
تحریر: ملک ارشد جعفری
جہاں کرپشن کی انتہا ہو گئی اربوں کھربوں لوٹنے والے اپنے آپ کو بچانا کے لیے سودا بازی کر لیتے ہیں کتنے واپس خزانہ کو کریں تو بچ سکتے ہیں غریب کو معمولی غلطی پر جیل بھیج دیا جاتا ہے سمجھ سے باہر ہے انٹی کرپشن کا محکمہ تو بنا دیا گیا لیکن دنوں میں امیر بننے والے سرکاری اور غیر سرکاری ملازموں کو نہ پکڑے گا اور ملک کی تقدیر کب بدلے گئی ملک میں اقربا پروری اور مفاد پرستی عروج پر ہے لیکن حکمرانوں صرف میڈیا ٹرائل کر کے عوام کو پاگل بنایا جارہاہے ہیں لیکن کسی کو گرفتار کر کے سزائیں نہیں دی جا رہی ہیں۔
بلکہ جب کوئی ادارہ ان پر ہاتھ ڈالنے کا سوچتا تو اسکو دھمکی دے کرخاموش کر دیا جاتا ہے لوگوں کے دلوں میں خوشی کی لہر چل پڑی تھی کہ پاک فوج کے مخلص اور دلیرجرنیل کی محنت سے شاید ڈاکو لٹیرے سیاستدان اورانکے حواری جلد منطقی انجام کو پہنچے گئے لیکن اب کچھ مایوسی کی لہر چلنے لگی کیونکہ جس دن سے بہادر جرنیل نے ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر وزیر اعظم کے ساتھ دورہ کیا عوام مایوس ہوگئے کہ احتساب کا شاید کوئی نیا پیمانہ شروع ہونے والا ہے جن پر زیادہ تو قع تھی وہ ہی خاموش ہوگے تو اب کچھ نہیں ہوگا کراچی میں کچھ احتساب کا دور چلا تھا گرفتاریاں بھی ہوئیںلیکن بڑے مگرمچھوں کو اسلئے گرفتار نہیں کیا گیا کہ حکومت کو خطرہ ہے اسی لیے وہ چاہتی ہے ۔

کہ ملک برباد ہوتا تو ہوجائے مگر حکومت نہ جائے پہلی دفعہ 85%عوام نے ملک بھر میں پاک فوج اور رینجرز کی کاروائیوں کو سراہا تھا لیکن جب دوسرے صوبوں میں کرپشن کے خاتمہ اور لیٹروں کی گرفتار یوں کا سلسلہ شروع ہونے لگا تو سربراہ مملکت نے دھمکی دے دی کیونکہ نیب نے تقریباً ملکی لیٹروں سے 300ارب روپے برآمد کر لیے اورباقی لیٹروں پر ہاتھ ڈالنا چاہیے جس ملک میں اداروں کی سطح پر غیر قانونی اور غیر آئینی کاروبار کیا جارہا ہو وہاں چند افراد کی کرپشن کے قصے سنا کر ان سے کچھ رقم برآمد کر کے کونسا جہاد کیا جارہا ہے جس ملک میں اداروں کو کاروبار کے لیے استعمال کیا جائے اس میں کسی کرپٹ کو کیسے پکڑا جائے پبلک کمیٹی صرف بیان بازی تک محدود ہے حالانکہ وہ ملکی خزانہ کی محافظ ہوتی ہے لیکن اب نئی کمیٹی اسکے اوپر بنائی جارہی ہے ۔
جو جانچ پڑتال کرے گی لیکن قوم کو کبھی نہیں بتایا گیا کہ کسی سیاستدان کے گھر سے کتنے ارب کرپشن کے برآمد ہوئے قائد اختلاف خورشید شاہ نے کیا ہے کہ ہم کچھ نہیں کرسکتے کیونکہ ٹھیکے کسی اور کے حکم پر دئیے جاتے ہیں قوم کو احتساب کے نام پر ٹرک کی بتی کے پیچھے لگادیا جاتا ہے جس طرح ٹرک نہیں روکتا اسکی منز ل نہیں ہوتی اسطرح ہر روز نئی کہانی میڈیا پر لائی جاتی ہے لیکن عمل نہیں کیا جاتا اگر کرپشن ختم کرنی ہے تو دھڑے بازی ختم کی جائے تاکہ پاکستان سر سبز ہو سکے ورنہ نئی کہانی ایسے ہی چلتی رہے گی جسے 1947سے لیکر آج تک عوام کو یہ نہیں سنا کہ اب احتساب کون کرئے گا عوام کی امید جنرل راحیل شریف پر تھی اب اس کی طرف سے بھی ماند پڑھ رہی ہے ۔

کیونکہ جس ملک میں آئین سے مذاق کیا جائے گرفتاری کا ڈرامہ رچا کر چھوڑا جائے اور ملزم گرفتار ہو بڑے ہسپتالوں کے ایئر کنڈیشن وارڈ کو محل نما بنا کر اسکو رہائش دی جائے احتساب کہاہے کرپٹ لوگوں کو پکڑنا اتنا مشکل نہیں اب تو کلاس فور ملازم بھی کروڑوں کے مالک ہیں کوئی نہیں پوچھتا کہ تم کل سپاہی بھرتی ہوئے یا پٹواری یہ محل کہاں سے آیا بڑے لوگوں کو پکڑنا ہی مشکل ہے اسلئے یہ جمہوریت کا دائویلہ کرنے والے کرپشن کو ختم نہیں کرسکتے کیونکہ ان کا دامن اگر صاف خور نہیں وہ حکومت بچا تے ہیں اور اپنا اقتدا ر صرف شوردائویلہ ان کا متصلہ بن گیا اور عوام کو بیوقوف بنایا جارہا ہے اصل احتساب تب ہوگا جب طاقت کے ناجائز استعمال کو روکا جائے یہ طاقت کا استعمال ہی ہوتا ہے جس سے کرپشن پروان چڑھتی ہے اسکو خفیہ رکھا جاتا اگر ظاہر ہوجائے تو تفشیش تبدیل کر دی جاتی ہے اور تفشیشی غائب ہوجاتا ہے میڈیا کا منہ بند کر دیا جاتا ہے۔
ملک میں صرف آرمی اور رینجر اگر چاہیے تو یہ عمل جو احتساب کا شروع ہے مکمل ہوسکتا ہے ورنہ کوئی ادارہ نہیں کرسکتا کیونکہ نیب بھی یہ لیس نظر آرہی ہے جو قانون پہلے ہے کریشن ختم کرنیکا اس پر عمل کیا جائے اور مکمل چالان بنا کر ثبوتوں کے ساتھ پیش کیا جائے اور عدالتوں میں بیٹھے عادل صر ف خوفِ خدا کریں اور ظالم ڈاکو اپنے انجام کوپہنچ سکتے ہیں اور ملک کا ہر آدمی سکون کی زندگی گزار سکتا ہے ورنہ ہر آنے والا اک ڈرامہ کر کے اپنی حکومت کا ٹائم پورا کرئے گا اور پھر غیر ممالک میں اپنے محلات بنا کر سکون کی زندگی گذارے گا اور غریب کے بچے ہمیشہ کی طرح ایسے تعلیم حاصل کر کے بہ روزگار رہیں گے اور حکومتی پنڈتوں کے روز کے نعرے سن سن کر خودکشیان کریں گے اور اپنے بچوں کو کئی بہانے بنا کر قتل کریں گے لیکن پتہ نہیں کب ملک کو چلانے اور بچانے والا آئے گا ۔

تحریر: ملک ارشد جعفری
0321-5215037
