
کابل (جیوڈیسک) افغان حکومت نے امریکا کے شدید تحفظات کے باوجود پینسٹھ عسکریت پسندوں کو رہا کر دیا، رہا کئے جانے والے قیدیوں کو امریکا نے نیٹو فوج پر حملے کے بعد خطرناک قرار دیا تھا۔
پینسٹھ طالبان قیدیوں کو آج بگرام جیل سے رہا کیا گیا، رہا کئے گئے عسکریت پسندوں میں بگرام ہوائی اڈے اور نیٹو فوج پر حملے کے الزام میں گرفتار افراد بھی شامل ہیں۔
امریکا نے ان قیدیوں کے بارے میں شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے انہیں خطرناک طالبان قرار دیا تھا تاہم صدر کرزئی نے امریکی تحفظات کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے بگرام جیل کو طالبان بنانے والی فیکٹری قرار دیا۔
بظاہر افغان قیدیوں کو رہا کئے جانے کا مقصد افغانستان میں مقیم غیر ملکی فوجوں کے انخلا کے بعد طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کرنا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کا یہ بھی کہنا ہے کہ صدر کرزئی کے اس عمل سے امریکا، افغانستان تعلقات میں بگاڑ پیدا ہو سکتا ہے۔
افغانستان میں تعینات امریکی فوج کے کمانڈر کا کہنا تھا کہ رہا کئے جانے والے عسکریت پسندوں پر افغان عدالتوں میں قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہئے تھی۔
