا کر ان کے مخالفین کو جعلی پولیس مقابلوں میں ”پار” کر کے اپنی نوکریاں پکی کرتے رہے ہیں۔ پرانا تھانہ کلچر تبدیل کرنے، صوبے کوکرائم فر ی اور کرپشن فری بنانے اور عوام میں پولیس کا سافٹ امیج پیدا کرنے کے لیے پنجاب حکومت نے ماضی میں صوبے میں 100 ماڈل پولیس اسٹیشن بنانے کا منصوبہ بھی بنایا جن کی لاگت64کروڑ روپے تھی۔لاہور کی حدتک روز نامچوں سمیت تھانوں کا ریکارڈ کو کمپیوٹر ائزڈ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ہر ماڈل تھانے کو ایک لاکھ روپے ماہانہ کی خصوصی گرانٹ کی تجویز صوبائی حکومت کو پہلے ہی دی جا چکی ہے۔موجودہ صوبائی حکومت نے اپنے پہلے دور میں بھی پولیس کو تنخواہ میں اضافے سمیت کافی مراعات دیں لیکن پولیس کارکردگی کے حوالے سے مطلوبہ نتائج ظاہر نہ کر سکی۔ بلکہ جو ں جوں مراعات میں اضافہ ہوتا گیا صوبے میں جرائم کی شرح میں بھی اضافہ ہوتا گیا۔سیاسی مقاصد حاصل کرنے اور مخالفین کو ” سبق” سکھانے کے لیے پولیس کو بہترین طاقت تصور کیا جاتا ہے۔ پنجاب میں مختلف سیاسی جماعتوں نے کئی بار اس سے مستفید ہونے کا ذائقہ چکھا ہے۔

Punjab Police
Punjab Police

اس وقت پنجاب پولیس کی کل نفری 179921ہے جس میں 09آر پی اوز، 31ڈی پی اوز، 162ایس ڈی پی اوز اور 708ایس ایچ اوز شامل ہیں۔ جبکہ چار بڑے شہروں میں سی پی اوز تعینات ہیں۔پنجاب پولیس کا محکمہ پنجاب کے ان اولین محکموںمیں سے ایک ہے جو انگریز نے اس وقت قائم کیا جب برصغیر کو مکمل طور پر اپنے تحت کر لیا تھا۔ انسان کا کون سا عمل جرم ہے اور کون سا عمل نہ کرنا غیر قانونی اور جرم ہے اسے لارڈ میکالے کی 1860ء میں متعارف کی جانے والی ایک ضخیم کتاب ”Indian penal code ”میں صراحت سے بیان کر دیا گیا ہے جو 511دفعات پر مشتمل ہے۔ اس میں جرائم کو مخصوص دفعات کے نام سے موسوم کیا گیا ہے اور جرم کی سزا بھی ساتھ ہی بیان کر دی گئی ہے۔ پاکستان بننے کے بعد قانون کی اس کتاب کو ‘ پاکستان پینل کوڈ کا نام دیا گیا۔ اردو میں اسے تعزیرات پاکستان کہا جاتا ہے۔ اس کی کئی دفعات میں ترمیم بھی کی گئی ہے جن میں سابق صدر پاکستان ضیا الحق کی طرف سے ملک میں اسلامی نظام کے نفاز کی کوششوں کے ضمن میں تعزیرات پاکستان کے دو اہم ابواب کی جگہ دو آرڈینینسز شامل کیے گئے۔ ان میں ایک ‘ قصاص دیت آرڈینینس1979ء اور دوسرا حدود قوانین آرڈیننس 1979ء ہیں۔ عدالتوں کو ایک ضابطے کے تحت کام کرنے کے لیے ‘ضابطہ فوجداری ‘ بھی انگریزوں کا تحریر کردہ ہے۔

پنجاب ایک ایسا صوبہ ہے جس کے وزیر اعلیٰ پولیس کو خاص اہمیت دیتے ہیں اور ان کے ہر دور میں پولیس کو مراعات سے نوازا گیا۔ خادم اعلیٰ میاں محمد شہبازشریف قانون پر اور میرٹ کے حوالے سے ایک خاص پہچان رکھتے ہیں اس کے باوجود پے در پے ایسے واقعات کا رونما ہونا پولیس کی روایتی ہٹ دھرمی اور بے حسی کا ثبوت ہیں۔پولیس میں سپاہی سے لے کر اعلیٰ افسران کو بھرتی کے بعد کرائے جانے والے پہلے کورس یا ٹریننگ میں تعزیرات پاکستان پڑھائی جاتی ہے۔ عدالتیں بھی تعزیرات پاکستان کے تحت، جرم ثابت ہونے پر، مجرموں کو سزا دیتی ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ پاکستان میں دیگر قوانین کی طرح اس قانون کی قانون نافذ کرنے والوں کے ہاتھوں خلاف ورزی کی خبریں آئے روز میڈیا کی زینت بنتی ہیں۔جنوری 2008 سے دسمبر 2014تک وزیراعلیٰ پنجا ب شکایات سیل ، آئی جی پنجاب سمیت اعلیٰ احکام کی طرف سے جاری ہونے والے 5لاکھ ں سے4لاکھ کے قریب احکامات پر عمل درآمد نہ ہو سکا بلکہ متاثرین بہت سی پریشانیوں بھی سامنا کرنا پڑا ہے جن پولیس ملازمین کیخلاف قبضہ گروپ،ڈکیت گینگ وغیرہ کی سرپرستی کا الزام درخواستں دی گئی ہیں ۔ ان کیخلاف انکوائریوں کی بجائے ان ملازمین کو سیاسی سفارشوںپر ترقیوں سے نواز اگیا۔متاثرین سے معلوم ہوا ہے کہ یہ لوگوں کو مختلف طریقوں سے خوف زدہ کرکے پنجاب کو پولیس اسٹیٹ بنارہے ہیں۔ پولیس ملازمین کا ایک طریقہ یہ ہے کہ قبضہ کروانے کے بعد کہتے ہیں کہ اگریہ آپ کا حق ہے تو عدالت جائیں یہ ہماراکام نہیں عدالت اور محکمہ مال کا ہے۔ آج کے بعد تھانے کے قریب نظرآنا ورنہ اس انجام براہوگا۔ سادہ لوح مختلف چکرلگالگااپنے حق محروم ہوتے جا رہے ہیں۔

سانحہ پشاور کے بعد آئی جی پنجاب، مشتاق احمد سکھیرا کا دعویٰ ہے کہ پنجاب پولیس دہشت گردی کے خاتمے کے لئے نیشنل ایکشن پلان کے مطابق دن رات کام کر رہی ہے اور سی ٹی ڈی کے شعبے کو مزید بہتر کرنے کے لئے جدید ترین ٹریننگ حاصل کرنے والا پہلا بیچ اسی ماہ پاس آئوٹ ہو رہا ہے۔ جو صوبے بھر میں دہشت گردی کے خاتمے کے لئے معاون ثابت ہو گا،ملک اس وقت ایک بڑے نازک دورسے گزر ہا ہے اور اس میں کسی بھی پولیس افسر کی کامیابی کا دارومدار اس کی دیانت داری اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں پر منحصر ہے۔ محکمہ پولیس میں تفتیشی نظام کی بہتری ،تھانہ کلچر کی تبدیلی، کرپشن کے خاتمے اور فورس کی استداد کار بڑھانے کے لئے مختلف اقدامات کیے جار ہے ہیں۔

سی سی پی اولاہور کیپٹن (ر) امین وینس اورڈی آئی جی آپریشنز ڈاکٹر حیدر اشرف کے حکم پر ممکنہ دہشت گردی کے پیش نظر شہر بھر میںآپریشنزوِنگ نے جنرل ہولڈاَپ کیا۔ جنرل ہولڈاَپ کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروںکی نگرانی میں ہزاروںمشکوک گاڑیوں کی چیکنگ کی گئی جن میں بغیر کاغذات گاڑیاںبند کی گئیں۔مشکوک موٹر سائیکلوں کی چیکنگ کی گئی جن میں بغیر کاغذات،بغیر نمبر پلیٹ اور غیر نمونہ نمبر پلیٹ والی موٹرسائیکلیں بند کیں گئیں اسی طرح جنرل ہولڈ اَپ کے دوران یرقانونی اسلحہ برآمدکر کے مقدمات درج کیے گئے۔جنرل ہولڈاَپ شہر کی تمام اہم شاہرائوں سمیت اہم مارکیٹوں اور شاپنگ سنٹرز پرکیاگیا۔ پشاور ورسک روڈپر واقع آرمی پبلک سکول پر حملہ اورپاک فوج کے شمالی وزیرستان میں ضرب عضب آپریشن کے اثرات پورے ملک میں آسکتے ہیںاور دہشت گرد ملک کے کسی بھی حصہ میں دہشتگردی کر سکتے ہیں۔ پشاور دہشتگردی کے واقعہ کے بعد پورے شہر میں حفاظتی انتظامات مزید سخت کر دیئے گئے ہیں۔پورے شہر میں ناکہ بندی کی جارہی ہے اور شہر کے داخلی وخارجی راستوں پر نفری بڑھا دی گئی ہے اور وہاں ہر شخص اور گاڑی کو مکمل چیکنگ کے بعدجانے کی اجازت دیں۔ شہر میں موجود تمام حساس عمارات اور مقامات پر حفاظتی انتظامات کو سخت کر دیا گیا ہے۔شہر میں ناکہ بندی روزانہ کی بنیاد پر کی جائے گی۔ ڈکیتی، چوری اور دیگرجرائم کی وارداتوں کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی آئی جی آپریشنز اورڈی آئی جی انویسٹی گیشن کو ان وارداتوں میںملوث ڈاکوئوں، چوروں اور دیگر جرائم پیشہ افراد کو گرفتارکرنے کاحکم دیا۔ جس کے تحت انویسٹی گیشن اورآپریشنز ونگ کی سپیشل پولیس ٹیمیں دن رات جرائم پیشہ افراد کے خلاف سر گرم عمل ہیں۔کاررائیوں کے دوران چوری کی گئی موٹر سائیکلیں، ،موبائل فونز، نقدی،دیگر قیمتی اشیاء اور ناجائز اسلحہ برآمد ہواہے ۔ ایک اندازے مطابق صرف پنجاب روزانہ ہر5منٹ بعد ایک واردات ہوتی ہے۔اور 10لوگ جان کی بازی ہارجاتے ہیں۔لیکن پنجاب پولیس سب اچھا کی رپورٹ جاری کرتی ہے،آخرکب تک۔ دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ اپنی قانونی حدود میں رہتے ہوئے برائی کے خلاف جدوجہد کے نتیجے میں کبھی فساد فی الارض پیدا نہیں ہوا۔ ایسا ضرور ہوا ہے کہ برائی کے علمبرداروں نے اس کے خلاف اٹھنے والی آواز کو خاموش کرنے کی کوشش ضرور کی ہے، جس پر نیکی کی تلقین کرنے والوں نے مظلومانہ جدوجہد کی وہ تاریخ رقم کی ہے، جس کی مثالیں آج بھی ہمارے لئے روشنی کا مینار ہیں۔افسوس کہ اس صریح منصفانہ اور معقول قاعدے کو بھی، جو کسی انسان کا گھڑا ہوا نہیں بلکہ رب کائنات کا مقرر کردہ ہے، ہم پامال ہوئے دیکھ رہے ہیں۔گویا اب تفتیش جرائم کے لئے یہ بھی جائز ہو گیا کہ مظالم پر دباؤ ڈالا جائے۔ یہ سخت شرمناک کردارکی انتہا ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ آئے روز چوری، ڈکیتی اور اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اسلحہ کے زور پر نہتے اور غریب عوام کو تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد جمع پونجی سے محروم کر دیا جاتا ہے۔ اس کی بڑی وجہ عوام کا نہتا ہونا اور جرائم پیشہ افراد کا اسلحہ سے لیس ہونا ہے۔ جرائم پیشہ افراد سفارش اور رشوت کے بل بوتے پر اسلحہ لائسنس آسانی سے حاصل کر لیتے ہیں، جبکہ عام شہری کے لئے لائسنس حاصل کرنا مشکل ہی نہیں، نا ممکن ہے۔ اگر جرائم پیشہ افراد کے پاس اسلحہ نہ ہو تو وہ کبھی سر عام واردات کرنے کی جرات نہ کریں۔ چونکہ جرائم پیشہ افراد کے پاس اسلحہ ہوتا ہے، اس لئے کوئی شخص مزاحمت کرے تو جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔ اگر اسلحہ لائسنس ختم کر کے صرف فورسز کو اسلحہ رکھنے کی اجازت دی جائے تو انشاء اللہ وارداتوں میں یقیناً کمی ہو گی۔ یا پھر اسلحہ لائسنس ختم کر کے ہر شخص کو اسلحہ رکھنے کی اجازت دی جائے اور کھلے عام فروخت کیا جائے تاکہ جرائم پیشہ افراد اور عام آدمی کے پاس اسلحہ ہو اور جرائم پیشہ افراد کا مقابلہ کیا جا سکے۔ضرورت اس امرکی ہے کہ سیالکوٹ میں کراچی جسی صورت حال پیدا کی جارہی ہے اس کے ذمہ دار کون ہیں۔کیا حکمران پنجاب کو پولیس اسٹیٹ بنانے سے بچا پائیں گئے یا نہیں؟ یا شہرقائدا کے بعد اب پنجاب کو بھی میدان جنگ بنادیا جائے گا؟

Ghulam Murtaza Bajwa
Ghulam Murtaza Bajwa

تحریر: غلام مرتضیٰ باجوہ

Share this:
Tags:
Crime Ghulam Murtaza Bajwa Human Rights pakistan police Punjab Police United Nations اقوام متحدہ انسانی حقوق پاکستان پنجاب پولیس جرائم
Karachi
Previous Post کراچی: فیکٹری سپروائزر قتل کیس، گروہ کا سرغنہ احمد حسن گرفتار
Next Post پاکستان بارکونسل کا 21 ویں آئینی ترمیم کےخلاف آج یوم سیاہ کا اعلان
Nazeer Tarar

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close