Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 1, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

احتسابی پیچش‎

July 16, 2017 0 1 min read
Panama Leaks
Panama Leaks
Panama Leaks

تحریر : عماد ظفر
ہم نے جب سے ہوش سنبھالا ہے دو فقرے مسلسل سنتے آئے ہیں. پہلا فقرہ ملک اس وقت انتہائی نازک دور سے گزر رہا ہے. اور دوسرا جمله ملک میں موجود تمام مسائل عہد حاضر کی موجودہ حکومت کی بدعنوانی اور کرپشن کے باعث ہیں اور اگر ملک کو بچانا ہے تو حکومت کو گھر بھیجنا ہو گا. نازک دور اور حکومت کی کرپشن کم بخت ایسے پرفریب لالی پاپ ہیں کہ انہیں خریدنے والے وطن عزیز میں بکثرت پائے جاتے ہیں. پاکستان میں آج تک کوئی ایک بھی وزیر اعظم اپنی آئینی مدت پوری نہیں کرنے پایا لیاقت علی خان سے لیکر نواز شریف تک تمام وزرائے اعظم کی چھٹی کروا کر انہیں جبری طور پر عدلیہ یا اس دور کے سیاسی مہروں کے گٹھ جوڑ سے کبھی گھر کبھی جیل اور کبھی سیدھا اوپر بھیجا جاتا رہا.

جبکہ اس کے برعکس وطن عزیز میں ایوب خان، ضیاالحق اور مشرف جیسے آمروں نے برس ہا برس بلا شرکت غیرے آمریت کے سائے تلے اس ملک پر حکمرانی کی اور اسے مسائل کی دلدل میں دھنساتے ہی چلے گئے. لیکن کیا ہی عجب بات ہے کہ وطن عزیز کی تمام تر برائیوں اور مسائل کی جڑ صرف اور صرف سیاستدانوں کو قرار دیا جاتا ہے. وہ سیاستدان جو مختلف آمروں کے ادوار میں چار بائی چار کی کوٹھڑیوں میں زندگی بتاتے ہیں اور پشت پر کوڑے کھاتے ہیں. اور بدلے میں جب عوام کے دئیے گئے ووٹوں کی طاقت سے حکومت میں آتے ہیں تو آمروں کے ادارے سے ڈکٹیشن لینے کے پابند ٹھہرتے ہیں اور ڈکٹیشن نہ لینے کی صورت میں ذوالفقار علی بھٹو کی مانند دار پر چڑھا دئیے جاتے ہیں یا نواز شریف کی مانند ہائی جیکر قرار دے دئیے جاتے ہیں. وہ قوتیں جو اس ملک کے سیاہ و سفید کی اصل مالک ہیں اور جو اس وطن کے بجٹ کا سب سے زیادہ حصہ اپنے نام کروا جاتی ہیں نہ تو ان سے کوئی سوال کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکتا ہے.

انتہائی حیرت کی بات ہے کہ کھاد دلیہ ، سیمنٹ ،پلاٹ ہاؤسنگ کالونیاں کی فروخت اور بنک اور مالیاتی ادارے چلانے والوں کا نہ تو کوئی آڈٹ کسی باہر کے بندے سے کروانے کی اجازت ہے اور نہ ہی ان کے خلاف کسی بھی قسم کی کرپشن کے الزام کی سنوائی کرنے کی ہمت اس ملک کی معزز عدلیہ میں ہے. اوکاڑہ فارمز ہاؤس ہوں یا ڈیفنس ہاؤسنگ سوسائیٹی میں مالیاتی خردبرد کی شکایات، ایبٹ آباد سانحہ کی تحقیقاتی رپورٹ ہو یا گمشدہ افراد کا معاملہ، ججز کی نظر بندی کا معاملہ ہو یا آئین پر شب خون مارنے کا مقدمہ، اکبر بگتی کا قتل ہو یا ریاستی طاقت کا استعمال کرتے ہوئے کراچی میں وکلا کو زندہ جلانے کا معاملہ ان تمام مدعوں پر نہ تو کسی بھی نام نہاد پیراشوٹ اینکر کو بات کرنے کی ہمت ہوتی ہے اور نہ ہی کسی آزاد منش جج کو ان مقدمات کی سنوائی کا خیال آتا ہے. لیکن سیاستدان چاہے وہ شیخ مجیب ہو یا زوالفقار بھٹو، ولی خان ہو یا بینظیر بھٹو یا پھر نواز شریف ان سب کے معاملے میں پیراشوٹ اینکرز کا ضمیر بھی بیدار ہو جاتا ہے اور آزاد منش عدلیہ کو آزادی بھی یاد آ جاتی ہے. کیا عجیب اور گھناؤنا مذاق ہے کہ چونکہ جمہوریت اس وطن میں پنپ نہیں پائی اور اس کی جڑیں کمزور ہیں اس لیئے اس سے وابستہ کسی بھی فرد کا احتساب چٹکی بھر میں کر کے فیصلہ بھی صادر ہو جاتا ہے جبکہ آمریت کے نام لیواؤں کے تلوے چاٹنے میں بھی فخر محسوس کیا جاتا ہے. یہ متضاد اور منافقانہ رویے دراصل ہمارے معاشرے کے اس باہمی نفسیات کی جانب اشارہ کرتی ہیں جسکی بنیادشخصیت پرستی، اپنے سے طاقتور کو سلام اور پرفریب سرابوں کا پیچھا کرنے کی عادت ہے.

مجموعی طور پر ہم لوگ بنا سوچے سمجھے ٹرک کی بتی کے پیچھے لگنے والا معاشرہ ہیں وگرنہ اس نکتے کو سمجھنے کیلیے کسی راکٹ سائینس کی ضرورت نہیں کہ 1950 کی دہائی سے شروع ہونے والا احتساب کا ڈرامہ آج تک چہرے تبدیل کرنے اور منتخب حکومتوں کا تختہ الٹنے کیلیے ہی چلایا جاتا رہا ہے. خیر آج کے دور جدید میں جہاں اب معلومات اور حقائق تک رسائی چٹکی بجاتے ہو جاتی ہے ، اگر آپ اب بھی احتساب کے چورن کو خریدتے ہوئے صدق دل سے نواز شریف کو چور، بھٹو اور شیخ مجیب کو غدار سمجھتے ہیں تو آپ دراصل وطن عزیز کی اس اکثریت کا حصہ ہیں جو آج تک اکیسویں صدی میں ذہنی اور شعوری طور پر داخل ہی نہیں ہونے پائی. آئن سٹائن نے کہا تھا کہ پاگل وہ ہوتا ہے جو ایک ہی کام کو بار بار ایک ہی طریقے سے سرانجام دیکر یہ سوچتا ہے کہ اب کی بار نتیجہ مختلف ہو گا. احتساب کے چورن کی تاریخ کا مطالعہ کیجیئے اور صدق دل سے بتائیے کیا احتساب کے نام پر آج تک سوائے آمریت یا پتلی تماشے کے سوا کچھ اور بھی حاصل ہونے پایا جو اب پمہو جائے گا. آئن سٹائن کے اس قول کی روشنی میں تو احتساب کا چورن نسل در نسل خریدنے والے پاگل ٹھہرتے ہیں. خیر اب چونکہ بات احتساب کی ہو رہی ہے تو پرویز مشرف کا ذکر لازم و ملزم ہے.یہ سابق کمانڈو اور آمر آج کل بیرون ملک روپوش ہے لیکن ہماری معزز عدلیہ کو اس کے جرائم کا انبار نظر ہی نہیں آتا شاید راولپنڈی کی جانب دیکھنے سے اس کی آنکھیں چندھیا جاتی ہیں یا پھر بینائی متاثر ہونے کا خدشہ ہوتا ہے. دوسری جانب احتساب کا نعرہ مارنے والی سیاسی کٹھ پتلیاں ہوں یا پھر ایمانداری کے بھاشن دیتے اور کرپشن کی دہائیاں دیتے عام عوام یہ سب بھی جو احتساب چاہتے ہیں اس کی حدود بھی کینٹ کیبھی اچھاؤنی سے کوسوں دور ختم ہو جاتی ہے. صاحبو احتساب کبھی بھی من پسند نہیں ہوا کرتا اور انصاف سب کیلئے برابر ہوا کرتا ہے یہ نہیں ہو سکتا کہ بھٹو سولی پر چڑھایا جائے اور نواز شریف کو اٹک قلعے میں قید کر دیا جائے جبکہ سقوط ڈھاکہ کے مجرم جنرل یحیی خان اور وطن عزیز میں دہشت گردی کا ناسور پیدا کرنے والے آمر ضیاالحق کو قومی پرچموں میں لپیٹ کر عزت و تکریم سے دفن کیا جاتا رہے.

نواز شریف کو ذاتی کاروبار کی دہائیوں پرانی ٹرانزیکشنز کا ریکارڈ پیش نہ کرنے پر برطرف کرنے کی سازش کی جاتی ہو لیکن مشرف ،ایڈمرل منصور اور عدنان کیانی جیسے افراد کو پرتعیش زندگی گزارنے کیلیے آزاد چھوڑ دیا جاتا ہو. اگر پانامہ لیکس کے الزام میں ایک منتخب وزیراعظم کو گھر بھیجنے کی سازش کی جا سکتی ہے تو ہر دور آمریت میں آمروں کے ناجائز اقدامات کو قانونی تحفظ دینے والی عدلیہ اور بیوروکریسی کے خلاف آئین کے تحت کیوں مقدمات نہیں بنائے جا سکتے. سانحہ کارگل اور سانحہ ایبٹ آباد کے مجرموں کو کیوں انصاف کے کٹہرے میں نہیں لایا جا سکتا. اور ریمنڈ ڈیوس کی رہائی میں پیش پیش جنرل ریٹائرڈ شجاع پاشا سے بازپرس کیوں نہیں کی جا سکتی. نواز شریف نے موجودہ حالات میں فیصلہ کن جنگ لڑنے کا ارادہ کیا ہے. شاید جلد ہی پارلیمان کا ایک اجلاس بلا کر اعتماد کا ووٹ حاصل کر لیا جائے گا جس کے بعد عدلیہ پر بھی منتخب وزیر اعظم کے خلاف کسی بھی قسم کا فیصلہ دینے سے پہلے دباؤ بڑھ جائے گا اب طاقت کی اس پراکسی وار میں مزید شدت آ جائے گی.پس پشت قوتیں عمران خان اور طائر القادری جیسے مہروں کو سڑکوں پر اتاریں گی اور ان دونوں کٹھ پتلیوں کے مریدین آنکھیں بند کر کے ان کے پیچھے چل نکلیں گے. حکومت پر دباؤ بڑھے گا اور جواب میں پنجاب بلوچستان اور سندھ میں حمکران جماعت اور اس کے اتحادی بھی عوامی طاقت کا مظاہرہ کریں گے.

تصادم کی یہ راہ دو نتائج کی جانب بڑھ سکتی پے.پہلا نتیجہ یہ ہو سکتا ہے کہ عدلیہ نواز شریف کو نااہل قرار دے دے اور گھر بھیج دے. لیکن قباحت یہ ہے کہ نواز شریف اس فیصلے کو ماننے سے انکار کر دے گا اور فیصلے کے خلاف یا تو اپیل کر دے گا یا پھر ڈوگر کورٹس کی مانند عدالتوں کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے پیش ہونے سے ہی انکار کر دے گا. یوں بہرحال عدلیہ کو مدد کیلئے فوج کو طلب کرنا پڑے گا اور پھر بات نواز شریف تک نہیں رکے گی بلکہ نظام بھی لپیٹا جائے گا. نظام لپیٹا گیا تو پیپلز پارٹی کو کچھ خاص حصہ ملنے کے امکانات موجود نہیں ہیں اس لیئے پیپلز پارٹی کسی بھی صورت نواز شریف کو اس انتہائی اقدام کی جانب نہیں جانے دے گی اور درپردہ سپورٹ کرتی رہے گی. دوسرا نتیجہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ نواز شریف کے خلاف دھرنے جلسے جلوسوں کا سلسلہ شروع کر کے اے آر ڈی ٹائپ کی تحریک شروع کی جائے. اس کا نتیجہ بھی 1977 کی مانند نکلتا دکھائی دیتا ہے. یعنی اگر کوئی بھی نام نہاد سپانسرڈ ملک گیر احتجاجی تحریک کا سلسلہ شروع ہوا تو پھر بات صرف نااہلی تک نہیں رکے گی بلکہ بہت آگےا تک چلی جائے گی. نواز شریف کے پاس اس وقت کھونے کو کچھ زیادہ نہیں بچا جبکہ پس پشت قوتوں اور اس کی کٹھ پتلیوں کے پاس اس وقت ہارنے کو سب کچھ ہے. ترکی میں ناکام بغاوت کے بعد اردگان ترکی کی سیاسی تاریخ کا مضبوط ترین رہنما بن کر ابھرا اور ناکام بغاوت کرنے والوں کا انجام بھی سب کے سامنے ہے. نواز شریف اور پس پشت طاقتوں کی طاقت کی اس جنگ کا انجام شاید تاریخ بہتر طور پر دینے پائے گی. لیکن احتساب اور کرپشن کے چورن کی پھکی بارہا کھا کر ہر بار دست لگوانے والے عوام کو مورخ ” احتسابی پیچش ” کا مریض ضرور قرار دے گا.

Imad Zafar
Imad Zafar

تحریر : عماد ظفر

Share this:
Tags:
Accountability dictatorship government issues Judiciary Nawaz Sharif آمریت احتساب حکومت عدلیہ مسائل نواز شریف
Malka
Previous Post ملکہ کی خبریں 16/7/2017
Next Post اسلام پاکستان اور آئین سے غداری کیونکر
Qadianiat

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close