Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 29, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

نوجوانوں کے نفسیاتی مسائل اور کووڈ 19 کے اثرات

June 13, 2021 0 1 min read
Psychological Problems
Psychological Problems
Psychological Problems

تحریر: عائشہ یاسین

نوجوانی ایک انوکھا اور ابتدائی وقت ہے۔ اس عمر کے افراد جن کی عمر 10 سے 20 سال کے درمیان ہومتعدد جسمانی وجذباتی تبدیلی میں مبتلا ہوتے ہیں۔ ایسے افراد نہ صرف ذہنی و جسمانی بدلاؤ کا شکار رہتے ہیں بلکہ اپنے اردگرد کے ماحول سے بھی متاثر ہوتے ہیں۔ معاشرتی و معاشی تبدیلیاں بشمول مالی حالات اور لوگوں کا رویہ نوجوان دماغ پر اثر انداز ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ تنگ دستی اور ناروا سلوک نوعمروں کو ذہنی صحت کے مسائل کا شکار بنا سکتی ہے۔ نفسیاتی تندرستی کو فروغ دینا اور نوعمروں کو منفی تجربات سے بچانا بے حد ضروری ہے۔ نوجوانوں کی فلاح و بہبود اور ان کی جسمانی اور ذہنی صحت کا خیال رکھنا ایک مثبت معاشرے کی بقاء کے لیے بے حد اہم ہے۔

ڈبلیو ایچ او کی اعداد و شمار کی مطابق ہر چھے میں سے ایک نوجوان جس کی عمر10 سے 19 سال ہے ذہنی عارضے کا شکار ہے۔ عالمی سطح پر کی جانے والی ریسرچ کے مطابق 16فیصد بیماریاں اور حادثات میں زخمی اور مرنے والوں کی تعداد10سے19سال کے عمر کے نوجوانوں کی ہے۔

عام حالات میں ذہنی و نفسیاتی امراض 14سال کی عمر میں رونما ہوجاتے ہیں لیکن وہ بڑوں کی طرف سے نظر اندازکردیے جاتے ہیں جو مستقبل میں ایک موزی مرض کے طور پر سامنے آتے ہیں۔ ان نفسیاتی بگاڑ کی علامت عموما 4سے7سال کی عمر میں ظاہر ہونا شروع ہوجاتے ہیں جن میں بچوں کا بات بات میں رونا، چلانا یا بلا وجہ ضد کرنا ہے۔ اسی عمر میں بچے دوسرے بچوں سے جلن اور حسد کا بھی شکار ہوجاتے ہیں اور اپنے غصے کا اظہار مار کر یا دوسرے بچے کی چیز چھین کر یا توڑ کر کرتے ہیں۔ یہی نفسیاتی بگاڑ یا اصلاح کا لمحہ ہوتا ہے جب بچہ اپنی انا اور ضد میں جھوٹ بولنا سیکھتا ہے۔ ایک اور ریسرچ کے مطابق عالمی سطح پر10سے 12سال کی عمر تک پہنچتے پہنچتے یہ بچے ذہنی و نفسیاتی بیماری کا شکار ہوجاتے ہیں۔اسی لیے2019تک کے اعداد و شمار میں 10 سے19سال کے افراد میں موت کی تیسری سب سے بڑے وجہ خودکشی ہے۔

دماغی صحت کا توازن:
جوانی ذہنی تندرستی، جذبات و عادات کی نشوونما کاایک اہم دور ہے۔ بھرپور نیند لینا، باقاعدگی سے ورزش کرنا اور جدوجہد کی لگن رکھنا ایک تندرست انسان کے لئے بے حدضروری ہے۔ نا صرف جسمانی بلکہ ذہنی و دماغی اعتبار سے چست و توانا ہونابھی اسی طرح اہمیت کا حامل ہے جس طرح ایک جسم کا بیماری اور کاہلی سے پاک ہوناہے۔یہی وجہ ہے کہ ایک صحت مند دماغ مسائل کو حل کرنے کے لیے اہم ہے۔ باہمی مہارت کو فروغ دینا اور جذبات و احساسات کو تخلیقی انداز میں استعمال کرنا، ایک خاندان اور معاشرے میں معاون ماحول کے قیام کے لیے اہم کردار ادا کرتاہے۔
جوانی کے دور میں جو عوامل تناؤ کا باعث بن سکتے ہیں ان میں زیادہ سے زیادہ خود مختاری کی خواہش، ہم عمر افراد کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کا دباؤ، جنسی شناخت کی کھوج اور ٹیکنالوجی تک رسائی اور استعمال میں اضافہ شامل ہیں۔ میڈیا کے اثر و رسوخ اور صنف کے اصولوں سے نوجوانوں کی ذہنی صلاحتیوں کو فروغ حاصل ہوا ہے۔ موجودہ ترقی اور مستقبل میں ہونے والی ایجادات نے نوجوانوں کو وافر مواقع فراہم کیے ہیں جس کی بدولت وہ اپنی قابلیت کے بل بوتے ترقی کے خواہاں نظر آتے ہیں۔ اس بات سے قطع نظر کہ جس ماحول میں وہ پرورش پا رہے ہیں کیا وہ ان کی خواہشوں کے لیے سازگار ہے کہ نہیں؟ دیگر ان کے گھریلو زندگی کا معیار،ہم عمر افراد کے ساتھ تعلقات، تشدد (جن میں والدین کی سختی اور دھونس شامل ہیں) اور معاشرتی اقتصادی مسائل وہ جزیات ہیں جو یان کی ذہنی صحت کے لئے خطرہ ہیں خاص طور پر وہ بچے اور نوعمرافراد جوجنسی تشدد کا شکار ہیں۔

کچھ نوجوانوں کو غیر معیاری طرز زندگی، معاشرتی امتیاز سلوک یا وسائل کی کمی کی وجہ سے ذہنی انتشار کے خطرات لاحق ہوتے ہیں۔ ان میں انسان دوست اور حساس نوعمر افراد بھی شامل ہیں جن پر بیرونی حالات و واقعات جلد اثر انداز ہوتے ہیں۔ جن میں دائمی بیماری، آٹزم اسپیکٹرم ڈس آرڈر، ذہنی و دماغی معذوری اور دیگر اعصابی تناؤ کے امراض شامل ہیں۔ نوعمرحاملہ، نو عمر والدین یا جبری شادیوں کا شکار نوجوان، یتیم اور اقلیتی نسلی یا جنسی پس منظر یا دوسرے امتیازی گروہوں کے افراد اکثر ان امراض میں مبتلا پائے جاتے ہیں۔

جذباتی عارضے:
افسردگی یا اضطراب کے علاوہ، جذباتی عارضے میں مبتلا نوجوان ضرورت سے زیادہ چڑچڑاپن، مایوسی یا غصے کا سامنا کرسکتے ہیں۔ موڈ اور جذباتی وجوہات میں تیزی اور غیر متوقع تبدیلیوں کے ساتھ ایک سے زیادہ جذباتی عارضے سے دوچار ہوسکتے ہیں۔ عالمی سطح پر، افسردگی 10-15 سال کی عمر کے نوعمروں میں بیماری اور معذوری کی چوتھی اہم وجہ ہے۔ پریشانی 10 ویں سال کی نویں اہم وجہ ہے۔ جذباتی عارضے جس میں اسکول کاکام کرنے میں دشواری اور اسکول کی حاضری جیسے معاملات پر گہرا اثر ڈال سکتے ہیں۔ معاشرتی انخلاء،افسردگی اورتنہائی کو بڑھا تا ہے جو ڈپریشن کی شکل اختیار کر سکتی ہے اور یہ مایوسی خود کشی کا باعث بھی بن سکتے ہے۔

بچپن کا غیر موثر ماحول:
بچپن میں ناروا سلوک 10-15 سال کی عمر کے نوجوانوں میں نفسیاتی بیماری کی دوسری اہم وجہ ہے اور15 سال کی عمر کے بڑے نوعمروں میں نفسیاتی بیماری کی گیارہویں اہم وجہ ہے۔ بچپن میں بدسلوکی اور توجہ کی کمی ہائپرایکٹویٹی ڈس آرڈر (توجہ دینے میں دشواری، ضرورت سے زیادہ سرگرمی اور نتائج کے حوالے سے عمل کرنے سے خصوصا جو کسی شخص کی عمر کے لئے مناسب نہیں ہوتا ہے) شامل ہوتا ہے اورانتہا پسندی (تباہ کن یا چیلنجنگ طرز عمل کی علامات) شامل ہیں۔ بچپن میں برا سلوک نوعمروں کی تعلیم کو متاثر کر سکتی ہے اور اس کے نتیجے میں مجرمانہ رویے کی وجہ بن سکتی ہے۔

کھانے میں بداحتیاطی:
کھانے میں بداحتیاطی عام طور پربچپن یعنی10سال کی عمر سے سامنے آنا شروع ہو جاتی ہے۔ کھانے کی بد اعتدالی مردوں سے زیادہ عام طور پر خواتین پر اثر انداز ہوتی ہے جو افسردگی، اضطراب اور مادے کی خرابی کا سبب بنتی ہے۔

سائیکوسس:
ایسی حالتیں جن میں نفسیات کی علامات شامل ہیں،عام طور پرابتدائی جوانی میں ہی سامنے آتی ہیں۔ علامات میں مبہمیت یا وہم شامل ہوسکتا ہے۔ ان تجربات سے نوجوانوں کی روزمرہ کی زندگی اور تعلیم میں حصہ لینے کی صلاحیت کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور یہ اکثر انسانی حقوق کی پامالیوں کا باعث بنتے ہیں۔

خودکشی اور خود کو نقصان پہنچانا:
پندرہ سے انیس سال کے نوعمروں میں خودکشی موت کی تیسری اہم وجہ ہے۔ دنیا کے تقریبا 90 فیصد نوجوان کم یا درمیانی آمدنی والے ممالک میں رہتے ہیں۔ خودکشی کے رویے کے بارے میں ڈیجیٹل میڈیا کے ذریعے بات چیت کرنا اور جذباتی انتشار میں مبتلا رہنا ہے۔یہاں تک کہ اپنی جان دے دینا،اس عمر کے افراد میں ابھرتی ہوئی تشویش ناک بات ہے۔

نشہ اور دیگر ادویات کا استعمال:
2016 میں دنیا بھر میں، 15 سے 19 سال کی عمر کے نوعمروں میں شراب پینے کا رجحان 13.6 فیصد رہا۔ تمباکو اور بھنگ کا استعمال اضافی خدشات ہیں۔ 2018 میں کم سے کم ایک بار 15-16 سال کی عمر کے تقریبا 4. 4.7 فیصد نوجوانوں میں بھنگ سب سے زیادہ استعمال ہونے والی دوائی ہے۔ بہت سے بالغ تمباکو نوشی کرنے والوں کو اپنی پہلی سگریٹ 18 سال کی عمر سے پہلے ہی مل جاتی ہے۔

کووڈ19سے پیدا ہونے والے نفسیاتی مسائل اور ان کا شرح تناسب:
ان تمام پہلوؤں پر نظر ثانی کے بعد موجودہ حالات میں سب سے خطرناک صورتحال کووڈ19-کی پیدا کردہ ہے۔ اضطراب اور افسردگی کی علامتوں کا پھیلاؤ نوجوانوں میں ڈرامائی طور پر بڑھ گیا ہے۔ جبکہ جزوی طور پر دنیا میں ادارے کھولے جا چکے ہیں مگر اس کے باوجود دیگرعمر کے افرادکے مقابلے میں نوجوانوں کی ذہنی صحت زیادہ متاثر نظر آتی ہے جس کی اہم وجوہات میں شامل ذہنی و جسمانی سر گرمیوں میں رکاوٹ، اسکولوں اور تعلیمی اداروں کی بندش ہے۔کوویڈ – 19 کا بحران نوجوانوں کے لئے ذہنی صحت کے بحران میں بدل گیا ہے۔

2020-21 میں نوجوانوں (15-22 سال کی عمر کے بچوں) کی ذہنی صحت میں نمایاں خرابی ہوئی ہے۔ زیادہ تر ممالک میں، اس عمرکے طبقہ میں ذہنی صحت کے مسائل دوگنا یا اس سے زیادہ ہوچکے ہیں۔ ایسی صورت حال میں اس بات کو یقینی بنانا مشکل ہے کہ اس ذہنی و سماجی انتشار کے ماحول سے نکلنے کے بعد یہ نوجوان نسل پہلے سے بہتر کارکردگی دکھانے میں کامیاب ہو بھی سکے گی کہ نہیں۔

ماہرین کے مطابق کوویڈ – 19 کے غیر یقینی صورتحال اور وسیع اثرات نے تمام لوگوں کو ایک ہی حد تک متاثر نہیں کیا۔ مارچ 2021 کی رپورٹ کے مطابق بیلجیئم، فرانس اور ریورپ میں بڑوں کے مقابلے میں نوجوانوں 30 سے 80 فیصد سے زیادہ ڈپریشن یا اضطراب کی علامت پائی گئی ہے جس میں تنہا رہنا اور خود کو کمرے میں بند رکھنے جیسے عوامل شامل ہے۔

اس کی ایک بڑی وجہ ہر سطح پر تعلیمی اداروں کے بند ش ہے جس سے نوجوان نسل مایوسی اور غم کا شکار ہوچکی ہے۔یہاں تک اپنے ہم عمر افر اد کے ساتھ گھلنا ملنا اور ساتھ وقت گزازنا،اپنے خیالات و جذبات کا اظہار کرنا، بغل گیر ہونا ناگزیر ہوچکاہے۔ روز مرہ کے معمولات اور معاشرتی روابط ذہنی و دماغی و جسمانی صحت کو برقرار رکھنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ ہر طبقے وتعلق رکھنے والا نوجوان تعلیمی و سماجی سرگرمی کا عادی ہوتا ہے۔ ایسے حالات میں جب شک اور خوف کی فضا قائم ہوچکی ہو تو جوان اذہان کا بیمار ہوجانا ایک قدرتی عمل ہے۔یہاں تک کہ نوجوانوں کا ایک طبقہ جو بیک وقت تعلیم اور روزگار سے وابسطہ ہیں ان دنوں مشکلات میں مبتلا ہیں۔ساتھ ہی نوجوانوں کا ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو حالیہ امتحانات سے فارغ التحصیل ہوکر ملازمت کی تلاش میں سرگرداں ہے، اس بے وقت کی وباء نے ان کو ذہنی ومعاشی طور پر توڑکر رکھ دیا ہے جن کے اثرات تمام عمر ان کی زندگیوں پر حاوی رہیں گے۔ صرف یہ ہی نہیں بلکہ وہ طلبہ و طالبات جن کے پیشہ وارانہ امتحانات ہونے والے تھے اور ان کو مستقبل قریب میں ملک کے اہم شعبوں کی باگ ڈور سنبھالنے تھی، وہ نوجوان اپنے آنے والے مستقبل کے لیے فکرمند ہیں جو ان کی ذہنی صلاحیتوں کو زنگ کی مانند چاٹ رہا ہے۔

کوویڈ – 19 کے بحران نے نوجوانوں (15-24 سال کی عمر کی) کی زندگیوں کو نمایاں طور پر متاثر کیا ہے اور دستیاب شواہد اس عمر کے افراد میں ذہنی صحت کے مسائل میں ایک خطرناک حد تک اضافے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ بیلجیم، فرانس اور امریکہ میں، مارچ 2021 کے اعداد و شمار کی بنیاد پر، نوجوانوں کا اضطراب اور افسردگی کی علامات کا سامنا کرنا بحران سے قبل کے حالیہ اعداد و شمار سے دوگنا زیادہ تھا (امریکی مردم شماری بیورو، 2021 سائنسینسانو، 2021 سانٹا پیلیک فرانس، 2021)۔

Depression
Depression

این سی ایچ ایس کی رپورٹ کے مطابق جنوری سے جون 2019تک 18-34سال تک کے افراد میں ذہنی تناؤ کی بیماری کی شرح 10 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی جبکہ 21مارچ 2021 میں جاری کردہ رپورٹ میں 10-29سال کے افراد میں ذہنی تناؤ کی شرح 43% ریکارڈ کی گئی ہے۔ اسی طرح سائنسانو 2020(5}کی رپورٹ کے حوالے سے اگر ہم دوسرے اہم خطے بیلجیئم کے بارے میں بات کریں تو اپریل 2020 کی ریسرچ کے مطابق 16-24سال کی عمر کے نوجوانوں میں ذہنی تناؤ و افسردگی کی شرح 29% ریکارڈ ہوئی جو کہ خواتین میں تین گنا اضافہ اور2018کے مقابلے میں جوان مردوں میں چار گنا اضافہ ظاہر کرتا ہے۔

برطانیہ میں، جہاں جولائی 2019 سے مارچ 2020 تک 16-39 سال کی عمر کے 11% بچوں میں افسردگی و ذہنی تناؤ کی اطلاع ہے، جون 2020 میں یہ تعداد بڑھ کر 31 فیصد ہوگئی (او این ایس، 2020)

اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ آیا نوجوان نسل کو اس وباء کے منفی اثرات سے نکلنے میں کتنا وقت لگے گا؟ جبکہ ویکسین کی دستیابی نے بہت سے خطرات کو رد کرنے میں مدد دی ہے پر کیا دنیا اسی رفتار سے ترقی کے راستے پر دوبارہ دوڑ پائے گی؟ کیا نوجوانوں کے نفسیاتی خد و خال میں تبدیلی رونما ہوگی؟ ایسے بہت سے سوال ہیں جن پر بات کرنا بہت ضروری ہے نا صرف گھریلو سطح پر بلکہ حکومتی سطح پر بھی نوجوانوں کے ذہنی صحت کی بہتری کے لیے اداروں کو کام کرنا ہوگا اور نوجوانوں کے مسائل کو اول ترجیح دینا ہوگی کیوں کہ نوجوان ہی معاشرے کی تعمیر و ترقی کا اہم جز ہیں۔

تحریر: عائشہ یاسین

Share this:
Tags:
Adolescents changes Diseases effects psychological problems social اثرات بیماریاں تبدیلیاں معاشرتی نفسیاتی مسائل نوجوانوں
PIA
Previous Post پی آئی اے کے اندورن ملک کرایوں میں 40 فیصد کمی
Next Post مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی فائرنگ سے 3 کشمیری شہید
Indian Army

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close