
دمشق (جیوڈیسک) افغان جنگجو 500 ڈالر کے عوض شامی فوج میں بھرتی ہونے لگے، یورپ سے آنے والے جہادی سیاح اپنے ملکوں کے لئے درد سر بن گئے۔عرب ٹی وی کے مطابق شام میں القاعدہ کی ہمنوا اپوزیشن تنظیموں داعش اور النصرہ محاذ کے ساتھ مل کر لڑنے والے یورپی جنگجووں کی تعداد میں تیزی سے اضافے پر متعدد یورپی اور مغربی ممالک انتہائی پریشان دکھائی دیتے ہیں۔
اس وقت بشار الاسد کی حمایت میں لڑنے والے غیر ملکیوں میں لبنان، عراقی، یمنی اور حال ہی میں افغانوں کی تعداد میں بھی خاطر خواہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ذرائع کے مطابق دنیا کے مختلف ملکوں سے آنے والے ان جنگجووں کو ایرانی نیٹ ورکس فوجی تربیت دے رہے ہیں، ان جہادی سیاحوں کو ماہانہ 500 ڈالر مشاہرہ بھی دیا جا رہا ہے۔
شامی فوج کے شانہ بشانہ لڑنے والے افغان جنگجووں کی تصاویر یا ویڈیوز انگلیوں پر گنی جا سکتی ہے۔ان غیر ملکی جہادی سیاحوں کے بارے میں پہلی اطلاعات اکتوبر 2012میں اس وقت سامنے آئیں جب جیش الحر کے جنگجووں نے ایسے بعض افراد کو گرفتار کیا اور ان سے تفتیش کی گئی جسے رپورٹ کے ساتھ منسلک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے۔
چند ہفتے قبل سامنے آنے والی اس ویڈیو کے بعد شامی فوج نے ایک اور ایسی ہی ویڈیو جاری کی جسے جوبر کالونی میں اپوزیشن کے ساتھ ہونے والی معرکہ آرائی کے وقت فلمایا گیا۔ امریکی تحقیقاتی رپورٹس کے مطابق شام میں لڑنے والے افغان جنگجو تین اہم قوموں سے تعلق رکھتے ہیں۔
ایک قوم ایسی ہے کہ جس کے جنگجو شامی خانہ جنگی کے آغاز سے قبل ہی وہاں موجود تھے۔ یہ لوگ دمشق کے باہر جنوبی سمت میں سیدہ زینب کے مزار کے اردگرد آباد تھے۔ ان کی تعداد تقریبا 2000 بیان کی جاتی ہے۔ ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے یہ افراد فارسی بولتے ہیں۔
