Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 2, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

لفظ میرے، میرے ہونے کی گواہی دیں گے !

December 24, 2014 0 1 min read
Parveen Shakir
Parveen Shakir

تحریر : اختر سردار چودھری

پروین شاکر پیر کی رات رم جھم برستی بارش میں صبح اذان کے وقت 24 نومبر 1954 کو روشنیوں کے شہر کراچی کے ایک ہسپتال میں پیدا ہوئی ۔جس گھرانے میں آنکھ کھولی وہ گھرانہ علم و ادب کے ساتھ وابستہ تھا۔ اس کے خاندان میں کئی شعرا ء اور ادبا ء پیدا ہوئے اس لیے بچپن سے ہی اسے علم دوست ماحول میسر آیا اور وہ بہت سے شعرا ء اور ادبا ء سے واقف ہوئی ، ان کے والد سید ثاقب حسین خود بھی ایک شاعر تھے اور وہ شاکر تخلص کرتے تھے والد محترم کا تخلص ہی پروین نے اپنے لیے منتخب کیا اور پروین شاکر کہلائیں آپ کی والدہ کا نام افضل النساء تھا ۔عام طور پر کہا جاتا ہے کہ والد کے مشن اس کی نیک اولاد پورا کرتی ہے تو پروین شاکر نے اپنے والد کا نام روشن کر کے اس بات کو ثابت کر دیا (اس تحریر کو لکھنے کے لیے میں نے پروین شاکر کے والد کی شاعری تلاش کرنے کی کوشش کی مگر مجھے دستیاب نہ ہوسکی اگر ان کی کوئی غزل مل جاتی تو اس بات کا علم ہو جاتا کہ وہ کیسی شاعری کیا کرتے تھے

آپ کے والد ہجرت کر کے پاکستان آئے تھے اور انہوں نے رہائش کے لیے کراچی کو پسند کیا پروین شاکر کا اسلاف ہندوستان کے صوبہ بہار کے ایک گاوئں چندی پٹی سے تعلق رکھتا تھا ۔پروین شاکر اور اس کی بڑی بہن نسرین بانو نے بچپن ایک ساتھ گزارا اس کی بہن اس سے دو کلاس آگے تھی جب پروین تیسری کلاس میں ہوئیں تو ان کو ڈبل پرموشن دیا گیا۔ جس سے وہ اپنی بڑی بہن کی ہم کلاس ہو گئیں ۔ میٹرک رضیہ گرلز ہائی سکول سے پاس کیا ۔اس کے بعد سر سید گرلز کالج کراچی سے بی اے ،انگلش لٹریچر کے ساتھ بی اے آنر کیا۔کراچی یونیورسٹی سے ایم اے انگلش اعلٰی نمبروں سے پاس کیا ،پھر لسانیات میں ایم اے کی ڈگری لی ۔پی ایچ ڈی کی ڈگری (جنگ میں ذرائع ابلاغ کا کردار ) پر مقالہ لکھ کر حاصل کی لیکن تعلیم کا سلسلہ یہیں تک محدود نہیں ہے بلکہ پروین شاکر ساری دنیا کے علوم جلد از جلد حاصل کرنے کی دھن میں تھی شائد اسے علم تھا کہ اسکی زندگی مختصر ہے اور اسے ابھی بہت کام کرنے ہیں۔

اس کے بعد آپ ہارورڈ یونیورسٹی سے منسلک ہو گئیں اور بینک ایڈمنسٹریشن میں ایم اے کر لیا ۔اس کے بعد عبد اللہ گرلز کالج میں نو سال انگلش لیکچرار کی حیثیت سے ملازمت کرنے کے بعد سی ایس پی کا امتحان دیا ۔پاس ہونے پر محکمہ کسٹمر میں کلکٹر بن گئیں جہاں ترقی پا کر پرسنل سیکریٹری اور بعد ازاں سی ۔آر ۔بی ۔آر اسلام آباد مقرر ہوئیں ۔پروین شاکر ایک نرم دل ،سخی ،محنتی،بے چین طبعیت کی مالک تھیں ۔ان کے بارے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ بے حد حساس خاتون تھی ۔اسی حساس طبعیت نے ہی اسے شاعری کی طرف راغب کیا ہو گا ،حساس طبع افراد کے جو ارد گرد ہو رہا ہوتا ہے اس سے بہت متاثر ہوتے ہیں کچھ اس کا اظہار کرنے پر قادر ہوتے ہیں اور کچھ نہیں کر سکتے ہم دیکھتے ہیںکہ بہت سے افراد ان پڑھ ہونے کے باوجود اپنی کیفیات بیان کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں

مگر پروین شاکر کے ساتھ ایک اور مسئلہ بھی تھا کہ وہ صنف نازک سے تعلق رکھتی تھیں ،اور ہمارے معاشرے میں ابھی تک عورتوں کو وہ مقام نہیں ملا کہ وہ اپنی کیفیات بیان کر سکیں ویسے مرد جتنا مرضی روشن خیالی کے دعوے کرتے پھریں ہمارے معاشرے میں عورت کو گھٹن کا شکار کر کے مار دیا جاتا ہے اور جو معاشرے کی اس رسم کے خلاف بغاوت کرے اس کو طعنے دے دے کر اس کی زندگی اجیرن کر دیتے ہیں کہنا یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں عورت کو اس کا جائز مقام نہیں ملا اس کو اس کی شناخت نہیں ملی پروین شاکر ایک ذہین اور خوبصورت صاحب علم ہستی تھیں اسے خود کو منوانے کے لیے جتنی جہدو جہد کرنی پڑی ہو گی اس کا تصور کیا جا سکتا ہے یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری میں عورتوں کے جذبات کو بیان کیا گیا ہے ۔عورت تھیں عورتوں کے جذبات پر ہی لکھنا تھا لیکن ہمارے معاشرے میں ہمارے شعرا ء نے اسے وہ مقام نہیں دیا

جس کی وہ مستحق تھیں کہا جاتا ہے کہ پروین شاکر نسائی تحریک سے وابستہ تھیں یا ان کی شاعری نسائی شاعری تھیں اس نے عورتوں کے جذبات و احساسات پر لکھا اس سے پہلے اردو شاعری میں ایسے کھل کر نہیں لکھا کسی اور شاعرہ نے اس طرح کی باتیں کر کے اس کے مقام کو آج بھی کم تر ثابت کیا جاتا ہے ایسا تبصرہ کرنے والوں کو سوچنا چاہیے کہ ان کی شاعری لب و رخسار سے آگے نہیں بڑھتی اور وہ اپنے دیوان کے دیوان کسی عورت کی محبت میں لکھتے ہیں اس کی تعریف میں لکھتے ہیں بلکہ دیوان کے دیوان تو عورت کی بے وفائی پر لکھے گئے ہیں بلکہ اکثر ایک مرد کو شاعر ہی عورت کی بے وفائی بناتی ہے۔

اس لیے کہ وہ مرد ہیں تب درست ہے لیکن جب ایک عورت مرد کی طرف سے ملنے والی بے وفائی ،وفا ،محبت ،یا نفرت پر شاعری کرے تو یہ نسائی شاعری ہوگی یہ غلط بات ہے یہ تو مردانہ شاعری ہوئی نسائی شاعری تو ایسے شعرا ء حضرات نے کی بلکہ کرتے ہیں جن میں صرف نساء کا ذکر ہوتا ہے ۔ایسے ماحول میں جہاں عورت کو انسان ہی نہ سمجھا جائے ایک عورت کا خود کو قلم کار منوا لینا اور وہ بھی شاعری میں ایک بہت بڑا کارنامہ ہے جس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے ۔پروین شاکر کا شما ر ان چند ایک خواتین میں میں ہوتا ہے جنہوں نے خود کو منوایا ہے اور ایسا منوایا ہے کہ اس کی اہمیت سے اب کسی کو انکار نہیںہوسکتا ہے ۔اس سے پہلے اتنے جاندار طریقے سے کسی خاتون نے نسائی جذبات ،مسائل اور حقوق کواتنے اچھے طریقے سے شائد ہی بیان کیا ہو۔

پروین شاکر کی شاعری میں انہی بنیادی حقوق کے حصول کے لیے ایک توانا آواز اٹھائی گئی ہے ۔جیسے ہی پروین شاکر کا نام لیا جائے تو خوشبو کا احساس ہونے لگتا ہے پروین شاکر کاپہلا مجموعہ خوشبو جب شائع ہوا اس وقت پروین شاکر کی عمر صرف 24 برس عکس خوشبو ہوں بکھرنے سے نہ روکے کوئی اور بکھر جاوئں تو مجھ کو نہ سمیٹے کوئی پروین شاکر کی شادی 1976 میں ڈاکٹر نصیر علی سے ہوئی جو رشتے میں ان کا خالہ زاد تھا اور ملٹری میں ڈاکٹر تھا 1978 میں اللہ نے ان کو ایک خوبصور ت بچہ سے نوازا جس کا نام مراد علی رکھا گیا ۔ پر وین نے بہت سی شاعری اپنے بیٹے کے لیے بھی کی ہے ۔ وہ اپنے بیٹے سے بہت محبت کرتی تھیں ۔
مجھے تیری محبت نے عجب ایک روشنی بخشی میں اس دنیا کو اب پہلے سے بہتر دیکھ سکتی ہوں

Wedding
Wedding

اس کے بارے میں مین بہت فکر مند رہتی تھیں اس نے بیٹے کو باپ بن کر پالا اسے کھبی باپ کی کمی کا احساس نہ ہونے دیا حالانکہ پروین شاکر کی زندگی بہت مصروف تھی۔ مشاعروں میں حاضری ،ان کی میزبانی ،آفسر بھی تھیں ،کالم بھی لکھے ،ان سب کاموں کے باوجود اپنے بیٹے کو تنہائی کا احساس نہ ہونے دیا جب کہ اس کا باپ بھی اس سے الگ ہو گیا تھا ۔ کیونکہ اس کی شادی زیادہ عرصہ تک قائم نہ رہ سکی اس کی بہت سی وجوہات میں سے ایک وجہ ان کے درمیان ذہنی ہم آہنگی کا نہ ہونا بھی ہے 1987 میں ان کی اپنے شوہر سے علیحدگی ہو گئی
کیسے کہہ دوں کہ مجھے چھوڑ دیا ہے اس نے بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی ۔
کوئی سوال کرے تو کیا کہوں اس سے بچھڑنے والے سبب تو بتا جدائی کا ۔

پروین کو شعرو شاعری کا شوق شروع سے ہی تھا کالج میں ہی وہ شعر کہنے لگی تھی پروین شاکر کی شاعری کی تعریف اس دور کے مشہور شعرا ء نے کی ہے مثلا احمد ندیم قاسمی ،فراز احمد فراز ، علی سردار جعفری وغیرہ اس کے علاوہ پروین شاکر کو پانچ بڑے ادبی انعامات و اعزازات سے بھی نوازا گیا جن کی مختصر تفصیل یہ ہے کہ آدم جی ایوارڈ جو پاکستان میں ایک قومی سطح کا اعزاز ہے 1978 کو خوشبو کے لیے دیا گیا ۔1985 میں علامہ اقبال ایوارڈ ۔1986 میں یو ایس آئی ایس ایوارڈ ،فیض احمد فیض ایوارڈ پروین شاکر نے حاصل کیا ۔اس کے علاوہ پروین شاکر کو حکومت کی جانب سے تغمہ حسن کارکردگی بھی ملا ۔پروین نے اتنی کم عمری میں وہ شہرت پائی جو بہت کم ادبا یا شعرا کو نصیب ہوتی ہے. ان کی ایک عادت بڑی عجیب تھی یہ کوئی خامی نہیں ہے بہت سے قارئین اس بات سے شائد واقف نہ ہوں کہ پروین شاکر عام طور پر کسی محفل میں ہوتیں،گھرمیں ہوتیں تو اپنے پاوئں سے جوتے اتار دیا

کرتیں تھیں عام طور پر گاڑی بھی ننگے پائوں چلایا کرتیں ،ان کی اس عادت کی نفسیاتی وجہ کیا تھی اس پر غور ہونا چاہیے اس طرح ان کی زندگی کی کتاب میں ایک اور باب کا اضافہ ہو جائے گا ۔پروین شاکر کی شاعری چند مخصوص الفاظ کو امر کر گئی ،اس نے ان خوبصورت الفاظ کو اپنی شاعری میں خوب استعمال کیا بلکہ پروین شاکر کو ،چاند ،خواب ،موسم ،پھول ،،خوشبو، رات کی شاعرہ کہنا چاہیے ۔پروین شاکر کے پہلے شعری مجموعہ خوشبو کو بے پناہ مقبولیت ملی بلکہ پروین شاکر کا نام لیں تو خوشبو آنے لگتی ہے یہ ان کا نام ہی بن گیا ہے ۔وہ خوشبو کی شاعرہ کہلانے کی مستحق ہے

اس کے علاوہ اس کے شعری مجموعے میں سے 1980 میںصد برگ ، 1990 میںخود کلامی ، 1990میں ہی انکار اور 1994 میں ماہ تمام شائع ہوئے جیسے جیسے وقت گزرا ان کی شاعری میں پختگی آتی گئی لیکن جو مقبولیت خوشبو کو ملی اتنی مقبولیت اس کے دیگر کسی شعری مجموعے کو نہیں مل حالانکہ اس کے دیگر مجموعے کئی ایک لحاظ سے بہترین ہیں ان میں الفاظ کا چنائو بہت عمدہ ہے اسی طرح خیالات میں بھی وسعت ہے۔

پر وین شاکر پیر کے دن 26 دسمبر 1994 کو اسلام آباد میں اپنے آفس جاتے ہوئے راستے میںان کی گاڑی کا ایکسیڈنٹ ہوا جس کی وجہ سے 42 سال کی عمر میں خالق حقیقی سے جا ملیں ۔ انہیں اسلام آباد کے قبرستان میں دفن کیا گیا ان کے کتبے پر یہ شعر درج ہے ۔مر بھی جائوں تو کہاں ،لوگ بھلا ہی دیں گے ۔۔۔ لفظ میرے ، میرے ہونے کی گواہی دیں گے ! پروین شاکر کی شاعری سے چند اشعار قارئین کی نظر میں سچ کہوں گی مگر پھر بھی ہار جاوئں گی۔۔۔ وہ جھوٹ بولے گا اور لاجواب کر دے گا شہر وفا میں دھوپ کا ساتھی نہیں کوئی ۔۔۔سورج سروں پر آیا تو سائے بھی گھٹ گئے اس نے جلتی ہوئی پیشانی پہ جب ہاتھ رکھا ۔۔۔۔۔۔روح تک آگئی تاثیر مسیحائی کی اس شرط پہ کھیلوں گی پیا پیار کی بازی ۔۔۔ جیتوں تو تجھے پائوں ہاروں تو پیا تیری !

Akhtar Sardar Chaudhry
Akhtar Sardar Chaudhry

تحریر : اختر سردار چودھری

Share this:
Tags:
Degree Karachi University Migration Parveen Shakir Poetry پروین شاکر ڈگری روشن شاعری کراچی یونیورسٹی ہجرت
Previous Post گلشن ضیاء فٹ بال کلب کا جرنل باڈی اجلاس
Next Post نئی دلی : بھرے بازار میں خاتون ڈاکٹر کے چہرے پر تیزاب پھینک دیا گیا

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close