Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 2, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

حضرت ابو ایوب خالد بن زید الانصار حصہ اول

September 5, 2015 0 1 min read
Abu Ayyub Ansari r.a
Abu Ayyub Ansari r.a
Abu Ayyub Ansari r.a

تحریر: ڈاکٹر سید علی عباس شاہ
میزبان ِرسالت، پرچم بردار ِرسول اللہ، مجاہد ِاسلام، جانثار ِحیدر ِکرّار،صحابی ِجلیل، تاجدار ِقسطنطنیہ،

صحابہ کے حسیں شہپر ، ابو ایوب انصاری سبھی ولیوں کے ہیں رہبر،ابو ایوب انصاری
بحکم ِکبریا لے کر وہ محبوب ِ دوعالم کو خراماں لائے اپنے گھر ، ابو ایوب انصاری
اٹھاتے تھے شہ ِ لولاک کاپرچم وہ غزوے میں فدائے ساقی ٔ کوثر ، ابو ایوب انصاری
علی مشکل کشا کے جانثار و خادم ِزہرا سخی حسنین کے دلبر ، ابو ایوب انصاری
سراپا عشق ِاہل ِبیت کی تصویر تھے آقا ندیم ِخانہ ٔسرور ۖ، ابو ایوب انصاری
کسی فرعون وغاصب کو وہ خاطر میں نہ لاتے تھے غلام ِحیدر ِ صفدر ، ابو ایوب انصاری
ہیں لیٹے مرقد ِاطہر میں رکھے پاک سینے پر وہ نقش ِپائے پیغمبر ۖ، ابو ایوب انصاری
سلاطین ِزمانہ نے تیرے روضے پہ جھاڑو دی اے شاہ ِملک بحر و بر ، ابو ایوب انصاری
سخی لجپال کے انوار استنبول ترکی میں علی عبّاس کے یاور، ابو ایوب انصاری

حضرت خالد بن زیدبن کلیب بن ثعلبہ بن عبد عوف خزرجی ،پیغمبر اسلام کے مقرب اصحاب میں سے ہیں۔قبیلہ بنو نجار فخر موجودات کاننھیالی قبیلہ ہونے کے ساتھ ساتھ آپ کا عزیز ترین اور نگاہ ِرسالت میں انصا ر کا بہترین گھرانہ تھا۔ سیدنا ابو ایوب اس قبیلہ کے رئیس تھے۔آپ کی والدہ زہرا بنت ِسعد خزرجی آپ کے والد کی ماموں زاد بہن تھیں۔

آپ اسم گرامی کی نسبت کنیت ِمبارکہ ،ابو ایوب سے معروف ہیں۔مالک بن نجار کی اولاد سے ہونے کے باعث ”المالکی”، انصار کے” ازدی” ہونے کی وجہ سے ”الازدی” اور انصار ِمدینہ میں سے ہونے کے باعث،آپ کو ابو ایوب انصاری کہا جاتا ہے۔٥٧٦ء میں پیدا ہوئے۔ ٦٢٢ء میںپیغمبر اکرم کی مکہ سے مدینہ منورہ ہجرت کے بعدانصارِ مدینہ نے آپ کا فقیدالمثال پرجوش استقبال کیا۔ دل فرش ِراہ کر دیے اور نظریں عقیدت و محبت سے جھک گئیں۔ہر انصاری آپ کی خدمت ِعالیہ میں دوسرے سے سبقت کا خواہشمند تھا۔پیغمبر اسلام نے مدینہ سے باہر قبا کے مقام پرکچھ روز قیام فرمایااور تاریخ ِاسلام کی پہلی مسجد کی تا سیس فرمائی جسے سورة توبہ میں تقویٰ کی بنیاد پہ قائم کی جانے والی مسجد قرار دیا گیا ہے۔

ج لَّمَسْجِد أُسِّسَ عَلَی الْتَّقْوَیٰ مِنْ أوَّلِ یَوْمٍ أَحَقُّ أَنْ تَقُوْمَ فِیْہِج فِیْہِ رِجَال یُحِبُّوْنَ اَنْ یَتَطَھَّرُوْاْج وَاْللّٰہُ یُحِبُّ الْمُتَطَہِّرِیْنَ ة١٠٧

یہ مسجد اولیں بنیاد تھی طاعت گزاری کی صفا کی ، صدق کی ،تقویٰ کی اور پرہیز گاری کی
ضیائے حق سے رشک ِطور ِسینا بن گیا یثرب نبی کا آستاں بن کر مدینہ بن گیا یثرب

Abu Ayyub Ansari r.a
Abu Ayyub Ansari r.a

انصار ِمدینہ: انصار ،ناصر یا نصیر کی جمع ہے ۔انصار ،مدینہ منورہ کے ان مقدس باشندوں کا لقب ہے جنہوں نے اسلام کی دعوت قبول کرنے کی سعادت حاصل کی اور ہجرت کے بعد سرور ِکونین ۖاور دوسرے مہاجرین اسلام کو اپنے گھروں میں ٹھہرا کر جان و مال اور ہر طرح سے اعانت و نصرت کا حق ادا کیاجس کے عوض اللہ تعالیٰ نے انہیں انصار کے نام سے حیات ِجاوید عطا کی ۔ان کے شہر کو اپنے محبوب کی پسندیدہ اورمستقل اقامت گاہ بنا کر دنیا بھر کے فرزندان توحید کے لیے رگ ِجاں سے عزیز تربنا دیا ۔سورة انفال میں ارشاد ِربانی ہے وَالَّذِیْنَ اٰ وَوْاوَّنَصَرُوْآ اُوْلٰئِکَ ھُمُ الْمُئومِنُونَ حَقّاً ط لَھُمْ مَّغْفِرَة وَّرِزْقکَرِیْم ة (٧٤) اور جن لوگوں نے اسلام کو پناہ دی اور نصرت کی وہی سچے مومن ہیں،ان کے لیے مغفرت اور اچھا رزق ہے۔
انصار ،دو قبائل سے تعلق رکھتے تھے ۔ایک خزرج اور دوسرا اوس قبیلہ تھا۔

مدینہ منورہ کو عمالقہ نے ١٦٠٠سے ٢٢٠٠قبل مسیح کے درمیان آباد کیا تھا ۔عمالیق کا سلسلہ نسب عملاق بن ارفخشد بن نوح سے جا ملتا ہے۔یہ لوگ تمام عرب میں پھیل گئے اور مدینہ میں ان کے جو قبائل آباد ہوئے ان کے نام بنو ہفان، سعد بن ہفان اور بنو مطرویل تھے ۔ عمالیق کے بعد بنی اسرائیل یہود آکر قابض ہوئے اور عمالقہ کو شکست دے کر ارض ِحجاز پہ قبضہ کر لیا۔شام پہ رومی یلغار اور قتل ِعام کے بعد شام میں مقیم بنو قریظہ اور بنو نضیر شام سے حجاز آکر اپنے یہودی بھائیوں کے ساتھ آباد ہو گئے ۔احبارِیہود، نبی آخر الزمان ۖ کی آمد پہ یقین رکھتے تھے اور توریت کے باعث جانتے تھے کہ آپ ۖ کا دارِہجرت دو پتھریلی زمینوںکے درمیان نخلستان سے گھرا ہو گا؛

یقیں رکھتے تھے یہ توریت کی پیشین گوئی پر کہ اسماعیل کی اولاد میں ہو گا وہ پیغمبر
انہیں معلوم تھااب وہ پیمبر آنے والا ہے بشر کے واسطے نورِ شریعت لانے والاہے
یہ بیٹھے انتظار ِہادیٔ موعود کرتے تھے میان ِاہل ِیثرب کاروبار ِسود کرتے تھے
رسول اللہ کی عظمت کے گرچہ دِل سے قائل تھے مگر یہ اِن کی فطرت تھی عداوت ہی پہ مائل تھے

Abu Ayyub Ansari r.a
Abu Ayyub Ansari r.a

اسی جستجومیں بقدرِفہم جس قبیلہ نے کسی شہر یا آبادی کو ان خصوصیات کا حامل پایا وہیںآباد ہو گیا ۔ بعض تیماء کے نخلستانوں میں آباد ہوئے ،بعض نے خیبر کو اپنا مسکن بنایا اور کثیر تعداد یثرب میں اقامت گزیں ہو گئی۔عمالیق کے بعد یہود نے مدینہ اوراس کے نواحی علاقوں پر دور دور تک شاہانہ اقتدار قائم کر لیا تھا اور جگہ جگہ قلعے بنا کر ان میں سکونت رکھتے تھے۔

اوس وخزرج ،بنونجّار : عین اس وقت جب مدینہ سے شام تک یہود کا اقتدار نصف ِنہار پہ تھا ،عرب ِمستعربہ میں نابت بن اسماعیل کی اولاد کے دوقبائل اوس وخزرج مدینہ میں وارد ہوئے ۔ نابت بن اسماعیل کی وفات کے بعدان کی اولاد عرب کے مختلف حصوں میں پھیل گئی جس کی متعدد شاخوں میں سے ایک شاخ ”ازد” یمن میں آباد ہوئی ۔قبیلہ ازد سیل ِعرم سے کچھ عرصہ قبل یمن سے روانہ ہوا۔اس وقت رئیس ِقبیلہ عمروْ بن عامر تھے جو مزیقیاء (صاحبِ تصرف )کے لقب سے معروف ہیںجن کے پڑپوتے دو بھائی اَوس وخَزرج تھے ۔انصار کے تمام خاندان انہی اوس و خزرج پر جا کر مل جاتے ہیں؛
یہاں کے رہنے والے اوس وخزرج کے قبائل تھے نہایت بامروت ، اہل ِدِل ، اہل ِوسائل تھے یہودی بھی بکثرت تھے ،معزز سمجھے جاتے تھے یہ لڑوا کر قبائل کو بہت ہی لطف اٹھاتے تھے
ازدی قبائل یمن سے نکل کر شام،عراق، عمان،یمامہ،بحرین اور عرب کے دوسرے مختلف مقامات پر آباد ہو گئے۔

Masjid e Nabawi
Masjid e Nabawi

ان قبائل کی ایک شاخ ثعلبیة میں مقیم ہوئی ۔جب اس کی تعداد میں اضافہ ہوا تو وہ ثعلبیة کی سکونت ترک کر کے مالک بن عجلان کی زیر سرپرستی یثرب میں آکر آباد ہوئے ۔یہی قبائل اوس و خزرج تھے جو بعد میں انصارِ رسول اللہ یا انصار ِمدینہ کہلائے ؛ بتوں کو چھوڑ کر اور حب ِمال وجاہ کو تج کے مسلماں ہوچلے آخر گھرانے اوس وخزرج کے لیا جانے لگا ختم ِرسل کانام یثرب میں لگا ہر سمت پھلنے پھولنے اسلام یثرب میں اوس کے ایک بیٹے مالک کی اولاد پانچ شاخوں میں تقسیم ہوئی اور خزرج کے پانچ بیٹوں کی شاخوں میں عمروْ بن خزرج سے بنو نجار کا قبیلہ تھا جو سرکار ِدوعالم ۖکاننھیالی قبیلہ اور پسندیدہ خاندان ہے۔ اسی خاندان کے رئیس کو میزبان ِرسالت ہونے کا اعزاز ملا۔

مناقب ِابو ایوب انصاری ١۔ آپ انصار ِمدینہ کے سابقون الاولون میں سے ہیںاور رسول اللہ ۖ کے مدینہ منورہ تشریف لانے سے قبل ہی مشرف بہ اسلام ہو چکے تھے۔آپ خدا کے ان پاکباز اور برگزیدہ بندوں میں سے ہیں جن کے متعلق قرآن ِحکیم میں ارشاد ہوتا ہے؛ وَالسّٰبِقُوْنَِ الْأوَّلُوْنَ مِنَ الْمُھٰجِرِیْنَ وَالْأَنْصَارِ وَالَّذِیْنَ اتَّبَعُوْھُمْ بِاِحْسَا نٍلا رَّضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمْ وَرَضُوْا عَنْہُ وَاَعَدَّ لَھُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِْ تَحْتَھَا الْأنْھٰرُخٰلِدِیْنَ فِیْھَآأَبَدًاطذٰلِکَ الْفَوْزُالْعَظِیْمُ ة

Abu Ayyub Ansari r.a
Abu Ayyub Ansari r.a

وہ مہاجرو انصار جنہوں نے سب سے پہلے دعوت ِایمان پر لبیک کہنے میں سبقت کی ،نیز وہ جو بعد میں راست بازی کے ساتھ ان کے پیچھے آئے ، اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے ۔اللہ نے ان کے لیے ایسے باغ مہیا کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں اوروہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ یہی عظیم الشان کامیابی ہے۔سورة توبہ، آیت ١٠٠۔ آپ نے بیعت ِعقبہ کبیرہ میں رفقا کے ساتھ حضورۖ سے پیمان کیاکہ وہ اپنی جان و مال اور اولاد کے ساتھ آپ کی مدد اور حفاظت کریں گے۔

آپ کو رحمت ِعالم کی میزبانی کا شرف ملاجس پہ اصحاب ِکبار رشک کیا کرتے تھے۔ آپ میدان ِبدر کے تین سو تیرہ نفوس ِقدسیہ میں سے ایک ہیں۔ بیعت ِرضوان کے چودہ سواصحاب ِرسول ۖمیں شامل ہیں۔اللہ رب العزت نے انہیںاصحاب ِشجرة کے نام سے پکارا اور جنت کی بشارت دی ۔فتح ِ مکہ کے دوران حضورۖ کے ہمرکاب رہے ۔ حضور ِاکرم ۖکے تمام غزوات میں شامل رہے اور اسلام کے ہراول دستے کا کردار سرانجام دیا۔ امیر المومنین سیدنا امام علی ابن ابی طالب اپنی غیر موجودگی میںمسجد نبوی شریف میں اصحاب ِرسول کو آپ کے اتباع اور اقتدا میں نماز ادا کرنے کا حکم دیتے تھے۔ اسلام و کفر کے معرکوں کے بعد اسلام و نفاق کی محاز آرائی میں اسلامی دستوں کی قیادت فرمائی اورمعرکہ حق و باطل کے دوران ہی بارگاہ ِرسالت میںابدی حاضری کو پیش ہوئے۔

Yemenite Hemyrite King Tuba
Yemenite Hemyrite King Tuba

طَلَعَ الْبَدْرُ عَلَیْنَا قبا سے مدینہ تین میل کا راستہ جمال ِرسالت ۖکے مشتاقان ِدید سے بھرا تھا ۔شہر مدینہ کی تاریخ کا سب سے بڑا اجتماع اور یوم مسرت تھا ۔خاک یثرب کے ذرّے ابھر ابھر کر ہمہ تن دید بن گئے تھے کہ آج انہیں اس رحمت ِمجسم کے پائے اقدس چومنے کا شرف حاصل ہونے والا تھا جو تمام کائنات ِارضی و سماوی کا سرمایہ افتخار تھا ۔سارا شہر جوش ِمسرت اور فرط ِعقیدت سے گہوارئہ بہار بنا ہوا تھا اور فضانغمہ ہائے تحمید و تقدیس سے معمور تھی؛
طلوع ِبدر کے ساماں ہوئے بزم ِکواکب میں کئی دن سے یہ روشن ہو چکا تھا ارض ِیثرب میں
نکل کر شہر سے خلقت قبا تک چل کے آتی تھی تمنا رنگ ِحسر ت بن کے آنکھوں میں سماتی تھی
ہوا کرتی تھی فرش ِراہ اُٹھ کر باربار آنکھیں ہمہ تن انتظار آنکھیں ، سراپا اشک بار آنکھیں
بھٹکتا تھا تصور منزلوں میں اور راہوں میں سحر سے شام تک اِک شکل رہتی تھی نگاہوں میں
کم سن بچے ”جَائَ رَسُوْلَ اللّٰہ، جَائَ رَسُوْلَ اللّٰہ ”، رسول اللہ آگئے،رسول اللہ آگئے کے نعرے لگاتے ہر طرف خوشی سے اچھل کود رہے تھے۔جوش ِمسرت میں پردہ نشین خواتین بھی گھروں کی چھتوں پر نکل آئی تھیں۔مکانوں کی بالائی منزلیں اور منڈیریں ان سے بھری تھیں ۔مدینہ کے گلی کوچے ایک ہی صدا سے گونج رہے تھے؛ طَلَعَ الْبَدْرُ عَلَیْنَا، مِنْ ثَنِیَّاتِ الْوَدَاع،ہم پر چودہویں کا چاند طلوع ہوا،کوہ ِوداع کی گھاٹیوں سے ، وَجَبَ الشُّکْرُ عَلَیْنَا، مَادَعَیٰ لِلّٰہِ دَاع،ہم پر خدا کا شکر واجب ہے ،جب تک دعا مانگنے والے دعا مانگیں، اَیُّھَا الْمَبْعُوْثُ فِیْنَا، جِئْتَ بِالْاَمْرِ الْمَطَاع، اے ہم میں مبعوث ہونے والے ، آپ ایسے امر کے ساتھ آئے ہیں جس کی اطاعت فرض ہے۔

Yethrib Jews
Yethrib Jews

جوان وپیر ، مرد وزن سراپاچشم بیٹھے تھے بہار آنے کو تھی گلشن سراپا چشم بیٹھے تھے
مسلمانوں کے بچے بچیاں مسرور تھے سارے گلی کوچے خدا کی حمد سے معمور تھے سارے
زباں پر اَشْرَقِ الْبَدْرُ عَلَیْنَا کی صدائیں تھیں دلوں میں مَا دَعیٰ لِلّٰہْ کی دعائیں تھیں
نبوت کی سواری جس طرف سے ہو کے جاتی تھی درودونعت کے نغمات کی آواز آتی تھی
بنو نجار کا جوش و خروش اور مسرت و ابتہاج بے انتہا تھی۔انہیں یقین تھا کہ سرور ِعالم ۖ انہیں ہی شرف ِمیزبانی بخشیں گے اور اس طرح انہیں حبیب ِکبریا ۖ کاہمسایہ بننے کی سعادت نصیب ہو گی۔بنو نجار کی معصوم بچیاں دف بجا بجا کر یہ ترانہ گا رہی تھیں؛ نَحْنُ جَوَارِیْنْ بَنُِّ الْنَّجَّارِ، یَا حَبَّذَاْ مُحَمَّدََا مّنْ جَارِ؛
کہ ہم ہیں بیٹیاں نجّار کے عالی گھرانے کی خوشی ہے آمنہ کے لعل کے تشریف لانے کی
انس بن مالک روایت کرتے ہیں کہ میں نے اس دن سے زیادہ مبارک اورپرمسرت دن کوئی نہیں دیکھا جس میں رسول ِاکرم ۖ مدینہ میں رونق افروز ہوئے۔اس دن مدینہ کے در ودیوار طلعت ِاقدس سے جگمگا اٹھے؛
رسو ل اللہ سلام انصار کا لیتے ہوئے گزرے زباں سے خیر وبرکت کی دعا دیتے ہوئے گزرے
در ودیوار ایستادہ ہوئے تعظیم کی خاطر زمیں کیا آسماں بھی جھک گئے تسلیم کی خاطر
اہل ِایمان مسرور تھے تو وہیں یہود و نصاریٰ اور منافقین کے گھروں میں صف ماتم بچھ گئی ۔ رحمت ِدوعالم کے جلال سے بزم کفر و شرک میں بھونچال آگیا اور بد بخت یہود و نصاریٰ نے اپنے صحائف سے آنکھیں بند کر لیں؛
فضا میں بس گئیں توحید کی آزاد تکبیریں یہ تکبیریں تھی باطل کے گلو پر تیز شمشیریں
حسد کرنے لگی قوم ِیہود اس دین وملت سے بنے بیٹھے تھے وہ لوگوں کے ہادی ایک مدت سے
میزبان ِرسالت ۖ

سرکار ِدوعالم ۖ،ناقہ مبارک قصویٰ پہ سوارمدینہ منورہ کی پرکیف فضا میں داخل ہوئے توآپ پر نزول ِوحی کی کیفیت طاری تھی۔ رئوسائے مدینہ آپ کے استقبال کو کھڑے تھے اور ہر کسی کے دل میں آپ کی ضیافت و میزبانی کا اعزاز حاصل کرنے کاشوق تھا۔ ناقہ ٔ رسول کے راستے میں ہر کوئی ملتجی تھا،”یا رسول اللہ!ہمارے ہاں قیام فرمائیں۔”سرورِ کونین ۖاپنے چاہنے والوں کے حق میں دعائے خیر فرماتے اور پھر فرماتے، ”خَلُّوا سَبِیْلَھَا فَاِنَّھَا مَاْمُوْرَةْ” اس کو چھوڑ دو ،(یعنی اس کا راستہ نہ روکو )یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مامور ہے۔ہر کسی کا دل و نظر ایک ایک قدم پہ دھڑکتا تھا۔ہر مکان کے سامنے سے گزر جانے پر اس مکان کا مالک اداس ہو جاتا اور خود کو محروم ِسعادت محسوس کرتاجبکہ دوسرے کے دل میں امید کی کرن جاگ اٹھتی؛

ہر اِک مشتاق تھا پیارے نبی کی میہمانی کا تمنا تھی شرف بخشیں مجھی کو میزبانی کا
ہراِک مشتاق اپنی اپنی قسمت آزماتا تھا بصد آداب ومنت راہ میں آنکھیں بچھاتا تھا
بہت ہی کشمکش تھی اشتیاق ِمیزبانی کی نبی ۖنے اس عقیدت کی نہایت قدر دانی کی
کہا تم سب میرے بھائی ہو آپس میں برابر ہو تونگر ہے وہی جو زہد وتقویٰ میں تونگر ہو
اقامت کو مگر میں نے خدا پر چھوڑ رکھا ہے کہ ناقے کو فقط اُس کی رضا پر چھوڑ رکھا ہے
سبھی پیارے ہوتم ہر ایک سے مجھ کو محبت ہے جہاں ناقہ ٹھہرجائے وہیں جائے اقامت ہے

Yethribite Jews
Yethribite Jews

اونٹنی چلتی رہی اور عاشقان ِرسول ۖدست بستہ پیچھے رہے یہاں تک کہ ایک کشادہ مقام پر خانۂ ابو ایوب انصاری کے سامنے ناقہ ٔ رسول رکی اورپھر آگے بڑھی۔کچھ قدم لے کر واپس ہوئی اور اسی مقام پہ دوبارہ ٹھہر گئی ۔قصویٰ چلتے چلتے بنو نجار کے محلہ میں پہنچی اور اس جگہ جا کر بیٹھ گئی جہاں آج کل مسجد نبوی کا صدر دروازہ ہے۔ ناقہ ٔ رسول کچھ دیر رک کر تشریف فرما ہوئی۔ قلب ِابو ایوب کھل اٹھا۔آپ سرور ِکونین کی بارگاہ میں پہنچے اور انتہائی ولولہ انگیز گرمجوشی سے سلام عرض کیا۔حضور کا سامان اٹھایا اور انتہائی مسرت سے آپ کو اپنے گھر لے آئے ؛
رکی یکبارگی ناقہ بحکم ِحضرت ِباری جہاں اِک سمت بستے تھے ابو ایوب انصاری
فلک نے رشک سے دیکھا اس انصاری کی قسمت کو ابو ایوب گھر میں لے گئے سامان ِرحمت کو

حضرت ابو ایوب انصاری کا مکان دو منزلہ تھا ۔ایک کمرہ نیچے اور ایک اوپر ۔آپ نے بارگاہ رسالت ۖ میں عرض کی ،”یا رسول اللہ ! آپ غریب خانہ کی بالائی منزل میں قیام فرمائیں۔ ”حضور ۖنے فرمایا،” نہیں!میرے پاس لوگوں کی آمد و رفت رہے گی اس لیے نچلی منزل ہی میرے قیام کے لیے موزوں ہے۔ ”چنانچہ حضور کی خواہش کے مطابق حضرت ابو ایوب نے مکان کی زیریں منزل خالی کر دی اور خود بالا خانے میں فروکش ہو گئے ۔حضرت ابو ایوب انصاری اور آپ کی اہلیہ کو ہر وقت یہ خیال مضطرب رکھتا تھا کہ وہ تو بالائی منزل میں مقیم ہیں اور مہبط ِوحی و رسالت نچلی منزل میں ہیں۔انہوں نے بالائی منزل حضور پرنور کے لیے خالی فرما دی مگر حضور نے نیچے کی منزل پہ قیام پسند فرمایا۔رات آئی اور حضور استراحت فرما ہوئے ۔ ابو ایوب بالائی منزل پہ تشریف لے گئے ۔دروازہ بند کیا اور زوجہ سے مخاطب ہوئے ؛ ”کیسی بے ادبی ہے ،سرکار نیچے ہیں اور ہم ان سے اوپر ،کہیں ہم ان میں اور ان پر آنے والی وحی میں رکاوٹ نہ بن جائیں،اگر ایسا ہواتو یقینا ہم خسارے میں ہیں۔”

دونوں انتہائی پریشان و پشیمان ہوئے اور کچھ سجھائی نہ دیا ۔بالائی منزل کے ایک کونے میں دبک کر بیٹھ گئے اور کچھ اطمینان حاصل ہواکہ یہ جگہ سرکار کی جائے قیام سے ہٹ کر ہے ۔ چلتے وقت چھت کے کناروں پر چلتے اور درمیانی جگہ استعمال نہ فرماتے تھے۔ صبح بارگاہ ِرسالت میں عرض کی ، ”یا رسول اللہ !بخدا ،رات میں اور ام ایوب ایک پل نہیں سو سکے۔””وہ کیوں!ابو ایوب ؟”سوال ہوا۔ابو ایوب نے تمام واقعہ بیان فرمایا اور خدشہ ظاہر کیا کہ کہیں ہم نزول ِوحی میں رکاوٹ نہ بن جائیں۔”کوئی بات نہیں ابوایوب ”،پیغمبر اکرمۖ نے دلاسہ دیا۔ایک یخ بستہ رات بالا خانے پر پانی سے بھرا ایک برتن پھوٹ گیا۔حضرت ابو ایوب انصاری اس خیال سے مضطرب ہو گئے کہ پانی بہہ کر نیچے جائے گا اور سرور دو عالم کو تکلیف ہو گی ۔گھر میں اوڑھنے کا ایک ہی لحاف تھا ۔حضرت ابو ایوب نے فی الفور لحاف گھسیٹ کر پانی پہ ڈال دیا تا کہ بہتا ہوا پانی لحاف کی روئی میں جذب ہو جائے۔جب پانی کے نیچے بہنے کا امکان نہ رہا تو میاں بیوی نے اطمینان کا سانس لیا۔

Kingdom of Hemyrites
Kingdom of Hemyrites

سرور ِکونین ۖ بہ رضاورغبت مقیم تھے لیکن حضرت ابو ایوب اور ان کی اہلیہ کو بالا خانے کی سکونت تکلیف دہ تھی ۔یہ خیال ان کے لیے سوہان ِروح تھا کہ فخر موجودات ،خیر البشر،سید الرسل،سرور ِکون و مکاں تو نچلی منزل میں مقیم ہوں اور ان کے ادنیٰ ترین خدام بالائی منزل میں۔یہ روحانی اذیت ایک رات اسقدر شدت اختیار کر گئی کہ دونوں میاں بیوی چھت کے ایک کونے میں سکڑ کر بیٹھ گئے اور ساری رات اسی حالت میں جاگ کر گزاردی۔صبح ہوئی تو حضرت ابو ایوب سرور ِکونین ۖ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کی ،”یارسول اللہ ! ہم ساری رات چھت کے ایک کونے میں بیٹھ کر جاگتے رہے۔ ” حضورۖ نے وجہ دریافت فرمائی تو عرض کیا؛ ”ہمارے ماں باپ آپ پہ قربان!ہمیں ہر لحظہ آپ کی بے ادبی کا اندیشہ دامن گیر ہے جورات شدت اختیار کر گیا۔یا رسول اللہ ! ہم غلاموں پہ کرم فرمایئے اور بالا ئے منزل تشریف لے چلیے۔حضورۖ کے غلاموں کے لیے آپ کے قدموں کے نیچے رہنا ہی باعث ِسعادت ہے۔ ”تاجدار ِمدینہ نے آپ کی درخواست منظور فرما لی اور اوپر کی منزل پہ منتقل ہو گئے ۔آپ ۖ خانہ ابو ایوب میں سات ماہ قیام فرما رہے اور آپ کے ساتھ اسی مکان میں سیدنا علی بن ابی طالب ور حضرت زید بن حارث بن عبدالمطلب بھی فروکش رہے۔

تحریر تُبَّع: سرور ِکونین ۖکی مدینہ منورہ تشریف آوری سے دو سو سال قبل شاہِ یمن و حضر موت تبع جن کا نا م ابو کرب اسعد بن ملک یکرب(اسعد ِکامل بن ملک یکرب بن تبع بن زید بن عمروبن تبع بن ذی الازعار بن ابرھةتبع ذ المنار بن الرائش بن قیس بن صیفی بن سبا،٣٧٨ء میںاقتدار لے کرمملکت ِحمیر کوخاطرخواہ وسعت دینے والے بادشاہ نے سب سے پہلے خانہ کعبہ کو مغلوف کیا ۔کلام مجید سورةمبارکہ دخان کی آیت ِمقدسہ ٣٧میں آپ کے لقب سے اہل ِیمن کاذکر ہے ۔ سرکار ِدوعالم ۖنے فرمایا، لاَ تَسَبُّوْا تُبَّعاً فَاِنَّہُ کَانَ مُؤْمِناً،تبع کے بارے میں نازیبا کلمات نہ کہو کہ وہ صاحب ِایمان تھے ۔) تھا یَثْرِبْ سے گزرے ۔آپ کے ہمراہ چار سو علمائے کتب ِسماوی تھے ۔وہ سب اسی جگہ رہنے پہ مصر ہوئے۔ تبع نے اصرار کا سبب پوچھا تو انہوں نے جواب دیا، مکتوب ِصحائف ہے کہ یہ جگہ نبی آخر الزمان کی جائے ہجرت ہے ۔ہم یہاں آباد ہو نا چاہتے ہیں کہ شاید ہم ان کی زیارت سے مشرف ہو جائیں ۔تبع نے انہیں وہاں آباد ہونے کی اجازت دے۔

کر رَأسُ الْعُلَمَاء شامول کو وثیقہ پیش کیا؛
شَھَدْتُ عَلیٰ اَحْمَداً اَنَّہُ، رَسُوْل مِّنَ اللّٰہ بَارِْ الْنَّسَمْ، فَلْوْمَدَّ عُمْرِْ اِلیٰ عُمْرِہ، لَکُنْتُ وَزِیْراً لَّہُ وَابْنِ عَمْ
میں احمد کے متعلق گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ تعالی کے رسول ہیں، اگر میری عمر ان کے زمانہ تک دراز کر دی جاتی تو میں ان کا اور
ان کے ابن ِعم کا وزیر ہوتا۔
تبع نے ان علما کو مکانات بنوا کر دیے اور ایک مکان سرورِ کونین ۖ کے لیے وقف فرما کر جناب ِشامول کو اس کا متولی بنایا۔انہی شامول کی نسل میںاکیسویں پشت میںمیزبان ِرسالت ۖ ابو ایوب انصاری تھے ۔یہ تحریرپشت درپشت منتقل ہوتے آپ تک پہنچی اور حضور کی آمد تک موجود تھی۔

Dr Syed Ali Abbas Shah
Dr Syed Ali Abbas Shah

تحریر: ڈاکٹر سید علی عباس شاہ
ریکٹر والعصر اسلامک ریسرچ انسٹیٹیوٹ

Share this:
Tags:
اسلام مسجد مقام نسبت
Previous Post انسداد دہشتگردی کی عدالت نے الطاف حسین کو اشتہاری ملزم قرار دے دیا
Next Post قرض مرض اور فرض
Farmer

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close