
یہ اب کے حادثہ کیسا ہوا ہے
کہ میرا جسم مجھ سے کٹ گیا ہے
انہی بجھتے چراغوں کے جلو میں
ہوا نے الوداع مجھ کو کہا ہے
ابھی تو خواب بھی دیکھے نہیں تھے
عجب تعبیر سے پالا پڑا ہے
لٹیرو خونچکاں چہروں کو دیکھو
یہی تو زندگی کا قافلہ ہے
سرِ مقتل ہمارے خوں سے ساحل
مقامِ دوستی پرکھا گیا ہے
ساحل منیر
