Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 1, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

8 مارچ …خواتین کا عالمی دن

March 7, 2014March 7, 2014 0 1 min read
Women International Day
Women
Women

اسلام دنیا کا وہ واحد آفاقی و لافانی مذہب ہے جس نے جہاں زمان و مکان اور زمین و آسمان کی وسعتوں میں موجود خزانوں کی نقاب کشائی و تشریح کی، وہیں کائنات کی وسعتوں و جہتوں کو مسخر کرنے کے اسرار سے پردہ اٹھانے کے ساتھ ساتھ انسان کو معیشت و معاشرت، تجارت و صنعت’ مبادیت و معاشرت اور تعلقات و ازدواجیات سے لیکر تہذیب و ثقافت تک ہر سمت میں رہنمائی کرتے ہوئے مکمل ضابطہ حیات فراہم کیا ہے اور اسلام کے فراہم کردہ ضابطہ حیات کی سب سے بڑی خصوصیت وخاصیت یہ ہے کہ اس میں حاکم و محکوم، آقا و غلام، آجر و اجیر اور مرد و زن ہر ایک رشتے کے درمیان توازن و مساوات کے قیام کے ذریعے عدل فراہم کیا گیا ہے تاکہ کوئی بھی انسان کسی بھی رشتے کی شکل میں دوسرے انسان سے شاکی نہ ہو اور رب کی طرح انسانوں کا بھی شکر گزار رہے۔

یہی شکر گزاری محبت و احترام کے اسباب پیدا کرتی ہے مگر افسوس کہ آقائے نامدار محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دنیا سے پردہ داری کے بعد صحابہ و اولیاء کرام کی کوششوں اور آل علی کی قربانی کے باوجود اہل ایمان اسلام کے بنیادی اصول مساوات کو فراموش کرتے چلے گئے اور نبی کریم کی جانب سے قیامت تک کیلئے رشدوہدایت عطا کرنے والے تحفے قرآن کریم سے استفادہ کی بجائے سرداروں اور بڑے لوگوں کے منافقانہ افعال کو”روایات” کے نام پر ایمان کا درجہ دے بیٹھے تو بے راہروی ان کا مقدر بنی اور مسائل نے انہیں اس طرح جکڑ لیا کہ مفاد پرستی، نفسانفسی ‘ افراتفری اور انا و تکبر کا زہر اس کے رگ و پے میں سرایت کر گیا جس کے نتیجے میں اس استحصال نے جنم لیا جس سے آج ہمارا معاشرہ دوچار ہے اور استحصال کے اس عفریت کی خوراک چونکہ محبت و احترام ہے لہٰذا اس کی نسل کشی ہورہی ہے اور اس عفریت کی کوکھ سے جنم لینے والی نفرت بہت تیزی سے بڑھتی چلی جارہی ہے۔

آج ہمارے چہار سو نفرت کے ڈیرے ہیں احترام و محبت مفقود ہوچکے ہیں اور عزت و تقدس کو نشانہ بنایا جا رہا ہے ہر انسان دوسرے انسان کا استحصال کر کے اسے پریشان کر کے اسے قربان کر کے اپنی ذات کی تسکین میں مگن ہے اور ان نتائج سے بے پرواہ ہوچکا ہے جن کا شکار اس کی آئندہ آنے والی نسلوں کو بننا ہے کیونکہ انسان آج جو کچھ بو رہا ہے اسکی کھیتی اس کی اولادوں کو کاٹنی ہے جبکہ نفرت و استحصال کے بوئے ہوئے بیجوں پر محبت و احترام کی فصل لگنے کی توقع نہیں کی جا سکتی۔

اس ماحول میں آدم کی تنہائی کے آنسوؤں کی اشک شوئی کیلئے قبولیت دعا کے صلے میں جنت سے بطور تحفہ آدم کی تنہائی مٹانے کیلئے بھیجی جانے والی حوا کی وہ بیٹی جو اس زمین پر نسل انسانی کی افزائش کا باعث ہے اس دنیا کو محبت سے سجانے اور نفرت کی آگ بجھانے کیلئے وہی سعی کررہی ہے جو ”نارِ نمرود” بجھانے کیلئے ایک چڑیا نے کی تھی اور جب چڑیا سے کہا گیا کہ تیری چونچ میں موجود پانی کا ننھا سا قطرہ کیا ابراہیم کے گرد دہکائے گئے اس الاؤ کو ٹھنڈا کردے گا۔

تو اس نے جواب دیا کہ میں جانتی ہوں میرے چونچ میں موجود پانی کے ننھے قطرے کی اس نارِ نمرود کے سامنے کوئی بساط و اوقات نہیں ہے اور اس آگ کا کچھ بگاڑنے کی بجائے خود فنا ہوجائے گا مگر میں اس آگ کو بجھانے کیلئے اپنا فرض تو ادا کرسکتی ہوں باقی اللہ کی رضا کہ میری اس سعی کو کیا مقام ملتا ہے اوراسے کامیابی کی منزل عطا ہوتی ہے یا نہیں۔ یہ ہے عورت کا وہ کردار جو دنیا کی ہر مخلوق میں تقریباً یکساں ہے ! چاہے وہ انسان ہو، حیوان ہو، چرند ہو، پرند ہو درند ہو یا حشرات ‘ وہ مخلوق آب ہو، مخلوق خاک ہو، مخلوق باد ہو مخلوق آتشی ہو یا اشرف المخلوقات حضرت انسان ہر مخلوق میں موجود”مادہ” جسے انسانوں میں ”خاتون” (WOMEN) کہا جاتا ہے، محبت و فرض کے اسی خمیر سے گوندھ کر بنائی گئی ہے۔

شاید اسی لئے علامہ اقبال جیسا دانا و مفکر بھی یہ بات کہنے پر مجبور ہوگیا تھا کہ وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ۔ مگر آج کا انسان جو پیغام محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھول کر رضائے الٰہی کو بالائے طاق رکھتے ہوئے قرآن کریم کو ”زینت طاق ” بناکر رشدو ہدایت سے محروم ہوچکا ہے ‘ایک بار پھر جہالت کی انہی اندھی وادیوں میں گم ہے جس سے عربوں کو باہر نکالنے کیلئے محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اسلام کی شمع کے ساتھ آسمان سے اس زمین خاک پر مبعوث کیا گیا تھا۔

آج کا انسان ہر سطح پر ہر ایک کا ہ ر طریقے سے استحصال کر رہا ہے جس کی وجہ سے دہشت گردی، بد امنی جیسے قبیح جرائم پیدا ہورہے ہیں جن پر انسانیت نوحہ کناں ہے، یہی نہیں بلکہ صنفی مساوات کا بھی خون کر کے اس ہستی کی ناقدری کر رہا ہے جسے قبولیت دعا کے شرف میں بطور نعمت رفیق زندگی بناکر آدم کو نوازا گیا اور جو اگر ماں ہو تو محبت ، خدمت ‘ تربیت، چاہت، اخلاص اور قربانی کے جذبوں سے مزین ایسی شفیق ہستی ہوتی ہے جس سے رب کو بھی پیار ہے تبھی تو اپنے محبوب کی شفاعت سے جنت کو منسوب کرنے والے نے”ماں” کے قدموں تلے جنت کی بشارت دی ہے یعنی جو ماں سے محبت کرے گا سمجھو وہ رب کی اطاعت کرے گا اور رب کی اطاعت کرتا ہے وہ یقیناً جنتی ہوتا ہے لیکن سوچو کہ جو ماں کا نافرمان ہو یا اسے تکلیف پہنچائے تو پھر رب تعالیٰ اس سے کیا سلوک کرے گا۔

یہ وہ سوالیہ نشان ہے جس پر فکر کرنے کی کسی کو فرصت ہے نہ ضرورت ! عورت ہی ہے جسے ماں جیسا شفیق روپ دینے کے بعد رب نے بیوی کی صورت شریک حیات بنا کر زندگی گزارنے میں آسانیاں فراہم کرنے ‘ پیٹ و نفس کی تسکین کے جائز ذرائع فراہم کرنے اور وفا و خدمت کے ساتھ تکمیل آدمیت کے ذریعے افزائش انسانی کا کارنامہ انجام دینے پر بھی مامور کیا گیا ہے ! بہن کی صورت بھائی پر مر مٹنے کا جذبہ رکھنے والی یہ عورت جب بیٹی کے روپ میں ڈھلتی ہے تو وہ نعمت بن جاتی ہے جسے جنت کے دروازوں سے تعبیر کیا گیا ہے ! مگر وائے ری قمست ! کہ عورت کے حصے میں رکھے گئے فرائض تو ہمارے معاشرے نے تسلیم بھی کئے اور اس پران کا بوجھ ضرورت سے زیادہ ڈالا بھی گیا مگر اس کے حقوق سے کسی کو کوئی سروکار نہیں۔

آج کا انسان اور بالخصوص ہمارے مشرقی معاشرے کا انسان تہذیب یافتہ معاشرے کی اصل بنیاد عدل’ انصاف ‘ احسان اور مساوات سب کو فراموش کر کے جس طرح سے صنفی استحصال کر رہا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عرب کو جہالت کی جن تاریکیوں سے نکالا گیا تھا وہ پھر سے لوٹ آئی ہیں۔

عورت جس کے بارے میں حکم ربی ہوا تھا کہ یہ مارنے، پیٹنے، تشدد کرنے، زندہ دفنانے یا نفسانی بھوک مٹانے والی کوئی جنس نہیں بلکہ اسی طرح سے اللہ کی زندہ مخلوق ہے جس طرح سے مرد اور چونکہ گھر کی تزئین و آرائش سے بچوں کی افزائش اور اولاد کی تربیت سے اخلاق و کردار کی تعمیر تک عورت پر ہر شعبہ میں فرائض وذمہ داریاں عائد کی گئی ہیں اسلئے اس کی فطرت میں قدرت نے محبت ‘ محنت اور خدمت کے جذبات کو بھی 70 گنا زیادہ رکھا ہے لہٰذا احکامات الٰہیہ اور فرمودات نبویۖ میں عورت کی تعظیم و تکریم کے بارے میں بار بار ارشادات اس کی لازمیت و اہمیت کو ثابت کر رہے ہیں۔

دنیاوی علم سے لو لگا کر تعیشات کو تہذیب کا نام دینے والا دورِ جدید کا انسان، آج بھی کسی جنگلی، وحشی اور دورِ قدیم کے کسی خونخوار جانور سے کم نہیں ہے فرق صرف اس کے لباس و آداب اور طرز معیشت و معاشرت کا ہے انسان آج بھی اندر سے ویسا ہی جنگلی و وحشی ہے جیسے عرب کے لوگ تھے جو اپنے جذبوں کی تسکین کیلئے ہمیشہ اپنی عورت کو استعمال کیا کرتے تھے چاہے وہ جذبے نفسانی ہوں، وحشی ہوں، انتقامی ہوں، انا پرستی کے جذبات ہوں یا کاروباری مفادات ہر جگہ عورت کو نوالہ بنا کر اپنے جذبوں کی تسکین کی جا رہی ہے۔

Women International Day
Women International Day

تہذیب یافتہ کہلائے جانے والے اس دور میں جب عالمی سطح پر ماؤں کے دن کے ساتھ ساتھ ”خواتین کا عالمی دن” بھی منایا جاتا ہے’ تقاریر و مذاکرات، محفل، مذاکرے اور مناظرے ہوتے ہیں اور عورت کی تعظیم و تقریر کے گن گائے جاتے ہیں، اس کی آزادی کی بات کی جاتی ہے، مساوات کا راگ الاپا جاتا ہے اور تصاویر بنوا کر عورت کی عظمت و تقدس کا امین ثابت ہونے والا تہذیب یافتہ معاشرے کا فرد ہونے کا ڈرامہ رچایا جاتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ آج کا یہ متمدن و تہذیب یافتہ معاشرہ جہاں عورت اپنے فرائض سے بڑھ کر ذمہ داریاں انجام دے رہی ہے۔ گھر سنبھالنے، بچوں کی تربیت کرنے، شوہر کو خوش رکھنے اور سسرالیوں کی خدمت کرنے کے ساتھ ساتھ ملازمت و محنت کے ذریعے گھر کی کفالت کر کے طب و تعلیم سے تجارت و معیشت تک، بنکنگ سے ٹریولنگ تک اور دفاع سے ٹیکنالوجی تک ہر شعبہ میں ملک و قوم کی ترقی میں بھی اپنا ذمہ دارانہ اور فعال کردار ادا کرنے والی اس عورت کو گھر سے دفتر تک، درسگاہ سے رسدگاہ تک کہیں تحفظ حاصل نہیں ہے۔ ہر شعبہ میں ہر سطح پر اس کا بدترین استحصال کیا جارہا ہے اور پھر کہا جاتا ہے کہ ہم تہذیب و تمدن یافتہ معاشرے کا حصہ ہیں کوئی بھی معاشرہ اس وقت تک متمدن اور تہذیب یافتہ نہیں ہوسکتا جب تک وہاں جنسی مساوات ‘ عورت کا احترام اور معاشرے کے ہر فرد کو آزادی و مکمل تحفظ حاصل نہ ہو۔

ہمارا مشرقی اور بالخصوص پاکستانی معاشرہ تو کسی بھی طور تہذیب یافتہ کہلانے کے لائق بھی نہیں ہے کیونکہ یہ وہی معاشرہ ہے جہاں بھائیوں کی جان بخشی کیلئے بہنوں کو ”وَنی ” کی بھینٹ چڑھایا جارہا ہے تو دوسری جانب بیٹیوں کو کاری قرار دے کر اسی کی عزت کے رکھوالے اسے بے عزتی کی موت کا شکار کر رہے ہیں ‘ آبرو ریزی ‘ تیزاب پھینکے جانے ‘ تیل ڈال کر جلا دیئے جانے ‘ جنسی طور پر ہراساں کرنے کے واقعات عام ہیں۔باپ ‘ بھائی ‘ شوہر اور بیٹوں سمیت دیگر رشتہ داروں کے ہاتھوں عورت پر تشدد ‘ قتل اور اس کا جنسی ‘ معاشرتی ‘ معاشی استحصال معاشرے میں روایت کے طور پر موجود ہے جبکہ خاندان کی کفالت کیلئے گھر ‘ دفتر، فیکٹری اور دیگر صنعتی و تجارتی ‘ تعلیمی و طبی اور خدمات کے اداروں میں فرائض انجا دینے والی خواتین مردوں سے کم معاوضہ اور زیادہ محنت کے ذریعے ثابت کیا جارہا ہے کہ عورت کو اس معاشرے میں کیا حیثیت و مقام حاصل ہے اور کس طرح سے اس پر جسمانی و جنسی ہی نہیں بلکہ معاشی و معاشرتی تشدد بھی عام ہے اور اسے روکنے والا کوئی بھی نہیں۔

عورت کی اس حالت و استحصال اور معاشرے کی دوسری صنف کا اس صنف کے ساتھ رویہ دیکھ کر شاید قدرت بھی شرمندہ ہے کہ میں نے اپنی اس مخلوق کو اشرف المخلوقات کیونکر کہہ دیا جسے نہ پاس وفا ہے ‘ نہ حرمت حیا ‘ نہ ادبِ خدمت ہے اور نہ ہی احترام نسوانیت ‘ اس سے بہتر تو وہ حیوان ہے جو اپنی ”مادہ ” کی حفاظت کیلئے خود سے کئی گنا بڑے درندے سے بھی ٹکرا جاتا ہے اور اس اشرف المخلوقات سے بہتر جو وہ جانور ہیں جو نر آپس میں کسی بھی طرح لڑیں مگر کبھی کوئی نر کسی مادہ سے لڑتا ہے نہ اس پر حملہ آور ہوتا ہے۔

تذلیل نسوانیت کے اس عہد میں ہر حکومت نے خواتین کے حقوق کے نام پر قوانین بنائے بینظیر بھٹو نے اپنے دور اقتدار میں خواتین کو انصاف کی فراہمی کیلئے پولیس اسٹیشن قائم کیا ‘ سرکاری ملازمتوں میں خواتین کوٹے میں اضافہ کیا ‘ بنک لون اور روزگار اسکیم میں خواتین کا حصہ رکھا ‘ وومین بنک کو خواتین کی معاشی خود مختاری کیلئے کام کا پابند بنایا اور خواتین سے زیادتی کے خلاف قوانین سازی ے زریعے انہیں محفوظ کرنے کی جانب مثبت قدم بڑھا یا ۔میاں نوازشریف کے سابقہ ادوار حکمرانی میں بھی خواتین کے حوالے سے اقدامات کئے گئے جبکہ آمر کہلانے والے سابق آرمی چیف و صدر پاکستان پرویز مشرف کے دور میں بھی خواتین کے حوالے سے کئی قوانین بنائے گئے جبکہ پارلیمنٹ میں بھی خواتین کیلئے نشستیں مخصوص کرکے ان کی نمائندگی کو پارلیمنٹ میں یقینی بنانے کی کوشش بھی گئی ۔ آصف علی زرداری کی صدارت میں پیپلز پارٹی کے سابقہ اقتدار میں بھی خواتین کو تحفظ کی فراہمی کی ضمانت کے طور پر ”تحفظ نسواں ” کے عنوان سے ایک بل اسمبلی سے پاس کرا کر اسے قانون کا درجہ دیاگیا جس کے تحت سرکاری و غیر سرکاری اورنجی وکاروباری ‘ تجارتی ‘ اقتصادی ‘ صنعتی ‘ معاشی ‘ تعلیمی ‘ طبی ‘ فلاحی اور صحافتی اداروں سمیت دیگر تمام اداروں میں کام کرنے والی خواتین کو ہراساں کرنے یا ان کے ساتھ غلط رویہ یا تحقیر آمیز سلوک روا رکھے جانے کو جرم قرار دیکر اس جرم کے مرتکب افراد کے خلاف قانونی کاروائی کی ضمانت فراہم کی گئی اور اب قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور نے جرگوں میں خواتین کیخلاف ہونے والے پرتشدد فیصلوں کیخلاف قرارداد مذمور کرلی ہے اور سندھ حکومت نے ”حقوق نسواں ” بل کا دائرہ کار تعلیمی داروں تک بڑھاکر طالبات کو بھی ہراساں کرنے واقعات کی روک تھام کی منصوبہ بندی کرلی ہے مگر افسوس کہ دیگر قوانین کی طرح خواتین کے تحفظ ‘ معاشی خود مختاری ‘ ترقی اور مساوی حقوق کیلئے بنائے جانے والے تمام قوانین ہر دور میں دیگر قوانین کی طرح محض قانون ہیں اور پاکستان کی روایت قوانین پر یکساں عملدرآمد کی تاریخ سے محروم ہے کیونکہ تمام قوانین حکمرانی اور استحصالی طبقے کے تحفظ کیلئے بنائے جاتے ہیں جن کا فائدہ ہمیشہ صاحب اقتدار وصاحب ثروت افراد کو ہی ہوا کرتا ہے سو ”حقوق نسواں ” کا قانون بھی روایتی رویوں کا شکار ہو کر عملدرآمد سے محروم ہے اور خواتین آج بھی اسی ظلم ‘ استحصال ‘ تشدد ‘ خراب ماحول اور جبر سے دوچار ہے جو صدا سے اس کا مقدر ہے کیونکہ محض قوانین سازی سے مسائل حل نہیں ہوتے ‘ ان قوانین پر عملدرآمد بھی ضروری ہوتا ہے اور طبقاتی تضاد کے شکار اس معاشرے میں جہاں عدل اور انصاف مہیا ہی نہیں وہاں قانون پر عملدرآمد کس طرح ممکن ہے اسلئے حکومت اگر ”خواتین کے عالمی دن ” کے موقع پر عوام کو ”تحفظ نسواں قانون ” پر عملدرآمد کا وہ تحفہ پیش کرے جس کے تحت اس قانون کی پامالی کرتے ہوئے عورت کا کسی بھی طرح استحصال کرنے والے کے خلاف تادیبی کاروائی یقینی ہو چاہے وہ کسی بھی طبقے ‘ کسی بھی سطح یا سی بھی عہدے و پیشے سے تعلق کیوں نہ رکھتا اور اگر حکومت نے ایسا کردیا تو پھر یہ مساوات کے معاشرے کی جانب پہلا قدم ہوگا اور مساوات کا معاشرہ ہی تمام مسائل کا حل ‘ مصائب سے نجات’ عدل و انصاف اور عوام و مملکت کی فلاح کی ضمانت پیش کرتا ہے۔

Womens Day
Womens Day

تو آج کا ”خواتین کا عالمی دن ” حکومت سے مساوات کے معاشرے کے قیام کے لئے عورت کو حفاظت کی ضمانت دینے والے ”حقوق نسواں بل ” پر بلا کسی تخصیص و تفریق فوری عملدرآمد کامتقاضی ہے ! خود کش حملوں و بم دھماکوں کو غیر اسلامی ‘ غیر شرعی و غیر آئینی قرار دینے کے بعد طالبان کو دہشتگرد قرار دینے اور ان کیخلاف فوجی آپریشن کی تیاریاں کرنے والے حکمرانوں نے طالبان سے مذاکرات کا آغاز کردیا ہے اور اس بار طالبان نے بھی مذاکرا ت سے قبل اعلان جنگ بندی اور اس پر پابندی کا یقین دلاکر ان مذاکرات کے حوالے سے اپنی سنجیدگی کا ثبوت یا ہے جو امن کیلئے یقینا خوش آئند ہے اور قوم ان مذاکرات کی کامیابی و مستقل امن کیلئے دعا گو ہے مگر مذاکرات کی کامیابی دونوں جانب کے تحفظات کے خاتمے سے مشروط ہے اور موجودہ نظام میں رہتے ہوئے دونوں جانب کے تحفظات کا خاتمہ ایک طویل و وقت طلب امر ہے جبکہ نظام تبدیل کرنا تھکادینے والا پراسس ہے جو مہینوں کا نہیں بلکہ سالوں کا محتاج ہے اسلئے مذاکرات سے فوری نتائج کی توقع کرنے کی بجائے ان کے تسلسل کو قائم رکھنے کی زیادہ ضرورت و اہمیت ہے لیکن حکومت گر چاہے تو طالبان کے زیر اثر علاقوں میں تعلیمی سرگرمیوں کی بحالی ‘ تعلیمی اداروں کی بندش کے خاتمے ‘ تعلیمی اداروں کو نقصان نہ پہنچائے جانے اور خواتین کو تعلیم حاصل کرنے میں رکاوٹیں نہ ڈالنے کیلئے طالبان کو رضامند کرکے اس یوم خواتین پر باجوڑ ‘ وانا ‘ وزیرستان ‘ سوات اور دیگر علاقوں کی خواتین کو تعلیم کے حصول کی آزادی کا تحفہ بھی دے سکتے ہیں اور ہمارے خیال میں حکمرانوں کی جانب سے خواتین کو تعلیم کے حصول کی آزادی کے ساتھ معاشی خود مختاری کے مواقع کی فراہمی اور جنسی و معاشی تشدد سے نجات سے زیادہ بہترین تحفہ اس ”عالمی یو م خواتین ” پر کوئی اور نہیں ہو سکتا۔

تحریر: عمران چنگیزی
Imrankhanchangezi@gmail.com

Share this:
Tags:
International Day Islam relations women womens day World اسلام تعلقات خواتین دنیا عالمی دن
Uttarakhand
Previous Post ”پاکستان زندہ باد“کے نعرے بھارتی ریاست اترکھنڈ میں بھی، چھان بین شروع
Next Post بھمبر کی خبریں 7/3/2014

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close